اعلٰی حضرت کی ایک انوکھی کرامت

یہ محیر العقول واقعہ جہاں خدا کی قدرت کا روشن ثبوت ہے، وہیں اسے پڑھنے کے بعد یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا کیا رتبہ ہے۔

امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ اپنی مشہور کتاب ”الدولة المکیة“ کے حاشیے ”انباء الحی“ میں خود لکھتے ہیں:

” ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ فجر کی نماز کے لئے آخری وقت میں بیدار ہو پایا۔ احتلام ہوا تھا۔ پہلے نجاست کو پاک کیا، آرام سے استنجا کیا، مسواک اور خلال کیا، تب تک غسل خانے میں پانی رکھ دیا گیا۔ غسل خانے میں داخل ہونے سے پہلے جیب سے گھڑی نکال کر دیکھی تو سورج طلوع ہونے میں دس ہی منٹ کا وقت بچ رہا تھا۔ گھڑی زمین پر رکھ دی اور دعا پڑھ کر غسل خانے میں داخل ہوگئے۔ سردی کا زمانہ تھا؛ ایک ایک کرکے کپڑے اتارے۔

نہانے میں یہ بات ذہن سے بالکل اتر گئی کہ وقت بہت کم ہے؛ اعضائے وضو کو مبالغے سے تین تین بار دھوئے، پورے اطمینان سے نہایا، پھر سر کے بالوں کو تولیہ سے اچھی طرح پوچھ کر خشک کیا۔

غسل خانے سے جوں ہی باہر نکلا، سامنے زمین پر گھڑی رکھی تھی۔ اسے دیکھ کر اچانک قلت وقت کا خیال ہوا، دل میں سوچنے لگا کہ شاید نماز قضا ہو گئی ہے۔ لیکن گھڑی دیکھ کر حیران رہ گیا؛ اس میں طلوع آفتاب کو اب بھی دس منٹ باقی تھے۔ وقت ایک سکنڈ بھی زیادہ نہ ہوا تھا۔ افق کی طرف نظر پڑی تو زبان حال سے کہ رہا تھا کہ وقت ابھی باقی ہے؛ صرف فرض ہی نہیں سنت کی بھی گنجائش موجود ہے۔

نماز سے فراغت کے بعد جیبی گھڑی کو دوسری عمدہ گھڑیوں سے ملایا تو وقت سب میں مساوی تھا۔ بالفرض اگر میری جیبی گھڑی بند ہوگئی تھی تو وقت میں ضرور فرق ہوتا۔

اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے فقیر (امام احمد رضا خان) کے لئے ایک سکنڈ سے کم کے زمانے کو اتنا پھیلا دیا کہ اس لمحہ بھر میں اتنے کام ہو گئے جو دس منٹ میں بھی ممکن نہیں تھے۔

(انباء الحي انّ كلامه المصوّن تبيان لكلّ شئ، مترجم، ص ١٤٥)

اعلی حضرت عظیم المرتبت امام حمد رضا خان علیہ الرحمہ نے یہ بھی وضاحت فرمائی ہے کہ اس طرح کی خارق عادت باتیں ایک سے زائد بار واقع ہوچکی ہیں، لیکن حضرت امام کی عاجزی دیکھیے کہ اسے کرامت کے بجائے معونت سے تعبیر کرتے ہیں۔

از: انصار احمد مصباحی

٢٥/ صفر المظفر ١٤٤١؁ھ