محمد بن صالح العثیمین وہابی کا بدترین فتوی:

کیا ”اللہ” اور ”رسول” کے الفاظ آمنے سامنے لکھ سکتے ہیں؟

سوال: ہم اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ دیواروں پر ایک طرف لفظ ”اللہ” لکھا ہوتا ہے اور دوسری طرف لفظ ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم” یا چارٹوں، کتابوں یا قرآن مجید کے بعض نسخوں پر اس طرح لکھا ہوتا ہے تو کیا اس طرح ان الفاظ کا لکھنا صحیح ہے؟

جواب: ان الفاظ کا اس طرح لکھنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس طرح تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کا شریک اور مساوی بنا دیا گیا ہے۔ اگر کوئی ان الفاظ کو اس طرح لکھا ہوا دیکھے اور اسے یہ معلوم نا ہو کہ ان کا مسمی کون ہے وہ ان دونوں کو مساوی اور مماثل سمجھے گا، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کو حذف کر دینا واجب ہے (معاذ اللہ) اور اب رہ گیا اللہ کا اسم پاک تو اس کلمے کو صوفیاء ذکر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں ‘اللہ ‘اللہ ‘اللہ، لہذا اسے بھی حذف کر دیا جائے (معاذاللہ) چنانچہ اس طرح دیواروں اور چارٹوں وغیرہ پر ”اللہ” اور ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم” کے الفاظ نہ لکھے جائیں۔

فتاوی ارکان اسلام، محمد بن صالح العثیمین، ص 179، دار السلام

یہ خبیث مولوی اسلام کہ پہلا کلمہ طیب ہی بھول گیا جس میں لفظ اللہ کے ساتھ ہی لفظ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لکھا جاتا ہے۔ اس خبیث خارجی انسان کو شرک فوبیا تھا اور ایسی بکواس کوئی عقل سے پیدل انسان ہی کر سکتا ہے۔