أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُدۡعُوۡا رَبَّكُمۡ تَضَرُّعًا وَّخُفۡيَةً‌ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

تم اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا

تفسیر:

تفسیر آیت 55 تا 56: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور زمین میں اصلح کے بعد فساد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے دعا کرو، بیشک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے “

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت، وحدانیت اور قدرت اور حکمت پر دلائل قائم کیے تھے اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ وہی اس کائنات کا رب ہے تو پھر چاہیے کہ اسی کی عبادت کی جائے اور اسی سے ہر معاملہ میں دعا کی جائے۔

قرآن مجید میں دعا کا لفظ دو معنوں میں اسعمال ہوا ہے۔ دعا بہ معنی عبادت اور دعاء بہ معنی سوال۔ دعا بہ معنی سوال کی مثال زیر تفسیر آیت ہے ادعوا ربکم تضرعا و خفیۃ۔ تم اپنے رب سے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے سوال کرو۔ اور دعا بہ معنی عبادت کی مثال یہ آیت ہے : ” ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولو اجتمعوا لہ : بیشک تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے ” (الحج :73)

مانعین دعاء کے دلائل : 

بعض لوگوں نے دعا کرنے سے منع کیا ہے۔ ان کے دلائل حسب ذیل ہیں : 1 ۔ جس چیز کے حصول کے لیے بندہ دعا کر رہا ہے، یا تو اللہ تعالیٰ نے ازل میں اس چیز کو عطا کرنے کا ارادہ کیا ہوگا یا نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ازل میں اس چیز کے دینے کا ارادہ کیا ہے تو پھر بندہ دعا کرے یا نہ کرے وہ چیز اس کو مل جائے گی، اور اگر اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ بندہ کو وہ چیز نہیں دے گا تو بندہ پھر لاکھ دعا کرے اس کو وہ چیز نہیں ملے گی تو پھر دعا کرنا بےفائدہ ہے۔ 

2 ۔ جس مطلوب کے لیے بندہ دعا کر رہا ہے یا تو وہ مطلوب مصلحت اور حکمت کے موافق ہوگا یا نہیں۔ اگر وہ مطلوب مصلحت اور حکمت کے موافق ہے تو اللہ تعالیٰ از خود وہ عطا فرما دے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فیاض اور جواد ہے اور اگر وہ مطلوب مصلحت اور حکمت کے خلاف ہے تو پھر اللہ تعالیٰ وہ مطلوب نہیں دے گا۔ لہذا دعا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

3 ۔ بندہ کا دعا کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ تقدیر پر راضی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر وہ تقدیر پر راضی ہوتا تو جو کچھ اللہ نے اس کے لیے مقدر کردیا ہے وہ اس پر مطمئن اور شاکر رہتا اور اپنے حالات کو بدلنے کے لیے دعا نہ کرتا۔ اور تقدیر پر راضی نہ ہونا شرعاً مذموم ہے۔

4 ۔ امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوی 279 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رب تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جو شخص قرآن میں مشغول ہونے کی وجہ سے میرا ذکر اور مجھ سے دعا نہ کرسکا میں اس کو اس سے افضل چیز عطا فرماؤں گا جو میں نے دعا کرنے والوں کو عطا فرمائی ہے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2935، اس حدیث کو امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے۔ خلق افعال العباد، ص 105، سنن الدارمی ج 2، رقم الحدیث : 3356، حلیۃ الاولیاء، ج 7، ص 313)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دعا کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہنا چاہیے۔ 

5 ۔ امام بغوی متوفی 516 ھ حضرت ابی بن کعب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نمرود کی جلائی ہوئی آگ میں ڈالا جانے لگا تو حضرت جبرئیل نے آ کر عرض کیا : آپ کو کوئی حاجت ہے ؟ آپ نے فرمایا : تمہاری طرف کوئی حاجت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا : پھر اپنے رب سے سوال کیجیے انہوں نے فرمایا : اس کو میرے حال کا جو علم ہے وہ میرے سوال کے لیے کافی ہے۔ (معالم التنزیل ج 3، ص 211، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1414 ھ)

اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کی حاجت نہیں ہے۔

مانعین دعا کے دلائل کے جوابات : مانعین دعا نے ترک دعا پر اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور تقدیر سے جو استدلال کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ پھر اللہ کی عبادت بھی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اگر اللہ نے ازل میں اس کے جنتی ہونے کا ارادہ کرلیا ہے اور اس کی تقدیر میں اس بندہ کا جنتی ہونا ہے تو پھر وہ عبادت کرے یا نہ کرے وہ جنت میں جائے گا اور اگر اللہ نے اس کے دوزخی ہونے کا ارادہ کیا ہے اور یہی اس کی تقدیر ہے تو پھر وہ لاکھ عبادت کرے وہ بہرحال دوزخ میں جائے گا۔ نیز پھر اس کو کھانا پینا بھی ترک کردینا چاہیے کیونکہ اگر اللہ نے اس کو سیر کرنے کا ارادہ کرلیا ہے تو وہ کھائے پیے بغیر بھی سیر ہوجائے گا ورنہ وہ جتنا بھی کھائے کبھی سیر نہیں ہوگا۔ اور اس کو علاج بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو بیمار رکھنے کا ارادہ کیا ہے تو وہ کسی دوا سے سے صحت یاب نہیں ہوگا اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت کا ارادہ کرلیا ہے تو وہ بگیر دوا کے بھی صحت یاب ہوجائے گا۔ علی ھذا القیاس اس کو حصول رزق کے لیے بھی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اور نہ کسی منصب اور اقتدار کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ نہ حصول علم کے لیے کوئی سعی کرنی چاہیے، اور ان سب کا حل یہ ہے کہ ہمیں اللہ کے علم، اس کے ارادہ اور تقدیر کا کوئی عل نہیں ہے اور جس طرح تقدیر میں ہمارا نفع، ہماری عادت، ہمارا سیر ہونا، ہماری صحت، ہمارا رزق اور ہمارا علم لکھا ہوا ہے اسی طرح اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ نفع ہمیں دعا سے حاصل ہوگا اور یہ عبادت ہمیں کوشش سے حاصل ہوگی۔ سیر ہونا، ہمارے کھانے سے حاصل ہوگا اور صحت دوا سے حاصل ہوگی۔ علی ھذا القیاس۔ تقدیر میں جس طرح یہ امور ہیں اسی طرح ان کے اسباب بھی تقدیر میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور تقدیر میں اسباب اور مسببات کا سلسلہ مربوط ہے۔ 

مانعین نے سنن ترمذی کی جس حدیث سے استدلال کیا ہے اس کی سند میں عطیہ بن سعد بن جنادہ عوفی ہے۔ امام احمد نے کہا یہ ضعیف الحدیث ہے۔ اس نے کلبی کی کنیت ابوسعید رکھی اور کلبی کی روایت کو ابوسعید کے عنوان سے بیان کرتا تھا۔ ابوزرعہ اور ابوحاتم نے اس کو ضعیف کہا۔ امام ابن حبان نے اس کا ضعفاء میں ذکر کیا۔ امام ابو داود نے اس کو ضعیف کہا۔ اس میں تشیع تھا یہ حضرت علی (رض) کو تمام صحابہ پر مقدم کہتا تھا۔ (تہذیب التہذیب ج 7، ص 195 ۔ 196، رقم :4781، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ، تہزیب الکمال رقم :3956، میزان الاعتدال، رقم : 5667)

دوسری حدیث جس کو امام بغوی نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے روایت کیا ہے، اس کو بعض مفسرین کے سوا اور کسی نے ذکر نہیں کیا۔ امام ابن جریر، حافظ ابن کثیر، حافظ ابن عساکر اور حافظ سیوطی نے اس واقعہ کو متعدد اسانید کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان تمام روایات میں صرف یہ الاظ ہیں کہ جب حضرت جبریل نے کہا : آپ کی کوئی حاجت ہے ؟ تو حضرت ابراہیم نے فرمایا تم سے کوئی حاجت نہیں ہے ! اور یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اس کو میرے حال کا جو علم ہے وہ میرے سوال کے لیے کافی ہے “۔ اور اس کے معارض یہ روایت ہے جس کو امام ابن جریر نے روایت کیا ہے اس میں مذکور ہے کہ حضرت ابراہیم کو جب آگ میں ڈالا جانے لگا تو انہوں نے سر اٹھا کر کہا : ” اے اللہ تو آسمان میں واحد ہے اور میں زمین میں واحد ہوں اور زمین میں میرے سوا تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہے اور مجھے اللہ کافی ہے اور وہ کیا اچھا کارساز ہے “۔ (جامع البیان، جز 17، ص 55-56، دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کی اس موقع پر ثنا کی اور کریم کی ثنا دعا ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ حدیث حضرت ابی بن کعب پر موقوف ہے اور یہ کعب احبار کی روایت ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور یہ غالباً اسرائیلیات میں سے ہے اور یہ حدیث معطل ہے کیونکہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں اور بہ کثرت احادیث میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کی ترغیب اور تلقین کی گئی ہے اور یہ حدیث ان کے مخالف ہے کیونکہ اس میں ترک دعا کی تصریح ہے۔ اور ہمارے لیے حجت قرآن اور حدیث ہے نہ کہ یہ بےاصل اور معلل روایت۔

دعا قبول نہ ہونے کے فوائد : 

بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بہت دفعہ بار بار دعا کرنے کے باوجود دعا قبول نہیں ہوتی پھر دعا کرنے کا کیا فائدہ ہے ! اس کا جواب یہ ہے کہ جب بندہ دعا کرتا ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اللہ کا محتاج ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا حاجت روا اور کارساز مانتا ہے تو اس کی دعا قبول ہو یا نہ ہو اس دعا کا یہ فائدہ کم تو نہیں ہے کہ اسے اللہ کی معرفت ہوتی ہے، دعا قبول نہ ہونے کے باوجود جب وہ بار بار اللہ ہی کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کے اس ایمان اور یقین کا اظہار ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک سوال اور گدا کے لیے اللہ کے در کے سوا اور کوئی دروازہ نہیں ہے۔ وہ رد کرے یا قبول، وہ اس کے سوا اور کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا، کسی سے سوال نہیں کرتا، کسی کے آگے نہیں گڑگڑاتا اور یہ دعا کا بہت بڑا فائدہ ہے جس سے بندہ کے توحید پر ایمان کا اظہار ہوتا ہے۔

اگر انسان بار بار دعا کرتا رہے اور اس کی دعا قبول نہ ہو اور وہ اس پر صبر کرے تو اللہ اس سے کوئی مصیبت ٹال دیتا ہے۔ 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے جو شخص دعا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سوال اس کو عطا فرماتا ہے یا اس کی مثل اس سے کوئی مصیبت دور کردیتا ہے بہ شرطی کہ وہ کسی گناہ یا قطع رحم کی دعا نہ کرے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : 3392، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

بعض اوقات انسان کی دعا قبول نہ ہو اور وہ اس پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کو آخرت میں اجر عطا فرماتا ہے۔ حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مسلمان ایسی دعا کرے جس میں گناہ نہ ہو اور نہ قطع رحم ہو تو اللہ اس کو تین چیزوں میں سے ایک چیز ضرور عطا فرماتا ہے یا تو اس کی دعا جلد قبول فرما لیتا ہے یا اس دعا کو اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کردیتا ہے یا اس کی مثل اس سے کوئی مصیبت دور فرما دیتا ہے۔ صحابہ نے کہا پھر تو ہم بہت دعا کریں گے، آپ نے فرمایا اللہ بہت دینے والا ہے۔

(اس حدیث کی سند حسن ہے، مسند احمد ج 10 مطبوعہ دار الحدیث قاہرہ، 1416 ھ، رقم الحدیث : 11075، المستدرک، ج 1، ص 493)

ہمیں چونکہ مستقبل اور عاقبت امور کا پتا نہیں ہوتا اس لیے ہم بعض اوقات کسی ایسی چیز کی دعا کرتے ہیں جو انجام کار ہمارے لیے مضر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول نہ کرکے ہمیں اس نقصان سے بچا لیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ” و عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم و عسی ان تحبوا شیئا وھو شر لکم واللہ یعلم وانتم لا تعلمون : ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کو تم برا سمجھو ! اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ” (البقرہ : 216) ۔ میں نے البقرہ :186 کی تفسیر میں دعا پر کافی مفصل گفتگو کی ہے اور ان عنوانات پر تقریر کی ہے، اللہ سے دعا کرنے کے متعلق احادیث، ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے متعلق احادیث، فرض نمازوں کے بعد دعا کرنے کے متعلق احادیث، فرض نمازوں کے بعد دعا کرنے کے متعلق فقہاء اسلام کی آراء، طلب جنت کی دعا کرنے کا قرآن اور سنت سے بیان، دعا قبول ہونے کی شرائط اور آداب اور دعا قبول نہ ہونے کی وجوہات۔ اس آیت کی تفسیر میں، میں دعا کی فضیلت میں چند احادیث بیان کروں گا اور چپکے چپکے دعا کرنے کے فوائد اور نکات بیان کروں گا۔ ہمارے زمانہ میں بعض لوگ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے شدید مخالف ہیں۔ ہرچند کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں میں اس کے متعلق چند احادیث بیان کرچکا ہوں لیکن بعض محبین کی فرمائش پر میں یہاں مزید تتبع کرکے احادیث اور آثار کو بیان کروں گا۔ فاقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق۔ 

دعا کی ترغیب اور فضیلت میں احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 216 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ عز وجل سے یہ روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اے میرے بندو ! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کردیا سو تم ایک دوسرے پر طلم نہ کرو، اے میرے بندو ! تم سب گمراہ ہو ماسوا اس کے جس کو میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تم کو ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو ! تم سب گمراہ ہو ماسوا اس کے جس کو میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تم کو ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو ! تم سب بھوکے ہو ماسوا اس کے جس کو میں کھانا کھلاؤں سو تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھانا کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو ! تم سب بےلباس ہو ماسوا اس کے جس کو میں لباس پہناؤں سو تم مجھ سے لباس مانگو میں تم کو لباس پہناؤں گا۔ اے میرے بندو ! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں، سو تم مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تم کو بخش دوں گا۔ اے میرے بندو ! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو، اور تم کسی نفع کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نفع پہنچا سکو۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن، تم میں سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہوجائیں تو میرے ملک میں کچھ اضافہ نہیں کرسکتے، اور اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن، تم میں سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہوجائیں تو میرے ملک سے کوئی چیز کم نہیں کرسکتے، اور اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر فرد کا سوال پورا کردوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہوگا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے۔ اے میرے بندو ! یہ تمہارے اعمال ہیں جن کو میں تمہارے لیے جمع کر رہا ہوں، پھر میں تم کو ان کی پوری پوری جزا دوں گا، پس جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جس کو خیر کے سوا کوئی چیز (مثلاً آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔ (صحیح مسلم، البرو الصلہ : 55 (2577) 6450 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2495 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 4257، کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص 263)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا، اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیا گیا۔ اللہ سے جس چیز کا بھی سوال کیا جائے ان میں سے پسندیدہ سوال عافیت کا ہے۔ جو مصیبتیں نازل ہوچکی ہیں اور جو نازل نہیں ہوئیں ان سب میں دعا سے نفع ہوتا ہے۔ سو اے اللہ کے بندو ! دعا کرنے کو لازم کرلو۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3548، المستدرک ج 1، ص 498)

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ تقدیر کو صرف دعا مسترد کرسکتی ہے اور عمر میں صرف نیکی سے اضافہ ہوتا ہے اور انسان گناہ کرنے کی وجہ سے رزق سے محرو ہوجاتا ہے۔ (یہ حدیث حسن ہے) (صحیح ابن حبان، ج 2، رقم الحدیث : 872 ۔ المستدرک ج 1، ص 493 ۔ امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تم کو یہ نہ بتاؤں کہ کس چیز کی وجہ سے تم کو اپنے دشمنوں سے نجات ملے گی اور کس چیز کے سبب سے تمہارے رزق میں زیادتی ہوگی ! تم اپنے دن اور رات میں اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو، کیونکہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ (مسند ابویعلی، ج 3، رقم الحدیث : 1812، مجمع الزوائد، ج 10، ص 147)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بندہ کا اپنے رب عزوجل سے سب سے زیادہ قرب سجدہ میں ہوتا ہے سو تم (سجدہ میں) بہت دعا کیا کرو۔ (صحیح مسلم، صلوۃ : 215، (482) 1064 ۔ سنن ابو داو ود، رقم الحدیث : 875 ۔ سنن النسائی، رقم الحدیث : 1137)

عبداللہ بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ ان کی حضرت ام الدرداء (رض) سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا کیا آپ حج کو جا رہے ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں ! انہوں نے کہا ہمارے لیے خبر کی دعا کریں، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے جو مسلمان شخص اپنے بھائی کے حق میں اس کی پس پشت دعا کرتا ہے اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور اس کے سرہانے ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہوتا ہے جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے آمین اور تمہارے لیے بھی اس کی مثل ہو۔

آہستہ دعا کرنے کے فوائد اور نکات : 

آہستگی اور چپکے چپکے دعا کرنے کے نکات اور فوائد حسب ذیل ہیں : 

1 ۔ چپکے چپکے دعا کرنے میں زیادہ ایمان ہے کیونکہ جو شخص چپکے چپکے دعا کرتا ہے اس کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پوشیدہ دعائیں بھی سن لیتا ہے۔ 

2 ۔ اس میں زیادہ ادب اور تعظیم ہے کیونکہ بڑوں کے سامنے آہستہ آہستہ بات کی جاتی ہے۔ 

3 ۔ گڑگڑا کر دعا کرنا آہستگی کے ساتھ دعا کرنے کے زیادہ مناسب ہے۔

4 ۔ آہستگی کے ساتھ دعا کرنے میں زیادہ اخلاص ہے۔ کیونکہ بلند آواز کے ساتھ دعا کرنے میں ریاکاری کا خدشہ ہے۔ 

5 ۔ جو شخص دور ہو اس سے بلند آواز کے ساتھ بات کی جاتی ہے اور جو قریب ہو اس کے ساتھ آہستہ بات کی جاتی ہے تو جو شخص آہستگی کے ساتھ دعا کرتا ہے وہ گویا اپنے رب کو بہت قریب سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ سرگوشی میں دعا کر رہا ہے۔ 

6 ۔ جہراً اور بلند آواز کے ساتھ دعا کرنے سے بسا اوقات انسان تھک جاتا ہے یا اکتا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ جتنی دیر دعا کرتا رہے اس کی طبیعت میں ملال نہیں ہوتا۔

7 ۔ آہستگی کے ساتھ دعا کرنے سے انسان کے خیالات متنشر اور پریشان نہیں ہوتے اور وہ دل جمعی اور حضور قلب کے ساتھ دعا کرتا رہتا ہے۔

8 ۔ آہستگی کے ساتھ دعا کرنے سے یہ خطرہ نہیں ہوتا کہ اگر بلند آواز کے ساتھ دعا کرتے ہوئے کسی مخالف یا بدطینت انسان یا جن نے اس کی دعا سن لی تو وہ اس کو فتنہ میں مبتلا کردے گا۔ 

9 ۔ دعا میں انسان اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہے اور اس کو اپنے دل کا حال سناتا ہے اور جس طرح راز و نیاز خفیہ ہوتے ہیں اسی طرح دعا بھی خفیہ طریقہ سے مناسب ہے۔

10 ۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے آہستگی کے ساتھ خفیہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی : ” اذ نادی ربہ نداء خفیا : جب انہوں نے اپنے رب کو آہستگی کے ساتھ پکارا ” (مریم :13)

11 ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا رہے تھے لوگ بآواز بلند اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنے لگے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! اپنے اوپر نرمی کرو تم کسی بہرے کو پکار رہے ہو نہ غائب کو، تم سمیع اور قریب کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔ (الحدیث) (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 6409، صحیح مسلم، الدعوات : 44 (2704) 6735 ۔ سنن ابو داود، رقم الحدیث : 1526 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3472)

12 ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہترین ذکر وہ ہے جو آہستہ ہو اور بہترین رزق وہ ہے جو بہ قدر کفایت ہو۔ (صحیح ابن حبان ج 3، رقم الحدیث : 809 ۔ کتاب الزھد للوکیع، ج 1، رقم الحدیث : 117 ۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ج 10، ص 375، مسند احمد، ج 1، ص 178، 172، مسند ابویعلی رقم الحدیث : 731، کتاب الدعا للطبرانی، رقم الحدیث : 1823 ۔ شعب الایمان للبیہقی، ج 1، ص 330)

13 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آہستگی کے ساتھ دعا کرنا ستر بآواز بلند دعاؤں کے برابر ہے۔ (کتاب الفردوس ج 2، رقم الحدیث : 2869 الجامع الکبیر ج 4، رقم الحدیث : 12059 ۔ الجامع الصغیر، ج 1 ۔ رقم الحدیث : 4206 ۔ کنز العمال ج 2، رقم الحدیث : 3196)

امام فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : اس مسئلہ میں ارباب طریقت کا اختلاف ہے کہ آیا عبادات میں اخفاء افضل ہے یا اظہار ! بعض کے نزدیک اخفاء افضل ہے تاکہ اعمال ریا سے محفوظ رہیں اور بعض کے نزدیک اظہار افضل ہے تاکہ دوسروں کو بھی عبادات میں اقتدء کرنے کی ترغیب ہو۔ شیخ محمد بن عیسیٰ حکیم ترمذی نے کہا اگر کسی شخص کو اپنے اوپر ریاکاری کا خطرہ ہو تو اس کے لیے اخفاء افضل ہے اور اگر وہ شائبہ ریا سے مامون ہو تو اس کے حق میں اظہار افضل ہے تاکہ دوسروں کی اقتداء کا فائدہ حاصل ہو۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 281 ۔ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

خارج نماز دعا کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے کے متعق مذاہب فقہاء : 

دعا کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے میں علماء کا اختلاف ہے۔ جبیر بن مطعم، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، قاضی شریح، مسروق، قتادہ، عطا، طاؤس اور مجاہد وگیرہم کے نزدیک دعا کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) استسقاء کے سوا کسی دعا کے وقت ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے آپ اس دعا میں ہاتھ اس قدر اوپر اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوجاتی تھی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 1031) ۔ ایک قول یہ ہے کہ جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے تو اس وقت دعا میں ہاتھ اٹھانا حسن اور عمدہ ہے، جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استسقاء میں اور جنگ بدر کے دن دعا میں ہاتھ اٹھائے تھے۔ 

علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ فرماتے ہیں : دعا جس طرح سے بھی کی جائے، وہ مستحسن ہے۔ کیونکہ جب بندہ دعا کرتا ہے تو وہ اپنے فقر اور اپنی حاجت کو اور اللہ کی بارگاہ میں عاجزی اور تذلل کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو قبلہ کی طرف منہ کرکے اور دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر دعا کرے اور یہ مستحسن طریقہ ہے اور اگر چاہے تو اس کے بغیر دعا کرے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح کیا ہے، اور اس آیت میں ہاتھ اٹھانے اور قبلہ کی طرف منہ کنے کی قید نہیں لگائی اور ان لوگوں کی مدح کی ہے جو ہرحال میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں، خواہ کھڑے ہوں، خواہ بیٹھے ہوں۔ (آل عمران : 191) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمعہ کے خطبہ میں دعا کی در آنحالیکہ آپ کا قبلہ کی طرف منہ نہیں تھا۔ (الجامع لاحکام القرآن ج 7، ص 203، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

بہ کثرت احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کے وقت دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے تھے اور یہ مستحسن طریقہ ہے جیسا کہ علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی نے فرمایا ہے اور حضرت انس (رض) نے جو یہ فرمایا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استسقاء کے علاوہ دعا میں دونوں ہاتھ اوپر نہیں اٹھائے اس کے علماء نے متعدد جوابات دیے ہیں۔ 

علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم مالکی القرطبی المتوفی 656 ھ لکھتے ہیں : حضرت انس (رض) کے قول کا معنی یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس قدر مبالغہ کے ساتھ استسقاء میں دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے حتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوجاتی تھی اس قدر مبالغہ کے ساتھ باقی دعاؤں میں ہاتھ بلند نہیں فرماتے تھے، ورنہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ بدر کے دن اور دیگر مواقع پر دعا میں ہاتھ بلند فرمائے ہیں۔ امام مالک سے ایک روایت یہ ہے کہ دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کے لیے جہت کا اعتقاد نہ کرے۔ امام مالک کا مختار یہ ہے کہ جب مصیبت دور کرنے کے لیے دعا کرے تو دونوں ہتھیلیوں کو آسمان کی طرف کرے (المفہم، ج 2، ص 541، مطبوعہ دار ابن کثیر، بیروت، 1417 ھ)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن خلیفہ ابی مالکی متوفی 828 ھ لکھتے ہیں : ایک جماعت نے ہر دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کو مستحب کہا ہے۔ امام مالک نے اس کو مکروہ کہا ہے اور ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ استسقاء میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا مستحب ہے۔ (اکمال اکمال المعلم، ج 3، ص 277، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں : حضرت انس (رض) کی اس روایت کا ظاہر معنی یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) استسقاء کے علاوہ اور کسی دعا میں دونوں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے اور یہ روایت ان احادیث صحیحہ کے معارض ہے جن میں تصریح ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) استسقاء کے علاوہ بھی دعاؤں میں دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے اور یہ احادیث بہت زیادہ ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں کتاب الدعوات میں مستقل عنوان کے ساتھ ان احادیث کو ذکر کیا ہے۔ بعض علماء کا مسلک یہ ہے کہ ہاتھ بلند کرنے کی احادیث پر عمل کرنا اولیٰ ہے اور حضرت انس (رض) کی روایت اس پر محمول ہے کہ انہوں نے ان مواقع کو نہیں دیکھا، اور یا حضرت انس کی روایت اس پر محمول ہے کہ استسقاء کی دعا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت زیادہ دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے تھے حتی کہ انہیں چہرے کے متوازی کرلیتے اور آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی اور ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف ہوتی اور اس کیفیت کے ساتھ آپ باقی دعاؤں میں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے۔ اس طرح احادیث میں تطبیق ہوجائے گی۔ (فتح الباری ج 2، ص 517، مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ، لاہور، 1401 ھ)

علامہ بدر الدین عینی حنفی نے بھی یہی تقریر کی ہے۔ (عدۃ القاری ج 7، ص 52، طبع مصر)

نیز علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی 855 ھ لکھتے ہیں : دعا میں دونوں ہاتھ بلند کرنے میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام مالک سے ایک روایت ہے کہ یہ مکروہ ہے اور دوسرے ائمہ نے ہر دعا میں دونوں ہاتھ بلند کرنے میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام مالک سے ایک روایت ہے کہ یہ مکروہ ہے اور دوسرے ائمہ نے ہر دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کو مستحب کہا ہے اور بعض علماء نے فقط استسقاء میں جائز کہا ہے۔ علماء کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ دعا میں سنت یہ ہے کہ مصیبت دور کرنے کے لیے جب دعا کرے تو دونوں ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف کرے (اس میں زبان حال سے کہنا ہے کہ اے اللہ ! جس چیز کو بدلنا بہ ظاہر ہمارے اختیار میں ہے اس کو ہم نے بدل دیا اور جس کو بدلنا تیرے اختیار میں ہے اس کو تو بدل دے، یعنی ہمارے حالات کو مصیبت سے راحت میں بدل دے اور دعا کرنے والا صرف ہاتھوں کو نہ بدلے بلکہ اپنے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دے) اور جب کسی چیز کے حصول کی دعا کرے تو دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو آسمان کی طرف کرے۔ حضرت مالک بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ جب تم اللہ سے سوال کرو تو اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے سوال کرو اور ان کی پشت سے سوال نہ کرو۔ امام او یوسف سے ایک روایت یہ ہے کہ اگر چاہے تو دعا میں دونوں ہاتھ اٹھائے اور اگر چاہے تو انگلی سے اشارہ کرے محیط میں ہے انگلی سے اشارہ کرے۔ (عمدۃ القاری ج 6، ص 238-239، مطبوعہ ادارہ الطباعہ المنیریہ، مصر، 1348 ھ)

ملا علی بن سلطان محمد القاری الحنفی المتوفی 1014 ھ لکھتے ہیں : دعا کے آداب سے یہ ہے کہ دونوں ہاتھ پھیلا کر آسمان کی طرف بلند کرے گویا کہ فیض لینے اور نزول برکت کے حصول کا منتظر ہو تاکہ ان دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیرے جیسے اس نے اس برکت کو قبول کرلیا ہے۔ (ارشاد الساری الی مناسک ملا علی قاری ص 134، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : مصیبت دور کرنے کے لیے دعا میں سنت یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف رکھے اور جب اللہ سے کسی چیز کا سوال کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو آسمان کی طرف رکھے۔ (تلخیص الحبیر مع شرح المہذب، ج 5 ص 102)

علامہ حسن بن عمار بن علی شرنبلالی حنفی متوفی 1069 ھ لکھتے ہیں : سلام پھیرنے کے بعد ذکر کرے اس کے بعد اپنے لیے اور مسلمانوں کے لیے وہ دعا کرے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہو۔ حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں عرض کیا گیا یار سول اللہ ! کس وقت دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : آدھی رات کو اور فرض نمازوں کے بعد۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : 3510) اور حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملا تو آپ نے فرمایا : اے معاذ ! میں تم سے محبت کرتا ہوں تم کسی نماز کے بعد یہ دعا نہ چھوڑو اللہم اعنی علی ذکرک و شکرک و حسن عبادتک۔ (عمل الیوم واللیلۃ رقم الحدیث : 118، سنن ابو داود، رقم الحدیث : 1522) جب یہ دعائیں کرے تو اپنے سینہ تک دونوں ہاتھ اٹھائے اور ہتھیلیوں کو چہرے کی جانب رکھے۔ (مراقی الفلاح علی ہامش الطحطاوی ص 189، مطبوعہ مطبعہ مصطفیٰ البابی واولادہ مصر 1356 ھ)

علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی الحنفی المتوفی 1231 ھ اس کے حاشیہ پر لکھتے ہیں : حصن حصین اور اس کی شرح میں مذکور ہے دونوں ہاتھ پھیلا کر کندھوں تک آسمان کی جانب بلند کرے کیونکہ وہ دعا کا قبلہ ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ دعا کے وقت تم اپنے دونوں ہاتھ کندھوں یا اس سے ذرا نیچے تک بلند کرو اور وہ جو حدیث میں ہے کہ دونوں ہاتھ اس قدر بلند کرے کہ بغلوں کی سفیدی دکھائی دے سو وہ بیان جواز پر محمول ہے یا استسقاء پر۔ یا کسی اور سخت مصیبت کے موقع پر جب دعا میں مبالغہ مقصود ہو، اور النہر میں مذکور ہے کہ دعا کی مستحب کیفیت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کے درمیان کچھ کشادگی ہو اور اگر کسی وجہ سے دونوں ہاتھ بلند نہ کرسکے تو انگوٹھے کے برابر والی انگلی (سبابہ) سے اشارہ کرے، اور شرح حصن حصین میں مذکور ہے کہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں ہاتھ ملائے اور انگلیوں کو قبلہ کی طرف رکھے اور شرح مشکوۃ میں مذکور ہے کہ نبی صی اللہ علیہ وسل نے عرفہ کے دن دونوں ہاتھ ملا کر دعا کی۔ (حاشیہ طحطاوی، علی مراق الفلاح، ص 189 ۔ 190، مطبوعہ مصر، 1356) 

ملا علی قاری حنفی متوفی 1014 ھ نے بھی لکھا ہے کہ نماز کے بعد دعا میں دونوں ہاتھ بلند کرے اور دونوں ہتھیلیاں چہرے کی جانب کرے۔ (مرقات ج 2، ص 268، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ، ملتان، 1390 ھ)

محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں کہ دعا کی چار قسمیں ہیں : دعاء رغبت، دعاء رھبت (مصیبت کے وقت کی دعا) دعاء تضرع (گڑگڑا کر دعا کرنا) اور دعا خفیہ۔ دعاء رغبت میں اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں آسمان کی جانب کرے اور دعا رہبت میں اپنے دونوں ہاتھ کی پشت اپنے چہرے کے بالمقابل کرے جیسے کسی مصیبت میں فریاد کر رہا ہو اور دعاء تضرع میں چھنگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی (خنصر اور بنصر) کو موڑے اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنائے اور سبابہ سے اشارہ کرے۔ اور دعاء خفیہ کو انسان اپنے دل میں کرے۔ اسی طرح مجموع الفاوی میں مختصر حاکم شہید کی شرح سرخسی کے حوالے سے مذکور ہے۔ (عالم گیری ج 5، ص 318، مطبوعہ مطبعہ امیریہ کبری بولاق مصر، 1310 ھ)

شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی حنفی متوفی 483 ھ مذکور الصدر عبارت کے بعد لکھتے ہیں : 

اسی بناء پر امام ابویوسف نے امالی میں لکھوایا ہے کہ صفا مروہ، عرفات اور مزدلفہ وغیرہ میں دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں آسمان کی طرف بلند کرے کیونکہ وہ ان مواقف میں رغبت کے ساتھ دعا کرتا ہے اور مختار یہ ہے کہ دعاء قنوت میں امام اور مقتدی دونوں آہتہ دعا کریں کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ بہترین دعا وہ ہے جو خفیہ ہو، اور امام ابو یوسف (رح) سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ امام بلند آواز سے دعا کرے اور مقتدی آمین کہیں۔ وہ اس ریقہ کو خارج نماز دعا پر قیاس کرتے ہیں۔ (المبسوط ج 1، ص 166، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت، 1398 ھ)

مبسوط کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ نماز میں امام کو سراً دعا کرنا چاہیے اور خارج نماز میں امام کو چہراً دعا کرنی چاہیے تاکہ مقتدی اس کی دعا پر مطلع ہو کر آمین کہیں۔ 

ملا علی بن سلطان محمد القاری الحنفی المتوفی 1014 ھ لکھتے ہیں : دعا کے وقت دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں سے آسمان کی طرف بلند کرے کیونکہ وہ دعا کا قبلہ ہے۔ اس کو حضرت ابو حمید ساعدی اور حضرت انس وگیرہ نے روایت کیا ہے اور یہ کہ وہ کندھوں کے بالمقابل دونوں ہاتھوں کو بلند کرے۔ نیز آداب دعا سے یہ ہے کہ وہ ہاتھوں کو ملائے اور انگلیاں قبلہ کی طرف متوجہ رکھے۔ (شرح حصن حصین مطبوعہ مکہ المکرمہ، 1304 ھ)

قاضی محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی 1250 ھ لکھتے ہیں : دعا کے آداب میں سے یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر کندھوں تک بلند کرے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقریبا تیس مقامات پر دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا کی ہے اور دعا مانگنے کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے جیسا کہ سنن ترمذی میں حضرت ابن عباس اور حضرت عمر بن الخطاب (رض) سے مروی ہے۔ (تحفۃ الذاکرین ص 58-59، دار القلم، بیروت)

خارج نماز دعا کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے کے متعلق احادیث : 

1 ۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید کو بنوجذیمہ کی طرف بھیجا۔ انہوں نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ وہ اچھی طرح سے یہ نہیں کہہ سکے کہ ہم اسلام لائے۔ وہ کہنے لگے صبانا صبانا (ہم نے دین بدل لیا) حضرت خالد نے ان کو قتل کرنا اور قید کرنا شروع کردیا اور ہم میں سے ہر شخص کو انہوں نے ایک قیدی دیا، حتی کہ جس صبح کو حضرت خالد نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہر شخص اپنے اپنے قیدی کو قتل کردے تو میں نے کہا خدا کی قسم ! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے اصحاب میں سے کوئی شخص اپنے قیدی کو قتل کردے تو میں نے کہا خدا کی قسم ! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے اصحاب میں سے کوئی شخص اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ حتی کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ ماجرا ذکر کیا تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ اٹھا کر (دوسری روایت میں ہے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر) (کتاب الدعوات، باب رفع الایدی فی الدعا) دو بار یہ دعا کی : اے اللہ ! خالد نے جو کچھ کیا، میں اس سے تیری طرف بری ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 4339، سنن النسائی رقم الحدیث : 5420)

2 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہاتیوں میں سے ایک اعرابی جمعہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مویشی ہلاک ہوگئے، بچے اور لوگ ہلاک ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا کی اور لوگ بھی اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے دعا کر رہے تھے، ابھی ہم مسجد سے نکلے نہیں تھے کہ بارش شروع ہوگئی۔ (الحدیث) (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1029، سنن ابو داود، رقم الحدیث : 1173 ۔ 1173)

3 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے حتی کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1030، صحیح مسلم الاستسقاء 5 (895) 2040 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 1748)

4 ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ نے حضرت ابوعامر کو ایک لشکر کا امیر بنا کر اوطاس کی طرف بھیجا ان کا مقابلہ درید بن العصہ سے ہوا۔ پس درید قتل کردیا گیا اور اللہ نے اس کے لشکر کو شکست دی۔ حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے ابوعامر کے ساتھ بھیجا تھا۔ حضرت ابوعامر کے گھٹنے میں آ کر ایک تیر لگا اور وہ تیر ان کے گھٹنے میں پیوست ہوگیا۔ میں ان کے پاس پہنچا اور کہا اے چچا آپ کو کس نے تیر مارا، انہوں نے حضرت ابوموسی کو اشارہ سے بتایا کہ وہ شخص میرا قاتل ہے جس نے مجھ کو تیر مارا ہے۔ میں نے اس کا قصد کیا اور اس کو جا لیا۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ پیٹھ موڑ کر بھاگا۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور میں یہ کہہ رہا تھا تجھے شرم نہیں آتی تو رکتا کیوں نہیں۔ وہ رک گیا اور ہم نے ایک دوسرے پر تلواروں سے حملے کیے۔ میں نے اس کو قتل کردیا۔ پھر میں نے حضرت ابوعامر سے کہا اللہ نے آپ کے قاتل کو ہلاک کردیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ تیر نکالو۔ میں نے تیر نکالا تو گھٹنے سے پانی بہنے لگا۔ انہوں نے کہا : اے بھتیجے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا سلام کہنا اور عرض کرنا کہ میرے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ اور حضرت ابوعامر نے مجھے اپنا قائم مقام لشکر کا سالار مقرر کیا۔ وہ تھوڑی دیر زندہ رہے پھر فوت ہوگئے۔ جب میں لوٹا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں حاضر ہوا آپ ایک چارپائی پر بغیر بستر کے لیٹے تھے اور آپ کی پشت مبارک اور پہلو پر چارپائی کے نشانات ثبت ہوگئے تھے۔ میں نے آپ سے اپنا اور حضرت ابوعامر کا ماجرا عرض کیا اور یہ بتایا کہ انہوں نے کہا تھا کہ آپ سے کہنا کہ میرے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ آپ نے پانی منگوایا وضو کیا اور دونوں ہاتھ بلند کیے اور یہ دعا کی کہ اے اللہ ! اپنے بندے ابو عامر کی مغفرت فرما۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بغلوں کی سفیدی دیکھی اور آپ نے کہا : اے اللہ ! قیامت کے دن اس کو اپنی کثیر مخلوق پر فضیلت عطا فرما۔ میں نے عرض کیا اور میرے لیے بھی مغفرت کی دعا کیجیے آپ نے کہا اے اللہ ! عبداللہ بن قیس کے گناہ کو معاف فرما اور اس کو قیامت کے دن عزت کی جگہ میں داخل کردے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 4323 ۔ صحیح مسلم، فضائل صحابہ 165 (2498) 2689 ۔ سنن کبری للبیہقی ج 5، رقم الحدیث : 8781)

5 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح سویرے خیبر پہنچے اس وقت وہ لوگ اپنے کدال اور پھاوڑے لے کر نکل رہے تھے۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکر سمیت آپہنچے اور انہوں نے قلعہ کی طرف دوڑنا شروع کردیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فرمایا خیبر تباہ ہوگیا بیشک ہم جس قوم کے صحن میں نازل ہوتے ہیں تو ان لوگوں کی کیسی بری صبح ہوتی ہے جن کو ڈرایا جا چکا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 3647 ۔ مسند احمد ج 3، ص 111 ۔ 163)

سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) جمرہ اولی پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے بعد اللہ اکبر کہتے پھر نرم جگہ کا قصد کرتے پھر قبلہ کی طرف منہ کرکے طویل قیام کرتے اور دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا کرتے۔ پھر اسی طرح جمرہ وسطی پر کنکریاں مارتے پھر بائیں جانب نرم جگہ کا قصد کرتے اور قبلہ کی طرف منہ کرکے طویل قیام کرتے اور دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا کرتے پھر جمرہ عقبہ کی رمی کرتے اور وہاں نہ ٹھہرتے اور کہتے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1752 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 3083 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3032)

7 ۔ زہری بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جمرہ کی رمی کرتے جو مسجد منی کے قریب ہے تو سات کنکریاں مارتے اور ہر مرتبہ رمی کے بعد اللہ اکبر کہتے پھر اپنے آگے بڑھ کر قبلہ کی طرف منہ کرکے ٹھہرجاتے اور دونوں ہواتھ بلند کرکے دعا کرتے اور طویل قیام کرتے۔ پھر دوسرے جمرہ پر آتے اور وہاں سات کنکریاں مارتے اور ہر رمی کے بعد اللہ اکبر کہتے پھر بائیں جانب دادی کے قریب چلے جاتے اور قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوتے اور دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا کرتے پھر جمرہ عقبہ کے پاس تشریف لاتے اور وہاں سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہتے پھر لوٹ آتے اور وہاں قیام نہ کرتے۔ زہری نے کہا میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا ہے وہ اپنے والد سے اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی مثل حدیث بیان کرتے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمر بھی اسی طرح کرتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1753، سنن النسائی رقم الحدیث : 3038، سنن دارمی رقم الحدیث : 1903)

8 ۔ وھب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن الزبیر (رض) کو دیکھا وہ دعا کرتے تھے اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنے چہرے پر پھیرتے تھے۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ (الادب المفرد، رقم الحدیث : 624 ۔ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1416 ھ)

9 ۔ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے دیکھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کررہے تھے : میں محض بشر ہوں تو میرا مواخذہ نہ فرما میں جس مومن کو بھی اذیت دوں یا برا کہوں تو، تو اس پر میرا مواخذہ نہ فرما۔ (الادب المفرد رقم الحدیث : 625، یہ حدیث صحیح ہے)

10 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت طفیل بن عمرو الدوسی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! دوس، نافرمانی کرتے ہیں اور انکار کرتے ہیں ان کے خلاف دعائے ضرر کیجیے۔ آپ نے قبلہ کی طرف منہ کیا اور دونوں ہاتھ بلند کیے لوگوں نے گمان کیا کہ آپ ان کے خلاف دعاء ضرر کریں گے۔ آپ نے کہا : ” اے اللہ دوس کو ہدایت دے اور ان کو لے آ ” (الادب المفرد رقم الحدیث : 626 ۔ تہذیب تاریخ دمشق، ج 7، ص 66، مسند حمیدی ج 1، رقم الحدیث : 1050)

11 ۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت طفیل بن عمرو نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا آپ کا ایک مضبوط قلعہ کے متعلق کیا خیال ہے جو دوس کا قلعہ ہے۔ آپ نے اس کا انکار فرمایا کیونکہ یہ سعادت اللہ تعالیٰ نے انصار کے لیے مقرر کردی تھی۔ پھر حضرت طفیل نے ہجرت کی۔ اور ان کے اتھ ان کے قبیلہ کے ایک شخص نے بھی ہجرت کی۔ وہ شخص بیمار پڑگیا اس شخص نے بےصبری کی اور چھری سے اپنے ہاتھ کی رگیں کاٹ ڈالیں اور وہ مرگیا۔ حضرت طفیل نے اس کو خواب میں دیکھا اور اس سے پوچھا تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟ اس نے کہا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت کرنے کی وجہ سے اللہ نے مجھے بخش دیا۔ انہوں نے کہا : تمہارے ہاتھ کو کیا ہوا ؟ اس نے کہا : مجھے یہ بتایا گیا کہ ہم اس کو ہرگز ٹھیک نہیں کریں گے جس کو تم نے خود خراب کیا ہے۔ حضرت طفیل نے یہ واقعہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی اے اللہ ! اس کے ہاتھوں کو بھی معاف کردے۔ (الادب المفرد رقم الحدیث : 629)

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ روایت کرتے ہیں :

12: حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں یہ اس رات کی بات ہے ج رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر میں تھے۔ آپ نے کروٹ لے کر چادر اوڑھی اور جوتے نکال کر اپنے قدموں کے سامنے رکھے اور چادر کی ایک طرف اپنے بستر پر بچھا کر لیٹ گئے، تھوڑی دیر میں نیند کے خیال سے لیٹے رہے۔ پھر آہستہ سے چادر اوڑھی، جوتا پہنچا، چپکے سے دروازہ کھولا، آرام سے باہر نکلے اور آہستہ سے دروازہ بند کردیا۔ میں نے بھی چادر سر پر اوڑھی ایک چادر اپنے گرد لپیٹی اور آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ آپ بقیع (قبرستان) پہنچے اور بہت طویل قیام کیا اور تین بار (دعا کے لیے) ہاتھ بلند کیے اور لوٹ آئے۔ (صحیح مسلم الجنائز : 103 (974) 2219 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 2036، مسند احمد، ج 6، ص 221)

13: حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حیا دار کریم ہے جب کوئی شخص اس کی طرف اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتا ہے تو وہ ان کو نامراد لوٹانے سے حیا فرماتا ہے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3567، سنن ابوداود رقم الحدیث : 1488، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3865، المستدرک، ج 1، ص 497، 535 ۔ مسند احمد، ج 5 ص 438 ۔ کتاب الدعاء للطبرانی ص 84، رقم الحدیث : 202)

14: حضرت عر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب دعا میں دونوں ہاتھ بلند فرماتے تو جب تک ان ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیرتے نہیں تھے ان کو نیچے نہیں کرتے تھے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3398)

15 ۔ حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بندہ دونوں ہاتھ اللہ کی طرف بلند کرتا ہے تو اللہ اس سے حیا فرماتا ہے کہ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹا دے اور اس کے ہاتھوں میں کچھ نہ ہو (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3567 ۔ سنن ابوداود، رقم الحدیث : 1488 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3865 ۔ المعجم الکبیر ج 6، ص 314 ۔ کتاب الدعا للطبرانی، ص 84)

16 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور ہاتھوں کی پشت دونوں سے سوال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابوداود رقم الحدیث : 1487)

17: سائب بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی جب دعا کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے اور اپنے ہاتھوں کو چہرے پر پھیرتے (سنن ابوداود رقم الحدیث : 1492)

18 ۔ حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوتی تو آپ کے چہرے کے پاس شہد کی مکھیوں کی بھنبھاہٹ سی آواز سنائی دیتی ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی ہم کچھ دیر ٹھہرے رہے اور جب وہ کیفیت ختم ہوگئی تو آپ نے قبلہ کی طرف منہ کرکے دونوں ہاتھ بلند کیے اور یہ دعا کی : اے اللہ ! ہمیں زیادہ دے اور ہم میں کمی نہ کر اور ہمیں عزت دے اور ہمیں ذلت سے بچا اور ہمیں عطا فرما اور ہمیں محروم نہ کر اور ہمیں ترجیح دے اور ہم پر کسی کو ترجیح نہ دے اور ہمیں راضی کر اور ہم سے راضی رہ۔ (الحدیث) (سنن ترمذی رقام الحدیث : 3184، سنن کبری للنسائی رقم الحدیث : 1439، مسند احمد، ج 1، رقم الحدیث : 223، مطبوعہ دار الحدیث قاہرہ، المستدرک ج 1 ص 535)

19: حضرت انس (رض) ستر قاریوں کی شہادت کے قصہ میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب صبح کی نماز پڑھتے تھے تو دونوں ہاتھ بلند کرکے ان کے قاتلوں کے خلاف دعائے ضرر کرتے تھے۔ (سنن کبری للبیہقی، ج 2، ص 211)

20: حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں ہاتھ بلند کرکے دو آدمیوں کے خلاف دعا کی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 10، رقم الحدیث : 9724)

21: حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اخلاص اس طرح ہے، آپ نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کیا اور یہ دعا ہے آپ نے دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیے اور یہ ابتہال ہے پھر آپ نے اور زیادہ ہاتھ بلند کیے۔ (کتاب الدعاء للطبرانی رقم الحدیث : 208)

22: حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ احزاب کے دن جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف ہوئی تو آپ نے چادر پھینک دی اور بغیر (اوپر کی) چادر کے کھڑے ہوگئے اور دونوں ہاتھ خوب بلند کرکے دعا کی۔ 

اس حدیث کو امام داود طیالسی نے روایت کیا ہے۔ (اتحاف السادۃ المہرۃ بزوائد المسانید العشرۃ، ج 9، ص 14، رقم الحدیث : 6943) ۔

23 ۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میدان عرفات میں کھڑے ہوئے اس طرح دعا کر رہے تھے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتیوں تک بلند کیے اور ہتھیلیوں کو زمین کی جانب کیا۔ (مسند احمد، ج 3، ص 13، مجمع الزوائد، ج 10، ص 168 ۔ سنن النسائی، رقم الحدیث : 3011 ۔ 3017)

24 ۔ حضرت خلاد بن سائب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی چیز کا سوال کرتے تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنی جانب رکھتے اور جب کسی چیز سے پناہ طلب کرتے تو اپنے ہاتھوں کی پشت کو اپنی جانب رکھتے۔ (مسند احمد ج 4، ص 56 ۔ مجمع الزوائد ج 10، ص 168 ۔ تلخیص الحبیر مع شرح المہذب ج 5، ص 102)

25 ۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میدان عرفات میں دعا کرتے ہوئے دیکھا آپ کے دونوں ہاتھ سینہ کی جانب تھے جیسے کوئی مسکین کھانا مانگ رہا ہو۔ (المعجم الاوسط ج 3، رقم الحدیث : 2913 ۔ مجمع الزوائد ج 10، ص 168)

26 ۔ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے تھے حتی کہ میں ہاتھوں کو بلند کرتے ہوئے اکتا جاتی تھی۔ (مسند احمد ج 6، ص 225، اس کی سند صحیح ہے، مجمع الزوائد، ج 10 ص 168)

27 ۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا میں دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے حتی کہ آپ کے دونوں بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۔ (مسند ابویعلی ج 13، رقم الحدیث : 7440 ۔ المطالب العالیہ، ج 3، رقم الحدیث : 3345 ۔ مجمع الزوائد ج 10 ص 168)

28 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا میں دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے حتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ (مسند البزار ج 4، رقم الحدیث : 3147، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 1271 ۔ مجمع الزوائد ج 10، ص 168)

29 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میدان عرفات میں گڑگڑا کر دعا کر رہے تھے۔ آپ کے اصحاب نے کہا یہ ابتہال (اللہ سے عجز و انکسار سے دعا کرنا) ہے۔ (مسند البزار ج 4، رقم الحدیث : 3147 ۔ مجمع الزوائد، ج 10، ص 168)

30 ۔ حضرت یزید بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جماعت کے ساتھ آئے حتی کہ آپ نے المریطاء کے نزدیک قرن پر قیام کیا۔ اس وقت آپ قبلہ کی طرف منہ کرکے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے دعا کر رہے تھے۔ (المجعم الاوسط ج 9، رقم الحدیث : 8918 ۔ مجمع الزوائد، ج 10، ص 169)

31 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا رب حیا کرنے والا کریم ہے۔ جب بندہ اس کی طرف دونوں ہاتھ بلند کرتا ہے تو اس کو اس سے حیا آتی ہے کہ وہ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹا دے اور ان میں کوئی خیر نہ ہو۔ پس جب تم میں سے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ بلند کرے تو وہ تین بار یہ کہے یا حی یا قیوم لا الہ الا انت یا ارحم الراحمین۔ پھر اپنے چہرے پر خیر کو انڈیل دے (یعنی چہرے پر ہاتھ پھیرے۔ اس کی سند ضعیف ہے) ۔ (المعجم الکبیر ج 12، رقم الحدیث : 13557 ۔ مجمع الزوائد ج 10، ص 169)

32 ۔ حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو لوگ بھی اپنے ہاتھوں کو اللہ عزوجل کی طرف اٹھا کر کسی چیز کا سوال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ (کے ذمہ کرم) پر یہ حق ہے کہ ان کے ہاتھوں میں وہ چیز رکھ دے جس کا انہوں نے سوال کیا ہے (اس حدیث کی سند صحیح ہے) (المعجم الکبیر ج 6، رقم الحدیث : 6142 ۔ مجمع الزوائد ج 10، ص 169)

33 ۔ حضرت خالد بن الولید (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تنگ دستی کی شکایت کی آپ نے فرمایا اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرو اور اللہ تعالیٰ سے فراخی کا سوال کرو۔ امام طبرانی نے اس حدیث کو دو سندوں سے روایت کیا ہے۔ ان میں سے ایک سند حسن ہے (المعجم الکبیر ج 3، رقم الحدیث : 3843، 3842 ۔ مجمع الزوائد، ج 10، ص 169)

34 ۔ حضرت خلاد بن سائب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب دعا کرتے تو اپنی ہتھیلیوں کو چہرے تک بلند کرتے۔ اس کی سند میں حفص بن ہاشم مجہول ہے۔ (المعجم الکبیر ج 2، رقم الحدیث : 1185 ۔ مجمع الزوائد، ج 10، ص 169)

35 ۔ حضرت جریر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میدان عرفات میں دیکھا آپ انپی چادر بغل سے نکالی ہوئی تھی اور دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے جو سر سے متجاوز نہیں تھے اور آپ کے بازو کا نپ رہے تھے۔ اس کی سند میں محمد بن عبیداللہ العزری ضعیف راوی ہے۔ (المعجم الکبیر ج 2، رقم الحدیث : 2386 ۔ مجمع الزوائد ج 10، ص 169)

36 ۔ حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے سوال کرو اور ہاتھوں کی پشت سے سوال نہ کرو۔ (سنن کبری للبیہقی، ج 2، ص 212 ۔ مجمع الزوائد، ج 10، ص 169 ۔ مشکوۃ رقم الحدیث : 2243 ۔ کنز العمال، رقم الحدیث : 3230، 3229، 3247)

37 ۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، جب تم بیت اللہ کو دیکھو، جب صفا اور مروہ پر ہو اور جب میدان عرفات میں ہو اور جب مزدلفہ میں ہو اور جب شیطان پر کنکریاں مارو اور جب نماز قائم کرو تو دنوں ہاتھوں کو بلند کرنا ہے۔ (المعجم الاوسط ج 2، رقم الحدیث : 1709 ۔ مجمع الزوائد ج 3، ص 238)

38 ۔ حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سخت گرمیوں میں تبوک کی طرف گئے۔ ہم ایک جگہ ٹھہرے۔ اس دن ہمیں اتنی سخت پیاس لگ رہی تھی کہ لگتا تھا کہ ہماری گردنیں ڈھلک جائیں گی، حتی کہ ایک شخص پانی کی تلاش میں جاتا اور اس حال میں واپس آتا کہ اس کی گردن ڈھل کی ہوئی ہوتی، اور حتی کہ کوئی شخص اپنے اونٹ کو ذبح کرتا اور اس کی اوجھڑی کو نچوڑ کر پیتا اور باقی کو اپنے کلیجہ پر رکھتا۔ حضرت ابوبکر نے کہا یارسول اللہ ! اللہ آپ کی دعا قبول کرتا ہے آپ ہمارے لیے دعا کیجیے۔ آپ نے فرمایا : کیا تم یہ چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں ! پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا کی ابھی وہ ہاتھ نیچے کیے تھے کہ بادل امنڈ آئے اور بارش شروع ہوگئی پھر ٹھہر گئی اور صحابہ نے اپنے برتن پانی سے بھر لیے۔ (المعجم الاوسط ج 4، رقم الحدیث : 3316)

39 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گھر سے مسجد کی طرف گیا۔ مسجد میں کچھ لوگ ہاتھ بلند کرکے اللہ عز وجل سے دعا کر رہے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم لوگ دیکھ رہے ہو ان لوگوں کے ہاتھوں میں کیا ہے ؟ میں نے پوچھا آپ ان کے ہاتھوں میں کیا دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نور۔ میں نے عرض کیا : آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے بھی وہ نور دکھائے۔ حضرت انس نے کہا : آپ نے دعا کی اور میں نے وہ نور دیکھ لیا۔ پھر آپ نے فرمایا اے انس جلدی چلو تاکہ ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائیں پھر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جلدی جلدی چلا پھر ہم نے بھی اپنے ہاتھ بلند کیے۔ (کتاب الدعاء للطبرانی، ص 85، رقم الحدیث : 206، التاریخ الکبیر، ج 3، ص 202)

40 ۔ حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن آدم جو بات بھی کرتا ہے وہ لکھ لی جاتی ہے۔ جب وہ کوئی خطا کرے اور اس پر توبہ کرنا چاہے تو اسے بلند ہونے والا نور لانا چاہیے۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرے اور یہ کہے کہ میں اس خطا سے توبہ کرتا ہوں اور میں دوبارہ یہ کبھی نہیں کروں گا تو اس کی وہ خطا بخش دی جائے گی جب تک کہ وہ اس خطا کو دوبارہ نہ کرے۔ (کتاب الدعاء للطبرانی ص 85، رقم الحدیث : 207، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1413 ھ)

ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے متعلق حرف آخر : دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کے متعلق مذکور الصدر احدیث کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث میری نظر میں ہیں لیکن میں اس باب میں صرف چالیس احادیث جمع کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ امت مسلمہ تک چالیس احادیث پہنچانے کے سلسلہ میں معدد بشارات ہیں ہرچند کہ ان احادیث کی اسناد ضعیف ہیں۔ اسی طرح دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا مانگنے کے باب میں جو ہم نے احادیث پیش کی ہیں، ان میں بھی بعض احادیث کی اسناد ضعیف ہیں۔ اسی طرح دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا مانگنے کے باب میں جو ہم نے احادیث پیش کی ہیں، ان میں بھی بعض احادیث کی اسناد ضعیف ہیں۔ اسی طرح دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا مانگنے کے باب میں جو ہم نے احادیث پیش کی ہیں، ان میں بھی بعض احادیث کی اسناد ضعیف ہیں۔ اسی طرح دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا مانگنے کے باب میں جو ہم نے احادیث پیش کی ہیں، ان میں بھی بعض احادیث کی اسناد ضعیف ہیں۔ لیکن فضائل اعمال میں ضعیف احادیث معتبر ہوتی ہیں اس لیے ہم نے ان احادیث کو بھی شامل کرلیا۔ پہلے ہم چالیس حدیثوں کی حفاظت کے متعلق احادیث پیش کریں گے۔ پھر احادیث ضعیفہ کے معتبر ہونے کے متعلق دلائل پیش کریں گے۔

چالیس حدیثوں کی تبلیغ کرنے والے کے متعلق نوید اور بشارت :

امام ابونعیم احمد بن عبداللہ الاصبہانی المتوفی 430 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے میری امت کو ایسی چالیس حدیثیں پہنچائیں جس سے اللہ عزوجل نے ان کو نفع دیا تو اس سے کہا جائے گا جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہوجاؤ (حلیۃ الاولیاء ج 4، ص 189، العلل المتناہیہ، ج 1، ص 112)

امام حافظ ابو عمر یوسف ابن عبدالبر مالکی اندلسی متوفی 463 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے جس امتی نے چالیس حدیثوں کو روایت کیا وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ فقیہ عالم ہوگا۔ امام عبدالبر نے کہا اس حدیث کی تمام سندیں ضعیف ہیں۔ (کتاب العلم، ج 1، ص 43، علل متناہیہ، ج 1، ص 118)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے میری امت کے لیے سنت سے متعلق چالیس حدیثوں کو محفوظ کیا حتی کہ وہ حدیثیں ان تک پہنچا دیں میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ امام ابن عبدالبر نے کہا اس حدیث کی سند اس باب کی حدیثوں میں سب سے بہتر ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے اور امام مالک کی روایات میں غیر معروف ہے۔ (کتاب العلم، ج 1 ص 43، العلل المتناہیہ، ج 1، ص 117)

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے میری امت کو ان کے دین سے متعلق چالیس حدیثیں پہنچائیں اللہ اس کو اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ فقیہ ہوگا اور میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ (شعب الایمان، ج 2، رقم الحدیث : 1725، تہذیب تاریخ دمشق، ج 2، ص 394، مشکوۃ، رقم الحدیث : 258 ۔ المطالب العالیہ، رقم الحدیث : 3076 ۔ کنز العمال ج 10، رقم الحدیث : 28817 ۔ 29182 ۔ 29183 ۔ 29184 ۔ 29185 ۔ 29186 ۔ 29187 ۔ 29188 ۔ 28189 ۔ علی متقی نے یہ احادیث ابن عدی کی کامل، امام ابن عساکر، امام عبدالرزاق، امام بیہقی کی شعب الایمان، امام ابن النجار، امام ابونعیم کی حلیہ اور امام دیلمی کے حوالوں سے ذکر کی ہیں)

امام حافظ ابو احمد عبداللہ بن عدی الجرجانی المتوفی 365 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے میری امت کو سنت سے متعلق چالیس حدیثیں پہنچائیں میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال، ج 1، ص 324 ۔ الجامع الصغیر، ج 1 م رقم الحدیث : 8636 ۔ العلل المتناہیہ، ج 1، ص 116)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے میری امت کو سنت سے متلعق چالیس حدیثیں پہنچائیں میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال، ج 3، ص 890)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے میری امت کو چالیس ایسی حدیثیں پہنچائیں جو ان کے دین میں نفع دیں وہ شخص قیامت کے دن علماء میں سے اٹھایا جائے گا۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال، ج 5 س 1799، ج 6، ص 2227، ج 7، ص 2528 ۔ العلل المتناہیہ، ج 1، ص 118 ۔ البدایہ والنہایہ، ج 8، ص 31 ۔ شعب الایمان، ج 2، رقم الحدیث : 1725 ۔ تہذیب تاریخ دمشق، ج 2، ص 394 ۔ مختصر تاریخ دمشق، ج 4، ص 248)

چالیس حدیثوں کی تبلیغ پر بشارت کی احادیث کی فنی حیثیت : 

علامہ عبدالروف مناوی شافع متوفی 1003 ھ لکھتے ہیں : علامہ نووی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی تمام اسناد ضعیف ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر نے کہا ہے کہ یہ حدیث حضرت علی، حضرت عمر، حضرت انس، حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود، حضرت معاز، حضرت ابوامامہ، حضرت ابوالدرداء اور حضرت ابو سعید سے متعدد اسانید کے ساتھ مروی ہیں جن میں سے ہر سند کی صحت پر بحث کی گئی ہے لیکن کثرت طرق اور اسانید سے اس حدیث کی تقویت ہوگئی اور باوجود ضعف کے سب سے عمدہ سند اس حدیث کی ہے جو حضرت معاذ سے مروی ہے۔ (فیض القدیر، ج 11، ص 5773، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

جس حدیث کا علامہ مناوی نے حافظ ابن عساکر کے حوالے سے ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے : حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے میری امت کو ان کے دین سے متعلق چالیس حدیثیں پہنچائیں، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ فقیہ عالم ہوگا۔ (العلل المتناہیہ، ج 1، ص 14، المحدث الفاضل، ص 173، کتاب العلم، ج 1، ص 44) 

علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی المتوفی 1162 ھ لکھتے ہیں : امام دار قطنی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی تمام اسانید ضعیف ہیں۔ حافظ ابن حجر نے کہا میں نے اس حدیث کو تمام اسانید کے ساتھ ایک رسالہ میں جمع کیا ہے (ارشاد المربعین الی طریق حدیث الاربعین، یہ رسالہ چھپ چکا ہے) اس کی ہر سند میں علت قادحہ ہے۔ امام بیہقی نے شعب الایمان میں کہا ہے یہ متن لوگوں کے درمیان مشہور ہے اور اس کی کوئی سند صحیح نہیں ہے۔ علامہ نووی نے کہا ہے کہ حفاظ کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اگرچہ اس کی اسانید متعدد ہیں۔ حافظ ابوطاہر سلفی نے اپنی اربعین میں یہ کہا ہے کہ ٰیہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے جن پر اعتماد اور میلان کیا گیا ہے اور جن کی صحت معلوم ہے۔ حافظ منذری نے اس کی توجیہ میں یہ کہا کہ ان کی یہ عبارت اس قول پر مبنی ہے کہ جب حدیث ضعیف متعدد طرق اور اسانید سے مروی ہو تو اس میں قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ (کشف الخفاء و مزیل الاباس، ج 2، ص 246، مطبوعہ مکتبہ الغزالی، دمشق)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی 676 ھ اربعین نووی کے مقدمہ میں لکھتے ہیں : یہ حدیث حضرت علی بن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو الدرداء، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس، حضرت انس بن مالک، حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری (رض) سے متعدد اسانید کے ساتھ مروی ہے۔ ہرچند کہ اس کے طرق متعدد ہیں اس کے باوجود حفاظ کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور علماء (رض) نے اس باب میں بیشمار تصنیفات سپرد قلم کی ہیں۔ میرے علم کے مطابق سب سے پہلے عبداللہ بن المبارک نے چالیس حدیثوں کا مجموعہ لکھا۔ پھر الحسن بن سفیان النسائی نے اور ابوبکر الاجری نے، اور ابوبر محمد بن ابراہیم الاصفہانی نے اور محمد بن اسلم الطوسی نے اور امام الدارقطنی نے اور امام حاکم، امام ابونعیم اور ابوعبدالرحمن اسلمی نے اور ابوسعید المالینی اور ابوعثمان الصابونی نے اور عبداللہ بن محمد الانصاری نے اور ابوبکر البیہقی نے اور بیشمار متقدم اور متاخر علماء نے۔

اور میں نے ان ائمہ اعلام اور حفاظ اسلام کی اقتداء کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استخارہ کیا کہ میں بھی چالیس حدیثیں جمع کروں اور بیشک علماء کا اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے۔ اس کے باوجود میرا صرف اس حدیث پر اعتماد نہیں ہے بلکہ دیگر احادیث صحیحہ پر اعتماد ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے حاضر غائب کو پہنچا دے اور آپ نے فرمایا اللہ اس کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث کو سنا، اس کو یاد رکھا اور جس طرح اس کو سنا تھا، اس طرح پہنچا دیا۔ (اربعین نووی، ص 405، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی)

جیسا کہ علامہ نووی نے فرمایا فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے۔ نیز جب کوئی حدیث متعدد اسانید سے مروی ہو تو حسن ہوجاتی ہے۔ اس لیے میں نے بھی اس حدیث میں مذکور بشارتوں کی امید پر اور ان علماء اسلام کی اتباع کرتے ہوئے تبیان القرآن کی جلد ثانی میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے متعلق اور اس جلد رابع میں دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا کرنے کے متعلق چالیس چالیس حدیثیں جمع کی ہیں کیونکہ اہل علم کے عمل سے بھی حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں واجب ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کی تصریح کی ہے۔ (النکت علی کتاب ابن الصلاح، ج 1، ص 494 ۔ 495)

حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے قواعد اور شرائط : علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں : محدثین، فقہاء اور دیگر علماء نے یہ کہا ہے کہ فضائل اور ترغیب اور ترہب میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے جبکہ وہ موضوع نہ ہو۔ (کتاب الاذکار، ص 7، مطبوعہ مکتبہ مصطفیٰ البابی الحلبی واولادہ، مصر)

اگر حدیث کی اسانید الگ الگ ضعیف ہوں تو ان کا مجموع قوی ہوتا ہے۔ کیونکہ بعض، بعض کے ساتھ مل کر قوی ہوجاتی ہیں اور وہ حدیث حسن ہوتی ہے اور اس کے ساتھ استدلال کیا جاتا ہے (شرح المہذب، ج 7، ص 197، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

علامہ شمس الدین محمد بن عبدالرحمن سخاوی متوفی 902 ھ لکھتے ہیں : حدیث ضعیف پر عمل کرنے کی حسب ذیل شرائط ہیں : 

1 ۔ وہ حدیث بہت شدید ضعیف نہ ہو۔ پس جس حدیث کی روایت میں کذابین یا متہم بالکذب منفرد ہوں یا جو بہت زیادہ غلطی کرتے ہوں ان کی روایات پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ شرط متفق علیہ ہے۔

2 ۔ وہ حدیث کسی عام شرعی قاعدہ کے تحت مندرج ہو اور جس حدیث کی کوئی اصل نہ ہو وہ اس قاعدہ سے خارج ہے۔ 

3 ۔ اس حدیث پر عمل کرتے وقت اس کے ثوت کا اعتقاد نہ کیا جائے تاکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وہ بات منسوب نہ ہو جو آپ نے نہیں فرمائی۔ موخر الذکر دونوں شرطیں ابن عبدالسلام اور ابن دقیق العید سے منقول ہیں۔

اور میں کہتا ہوں کہ امام احمد سے یہ منقول ہے کہ حدیث ضعیف پر اس وقت عمل کیا جائے جب اس کے سوا دوسری حدیث نہ مل سکے۔ اور اس حدیث کے معارض کوئی اور حدیث نہ ہو، اور امام احمد سے دوسری روایت یہ ہے کہ لوگوں کی رائے کی بہ نسبت ہمیں حدیث ضعیف زیادہ محبوب ہے، اور ابن حزم نے ذکر کیا ہے کہ تمام احناف اس پر متفق ہیں کہ امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب یہ ہے کہ حدیث ضعیف پر عمل کرنا رائے اور قیاس پر عمل کرنے سے افضل ہے۔ (القول البدیع، ص 363 ۔ 364 ۔ مطبوعہ مکبہ الموید، طائف)

دعا میں حد سے بڑھنے کا ممنوع ہونا :

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ الاعراف :55)

اس آیت سے مراد یہ ہے کہ دعا میں حد سے بڑھنا ممنوع ہے۔ یعنی انسان اللہ تعالیٰ سے دعا میں ایسی چیز کا سوال کرے جو اس کی حیثیت سے بڑھ کر ہو۔ مثلاً وہ نبی بننے کی دعا کرے یا یہ دعا کرے کہ اس کو آخرت میں انبیاء کا مقام اور ان کا رتبہ ملے۔

امام ابو داود سلیمان بن اشعث متفی 275 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا : اے الہ میں تجھ سے جنت کی دائیں جانب سفید محل کا سوال کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا : اے بیٹے ! اللہ سے جنت کا سوال کرو اور دوزخ سے پناہ طلب کرو۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : عنقریب میری امت میں سے کچھ لوگ وضوء اور دعا میں حد سے بڑھیں گے۔ (سنن ابو داود، رقم الحدیث : 96 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3864، مسند احمد، ج 5، رقم الحدیث : 16801)

حرام چیزوں اور گناہ کا سوال کرنا بھی دعا میں حد سے بڑھنا ہے۔ یا جن چیزوں کے متعلق معلوم ہو کہ اللہ ایسا نہیں کرے گا ان کی دعا کرے۔ مثلاً یہ دعا کرے کہ وہ قیامت تک زندہ رہے یا یہ دعا کرے کہ اس سے کھانے پینے کے اور دیگر لوازم بشریہ مرتفع ہوجائیں یا یہ دعا کرے کہ وہ معصومین سے ہوجائے یا عالم الغیب ہوجائے یا اس کے ہاں بغیر بیوی کے بچہ ہوجائے۔ 

حد سے زیادہ چلا کر یا زور و شور سے دعا کرنا بھی حد سے بڑھنے میں داخل ہے اور بےپرواہی اور لا ابالی پن سے دعا کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کا ایسی صفات سے ذکر کرنا جو اس کی شان کے لائق نہ ہوں وہ بھی حد سے بڑھنے میں داخل ہے۔ 

محسنین کا معنی : 

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : بیشک اللہ کی رحمت محسنین کے قریب ہے۔ (الاعراف :56)

محسنین کا معنی ہے احسان کرنے والے۔ یعنی نیکی اور اچھے کام کرنے والے۔ احسان سے یہاں مراد ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جا لانا۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی طرف رجوع کرنا، اس پر توکل کرنا، اس سے حیا کرنا، اس سے ڈرنا، اس سے محبت کرنا اور اس کی عبادت اس طرح کرنا گویا کہ وہ اس کے سامنے کھڑا ہے اور اس کے جلال اور ہیبت سے وہ لرزہ براندام ہے۔ اور اس کے تمام احکام کی اطاعت کرنا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے ساتھ احسان ہے اور درحقیقت یہ خود اپنے ساتھ احسان ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ھل جزاء الاحسان الا الاحسان (الرحمن :60) احسان کا بدلہ صرف احسان ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور جو کچھ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے اس پر عمل کیا، اس کی جاء صرف جنت ہے اور یہی اس آیت کا معنی ہے کہ اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے۔ 

معتزلہ نے یہ کہا ہے کہ اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو مسلمان گناہ گار ہیں اور جو کبیرہ گناہ کرتے ہوئے بغیر توبہ کے مرگئے، ان کے قریب اللہ کی رحمت نہیں ہوگی اور مغفرت اور جنت اللہ کی رحمت ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ بغیر توبہ کے مرنے والے مرتکب کبیرہ کی مغفرت نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لایا اور اس نے کچھ نیک اعمال بھی کیے، وہ محسنین میں داخل ہے خواہ اس نے گناہ کبیرہ بھی کیے ہوں کیونکہ محسنین کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس نے ساری عمر نیک کام کیے ہوئے ہوں اور کسی نیکی کو نہ چھوڑا ہو اور کسی برائی کو نہ کیا ہو، جس طرح عالم کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز کا عالم ہو اور کسی چیز سے جاہل نہ ہو، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک لمن یشاء : بیشک اللہ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو نہیں بخشے گا اور جو اس سے کم گناہ ہو وہ جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا ” (النساء :48) ۔ پس مسلمان مرتکب کبیرہ اگر بغیر توبہ کے مرگیا تو وہ اللہ کی مشیت میں ہے وہ چاہے گا تو اس کو ابتداء اپنے فضل محض سے بخش دے گا اور اگر وہ چاہے گا تو اس کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے بخش دے گا اور اگر چاہے گا تو اس کو کچھ سزا دے کر بخش دے گا۔ لیکن کوئی مسلمان بھی اللہ کی بخشش سے بالکلیہ محروم نہیں ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 55