مُفسدات نمـاز

 یعنی وہ کام اور باتیں کہ جس کی وجہ سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اور نماز ازسرنو پڑھنا لازمی ہوتاہے ۔

جن کی وجہ سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اور سجدہ ٔ سہو کرنے سے بھی نماز درست نہیں ہوتی۔

ہمارے بہت سے مومن بھائی ناواقفی کی وجہ سے ان کامو ں کا ارتکاب کرلیتے ہیں لہٰذاذیل میں مفسدات نماز درج کردیئے ہیں ۔ان کابغور مطالعہ کریں اور یادکرلیں۔

مفسدات نماز حسب ذیل ہیں:-

مسئلہ: نماز کی حالت میں کلام (بات ) کرنے سے نماز فاسد ہوجائے گی۔پھر چاہے وہ کلام کرنا عمداً ہویا خطاً یا سہواً ہو ۔ عمداً کلام کرنے سے یہ مراد ہے کہ اس کو معلوم تھا کہ نماز میںکلام کرنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ۔ پھر بھی اس نے جان بوجھ کر کلام کیا۔ خطاً کلام کرنے سے یہ مراد ہے کہ اس کو یہ مسئلہ معلوم ہی نہ تھا کہ نماز میںکلام کرنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے یاقرأت وغیرہ اذکار نماز کہنا چاہتا تھا اور غلطی سے زبان سے کوئی جملہ (بات ) نکل گیا۔ اور سہواً کلام کرنے سے یہ مراد ہے کہ ا س کو اپنا نماز میں ہونا یادنہ رہاہو اور منہ سے کوئی بات نکال دی۔ الغرض ! عمداً ، خطاً اور سہواً کسی طرح بھی نماز میں کلام کرے گا نماز فاسد ہوجائے گی۔ ( درمختار)

مسئلہ: کلام کرنے میں زیادہ یاکم بولنے کافرق نہیں اوریہ بھی فرق نہیںکہ اس کا کلام بیرون نماز امور کے متعلق ہویا نماز کے متعلق یعنی نماز کی اصلاح کے متعلق ہو ۔مثلاً امام قعدہ ٔ اولیٰ میں بیٹھنا بھول گیا اور تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا اور مقتدی نے امام کو بتانے کی غرض سے کہا ’’ بیٹھ جاؤ ‘‘ یا صرف ’’ ہوں ‘‘ ہی کہا تو مقتدی کی نماز فاسد ہوگئی ۔ ( درمختار ، عالمگیری)

مسئلہ: نماز میں کسی کو سلام کیا یا کسی کے سلام کاجواب دیا یعنی ’’ السلام علیکم ‘‘ یا ’’ وعلیکم السلام ‘‘ کہا یا صرف ’’ سلام ‘‘ہی کہا یا سلام کی نیت سے مصافحہ کیا تو نماز فاسد ہوگئی ۔ ( عالمگیری ، درمختار )

مسئلہ: چار رکعت والی نماز پڑھ رہا تھا اور دو رکعت والی نماز پڑھ رہا ہوں یہ سمجھ کر دو رکعت پر سلام پھیر دیا تو نماز فاسد ہوگئی ۔ اس پر بنابھی جائز نہیں ۔ازسرنو پڑھے ۔ (عالمگیری ، بہارشریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۴۹)

مسئلہ: کسی کو چھینک آئی اور نمازی نے اس کو جواب دیتے ہوئے ’’ یرحمک اللہ ‘‘ کہا تو نماز فاسد ہوگئی ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۴۹)

مسئلہ: نمازی کو حالت نماز میں چھینک آئے تو سکوت کرے ۔ اگر ’’الحمدللہ ‘‘ کہہ لیا تو نماز میںحرج نہیں لیکن حالت نماز میں ’’ الحمدللہ ‘‘ نہ کہے بلکہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حمد کرے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ: خوشی کی خبر سن کر ’’ الحمدللہ ‘‘ کہا یابری خبر سن کر ’’ انا للہ و انا الیہ راجعون ‘‘ کہا تو نماز فاسد ہوگئی ۔( عالمگیری ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۵۰ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ، ص ۲۳۰)

مسئلہ: اللہ تبارک و تعالیٰ کانام ذات ’’ اللہ ‘‘ یا دوسرا کوئی صفاتی نام سن کر ’’ جل جلالہ ‘‘ کہا۔یا حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا اسم شریف سن کر ’’ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ‘‘ کہا تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۵۰ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۴۹)

مسئلہ: نماز میں زبان پر ’’ نعم‘‘ یا ’’ ارے ‘‘ یا ’’ ہاں ‘‘ جاری ہوگیا تو نماز فاسد ہوگئی ۔ ( درمختار)

مسئلہ: نمازی نے اپنے امام کے سوا کسی دوسرے کو لقمہ دیا تو نماز فاسد ہوگئی ۔ اور جس کو لقمہ دیا وہ نماز میں ہو یا نہ ہو یعنی وہ نماز میں قرآن پڑھتاہو یا بیرونِ نماز قرآن پڑھتا ہو مثلاً قریب میں بیٹھ کرکوئی شخص قرآن مجید کی تلاوت کررہا ہے اور تلاوت میں غلطی کی اور اس کی اس غلطی پر نمازی نے اس کو لقمہ دیا تو لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہوگئی ۔ علاوہ ازیں وہ غلط پرھنے والا نماز میں چاہے منفرد ہو یا مقتدی ہو یا کسی دوسرے کا امام ہو ۔ (درمختار ، بہار شریعت ، جلد ۳،ص ۱۵۰ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ، ص۲۲۶)

مسئلہ: اسی طرح مقتدی کے سوا کسی دوسرے کالقمہ لینا بھی مفسد نماز ہے ۔مثلاً امام نے قرأت میں غلطی کی ، یامنفر دنے قرأ ت میں غلطی کی یاامام نے ارکانِ نماز میں غلطی کی۔مثال کے طورپر ایک رکعت کے بعد قعدہ کرلیا اور اس کی غلطی پرایسے شخص نے لقمہ دیا جو شریک جماعت نہیں اورا مام نے اسکا لقمہ قبول کرلیا تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ص ۲۲۶)

مسئلہ: ’’ آہ ‘‘ ، ’’ اوہ ‘‘ ۔ ’’ اف‘ ۔ ’’ تف ‘‘ ۔ ’’ ہائے ‘‘ یہ الفاظ درد یا مصیبت و تکلیف کی وجہ سے منہ سے نکلے یا آواز سے رویا اور رونے میں حروف پیدا ہوئے تو ان سب صورتوں میں نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر رونے میں صرف آنسو نکلے اور آواز و حروف نہ نکلے تو حرج نہیں ۔ اور اگر خدائے تعالیٰ کے خو ف سے رویا اور آواز نکلی تو نماز فاسد نہ ہوگی ۔ ( درمختار)

مسئلہ: چھینک ، کھانسی ، جماہی اورڈکارنے میں جتنے حروف نکلتے ہیں وہ مجبوراً نکلتے ہیں اور مجبوراً نکلنے کی وجہ سے معاف ہیں ۔نماز فاسدنہیں ہوتی ۔ (درمختار ، بہار شریعت ، جلد۳ ، ص ۱۵۰)

مسئلہ: پھونکنے میں اگر آواز پیدا نہ ہو تو وہ مثل سانس کے ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی مگر قصداً پھونکنا مکروہ ہے ۔ اور اگر پھونکنے میں دو حروف پیداہوئے مثلاً ’’ اف ‘‘یا ’’ ہوف ‘‘ یا ’’ تف ‘‘ یا ’’ ہوش ‘ تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ (غنیہ)

مسئلہ: کھنکھارنے میں اگر دو حرف ظاہر ہوں جیسے ’’اح ‘‘یا ’’ اخ‘‘ یا ’’ ہخ ‘‘ تو اگر کوئی عذر نہیں تو عبث کھنکھارنے سے نماز فاسد ہوجائے گی ۔ اور اگر صحیح غرض اور عذر کی وجہ سے کھنکھارا مثلاً گلے میں کچھ پھنس گیا ہے یا بلغم آگیا ہے یا آواز صاف کرنے کے لئے یا امام کی غلطی پر اسے متنبہ کرنے کے لئے کھنکھارا تو نماز فاسد نہ ہوگی ۔( درمختار ، بہار شریعت جلد ۳ ، ص ۱۵۲ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۱۰۲)

مسئلہ: نماز میںدیکھ کر قرآن شریف پڑھنے سے نماز فاسد ہوجائے گی ۔ ( درمختار )

مسئلہ: مقتدی امام سے آگے کھڑا ہوگیا یا مقتدی نے امام سے پہلے کوئی رکن نماز ادا کرلیا اور پورا رکن امام کے پہلے ادا کرلیا تو مقتدی کی نماز فاسد ہوجائے گی ۔( درمختار ، ردالمحتار )

مسئلہ: نماز کی حالت میں دو صف جتنا چلنے سے نماز فاسدہوجائے گی ۔ ( درمختار ، بہارشریعت، جلد ۳ ، ص ۱۵۴)

مسئلہ: نماز میں قہقہہ لگانا یعنی اتنی آواز سے ہنسنا کہ قریب والاسن سکے تو نماز فاسد ہوجائے گی اور وضو بھی ٹوٹ جائے گا ۔ ( درمختار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ،ص ۹۲)

مسئلہ: اگر نماز میں اتنی پست آواز سے ہنسا کہ خود سنا اور قریب والا نہیں سن سکا تو بھی نماز فاسد ہو گئی البتہ اس صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گا ۔ ( بہار شریعت ، جلد ۲ ، ص ۲۵)

مسئلہ: نماز کی حالت میں کھانا پینا مطلقاً نماز فاسد کردیتا ہے ۔ قصداً ہو یابھول کر ۔ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو ۔ یہاں تک کہ اگر ایک تل بھی بغیر چبائے نگل لیا یا کوئی قطرہ چاہے وہ پانی کا ہی قطرہ ہو ، اسکے منہ میں گیا اور اس نے نگل لیا تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ (درمختار، ردالمحتار )

مسئلہ: دانتو ں کے اندر کھانے کی کوئی چیز رہ گئی تھی اورحالت نماز میں اسکو نگل گیا ، تو اگر وہ چیز چنے کی مقدار سے کم ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی البتہ مکروہ ضرور ہوگی اور اگر چنے کے برابر یا زیادہ ہے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ ( درمختار ، عالمگیری )

مسئلہ: دانتوں سے خون نکلا اور حالت نماز میں اسے نگل لیا تو اگر تھوک غالب ہے تو نگلنے سے نماز فاسد نہ ہوگی ور اگر خون غالب ہے تو نگلنے سے نماز فاسد ہوجائے گی ۔ غلبہ کی علامت یہ ہے کہ حلق میں خون کامزہ محسوس ہو ۔ نماز اور روزہ توڑنے میں مزہ کا اعتبار ہے اور وضو توڑنے میں رنگ کا اعتبارہے ۔ ( درمختار ، عالمگیری ، فتاوٰی رضویہ ،جلد ۱ ص ۳۲ اور ۵۲۲)

مسئلہ: ایک رکن ادا کرنے کے وقت کی مقدار تک یا تین تسبیح کہنے کے وقت کی مقدار تک سترِ عورت کھولے ہوئے یا بقدر مانع نجاست کے ساتھ نماز پڑھی تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ یہ اس صورت میں ہے کہ بلا قصد ہو اور اگر قصداً ستر کھولا تو فوراً نماز فاسد ہوجائے گی اگرچہ فوراً ڈھانک لے ۔ اس میں وقفہ کی بھی حاجت نہیں بلکہ ستر کے کھلتے ہی فوراً نماز فاسد ہوجائے گی ۔ ( درمختار ، بہار شریعت ، جلد ۳ ص ۱۵۳ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۱)

مسئلہ: ایسا باریک کپڑا یا تہبندباندھ کر نماز پڑھنا کہ اس سے بدن کی سرخی چمکے (بدن کارنگ جھلکے )یا اگر اس باریک کپڑے سے ستر کا کوئی عضو اس ہیئت سے نظر آجائے تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ اسی طرح عورتوں کا وہ دوپٹہ کہ جس سے سر کے بالوں کی سیاہی چمکے مفسد نماز ہے ۔ ( ردالمحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱)

مسئلہ: حالت نماز میں تین کلمے ( الفاظ) اس طرح لکھے کہ حروف ظاہر ہوں تو نماز فاسد ہوجائے گی مثلاً ریت یامٹی پر لکھے او راگر حروف ظاہر نہ ہوں تو فاسد نہ ہوگی مثلاً پانی پر یا ہوا میں لکھا تو عبث ہے اور نماز مکروہ تحریمی ہوگی ۔ ( غنیہ ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۵۵)

مسئلہ: سینہ کو قبلہ سے پھیرنا مفسد نماز ہے یعنی سینہ خانہ ٔ کعبہ کی خاص جہت سے پینتالیس (۴۵) درجہ ہٹ جائے ۔ ( درمختار ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۵۴ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۶)

مسئلہ: ناپاک جگہ پر بغیر حائل سجدہ کیا تو نماز فاسد ہوگئی ۔ اسی طرح ہاتھ یا گھٹنے سجدہ میں ناپاک جگہ پر رکھے تو نماز فاسد ہوگئی ۔ ( درمحتار ، ردالمحتار)

مسئلہ: تکبیرات انتقال میں ’’ اللہاکبر ‘‘ کے ’’ الف‘‘ کو دراز کیا یعنی ’’ اٰللہاکبر ‘‘ یا ’’ اللہ اٰکبر ‘‘ کہا یا ’’ ب‘‘ کے بعد ’’ الف‘‘ بڑھایا یعنی ’’ اللہ اکبار‘‘ کہا یا ’’اللہ اکبر ‘‘ کی ’’ ر‘‘ کو ’’ دال ‘‘ پڑھا یعنی ’’ اللہ اکبد‘‘ کہا تو نماز فاسد ہوگئی اور اگر تکبیر تحریمہ کے وقت ایسی غلطی ہوئی تو نماز شروع ہی نہ ہوئی ۔ ( درمختار ، بہار شریعت ، فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۱۲۱ اور ۱۳۶)

مسئلہ: نمازمیں قرآن مجید پڑھنے میں ایسی غلطی کرنا کہ جس کی وجہ سے فساد معنی ہو تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص ۱۳۵)

مسئلہ: نماز میں عمل کثیر کرنا مفسد نماز ہے ۔ عمل کثیر سے مراد یہ ہے کہ ایساکوئی کام کرنا جو اعمال نماز سے نہ ہو اور نہ ہی وہ عمل نماز کی اصلاح کے لئے ہو ۔ عمل کثیر کی مختصر اور جامع تعریف یہ ہے کہ ایسا کام کرنا کہ جس کام کرنے والے نمازی کو دور سے دیکھ کر دیکھنے والے کو غالب گمان ہو کہ یہ شخص نماز میں نہیں ۔ تو وہ کام ’’ عمل کثیر‘‘ ہے ۔ (درمختار ، بہار شریعت ، جلد ۳ ص ۱۵۳)

مسئلہ: حالتِ نماز میں کرتایاپاجامہ پہنا یا اتارا ، یا تہبند باندھا تو نمازفاسد ہوجائے گی ۔ (غنیہ )

مسئلہ: عمل قلیل کرنے سے نماز فاسد نہ ہوگی ۔ عمل قلیل سے مراد یہ ہے کہ ایساکوئی کام کرنا جوا عمال نماز سے یانماز کی اصلاح کے لئے نہ ہو او راس کام کے کرنے والے نمازی کو دیکھ کر دیکھنے والے کو گمانِ غالب نہ ہو کہ یہ آدمی نماز میں نہیں ہے بلکہ شک و شبہہ ہو کہ نماز میں ہے یا نہیں ، تو ایسا کام عمل قلیل ہے ۔ ( درمختار )

نوٹ :- بعض لوگ حالت ِ نماز میں سجدہ میںجاتے وقت دونوں ہاتھوں سے پاجامہ اوپر کی طرف کھینچتے ہیں یاقعدہ میں بیٹھتے وقت کرتایا قمیص کا دامن دونوں ہاتھوں سے سیدھا کرکے بچھاتے ہیں ۔ اس حرکت سے نماز فاسد ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ یہ فعل دونوں ہاتھوں سے کیا جاتاہے اور عمل کثیر میں شمارہونے کا امکان ہے لہٰذا اس سے بچنا لازمی اور ضروری ہے کیونکہ نماز مکروہ تحریمی تو ضرور ہوتی ہے ۔ اور جونماز مکروہ تحریمی ہو اس کااعادہ لازم ہے ۔ ( ماخوذ از :- فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۱۶)

مسئلہ: ایک رکن میں تین مرتبہ کھجانے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے یعنی اس طرح کھجایا کہ ایک مرتبہ کھجاکر ہاتھ ہٹالیا ۔ پھر دوسری مرتبہ کھجاکر ہاتھ ہٹالیا ۔ پھر تیسری مرتبہ کھجایا تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر صرف ایک بار ہاتھ رکھ کر چند مرتبہ حرکت دی تو ایک ہی مرتبہ کھجانا کہا جائے گا ۔ (عالمگیری ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۵۶)

مسئلہ: اگر حالتِ نمازمیں بدن کے کسی مقام پر کھجلی آئے تو بہتر یہ ہے کہ ضبط کرے اور اگر ضبط نہ ہوسکے اور اس کے سبب نماز میں دل پریشان ہو تو کھجالے مگرا یک رکن مثلاً قیام یاقعود یا رکوع یا سجود میں تین مرتبہ نہ کھجاوے ۔ صرف دو مرتبہ تک کھجانے کی اجازت ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص ۴۴۶)

مسئلہ: حالت نماز میں سانپ یا بچھو کو مارنے سے نماز نہیںجاتی جبکہ مارنے کے لئے تین قدم چلنا نہ پڑے یا تین ضرب کی حاجت نہ ہو ۔ اس طرح حالت ِ نماز میں سانپ یا بچھو مارنے کی اجازت ہے اور نماز بھی فاسد نہ ہوگی ۔ اور اگر مارنے میں تین قدم چلنا پڑے یا تین ضرب کی حاجت ہو تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر پے درپے نہ ہوں تو نماز فاسد نہ ہوگی ۔ البتہ مکروہ ضرور ہوگی ۔ ( عالمگیری ، غنیہ، بہارشریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۵۶)

مسئلہ: پے در پے تین بال اکھیڑے یاتین جوئیںماریں یا ایک ہی جوں کو تین مرتبہ مارا تو نماز فاسد ہوجائے گی اوراگر پے در پے نہ ہوں تو نماز فاسد نہ ہوگی البتہ مکروہ ضرور ہوگی۔(عالمگیری ، غنیہ )

مسئلہ: اگر سجدہ کی جگہ پاؤں کی جگہ سے چارگرہ سے زیادہ اونچی ہو تو سرے سے نماز ہی نہیں ہوگی اور اگر چارہ گرہ یا کم بلندی ممتاز ہوئی تو کراہت سے خالی نہیں ۔یعنی پاؤں رکھنے کی جگہ سے سجدہ کرنے کی جگہ ایک بالشت بھر اونچی ہو تو نماز ہی نہ ہوگی ۔( درمختار ، اور فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص ۴۲ اور ص ۴۳۷)

نوٹ :- ایک گرہ = تین انگل چوڑائی ( فیروز اللغات ص ۱۰۹۳)

تین انگل چوڑائی = دو انچ mچارگرہ = بارہ انگل چوڑائی = ۸ انچ = ایک بالشت

مسئلہ: نماز میں ایسی دعا کرنا کہ جس کا سوال بندے سے کیا جاسکتا ہے مفسد نماز ہے ۔ مثلاً یہ دعا کی کہ ’’ اللہم اطعمنی ‘‘ ( اے اللہ ! مجھے کھانا کھلا ) یا ’’ اللہم زوجنی ‘‘ ( اے اللہ ! میرا نکاح کردے ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت ، جلد ۳ ص۱۵۱)

مسئلہ: بے ہوش ہوجانے سے یاوضو یا غسل ٹوٹ جانے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ۔ (بہارشریعت )

مسئلہ: حالت نماز میں آیتوں ، سورتوں اور تسبیحات کو زبان سے گننا مفسد صلوٰۃ ہے ۔ (بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۱)

مسئلہ: مسبوق یعنی وہ مقتدی کہ جو جماعت میں بعد میں شامل ہوا مگراس کی ایک یا زیادہ رکعتیں چھوٹ گئی ہیں ۔ وہ مقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی فوت شدہ رکعتیں پڑھے گا ۔ اس مسبوق نے یہ خیال کرکے کہ امام کے ساتھ سلام پھیرنا چاہئے ۔ سلام پھیردیاتو اس کی نماز فاسد ہوگئی ۔ ( عالمگیری، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۴۹)

مسئلہ: مقتدی نے امام کی قرأت سن کر ’’ صدق اللہ وصدق رسولہ ‘‘ کہا تو نماز فاسد ہوگئی ۔(درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ: کوئی شخص نماز میں التحیات پڑھ رہا تھا۔ جب کلمہ ٔ تشہد کے قریب پہنچا تو مؤذن نے اذان میں ’’شہادتین ‘‘ یعنی دو شہادتیں کہیں ۔ اس نے التحیات کی قرأت کے بجائے اذان کاجواب دینے کی نیت سے ’’ اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمداً عبدہ و رسولہ ‘‘ کہا تو اس کی نماز فاسد ہوگئی ۔( فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص ۴۰۶)

مسئلہ: بے سبب نیت توڑ دینا یعنی نماز شروع کرنے کے بعد بلا کسی وجہ شرعی نماز توڑ دینا حرام ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۱۴)