نماز میں کپڑا لٹکانا اور منہ ڈھکنا
sulemansubhani نے Monday، 9 December 2019 کو شائع کیا.
حدیث نمبر :721
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کپڑا لٹکانے ۱؎ اورمرد کے منہ ڈھکنے سے منع کیا۲؎ (ابوداؤد،ترمذی)
شرح
۱؎ کپڑا سر یا کندھے پر ڈالنا اور اس کے دونوں کنارے یونہی لٹکتے چھوڑ دینا سدل کہتے ہیں۔اچکن یا کوٹ بغیر بٹن لگائے پہننا بھی سدل میں داخل ہے۔سدل نماز میں مکروہ ہے اگر نیچے کپڑا نہ ہو تومکروہ تحریمی ہے ورنہ تنزیہی کیونکہ اس میں کپڑا سنبھالنے میں دل لگا رہتا ہے نماز میں یک سوئی حاصل نہیں ہوتی۔
۲؎ ہاتھ سے یاکپڑے سے کیونکہ اگرنماز میں منہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھا ہو تو قرأت صحیح نہ ہوسکے گی۔بعض نے فرمایا کہ عمامہ کا شملہ منہ پر لپیٹنا منع ہے کہ یہ یہود کا فعل ہے،ہاں جس کے منہ سے بو آرہی ہویا بدبودار ڈکاریں،اسے جائز ہے۔
ٹیگز:-
نبی کریم ﷺ , لٹکانے , ترمذی , ڈھکنے , سنن ابوداؤد , جامع ترمذی , مرد , سنن ترمذی , حدیث , منع , حضرت ابوہریرہ , منہ , نماز , کپڑا