أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰى لِمِيۡقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِىۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ‌ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰٮنِىۡ وَلٰـكِنِ انْظُرۡ اِلَى الۡجَـبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوۡفَ تَرٰٮنِىۡ‌ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّخَرَّ مُوۡسٰى صَعِقًا‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَكَ تُبۡتُ اِلَيۡكَ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر آئے، اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا تو عرض کیا اے میرے رب ! مجھے اپنی ذات دکھا کہ میں تجھے دیکھوں، فرمایا تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے البتہ تم اس پہاڑ کی طرف دیکھو اگر (میری تجلی کے باوجود) یہ اپنی جگہ برقرار رہا تو عنقریب تم بھی مجھے دیکھ سکو گے، پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑے، پھر جب ان کو ہوش آیا تو کہا تو پاک ہے میں نے تیرے حضور توبہ کی اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر آئے، اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا تو عرض کیا اے میرے رب ! مجھے اپنی ذات دکھا کہ میں تجھے دیکھوں، فرمایا تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے البتہ تم اس پہاڑ کی طرف دیکھو اگر (میری تجلی کے باوجود) یہ اپنی جگہ برقرار رہا تو عنقریب تم بھی مجھے دیکھ سکو گے، پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑے، پھر جب ان کو ہوش آیا تو کہا تو پاک ہے میں نے تیرے حضور توبہ کی اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں “

اللہ تعالیٰ کے کلام کے متعلق مذاہب اسلام : 

اس آیت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں حسب ذیل مذاہ ہیں : 

1 ۔ حنبلیہ اور حشویہ کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام آواز اور حروف سے مرکب ہے اور یہ کلام قدیم ہے اور یہ مذہب بداہۃً باطل ہے کیونکہ جو چیز اجزاء سے مرکب ہو اس میں تقدیم اور تاخیر ہوتی ہے اس لیے وہ چیز قدیم نہیں ہوسکتی۔

2 ۔ کر امیہ کا مذہب یہ ہے کہ اللہ کا کلام آواز اور حروف سے مرکب ہے اور اس کا محل اور موصوف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہ مذہب بھی باطل ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کا محل حوادث ہونا اور حوادث سے موصوف ہونا لازم آتا ہے اور جو محل حوادث ہو وہ خود حادث ہوتا ہے۔

3 ۔ معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ اللہ کا کلام آواز اور حروف سے مرکب ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی اور چیز کے ساتھ قائم ہے مثلاً درخت وغیرہ کے ساتھ۔

4 ۔ اہل سنت و جماعت ماتریدیہ کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ایک صفت ازلی ہے اس میں آواز اور حروف نہیں ہیں اور اس صفت کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نہیں سنا انہوں نے ان آوازوں اور حروف کو سنا جو درخت کے ساتھ قائم تھے۔ 

5 ۔ اہل سنت اشاعرہ کا یہ مزہب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ایک ازلی صفت ہے اس میں حروف اور آواز نہیں ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی صفت کو سنا تھا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا کوئی رنگ اور جسم نہیں ہے اور اس کے باوجود دکھائی دے گا حالانکہ جس چیز کا رنگ نہ ہو اس کا دکھائی دینا انسان کے لیے غیر متصور ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام بغیر آواز اور حروف کے حضرت موسیٰ نے سنا جبکہ انسان کے نزدیک بغیر آواز اور حروف کے کسی کلام کا سنائی دینا غیر متصور ہے۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 353، ملخصاً ، مرتبا، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح کلام لفظی ہوتا ہے اسی طرح کلام نفسی بھی ہوتا ہے۔ کلام لفظی وہ ہے جو عادتاً سنائی دیتا ہے جیسا کہ معروف کلام ہے اور کلام نفسی وہ ہے جو کلمات اور حروف پر مشتمل ہوتا ہے مگر عادتاً سنائی نہیں دیتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہماری تعریف میں یہ کہے کہ ” میں نے آپ جیسا خوش اخلاق یا آپ جیسا حسین کوئی نہیں دیکھا ” تو ہمیں یہ الفاظ اور جملے یاد آتے رہتے ہیں اور ہمارے ذہن میں ان الفاظ کی تصویر گھومتی رہتی ہے حالانکہ یہ الفاظ بعد میں سنائی نہیں دیتے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ہمیں کوئی دلخراش بات کہے تو وہ بات مدتوں ہمارے دل سے نہیں نکلتی اور ہمیں وہ بات یاد آتی رہتی ہے۔ خصوصاً جب ہم اس شخص کو دیکھیں تو اس کے کہے ہوئے الفاظ کی تصویر ہمارے ذہن میں آجاتی ہے سو یہ کلام نفسی ہے اور الفاظ نفسیہ ہیں۔ قرآن مجید میں جو اللہ کا کلام ہے وہ بھی کلام نفسی ہے اور قدیم ہے وہ ان ہی الفاظ نفسیہ پر مشتمل ہے اور الفاظ میں بغیر تقدم اور تاخر کے یہ کلام نفسی ہے اسکلام کی قراءت جو ہم کرتے ہیں وہ کلام لفظی ہے اور حادث ہے اور مقروء یعنی جن الفاظ نفسیہ کی ہم قراءت کرتے ہیں وہ قدیم ہے۔ مثلا جب ہم الحمد للہ رب العالمین کی قراءت کریں گے تو پہلے الحمد پڑھیں گے پھر اللہ پھر رب العالمین لیکن یہ پورا قرآن کلام نفسی کے مرتبہ میں بغیر تقدم اور تاخر کے اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور قدیم ہے۔ اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جب ہم کو کوئی بات یاد آتی ہے تو یوں نہیں ہوتا کہ پہلے اس ات کا ایک لفظ یاد آتا ہو پھر دوسرا پھر تیسرا پھر چوتھا، بلکہ بیک وقت مکمل کلام کی تصویر ہمارے ذہن میں آجاتی ہے۔ اسی طرح مکمل قرآن نفسی بغیر تقدم اور تاخر کے اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ علی ھذا القیاس۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ جو کلام کیا وہ بھی کلام نفسی تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس کلام کو سننا خلاف عادت اور ان کا معجزہ تھا، کیونکہ بغیر آواز کے کسی کلام کو سننا انسان کی عادت اور اس کے معمول کے خلاف ہے۔ میں نے اس مقام کو اسی طرح سمجھا ہے اور امر واقعہ کیا ہے اس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ قواعد اسلام کے مطابق ہے اور بعض متقدمین اور محققین کی عبارت میں بھی اس تفصیل کی طرف اشارات ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے کلام کی کیفیت کے متعلق احادیث اور آثار 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ بیان کرتے ہیں : 

امام بزار، امام ابن ابی حاتم، امام ابو نعیم نے الحلیہ میں اور امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور کے دن کلام فرمایا تو یہ اس دن کے کلام کا مغائر تھا جب ان کو اس نے ندا کی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اللہ سے کہا اے میرے رب ! جس طرح تو نے مجھ سے کلام کیا ہے، کیا تیرا کلام اسی طرح کا ہے ؟ فرمایا اے موسیٰ ! میں نے دس ہزار زبانوں کی قوت سے تجھ سے کلام کیا ہے اور مجھے تمام زبانوں کی قوت ہے اور اس سے بہت زیاد ہے، حضرت موسیٰ جب بنو اسرائیل کی طرف واپس گئے تو انہوں نے کہا : اے موسیٰ ! رحمن کے کلام کی صفت بیان کیجئے آپ نے کہا تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ کیا تم نے ایسی گرج اور کڑک کی آواز سنی ہے جو بہت شیریں لگتی ہو ؟ اللہ کا کلام اس کے قریب ہے اور وہ اس طرح نہیں ہے۔

حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں کعب سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا تو حضرت موسیٰ نے پوچھا : اے میرے رب ! کیا تیرا کلام اسی طرح ہے ؟ فرمایا : اے موسیٰ ! میں دس ہزار زبانوں کی قوت سے کلام کر رہا ہوں اور مجھے تمام زبانوں کی قوت ہے اور اگر میں تمہارے ساتھ اپنے کلام کی کنہ اور حقیقت کے ساتھ کلام کروں تو تم فنا ہوجاؤ۔

امام عبدالرزاق، امام ابن جریر، امام ابن المنذر، امام ابن ابی حاتم اور امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں کعب سے روایت کیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تمام زبانوں سے کلام کیا تو حضرت موسیٰ نے کہا : اے میرے رب میں نہیں سمجھ رہا، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان میں ان کی آزا کی مثل کلام فرمایا، تب حضرت موسیٰ نے پوچھا : اے میرے رب ! کیا تیرا کلام اسی طرح ہے ؟ فرمایا نہیں ! میرا کلام جس طرح ہے اگر تم اس کو اسی طرح سن لو تو تم نیست و نابود ہوجاؤ۔ حضرت موسیٰ نے پوچھا : اے میرے رب ! کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز تیرے کلام کے مشابہ ہے ؟ فرمایا نہیں ! البتہ تم نے بہت زیادہ گرجدار بجلی کی کرک جو سنی ہو اس کو اس کے قریب کہا جاسکتا ہے۔

امام ابن المنذر، امام ابن ابی حاتم اور امام حاکم نے سند کی تصحیح کے ساتھ عبدالرحمن بن معاویہ سے روایت کیا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے ان کی طاقت کے مطابق کلام فرمایا اور اگر اللہ ان سے اپنے حقیقی کلام کے ساتھ کلام فرماتا تو حضرت موسیٰ اس کی بالکل طاقت نہ رکھتے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) چالیس راتیں اس کیفیت میں رہے کہ جو شخص بھی ان کو دیکھتا تھا، وہ رب العالمین کی تاب نہ لا کر مرجاتا تھا۔ (الدر المنثور ج 3، ص 536 ۔ 537، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1414 ھ)

اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کی بعض تفصیلات : 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ بیان کرتے ہیں : 

امام سعید بن منصور، امام ابن المنذر، امام حاکم، امام ابن مردویہ، اور امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا تھا اس دن حضرت موسیٰ نے اونی جبہ پہنا ہوا تھا، اونی چادر تھی، اونی شلوار تھی اور غیر مذبوح دراز گوش کی کھال کی جوتیاں پہنی ہوئی تھیں۔ 

امام ابن ابی شیبہ نے اور امام احمد نے کتاب الزہر میں اور امام ابوخیثمہ نے کتاب العلم میں اور امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے کلام کیا تو پوچھا اے میرے رب ! تجھے اپنے بندوں میں سے کون سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ اللہ عزوجل نے فرمایا جو بندہ میرا بہت زیادہ ذکر کرتا ہو۔ پھر پوچھا تیرے بندوں میں کون سب سے اچھا حاکم ہے ؟ فرمایا : وہ شخص جو لوگوں کے خلاف جس طرح فیصلہ کرتا ہو اسی طرح اپنے خلاف بھی فیصلہ کرے۔ پوچھا اے میرے رب ! تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ غنی ہے ؟ فرمایا جو اس چیز پر راضی ہو جو میں نے اس کو عطا کی ہے۔ 

امام حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں اور امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالٰٰ سے مناجات کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : دنیا میں زہد کی مثل کسی نے کوئی کام نہیں کیا اور میری حرام کردہ چیزوں سے بچنے سے بڑھ کر کسی نے میرا تقرب حاصل نہیں کیا اور میرے خوف سے رونے سے بڑھ کر کسی نے میری عبادت نہیں کی۔ حضرت موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! تو نے ان کے لیے کیا تیار کیا ہے اور ان کی کیا جزا ہے ؟ فرمایا : جو لوگ دنیا میں زہد کرتے تھے میں ان کے لیے اپنی جنت مباح کردوں گا وہ اس میں جہاں چاہیں گے رہیں گے، اور جو لوگ حرام کاموں سے بچتے تھے، تو میں قیامت کے دن ہر شخص سے اس کا حساب لیتے وقت مناقشہ کروں گا اور اس کے اعمال کی تفتیش کروں گا لیکن میں ان سے حیا کروں گا اور ان کو عزت اور کرامت دوں گا۔ 

امام ابوبکر بن ابی عاصم نے کتاب السنہ میں اور امام ابو نعیم نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کسی راستہ میں جا رہے تھے تو ان کو جبار عزوجل نے ندا کی : یا موسیٰ ! حضرت موسیٰ نے فرمایا : کہ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کسی راستہ میں جا رہے تھے تو ان کو جبار عزوجل نے ندا کی : یا موسیٰ ! حضرت موسیٰ نے دائیں بائیں دیکھا تو کچھ نظر نہیں آیا، پھر دوسری بار ندا کی یا موسیٰ بن عمران ! انہوں نے پھر دائیں بائیں دیکھا تو کچھ نظر نہیں آیا اور ان پر خوف طاری ہوگیا پھر تیسری بار ندا کی : یا موسیٰ بن عمران ! میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ نے کہا لبیک لبیک ! اور سجدہ میں گرپڑے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے موسیٰ بن عمران ! اپنا سر اٹھاؤ ! انہوں نے اپنا سر اٹھایا تو فرمایا : اے موسیٰ ! اگر تم چاہتے ہو کہ تم اس دن میرے عرش کے سائے میں رہو جس دن میرے عرش کے سوا اور کسی چیز کا سایہ نہیں ہوگا تو تم یتیم کے لیے شفیق باپ کی طرح ہوجاؤ اور بیوہ کی مہربان خاوند کی طرف کفالت کرو، اے موسیٰ بن عمران ! تم رحم کرو تم پر رحم کیا جائے گا۔ اے موسیٰ ! تم جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔ اے موسیٰ ، بنواسرائیل کے نبی ! جس نے مجھ سے اس حال میں ملاقات کی کہ وہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا منکر تھا میں اس کو دوزخ میں ڈال دوں گا۔ حضرت موسیٰ نے کہا محمد کون ہے ؟ فرمایا : اے موسیٰ ! مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ! میں نے ان سے افضل کوئی مخلوق پیدا نہیں کی، میں نے عرش، آسمانوں، زمینوں، سورج اور چاند کو پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ان کا نام اپنے نام کے ساتھ ملا کر لکھا ہے اور مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ! میری تمام مخلوق پر اس وقت تک جنت حرام ہے جب تک کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی امت اس میں داخل نہ ہوجائے، حضرت موسیٰ نے پوچھا : اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کون ہے ؟ فرمایا ان کی امت اترتے چڑھتے ہرحال میں حمد کرنے والی ہے، وہ دن کو روزہ رکھیں گے اور رات کو ڈرتے رہیں گے، میں ان کے کم عمل کو بھی قبول کرلوں گا اور ان کو لا الہ الا اللہ کی شہادت کی وجہ سے جنت میں دداخل کردوں گا۔ حضرت موسیٰ نے کہا : مجھے اس امت کا نبی بنا دے، فرمایا : اس امت کا نبی ان ہی میں سے ہوگا پھر کہا : اچھا مجھے اس نبی کی امت میں سے بنا دے، فرمایا : تم اس سے پہلے ہو۔ اے موسیٰ ! ٹھہرو میں تمہیں اور ان کو دار الجلال میں اکٹھا کردوں گا۔ (کتاب السنہ ج 1، ص 305، الشریعہ ج 1، ص 244، حلیۃ الاولیاء ج 3، ص 429 ۔ 430، طبع جدید، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1418 ھ)

امام ابن الشاہین نے کتاب الترگیب میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے رب ! اس شخص کے لیے کیا اجر ہے جو اس عورت سے تعزیت کرے جس کا بچہ فوت ہوچکا ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس دن کسی چیز کا سایہ نہیں ہوگا اس دن میں اس کو اپنے سایہ میں رکھوں گا۔ 

امام ابن ابی حاتم نے العلاء بن کثیر سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے موسیٰ ! کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کیوں اپنے کلام سے نوازا، عرض کیا نہیں اے میرے رب ! فرمایا اس لیے کہ میں نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی جو تمہاری طرح متواضع ہو۔ (الدرر المنثور ج 3، 537 ۔ 542، ملتقطاً ، ملخصاً ، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1414 ھ)

اللہ تعالیٰ کے دکھائی دینے کے متعلق اہل قبلہ کے مذاہب 

اس کے بعد فرمایا : (حضرت موسیٰ نے کہا) اے میرے رب ! مجھے اپنی ذات دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا : تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکوگے۔ الایہ۔ (الاعراف :143)

اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دکھائی دینا عقلا ممکن ہے، محال نہیں ہے اور اس پر اجماع ہے کہ یہ رویت آخرت میں واقع ہوگی، اور مومن اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اور کافر نہیں دیکھیں گے اور اہل بدعت میں سے معتزلہ، خوارج اور بعض مرجئہ کا مذہب یہ ہے کہ مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اور کافر نہیں دیکھیں گے، اور اہل بدعت میں سے معتزلہ، خوارج اور بعض مرجئہ کا مذہب یہ یہ ہے کہ مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نہیں دیکھے گا اور اللہ تعالیٰ کا دکھائی دینا عقلاً محال ہے، ان کا یہ قول غلط اور باطل ہے، کتاب و سنت کی تصریحات، صحابہ، فقہاء تابعین اور اخیار امت کا اس پر اجماع ہے کہ مومنین آخرت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اور بیس سے زیادہ صحابہ سے اس قسم کی احادیث مروی ہیں۔ 

اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ رویت ایک قوت ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں پیدا کرتا ہے، اس کے لیے شعاع بصری کا دکھائی دینے والے کو احاطہ کرنا اور دکھائی دینے والے کا دیکھنے والے کے بالمقابل ہونا شرط نہیں ہے، لہذا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آخرت میں جب مسلمان اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے تو ان کی شعاع بصری اللہ تعالیٰ کا احاطہ کرلے یا اللہ تعالیٰ دیکھنے والوں کی بالمقابل جانب ہو، معتزلہ نے اللہ تعالیٰ کے دکھائی دینے کا اس لیے انکار کیا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا محاط ہونا اور اس کے لیے سمت اور جہت کا ہونا لازم آئے گا، ہاں ہم جو ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اس میں یہ چیز اتفاقاً پائی جاتی ہے لیکن یہ شرط نہیں ہے اور جب مومن اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے تو اس سے اللہ تعالیٰ کا مقابل جہت میں ہونا لازم نہیں آئے گا۔ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ بصیر ہے اور وہ ہمیں دیکھتا ہے حالانکہ اللہ تعالیی کے دیکھنے سے اس کا جانب مقابل میں ہونا لازم نہیں آتا تو اس کے دکھائی دینے سے جانب مقابل میں ہونا کس طرح لازم آئے گا !

منکرین رویت کے دلائل اور ان کے جوابات 

منکرین کی ایک دلیل تو سورة الاعراف کی یہ مذکورہ آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دیکھنے کی نفی ہے، اللہ تعالیٰ کے دکھائی دینے کی نفی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکوگے یہ نہیں فرمایا میں ہرگز دکھائی نہیں دوں گا۔ 

ان کی دوسری دلیل یہ آیت ہے : ” لاتدر کہ الابصاری وھو یدرک الابصار : آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں اور وہ آنکھوں کو دیکھتا ہے ” (الانعام :103) ۔ 

اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس میں دنیا میں اللہ کو دیکھنے کی نفی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس میں کفار کے دیکھنے کی نفی ہے اور ہمارا مسلک یہ ہے کہ مسلمان آخرت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے۔

ان کی تیسری دلیل یہ آیت ہے : ” واذ قلتم یموسی لن نومن لک حتی نری اللہ جہرۃ فاخذتکم الصٰعقۃ وانتم تنظرون : اور یاد کرو جب تم نے کہا : اے موسیٰ ! ہم تم پر اس وقت تک کبھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں پس تم کو کڑک نے اپنی گرفت میں لے لیا در آنحالیکہ تم دیکھتے تھے “

معتزلہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو دیکھنا جائز اور ممکن ہوتا تو اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل کے اس مطالبہ کے سبب ان پر عذاب نازل نہ فرماتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اس لیے عذاب نازل نہیں فرمایا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت میں اسے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور ایک امر محال کا سوال کیا تھا۔ بلکہ عذاب اس لیے نازل فرمایا تھا کہ انہوں نے سرکشی اور ہٹ دھرمی کا مظاہر کیا تھا اور ایمان لانے کو اللہ تعالیٰ کے دیکھنے پر موقوف کردیا تھا گویا کہ وہ حالت کفر میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنا چاہتے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ کافروں کو اپنا دیدار نہیں کرائے گا۔ 

رہا یہ امر کہ اس پر کیا دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنا جائز اور ممکن ہے اور محبت الٰہی کی وجہ سے اس کی رویت کا سوال کرنا جائز ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسی آیت میں ہے : موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! مجھے اپنی ذات دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ (الاعراف :143)

اگر اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی آرزو کرنا اور دعا کرنا ناجائز ہوتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نبوت کے علوم و معارف کے حامل ہو کر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیوں کرتے اور اگر بالفرض یہ دعا ناجائز ہوتی تو اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسی دعا کرنے سے منع فرما دیتا۔ اور رویت کے امکان پر دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” ولکن انظر الی الجبل فان استقر مکانہ فسوف ترانی : البتہ تم اس پہاڑ کی طرف دیکھو اگر (میری تجلی کے باوجود) یہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکوگے ” (تفسیر کبیر، ج 5، ص 353)

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دیکھنے کو پہاڑ کے برقرار رہنے پر معلق کیا ہے اور پہاڑ کا اپنی جگہ پر برقرار رہنا فی نفسہ ممکن ہے اور جو ممکن پر موقوف ہو وہ بھی ممکن ہوتا ہے، پس ثابت ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن تھا۔ 

اللہ تعالیٰ کے دکھائی دینے پر اہل سنت کے قرآن مجید سے دلائل 

” وجوہ یومئذ ناضرۃ۔ الی ربھا ناظرۃ : قیامت کے دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے ” (القیامۃ :23 ۔ 22) ۔ ” کلا انہم عن ربہم یومئذ المحجوبون : حق یہ ہے کہ وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے ضورر محجوب ہوں گے ” (المطففین :15)

اس آیت سے صراحتا تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کفار اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکیں گے مگر اس سے اشارۃً یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان قیامت کے اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اور اسی صورت میں یہ آیت کفار کے لیے حسرت اور محرومی کا موجب ہوگی، کیونکہ اگر مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھ سکتے تھے کہ اس میں ہماری کیا تخصیص ہے۔ مسلمان بھی تو اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کرسکتے۔ 

اللہ تعالیٰ کے دکھائی دینے کے متعلق احادیث 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودھویں شب کے چاند کی طرف دیکھا آپ نے فرمایا : سنو تم عنقریب اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تمہیں اس کو دیکھنے سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی، پس اگر تم کو قدرت ہو تو طلوع شمس سے پہلے اور غروب شمس سے پہلے نماز پڑھنے سے مغلوب نہ ہونا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 554، صحیح مسلم، مساجد : 212 (633) 1408 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 177 ۔ سنن ابو داود، رقم الحدیث : 4729 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 592 ۔ مسند احمد، ج 4، ص 360 ۔ سنن اکبری للبیہقی، ج 1، ص 359 ۔ مسند حمیدی، رقم الحدیث : 799 ۔ مسند ابو عوانہ، ج 1، ص 376)

حضرت ابو سعید خدری (رض) یان کرتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : جب آسمان پر ابر نہ ہو تو کیا تمہیں سورج اور چاند کو دیکھنے سے کوئی تکلیف ہوتی ہے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں ! آپ نے فرمایا اسی طرح تم کو اس دن اپنے رب کو دیکھنے سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی جس طرح تمہیں سورج اور چاند کو دیکھنے سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 7439 ۔ صحیح مسلم، الایمان، 302 (1830) 447 ۔ سنن ابو داود، رقم الحدیث : 4730 ۔ مسند احمد، ج 2، ص 534، 293، 257، ج 3، ص 16 ۔ مسند حمیدی رقم الحدیث : 1178 ۔ مصنف عبدالرزاق، رقم الحدیث : 20856 ۔ المستدرک، ج 4، ص 582، مشکوۃ، رقم الحدیث : 5555، کنزل العمال رقم الحدیث : 39698)

حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کا رب کلام فرمائے گا، اس شخص کے اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا اور نہ کوئی حجاب ہوگا جو اس کے رب کی دیکھنے سے مانع ہو۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 7443 ۔ صحیح مسلم، الزکوۃ : 67 (1016) 2309، سنن الترمذی رقم الحدیث : 2451 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 1843 ۔ مسند احمد، ج 4 ۔ ص 377، 256)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور ان کے ہاتھ میں ایک سفید آئینہ تھا میں نے کہا : اے جبیل ! یہ کیا چیز ہے ؟ کہا یہ جمعہ ہے جس کو آپ کا رب آپ پر پیش کرتا ہے تاکہ وہ دن آپ کے لیے اور آپ کے بعد آپ کی قوم کے لیے عید ہوجائے، آپ اول ہیں اور یہود و نصاری آپ کے بعد ہیں، آپ نے فرمای : ہمارے لیے اس عید میں کیا ہے ؟ کہا : اس دن میں آپ (سب) کے لیے خیر ہے، اس دن میں آپ (سب) کے لیے ایک ساعت ہے، اس ساعت میں جو شخص بھی اپنے رب سے خیر کی دعا کرے گا اور وہ اس کی قسمت میں ہو تو اللہ اس کو وہ خیر عطا فرمائے گا اور اگر وہ خیر اس کی قسمت میں نہ ہو تو اس سے عظیم چیز کو اس کے لیے ذخیرہ کردے گا یا اس کی قسمت میں و شر ہوگا اس شر سے اس کو پناہ میں رکھے گا۔ میں نے کہا : اس آئینہ میں یہ سیاہ نکتہ کیسا ہے ! انہوں نے کہا : یہ وہ ساعت ہے جو جمعہ کے قائم ہوتی ہے اور ہمارے نزدیک جمعہ تمام دنوں کا سردار ہے اور آخرت میں ہمارے نزدیک اس کا نام یوم المزید ہے۔ میں نے کہا : تم اس دن کو یوم المزید کس وجہ سے کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا : آپ کے رب عزوجل نے جنت میں مشک سے زیادہ خوشبودار ایک سفید وادی بنائی ہے، جب جمعہ کا دن آتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ علیین سے اپنی کرسی پر نازل ہوتا ہے، حتی کہ اس کرسی کے گرد نور کے منبر بچھا دیے جاتے ہیں اور نبی اء آ کر اس کرسی کے گرد بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ان منبروں کے گرد سونے کی کرسیاں بچھا دی جاتی ہیں پھر صدیقین اور شہداء آ کر ان کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں، پھر اہل جنت آتے ہیں اور ٹیلوں پر بیٹھ جاتے ہیں، پھر ان کا رب تبارک وتعالیٰ ان سب پر تجلی فرمائے گا حتی کہ وہ سب اس کے چہرے کی طرف دیکھیں گے۔ (الحدیث) (مسند البزار، رقم الحدیث : 3519 ۔ مسند ابویعلی رقم الحدیث : 4228 ۔ المعجم الاوسط، رقم الحدیث : 6713 ۔ مجمع الزوائد ج 10، ص 421، المطالب العالیہ ج 1، ص 157 ۔ 158، رقم الحدیث : 579، اس کی سند صحیح ہے)

اللہ تعالیٰ کے دکھائی دینے پر قرآن مجید سے ایک اور دلیل 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑے۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کے دکھائی دینے پر دلیل ہے، کیونکہ کسی چیز کے علم سے وہ چیز منجلی (روشن) ہوجاتی ہے، اور کسی چیز کو دکھانا بھی اس چیز کو روشن کردیتا ہے اور علم کی بہ نسبت دکھانے سے چیز زیادہ منجلی (روشن) ہوتی ہے، اس لیے یہاں پر تجلی سے مراد دکھانا زیادہ اولیٰ ہے۔ اور اس آیت کے معنی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو پہار نے دیکھا تو وہ ریزہ یرزہ ہوگیا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پہاڑ تو ایک پتھر ہے اس کا دیکھنا غیر متصور ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ میں حیات، عقل اور فہم پیدا کی ہے اس طرح اس میں رویت اور بصارت بھی بعید نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” یجبال اوبی معہ والطیر : اے پہاڑو ! داؤد کے ساتھ تسبیح کرو اور اے پرندو تم بھی !” (سبا :10) ۔

نیز پہاڑ پتھروں کی جنس سے ہیں اور پتھروں کے متعلق فرمایا : ” وان منہا لما یھبط من خشیۃ اللہ : بیشک بعض پتھر ضرور خوف خدا سے گرپڑتے ہیں ” (البقرہ :74) ۔ اور جب پہاڑ تسبیح کرتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں تو وہ دیکھ بھی سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب پہاڑ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوگئے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کی طاقت پہاڑ سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔

منکرین رویت کے ایک اعتراض کا جواب 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جب ان کو ہوش آیا تو کہا تو پاک ہے میں نے تیرے حضور توبہ کی، اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔

معتزلہ نے کہا : اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے رویت کا سوال کرنا گناہ ہے جب ہی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے توبہ کی، اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی اجازت کے بغیر رویت کا سوال کیا تھا اس لیے انہوں نے اپنے اس فعل پر توبہ کی اور ہرچند یہ سوال کرنا گناہ نہیں تھا لیکن ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے نزدیک گناہوں کے حکم میں ہوتی ہیں، اور میں سب سے پہلے اس پر ایمان لانے والا ہوں کہ تیرے اذن کے بغیر تجھ سے سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ 

حضرت موسیٰ نے جب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا اور وہ بےہوش ہوگئے تو ہوش میں آ کر کہا سبحانک۔ یعنی ہم پر ریزہ ریزہ ہونے اور بےہوش ہونے کی آفت اور مصیبت پہنچی اور تو ہر قسم کی آفتوں اور مصیبتوں اور ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک ہے۔ 

انبیاء (علیہم السلام) کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دینے کے متعلق حدیث 

اس آیت میں کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بےہوش ہونے کا ذکر ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ایک حدیث میں اس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے اس کی تفصیل یہ ہے :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ایک یہودی اپنا کچھ سامان بیچ رہا تھا اس کو اس سامان کے عوض جو قیمت دی گئی اس کو اس نے پاپسند کیا اور کہا : نہیں ! اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ! ایک انصاری نے یہ سنا تو اس یہودی کے چہرے پر ایک طمانچہ مارا اور کہا : تو یہ کہتا ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام انسانوں پر فضیلت دی، حالانکہ ہمارے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں ! وہ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور کہا : یا ابا القاسم ! میرے لیے ذمہ اور عہد ہے (یعنی میں ذمی ہوں، اور آپ کے ذمہ میری حفاظت ہے) اور فلاں شخص نے میرے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے پوچھا : تم نے اس کے منہ پر کیوں طمانچہ مارا ہے ؟ اس نے کہا : یا رسول اللہ ! اس نے کہا تھا اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے ! حالانکہ آپ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غضبناک ہوئے حتی کہ آپ کے چہرے سے غضب ظاہر ہورہا تھا، پھر آپ نے فرمایا : انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان فضیلت مت دو ۔ ایک روایت میں ہے کہ مجھے انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان فضیلت نہ دو ۔ (بخاری :4638) کیونکہ صور میں پھونکا جائے گا تو آسمان اور زمین میں سب بےہوش ہوجائیں گے، سوا ان کے جن کو اللہ چاہے گا۔ پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو سب سے پہلے مجھے اٹھایا جائے گا تو اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کو پکڑے ہوئے ہوں گے، میں (ازخود) نہیں جانتا کہ طور کے دن کی بےہوشی میں ان کا شمار کرلیا گیا یا ان کو مجھ سے پہلے اٹھایا گیا تھا اور میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی شخص یونس بن متی (علیہ السلام) سے افضل ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 3414، 3407 ۔ صحیح مسلم، فضائل انبیاء : 159 (2373) ۔ سنن ابو داو ود، رقم الحدیث : 4671 ۔ سنن النسائی، رقم الحدیث : 3245 ۔ مسند احمد ج 3، ص 31 ۔ 33 ۔ جامع الاصول، ج 8، رقم الحدیث : 6309 ۔ 6308)

” مجھے انبیاء (علیہم السلام) پر فضیلت مت دو ” اس حدیث کے جوابات 

اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بالاتفاق تمام انبیاء اور مرسلین سے افضل ہیں، پھر آپ نے یہ کیسے فرمایا : مجھے انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان فضیلت مت دو ، اس اعتراض کے جوابات حسب ذیل ہیں :

آپ کے ارشاد کا یہ معنی ہے کہ نفس نبوت میں کسی نبی کو دوسرے نبی پر فضیلت مت دو ، کیونکہ نفس نبوت میں تمام نبیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ہے : ” لا نفرق بین احد من رسلہ : ہم (ایمان لانے میں) اللہ کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان بھی فرق نہیں کرتے ” (البقرہ :285) ۔ اور اس ارشاد کا یہ معنی نہیں ہے کہ مراتب اور درجات کے لحاظ سے کسی رسول کو دوسرے پر فضیلت مت دو کیونکہ قرآن مجید سے یہ ثابت ہے کہ بعض رسول بعض رسولوں سے افضل ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” تلک الرسل فضلنا بعضہم علی بعض منہم من کلم اللہ ورفع بعضہم درجت : یہ سب رسول، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے کسی سے اللہ نے کلام فرمایا، اور ان میں سے کسی کو (تمام) درجات پر بلندی عطا فرمائی ” (البقرہ :253) ۔

دوسرے جواب کے ضمن میں تمام انبیاء پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت کے متعلق احادیث 

دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ نے یہ ارشاد اس وقت فرمایا تھا جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس پر مطلع نہیں فرمایا تھا کہ اللہ عزوجل نے آپ کو تمام نبیوں اور رسولوں پر فضیلت دے دی، اور جب اللہ جل مجدہ نے آپ کو اس افضلیت پر مطلع فرما دیا تو آپ نے خود بیان فرمایا کہ آپ تمام نبیوں اور رسولوں سے افضل ہیں، جیسا کہ حسب ذیل احادیث میں اس کی تصریح ہے : 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں سب سے پہلے جنت کی شفاعت کرنے والا ہوں، جتنی زیادہ میری تصدیق کی گئی ہے اتنی کسی نبی کی تصدیق نہیں کی گئی اور بعض نبی ایسے تھے کہ ان کی امت میں سے صرف ایک شخص نے ان کی تصدیق کی تھی۔ (صحیح مسلم، الایمان : 332 (196 ۔ مشکوۃ، رقم الحدیث : 5743)

حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں، اور میرے ہی ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اور کوئی فخر نہیں، اور اس دن ہر نبی میرے جھنڈے کے نیچے ہوگا خواہ وہ آدم ہوں یا ان کے علاوہ، اور سب سے پہلے جس شخص سے زمین پھٹے گی وہ میں ہوں، اور کوئی فخر نہیں۔ (سنن الترمذی، تفسیر سورة بنی اسرائیل، 18، رقم الحدیث : 3148، مشکوۃ رقم الحدیث : 5761)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجرہ سے نکلے اور ان کی باتیں سننے لگے، بعض صحابہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو خلیل بنایا، دوسرے نے کہا : حضرت موسیٰ سے اللہ نے کلام فرمایا، ایک اور نے کہا حضرت عیسیٰ اللہ کے کلمہ اور اس کی (پسندیدہ) روح ہیں، کسی نے کہا : حضرت آدم کو اللہ نے منتخب کرلیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : میں نے تمہاری باتیں سن لیں، تم نے کہا : ابراہیم خلیل ہیں وہ ایسے ہی ہیں، تم نے کہا موسیٰ اللہ کے کلیم ہیں، وہ ایسے ہی ہیں، تم نے کہا عیسیٰ اللہ کا کلمہ اور اس کی (پسندیدہ) روح ہیں، وہ ایسے ہیں ہیں، تم نے کہا آدم اللہ کے صفی ہیں، وہ ایسے ہی ہیں، سنو میں اللہ کا محبوب ہوں اور فخر نہیں، اور میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں گا، اور فخر نہیں، اور میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا تو اللہ تعالیٰ اس کو میرے لیے کھول دے گا، اور میرے ساتھ فقراء مومنین داخل ہوں گے اور فخر نہیں، اور میں اولین اور آخرین میں اللہ کے نزدیک سب سے عزت والا ہوں اور کوئی فخر نہیں۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3616 ۔ سنن الدارمی، رقم الحدیث : 47 ۔ مشکوۃ رقم الحدیث : 5762)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمام رسولوں کا قائد ہوں اور کوئی فخر نہیں، میں خاتم النبیین ہوں اور کوئی فخر نہیں، میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور میں وہ ہوں جس کی سب سے پہلے شفاعت قبول کی جائے گی اور فخر نہیں۔ (مشکوۃ، رقم الحدیث : 5763)

تیسرا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ علم تھا کہ اپ افضل الانبیاء ہیں، لیکن آپ نے تواضعاً اور ادباً انبیاء (علیہم السلام) پر خود کو فضیلت دینے سے منع فرمایا، لیکن اس جواب پر یہ اشکال ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو ملائمت سے منع فرماتے، جبکہ اس حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت غضبناک ہوئے حتی کہ آپ کے چہرے سے آثار غضب ظاہر ہوئے، اس سے معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک یہ فضیلت دینا صرف نامناسب نہیں بلکہ حرام تھا۔ 

چوتھا جواب یہ ہے کہ مجھے دوسرے انبیاء پر اس طرح فضیلت مت دو جو دوسرے نبیوں میں نقص کی موجب یا موہم ہو۔ 

پانچواں جواب یہ ہے کہ مجھے دوسرے نبیوں پر اس طریقہ سے فضیلت مت دو جو کسی لڑائی جھگڑے کا موجب ہو، جیسا کہ اس واقعہ میں ہوا تھا۔ 

چھٹا جواب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان تفضیل کے مسئلہ میں زیادہ بحث تمحیص اور غور و فکر نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوران بحث تمہارے منہ سے ایسا لفظ نکل جائے جو نامناسب ہو اور اس سے دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کے احترام میں کمی آئے۔ 

ساتواں جواب یہ ہے کہ اپنی آراء اور اپنی اہواء سے کسی نبی کو دوسرے نبی پر فضیلت مت دو ، ہاں قرآن اور حدیث کے دلائل سے فضیلت کو بیان کرو۔ 

آٹھواں جواب یہ ہے کہ ایک نبی کو دوسرے نبی پر فضائل کی تمام انواع و اقسام سے فضیلت مت دو ، حتی کہ مفضول کے لیے کوئی فضیلت باقی نہ رہے۔ 

نواں جواب یہ ہے کہ کسی اہل کتاب مثلاً یہودی یا نصرانی کے سامنے تمام نبیوں پر میری فضیلت مت بیان کرو ہوسکتا ہے کہ وہ تعصب میں آ کر میرے متعلق کوئی تحقیر کا کلمہ کہے۔ 

دسواں جواب یہ ہے کہ میری دوسرے نبیوں پر فضیلت بیان کرنے میں اتنا مبالغہ نہ کرو کہ مجھے خدائی صفات سے متصف کردو جیسا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں مبالغہ کیا اور انہیں خدا اور خدا کا بیٹا کہا۔ 

گیارھویں جواب کے ضمن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں غلو کرنے کی ممانعت 

گیارھواں جواب یہ ہے کہ دوسرے نبیوں پر میری فضیلت بیان کرنے میں اتنا مبالغہ نہ کرو کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے بڑھا دو ۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے متعلق اس طرح غلو نہ کرو جیسے نصاریٰ نے ابن مریم کے متعلق غلو کیا، میں تو صرف اس کا بندہ ہوں پس تم کہو وہ اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 3445 ۔ سنن دارمی، رقم الحدیث : 2784 ۔ مسند احمد ج 1، ص 23 ۔ 24)

اس غلو کی بعض یہ مثالیں ہیں 

اذاں کیا جہاں دیکھو ایمان والو 

پس ذکر حق ذکر ہے مصطفیٰ کا 

کہ پہلے زباں حمد سے پاک ہو لے 

تو پھر نام لے وہ حبیب خدا کا 

یعنی ناپاک زبان سے اللہ کا نام لینا تو جائز ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لینا جائز نہیں ہے، جب کہ جنبی کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کرنا ممنوع ہے اور حدیث کا پڑھنا ممنوع نہیں ہے ہرچند کہ خلاف ادب ہے، اسی طرح بےوضو کا قرآن مجید کو چھونا جائز نہیں ہے اور حدیث کو چھونا جائز ہے اگرچہ خلاف ادب ہے، اسی طرح غلو پر مشتمل ایک شعر یہ ہے۔ 

خدا جس کو پکڑے چھڑائے محمد 

محمد کا پکڑا چھڑا کوئی نہیں سکتا 

اللہ تعالیٰ کفار اور منافقین کی گرفت فرمائے گا تو کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو چھڑائیں گے اور جن مسلمان گنہ گاروں کو آپ چھڑائیں گے تو وہ اللہ کے اذن سے اس کی بارگاہ میں شفاعت کرکے چھڑائیں گے۔ اور دوسرے مصرع پر یہ اعتراض ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سرداران قریش کے ایمان کی طمع میں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم سے بےتوجہی فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی طرف توجہ کرنے کا حکم دیا اور یہ آیات نازل فرمائیں ” عبس و تولی ان جاءہ الاعمی۔ وما یدرک لعلہ یزکی۔ او یذکر فتنفعہ الذکری۔ اما من استغنی۔ فانت لہ تصدی۔ وما علیک الا یزکی۔ واما من جاءک یسع۔ وھو یخشی۔ فانت عنہ تلہی : انہوں نے تیوی پر بل ڈالے اور منہ پھیرا۔ اس پر کہ ان کے پاس نابینا حاضر ہوا۔ آپ کو کیا معلوم شاید کہ وہ پاکیزگی حاصل کرے۔ یا وہ نصیحت قبول کرے تو اس کو نصیحت نفع دے۔ اور جو بےپرواہی کرتے ہیں۔ تو آپ ان کے درپے ہوتے ہیں۔ اور اگر وہ پاکیزگی حاصل نہ کریں تو آپ کو کوئی ضرر نہیں ہوگا۔ اور جو شخص دوڑتا ہوا آپ کے پاس آیا۔ در آنحالیکہ وہ اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ تو آپ نے اس سے بےپرواہی کی ” ( سورة عبس : 1 ۔ 10) ۔

اسی طرح تین صحابہ حضرت کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرار بن الربیع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گرفت فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو چھڑا لیا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت کعب بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کی مہم بہت سخت اور دشوار تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو عام تیاری کا حکم دیا مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق تیاری کرنے میں مشغول تھے مگر میں بےفکر تھا کہ جب چاہوں گا تیار ہو کر چلا جاؤں گا۔ ایک چھوڑ، دو سواریاں میرے پاس موجود تھیں۔ میں اسی غفلت میں تھا کہ ادھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیس ہزار مجاہدین اسلام کو کوچ کا حکم دے دیا۔ میں نے سوچا کہ آپ روانہ ہوگئے ہیں تو کیا ہوا میں اگلی منزل پر آپ سے جا ملوں گا، اسی سوچ و بچار اور آج کل میں وقت نکل گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تشریف لے جانے کے بعد میں سخت پریشان تھا، سارے مدینہ میں پکے منافقوں یا معذور مسلمانوں کے سوا کوئی نظر نہ آتا تھا۔ میں نے سوچا کہ میں تبوک میں نہ جانے کے متعلق کوئی عذار بیان کرکے جان بچالوں گا، لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیریت سے تشریف لے آئے ہیں ت سارے جھوٹے عذر کافور ہوگئے اور میں نے سوچا کہ سچ کے سوا کوئی چیز اس بارگاہ میں نجات دینے والی نہیں ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں رونق افروز تھے، صحابہ کرام جمع تھے، منافقین جھوٹے عزر پیش کرکے ظاہری گرفت سے چھوٹ رہے تھے۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے حاضر ہوا۔ میرے سلام کا آپ نے غضب آمیز تبسم کے ساتھ جواب دیا اور میری غیر حاضری کی وجہ دریافت کی، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اگر میں کسی دنیا دار کے سامنے پیش ہوتا تو جھوٹے عذر بیان کرکے اپنی چرب زبانی سے صاف بچ جاتا مگر یہاں تو اس ذات کے سامنے معاملہ درپیش ہے کہ اگر میں نے جھوٹ بول کر وقتی طور پر اپنے آپ کو بچا بھی لیا تو اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقت حال سے مطلع فرما دے گا، اس کے برعکس سچ بولنے سے مجھے آپ کی ناراضگی برداشت کرنی پڑے گی مگر اس کا انجام بہتر ہوگا۔ یا رسول اللہ ! امر واقعہ یہ ہے کہ میرے پاس غزوہ تبوک میں نہ جانے کا کوئی عذر نہیں ہے، جس وقت میں آپ کے ہمراہ تبوک نہیں گیا اس وقت سے زیادہ وسعت اور فراخی مجھے کبھی حاصل نہیں تھی، میں مجرم ہوں آپ جو چاہیں میرے متعلق فیصلہ فرمائیں۔ آپ نے فرمایا : اس شخص نے سچ کہا ہے اچھا جاؤ اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو، بعد میں معلوم ہوا کہ دو اور شخص (ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع) بھی میری طرح تھے۔ آپ نے ہم تینوں کے متعلق حکم دے دیا کہ کوئی ہم سے بات نہ کرے، سب علیحدہ رہیں، سو کوئی مسلمان ہم سے بات نہیں کرتا تھا نہ سلام کا جواب دیتا تاھ، وہ دونوں تو خانہ نشین ہوگئے اور گھر میں روتے رہتے تھے۔ میں چونکہ سخت اور قوی تھا، مسجد میں نماز کے لیے حاضر ہوتا تھا، میں آپ کو سلام کرتا تھا اور دیکھتا تھا کہ آپ کے لب مبارک حرکت کرتے ہیں یا نہیں، جب میں آپ کو دیکھتا تھا تو آپ میری طرف سے منہ پھیر لیتے تھے۔ مخصوص رشتہ دار اور اعزہ بھی مجھ سے بےگانہ ہوگئے تھے ایک روز مجھے شاہ غسان کا ایک خط ملا کہ تم ہمارے ملک میں آجاؤ وہاں تمہاری بہت آؤ بھگت ہوگی۔ میں نے سوچا کہ یہ بھی ایک ابتلاء ہے اور وہ خط میں نے جلا دیا۔ چالیس دن بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ایک حکم پہنچا کہ میں اپنی بیوی سے بھی الگ ہوجاؤں، چناچہ میں نے اپنی بیوی کو میکے بھیج دیا، مجھے سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ اگر میں اسی حال میں مرگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو میری نماز جنازہ بھی نہیں پڑھیں گے اور اگر بالفرض اس اثناء میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا تو مسلمان میرا مستقل بائیکاٹ رکھیں گے اور میری میت کے بھی کوئی قریب نہیں آئے گا۔ غرض پچاس دن اسی کیفیت میں گرگئے۔ زمین اپنی وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہوگئی اور مجھے زندگی موت سے زیادہ سخت معلوم ہوتی تھی کہ اچانک جبل سلع (ایک پہاڑ) سے آواز آئی : ” اے کعب بن مالک، مبارک ہو !” میں یہ سنتے ہی سجدہ میں گرگیا ، معلوم ہوا کہ رات کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دی کہ ہماری توبہ قبول ہوگئی ہے، آپ نے نماز فجر کے بعد صحابہ کو مطلع کرکے فرمایا اور مجھے خوش خبری سنانے کے لیے ایک سوار میری طرف دوڑا، مگر دوسرے شخص نے پہاڑ پر زور سے ندا کی اور سوار سے پہلے اس کی آواز مجھ تک پہنچ گئی۔ میں نے اپنے کپڑے اتار کر آواز لگانے والے کو دیے۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، مسلمان مجھے جوق در جوق مبارک باد دے رہے تھے۔ مہاجرین میں سب سے پہلے حضرت طلحہ نے کھڑے ہو کر مصافحہ کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ چاند کی طرح چمک رہا تھا آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول فرما لی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 2757 ۔ صحیح مسلم، التوبہ، 53 (2769) 6883 ۔ سنن ابو داو ود، رقم الحدیث : 3318 ۔ سنن النسائی، رقم الحدیث : 3422 ۔ صحیح ابن خزیہ رقم الحدیث : 2442 ۔ سنن الدارمی، رقم الحدیث : 2454 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 1393 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3102، مسند احمد، ج 3، ص 456، جامع الاصول، ج 2، رقم الحدیث : 662)

حضرت کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع کی توبہ قبول کرنے اور ان کی نجات کے متعلق جو اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوا اس کے متعلق قرآن مجید کی یہ آیات نازل ہوئیں : ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا حتی اذا ضاقت علیہم الارض بما رحبت وضاقت علیہم انفسہم وظنوا ان لا ملجا من اللہ الا الیہ۔ ثم تاب علیہم لیتوبوا ان اللہ ھو التواب الرحیم : اور ان تین مسلمانوں کی توبہ قبول فرمائی جن کا حکم موخر رکھا گیا تھا، حتی کہ جب زمین وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر تنگ ہوگئیں اور انہوں نے یہ یقین کرلیا کہ اللہ کے سوا ان کی کوئی جائے پناہ نہیں ہے، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تاکہ وہ ہمیشہ توبہ کرتے رہیں، بیشک اللہ تعالیٰ ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، بہت مہربان ہے (التوبہ : 118)

ان مذکور الصدر احادیث میں تصریح ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان تین صحابہ پر گرفت فرمائی اور آپ کے حکم پر مسلمانوں نے پچاس دنوں تک ان سے مقاطعہ جاری رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما کر ان کی خلاصی کرادی اس لیے یہ مصرع صحیح نہیں ہے کہ : ” محمد کا پکڑا چھڑا کوئی نہیں سکتا “

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں غلو کی ایک اور یہ مثال ہے 

معنی حرفم کنی تحقیق اگر 

بنگر بادیدہ صدیق اگر 

قوت قلب و جگر گردد نبی 

از خدا محبوب تر گردد نبی 

(اگر میرے نظریہ کو جانو اور حضرت صدیق اکبر کی نظر سے دیکھو تو نبی، اللہ سے زیادہ محبوب ہیں)

یہ اشعار قرآن مجید کی اس آیت کے صراحۃً خلاف ہیں : ” والذین امنوا اشد حبا للہ : اور ایمان والے سب سے زیادہ محبت، اللہ سے کرتے ہیں ” (البقرہ :125) ۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کائنات میں سب سے افضل ہیں اور ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مخلوق سے زیادہ آپ سے محبت ہونی چاہیے لیکن ان تمام تر عظمتوں کے باوجود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندہ اور اس کی مخلوق ہیں، اور خالق اور مخلوق کے درمیان اس طرح تقابل کرنا کہ مخلوق خالق سے زیادہ افضل یا زیادہ محبوب یا زیادہ با اختیار ہے صحیح انداز فکر نہیں ہے۔ 

امام ابو یعلی احمد بن علی التمیمی المتوفی 307 ھ روایت کرتے ہیں :

عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت قتادہ بن النعمان (رض) کی آنکھ جنگ بدر کے دن زخمی ہوگئی اور ان کی آنکھ کا ڈھیلا بہہ کر ان کے رخسار پر آگیا، مسلمانوں نے اس کو کاٹ کر نکالنے کا ارادہ کیا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا، آپ نے فرمایا : نہیں ! پھر حضرت قتادہ کو بلا آپ نے اپنی ہتھیلی سے وہ ڈھیلا (اپنی جگہ رکھ کر) دبایا، پھر پتا نہیں چلتا تھا کہ ان کی کون سی آنکھ زخمی ہوئی تھی۔ (مسند ابو یعلی، ج 3، رقم الحدیث : 1549، دلائل النبوۃ للبیہقی، ج 3، ص 99 ۔ تا۔ 100 ۔ اسد الغابہ، ج 4، ص 370، رقم : 4277 ۔ الاصابہ، ج 5، ص 318، رقم : 7091)

امام ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی متوفی 360 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت قتادہ بن النعمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک کمان ہدیہ کی گئی، جنگ احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ کمان مجھے دے دی۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہوا اس کمان سے تیر مار رہا تھا کہ وہ کمان ٹوٹ گئی، اور میں مستقل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا رہا جو تیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کی طرف آتا میں اس تیر کے سامنے اپنا چہرہ کردیتا (اور کمان ٹوٹنے کی وجہ سے) میں اس وقت کوئی تیر نہیں مار رہا تھا، حتی کہ ایک تیر آ کر میری آنکھ میں لگا جس سے میری آنکھ کا ڈھیلا نکل کر میرے چہرے پر آگیا، میں نے وہ ڈھیلا نکال کر اپنے ہاتھ میں رکھا، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ہاتھ میں نکلی ہوئی آنکھ کا ڈھیلا دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور آپ نے دعا کی : اے اللہ ! قتادہ نے تیرے نبی کے چہرے کو اپنے چہرے سے بچایا ہے تو اس کی اس آنکھ کو دونوں میں سے زیادہ حسین اور زیادہ تیز بنا دے، سو ان کی وہ آنکھ دونوں آنکھوں میں سے زیادہ حسین اور زیادہ تیز نظر والی تھی۔ (المعجم الکبیر، ج 19، ص 8، رقم الحدیث : 12، دلائل النبوۃ لابی نعیم، ج 2، رقم الحدیث : 417، المستدرک، ج 3، ص 295 ۔ الاستیعاب، ج 3، ص 338، رقم : 2131 ۔ اسد الغابہ، ج 4، ص 370، رقم : 4277 ۔ الاصابہ، ج 5، ص 318، رقم : 7091، مجمع الزوائد، ج 6، ص 113)

غیر محتاط واعظین اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا کی دی ہوئی آنکھ میں اتنی روشنی نہیں تھی جتنی مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دی ہوئی آنکھ میں روشنی تھی، اللہ اور اس کے رسول کی عطا میں تقابل کا یہ انداز بہت خطرناک ہے، یہ دونوں آنکھیں اللہ تعالیٰ ہی کی دی ہوئی تھیں فرق یہ ہے کہ ایک آنکھ ماں باپ کے جسمانی توسل سے ملی تھی اور دوسری آنکھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا سے ملی تھی اس لیے اس آنکھ کا حسن اور اس کی نظر دوسری آنکھ سے زیادہ تھی۔ بہرحال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت بیان کرنے میں غلو اور مبالغہ نہیں کرنا چاہیے۔ آپ کی صفات خدا کے برابر بیان کی جائیں، نہ آپ کو خدا سے بڑھایا جائے۔ اسی لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے انبیاء کے درمیان فضیلت مت دو ۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 4638) ۔ نیز آپ نے فرمای : بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت مت دو ۔ (مسند احمد ج 3، ص 41) اور فرمایا : مجھے انبیاء پر فضیلت مت دو ، اور نہ یونس بن متی پر (البدایہ والنہایہ، ج 1، ص 171) اور ان سب احادیث کا ایک محمل یہ ہے کہ مجھے خدا کے برابر نہ کرو یا مجھے خدا سے نہ بڑھاؤ اور اس محمل کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آپ نے فرمایا : میرے متعلق اس طرح غلو نہ کرو جس طرح نصاری نے عیسیٰ بن مریم کے متعلق غلو کیا تھا، پس تم کہو وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 3445) اس توجیہ کے بیان کرنے کے سلسلہ میں کلام طویل ہوگیا کیونکہ ہمارے زمانہ میں انبیاء (علیہم السلام) کی شان بیان کرنے میں بہت افراط اور تفریط ہے، بعض لوگ آپ کی شان بیان کرنے سے مطلقاً منع کرتے ہیں اور آپ کے فضائل میں قطع برید کرتے ہیں اور بعض اس میں افراط کرتے ہیں اور حد سے گزر جاتے ہیں، میں نے اصلاح کی اپنی سی کوشش کی ہے، اللہ تعالیٰ ان سطور میں اثر آفرینی فرمائے۔ (آمین) اب میں اس حدیث کے بقیہ تشریح طلب اجزاء کی وضاحت کرتا ہوں۔ فاقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق۔

صعقہ کا معنی 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صورت میں پھونکا جائے گا تو جو آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب پر صعقہ طاری ہوگا، ماسوا ان کے جن کو اللہ چاہے۔ (الزمر :68) صعقہ کا معنی موت ہے اور کبھی اس سے مراد بےہوشی بھی ہوتی ہے، جیسے اس آیت میں ہے وخر موسیٰ صعقا (الاعراف : 143) اس آیت میں جن لوگوں کا صعقہ سے استثناء کیا ہے ان کے مصداقوں میں اختاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ وہ فرشتے ہیں، دوسرا قول یہ ہے کہ وہ انبیاء ہیں اور تیسرا قول یہ ہے کہ وہ شہداء ہیں۔ اور صحیح یہ ہے کہ ان کی تعیین میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے، اور ان میں سے ہر ایک محتمل ہے۔

پھر آپ نے فرمایا : پھر دوسری بار صور میں پھونکا جائے گا تو سب سے پہلے مجھے قبر سے اٹھایا جائے گا تو اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کو پکڑے ہوئے ہوں گے، میں از خود نہیں جانتا کہ طور کے دن کی بےہوشی میں ان کا شمار کرلیا گیا یا (وہ بےہوش تو ہوئے تھے لیکن) ان کو مجھ سے پہلے اٹھا لیا گیا۔ 

انبیاء (علیہم السلام) کی حیات پر دلائل 

علامہ ابو العباس احمد بن عمر قرطبی متوفی 656 ھ نے فرمایا ہے کہ جب پہلی بار صور میں پھونکا جائے گا تو اس سے انبیاء (علیہم السلام) صرف بےہوش ہوں گے اور عام انسان سب مرجائیں گے، سو عام لوگوں کے حق میں صعقہ کا معنی موت ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں صعقہ کا معنی بےہوشی ہے، کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اپنی قبروں میں زندہ ہیں ان کے حق میں موت کا معنی ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ شہداء اپنے قتل ہونے اور موت کے بعد اپنے رب کے پاس زندہ ہوتے ہیں، ان کو رزق دیا جاتا ہے اور وہ خوش اور مسرور ہوتے ہیں اور یہ دنیا میں زندہ لوگوں کی صفات ہیں، اور جب شہداء کا یہ مقام ہے تو انبیاء (علیہم السلام) تو اپنی وفات کے بعد اس حال کے زیادہ لائق اور حقدار ہیں۔ اس کے علاوہ صحیح حدیث میں ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے اجسام کو کھانا حرام کردیا ہے۔ (سنن ابو داود، رقم الحدیث : 1047 ۔ سنن النسائی، رقم الحدیث : 1373 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 1636)

نیز شب معراج تمام انبیاء علیہم ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد اقصی میں جمع ہوئے، خصوصا موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ (صحیح مسلم، فضائل انبیاء : 156، (2374) 6042)

اس طرح کی احادیث بہت زیادہ ہیں جن کے مجموعہ سے اس بات کا یقینی علم حاصل ہوجاتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی موت کا معنی یہ ہے کہ وہ ہم سے غائب ہوگئے بایں طور کہ ہم ان کا ادراک نہیں کرسکتے، ہرچند کہ وہ موجود اور زندہ ہیں اور ان کا حال فرشتوں کی طرح ہے کہ وہ بھی موجود اور زندہ ہیں اور ہماری نوع میں سے کوئی شخص ان کو نہیں دیکھتا سوائے اولیاء اللہ کے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کرامت کے ساتھ خاص کرلیا ہے، اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ انبیاء (علیہم السلام) زندہ ہیں تو وہ آسمان اور زمین کے درمیان ہیں اور جب صور میں پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمینوں میں ہر شخص پر صعقہ طاری ہوگا ماسوا ان کے جن کو اللہ چاہے، غیر انبیاء کے صعقہ کا معنی ہے وہ مرجائیں گے اور انبیاء (علیہم السلام) صرف بےہوش ہوں گے۔ اور جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو جو مرگئے تھے وہ زندہ ہوجائیں گے اور جو بےہوش ہوئے تھے وہ ہوش میں آجائیں گے، اسی لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو ہوش میں آئے گا اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حقیقتاً سب سے پہلے ہوش میں آئیں گے اور تمام لوگوں سے پہلے اپنی قبر مباک سے باہر آئیں گے، خواہ وہ انبیاء ہوں یا ان کے غیر، ماسوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کیونکہ ان کے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تردد تھا، آیا وہ آپ سے پہلے ہوش میں آگئے تھے یا وہ پہلے صعقہ سے بےہوش ہی نہیں ہوئے اور اس کے قائم مقام طور کی بےہوشی تھی، بہرحال جو بھی شکل ہو اس حدیث کی رو سے حجرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک ایسی فضیلت حاصل ہے جو ان کے غیر میں سے کسی کو بھی حاصل نہیں۔ (المفہم ج 6، ص 231 ۔ 234، مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت، 1417 ھ)

دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فضیلت جزی کی تحقیق 

علامہ قرطبی کی اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فضیلت جزی حاصل تھی کہ وہ یا تو پہلے صعقہ سے بےہوش نہیں ہوئے یا بےہوش تو ہوئے تھے لیکن آپ سے پہلے ہوش میں آگئے۔ 

حافظ ابن حجر عسقلانی اور حافظ بدرالدین عینی نے بھی یہ لکھا ہے کہ ہر صورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے فضیلت ثابت ہے۔ (فتح البار، ج 6، ص 445، طبع لاہور، عمدۃ القاری، ج 12، ص 251)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی 1052 ھ لکھتے ہیں : 

نیز یہ فضیلت جزی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ثابت ہے اور یہ فضیلت کلی کے منافی نہیں ہے (اشعۃ اللمعات، ج 4، ص 451، مطبوعہ تیج کمار لکھنؤ)

ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی 1014 ھ لکھتے ہیں : 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس فضیلت کے ساتھ خاص ہونا اس بات کو واجب نہیں کرتا کہ وہ اس ذات سے بڑھ جائیں جو ان پر فضائل کثیرہ اور متعدد وجوہ سے مقدم ہیں۔ (مرقات ج 11، ص 17، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ، ملتان، 1390 ھ)

اسی طرح حضرت آدم (علیہ السلام) ابوالبشر اور اول انسان ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کی یہ فضیلت جزی ہے لیکن فضیلت کلی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہی حاصل ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ فضیلت ہے کہ وہ اپنی نانی کی دعا کی وجہ سے اپنی ولادت کے وقت میں شیطان سے محفوظ رہے اور انہوں نے پنگورے میں کلام کیا اور بچپن ہی میں اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ لیکن فضیلت کلی کے حامل صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی 676 ھ نے ایک اور جواب دیا ہے وہ لکھتے ہیں : 

قاضی عیاض فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو یہ فرمایا تھا کہ ” میں (از خود) نہیں جانتا کہ حضرت موسیٰ بےہوش ہی نہیں ہوئے یا مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے ” یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ علم نہیں دیا گیا تھا کہ حقیقتاً سب سے پہلے آپ ہوش میں آ کر قبر سے نکلیں گے۔ اور آپ ہی علی الاطلاق سب سے پہلے اٹھیں گے اور جو گروہ سب سے پہلے قبروں سے اٹھے گا، اس میں علی الاطلاق سب سے پہلے آپ اٹھیں گے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی اسی گروہ سے ہوں گے۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی، ج 10، ص 6233، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

قاضی عیاض اور علامہ نووی کے اس جواب کے اعتبار سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فضیلت جزی بھی نہیں رہی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علی الاطلاق سب سے پہلے قبر سے اٹھیں گے۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور میں وہ ہوں جو سب سے پہلے قبر سے اٹھے گا۔ اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور میں وہ ہوں جس کی شفاعت سب سے پہلے قبول کی جائے گی۔ (صحیح مسلم، فضائل : 3 (2278) 5830 ۔ سنن ابو داو ود، رقم الحدیث : 4673 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3159، 3631 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 4308، صحیح ابن حبان، رقم الحدیث : 6478 ۔ مسند احمد، ج 1، رقم الحدیث : 10987، طبع جدید دار الفکر، مسند احمد، ج 1، ص 281، ج 3، ص 332 ۔ المستدرک، ج 2، ص 365 ۔ دلائل النبوۃ، ج 1، ص 13 ۔ کنز الاعمال، رقم الحدیث : 31879)

قاضی عیاض مالکی متوفی 544 ھ اور علامہ نووی شافعی، متوفی 676 ھ کے جواب کو علامہ ابی مالکی متوفی 828 ھ، علامہ سنوسی مالکی متوفی 895 ھ، علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی 855 ھ، علامہ سیوطی شافعی متوفی 911 ھ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی حنفی، متوفی 1052 ھ نے بھی اپنی شروحات میں نقل کیا ہے : (اکمال اکمال المعلم ج 8، ص 137 ۔ معلم اکمال الاکمال ج 8، ص 137 ۔ عمدۃ القاری ج 12، ص 251 ۔ الدیباج ج 2، ص 203 ۔ اشعۃ اللمعات، ج 4، ص 451)

بظاہر اس حدیث سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فضیلت لازم آتی ہے۔ مدت دراز سے میں اس اشکال کا جواب دینا چاہتا تھا اور اس حدیث کی مکمل تحقیق کرنا چاہتا تھا، اس کے باوجود نہ جانے کسی وجہ سے شرح صحیح مسلم میں اس کی تشریح مجھ سے رہ گئی، زیر تفسیر آیت میں چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر بےہوش ہونے کا ذکر ہے اور اس حدیث میں اس کا حوالہ ہے، اس مناسبت سے میں نے اس حدیث کو یہاں ذکر کیا اور اس کی تفصیل اور تحقیق کی۔ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے اور اس کو اثر آفریں بنائے۔ (آمین) اب پھر میں بقیہ آیات کی تفسیر کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 143