أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِىۡ وَلِاَخِىۡ وَ اَدۡخِلۡنَا فِىۡ رَحۡمَتِكَ ‌ۖ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ۞

ترجمہ:

موسیٰ نے دعا کی اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر دے اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : موسیٰ ( علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر دے اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ (الاعراف : ١٥١ ) ۔

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی دعاء مغفرت کی توجیہ : 

جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر اپنے بھائی کا عذر واضح ہوگیا اور انہوں نے یہ جان لیا کہ ان پر جو ذمہ داری تھی اس کو پورا کرنے میں انہوں نے کوئی کمی نہیں کی اور جاہل اسرائیلیوں نے جو گو سالہ پرستی کی تھی اس کو روکنے کی انہوں نے ہر ممکن کوشش کی تھی تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان سے جو سختی سے باز پرس کی تھی اس پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور اپنے بھائی کے لیے معافی چاہی کہ اگر بالفرض ان سے اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی ہوئی تو اس کو بھی معاف فرما۔ انبیاء ( علیہ السلام) معصوم ہوتے ہیں ان سے کوئی گناہ ہیں ہوتا۔ صغیرہ نہ کبیرہ۔ لیکن ابرار کی نیکیاں بی مقربین کے نزدیک گناہ کا حکم رکھتی ہیں اس لیے وہ استغفار کرتے ہیں۔ نیز ان سے جو اجتہادی خطا سرزرد ہوتی ہے اس پر بھی استغفار کرتے ہیں ہرچند کہ اجتہادی خطا پر مواخذہ نہیں ہوتا بلکہ ایک اجر ملتا ہے لیکن وہ مقام عالی کے پیش نظر اس پر بھی استغفار کرتے ہیں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے پہلے اپنے لیے دعا کی پھر اپنے بھائی کے لیے دعا کی اس میں اسلوب دعا کی تعلیم ہے کہ پہلے اپنے لیے دعا کرے تاکہ یہ ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کا سب سے زیادہ محتاج ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 151