حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ پنج تن پاک کے وسیلے سے قبول ہوئی

از مولوی حنیف قریشی!

مولوی صاحب ایک سو بیس کی سپیڈ سے رافضیت کدے کی طرف بڑھتے جارہے ہیں تبھی رافضیوں کی بیان کردہ روایت نہ صرف ڈنکے کی چوٹ پر بیان کرتے بلکہ ان من گھڑت روایات سے استدلال کرتے ہوئے بھی نہیں شرماتے اگرچہ معاذ اللہ توہین انبیاء کاوہم ہی کیوں نہ ہوتا ہو.

مولوی صاحب کی بیان کردہ روایت کو امام سیوطی رحمہ اللہ نے الالي المصنوعه میں دارقطنی کی حوالے سے نقل فرمایا ملاحظہ کیجیے !

الدارقطني) حدثنا أبو ذر أحمد بن محمد بن أبي بكر الواسطي حدثنا محمد بن علي بن خلف العطار حدثنا حسين الأشقر حدثنا عمرو بن ثابت عن أبيه عن سعيد بن جبير

عن ابن عباس: سألت النبي عن الكلمات التي تلقاها آدم من ربه؟ فقال: قال سأل بحق محمد وعلي وفاطمة.

اس کی ایک اور سند ابن نجار کے حوالے سے موجود ہے جو کہ محمد بن علی بن خلف العطار سے ایک ہی ہو جاتی ہے ۔

رواۃ کے حالات ملاحظہ کیجیے

الاسم : الحسين بن الحسن الأشقر الفزارى ، أبو عبد الله الكوفى

الطبقة : 10 : كبار الآخذين عن تبع الأتباع

الوفاة : 208 هـ

روى له : س ( النسائي )

رتبته عند ابن حجر : صدوق يهم ، و يغلو فى التشيع

رتبته عند الذهبي : واه ، قال البخارى : فيه نظر

حافظ ابن حجر رحمه الله كے نزدیك صدوق وهمی اور غالی شیعه هے ۔

جبكه امام ذهبی كے نزدیك واهِ هے ۔نیز امام بخاری رحمه الله نے فرمایا : اس میں نظر هے ۔

فیضی یافته رافضی محقق فیضی كی كتاب سے امام بخاری كے فیه نظر كا معنی دیكه لیجیے شكریه۔

عمرو بن ثابت :

قال ابن معين: ليس بشئ.وقال مرة: ليس بثقة ولا مأمون.

وقال النسائي: متروك الحديث.وقال ابن حبان: يروي الموضوعات.وقال أبو داود: رافضي.وقال البخاري: ليس بالقوى عندهم.

میزان اعتدال 3/249

عمرو بن ثابت رافضی ،متروك الحدیث اور موضوع روایات بیان كرنے والا هے ملخصاً

ابن حبان فرماتے هیں یه ثبت راویوں سے موضوعات روایت كرتا هے ۔

تهذيب الكمال في أسماء الرجال 21/258

ایك بات قابل غور هے نبی كریمﷺ كے وصال كے بعد چار بندوں كے سوا باقی سب كافر هوگئے تهے (معاذالله) روایت بیان كرنے والا بهی یهی خبیث هے ۔

تهذيب الكمال في أسماء الرجال 21/257

لیکن کیا کیا جائے بد بختی کا ۔رافضیت بیماری ہی ایسی ہے جس پر تھوڑا سا بھی سایہ کر جائے وہ اسلاف پر بھونکنے والوں یا ان کی بیان کردہ روایات کو سینے سے لگا لیتا ہے جیسا کہ مذکورہ مولوی صاحب!

مذکورہ روایت کو نقل کرنے کے فوراً بعد امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

تفرد به عمرو عن أبيه أبي المقدام وتفرد به حسين عنه وعمر وقال يحيى لا ثقة ولا مأمون وقال ابن حبان يروي الموضوعات عن الإثبات.

اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعہ 1/369

عمرو نے اپنے والد ابو المقدام سے متفرد طور پر بیان کیا اور پھر حسین اشقر نے عمرو سے متفردا اس روایت کو بیان کیا یحییٰ کہتے ہیں حسین ثقہ ہے نہ ہی مامون ابن حبان کہتے ہیں ثبت راویوں سے موضوع روایات بیان کرتا ہے.

فتدبر!

پنج تن پاک کے صدقے اللہ تعالیٰ ہم سب کو رافضیت و ناصبیت سے ہمیں محفوظ رکھے آمین

فرحان رفیق قادری عفی عنہ