أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِىۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور (اے رسول مکرم ! ) ان پر اس شخص کا حال بیان کیجیے جس کو ہم نے اپنی آیتوں کا علم دیا تو وہ ان کی اطاعت سے نکل گیا پس شیطان نے اس کا پیچھا کیا، سو وہ گمراہوں میں سے ہوگیا

تفسیر:

175 ۔ 177:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور (اے رسول مکرم ! ) ان پر اس شخص کا حال بیان کیجیے جس کو ہم نے اپنی آیتوں کا علم دیا تو وہ ان کی اطاعت سے نکل گیا پس شیطان نے اس کا پیچھا کیا، سو وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔ 175 ۔ اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کے ذریعہ اس کو بلندی عطا کرتے مگر وہ پستی کی طرف جھکا اور اپنی خواہش نفس کی پیروی کی، سو اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی وہ ہانپ کر زبان نکالے یا چھوڑ دو پھر بھی وہ ہانپ کر زبان نکالے، یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں، آپ (لوگوں کے سامنے) یہ واقعات بیان کیجیے تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ 176 ۔ کیسی بری مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور وہ اپنے ہی نفسوں پر ظلم کرتے تھے۔ 177 ۔ 

واتل علیہم نبا الذی کے شان نزول میں مختلف روایات 

ان آیتوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس شخص کا قصہ بیان کرنے کا حکم فرمایا ہے قرآن مجید اور احادیث میں اس کے نام کی تصریح نہیں ہے نہ اس کی صفت اور اس کی شخصیت کا تذکرہ ہے۔ البتہ مفسرین نے اس کے متعلق مختلف اقوال ذکر کیے ہیں۔ مسروق نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا کہ وہ بنو اسرائیل کا ایک شخص تھا اور اس کا نام بلعم بن ابر تھا۔ عمران بن حصین نے حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ اس کا نام بلعم بن باعر یا بعلم بن باعوراء تھا۔ نافع بن عاصم نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ اس کا نام امیہ بن ابی الصلت تھا۔ (جامع البیان ج 9، ص 160 ۔ 163، مطبوعہ بیروت، 1415 ھ)

عکرمہ نے کہا بلعام نبی تھا اور اس کو کتاب دی گئی تھی، مجاہد نے کہا اس کو نبوت دی گئی تھی اس کی قوم نے اس کو رشوت دی کہ وہ خاموش رہے، اس نے ایسا ہی کیا اور ان کو ان کے فسق و فجور پر ملامت نہیں کی۔ علامہ رمادی نے کہا یہ اقوال صحیح نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی شخص کو نبوت کے لیے منتخب فرماتا ہے جس کے متعلق اس کو علم ہوتا ہے کہ وہ اس کی اطاعت ترک نہیں کرے گا اور معصیت کا ارتکاب نہیں کرے گا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 7، ص 286، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

امام حسین بن مسعود الفراء البغوی المتوفی 516 ھ لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس اور ابن اسحاق وغیرہم نے بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب جبارین سے جنگ کرنے کا قصد کیا اور کنعان سے شام کی طرف روانہ ہوئے تو بلعم کی قوم بلعم کے پاس گئی۔ بلعم کو اللہ تعالیٰ کا اسم اعطم معلوم تھا۔ ان لوگوں نے بلعم سے کہا موسیٰ بہت سخت آدمی ہے اور اس کے ساتھ بہت بڑا لشکر ہے۔ اور وہ ہم کو ہمارے شہروں سے نکالنے اور ہم سے جنگ کرنے کے لیے آیا ہے، وہ ہم کو قتل کر کے ہمارے شہروں میں بنو اسرائیل کو آباد کرے گا اور تم وہ شخص ہو جو مستجاب الدعوات ہے (جس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں) تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ ان کو یہاں سے بھگا دے۔ بلعم نے کہا تم پر افسوس ہے وہ اللہ کے نبی ہیں، ان کے ساتھ فرشتے اور مومنین ہیں، میں ان کے خلاف کیسے بد دعا کرسکتا ہوں، اور مجھے اللہ تعالیٰ سے جو علم ملا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر میں نے ان کے خلاف بد دعا کی تو میری دنیا اور آخرت برباد ہوجائے گی۔ انہوں نے بار بار اصرار کیا تو اس نے کہا اچھا میں استخارہ کرتا ہوں اور اس کا معمول بھی یہی تھا کہ وہ استخارہ کرنے کے بعد دعا کرتا تھا۔ اس کو نیند میں یہ بتایا گیا کہ ان کے خلاف بد دعا نہ کرنا۔ اس نے اپنی قوم سے کہا میں نے استخارہ کیا تھا اور مجھے ان کے خلاف دعا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر اس کی قوم نے اس کو ہدیے اور تحفے پیش کیے جن کو اس نے قبول کرلیا، انہوں نے دوبارہ اس سے بددعا کرنے کے لیے کہا، اس نے پھر استخارہ کیا اس دفعہ اس سے کچھ نہیں کہا گیا۔ اس کی قوم نے کہا اگر اللہ کو یہ بد دعا کرنا پسند نہ ہوتا تو وہ تم کو پہلی بار کی طرح صراحتاً منع فرما دیتا، وہ اس سے مسلسل اصرار کرتے رہے، حتی کہ وہ ان کے کہنے میں آگیا وہ ایک گدھی پر سوار ہو کر ایک پہاڑ کی طرف روانہ ہو گدھی نے اس کو کوئی بار گرایا وہ پھر سوار ہوجاتا تھا۔ بالآخر اللہ کے حکم سے گدھی نے اس سے کلام کیا اور کہا افسوس ہے بلعم تم کہاں جا رہے ہو، کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ فرشتے مجھے جانے سے روک رہے ہیں۔ کیا تم اللہ کے نبی اور فرشتوں کے خلاف بددعا کرنے کے لیے جارہے ہو ؟ بلعم باز نہیں آیا وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر بددعا کرنے لگا۔ وہ بنو اسرائیل کے خلاف بد دعا کرنا چاہتا تھا لیکن اس کی زبان پر اس کی قوم کے خلاف بددعا کے الفاظ آجاتے تھے، اس کی قوم نے کہا اے بلعم یہ کیا کر رہے ہو ؟ تم تو ہمارے خلاف بددعا کر رہے ہو ! اس نے کہا یہ میرے اختیار میں نہیں ہے، اللہ کی قدرت مجھ پر غالب آگئی، پھر اس کی زبان نکل کر اس کے سینہ کے اوپر لٹک گئی، اس نے کہا میری تو دنیا اور آخرت برباد ہوگئی۔ اب میں تمہیں ان کے خلاف ایک تدبیر بتاتا ہوں، تم حسین و جمیل عورتوں کو بنا سنوار کر ان کے لشکر میں بھیج دو ، اگر ان میں سے ایک شخص نے بھی ان کے ساتھ بدکاری کرلی تو تمہارا کام بن جائے گا کیونکہ جو قوم زنا کرے اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوتا ہے اور اس کو کامیاب ہونے نہیں دیتا۔

بنو اسرائیل کے ایک شخص جس کا نام زمری بن شلوم تھا اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے منع کرنے کے باوجود کستی نامی ایک کنعانی عورت کے ساتھ بدکاری کی جس کی پاداش میں اسی وقت بنو اسرائیل پر طاعون مسلط کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ کا مشیر فنحاص بن العیزار نامی ایک اسرائیلی شخص تھا وہ اس وقت وہاں موجود نہ تھا، جب وہ آیا اور اس کو زمری بن شلوم کی سرکشی کا پتہ چلا تو اس نے خیمہ میں گھس کر زمری اور اس عورت دونوں کو قتل کردیا۔ تب طاعون کا عذاب ان سے اٹھا لیا گیا لیکن اس اثناء میں ستر ہزار اسرائیلی طاعون کے عذاب سے ہلاک ہوچکے تھے۔

مقاتل نے کہا کہ بلقاء کے بادشاہ نے بلعام سے کہا کہ تم موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف بد دعا کرو، اس نے کہا وہ میرے ہم مذہب ہیں میں ان کے خلاف بد دعا نہیں کروں گا۔ بادشاہ نے اس کو سولی دینے کے لیے صلیب تیار کی وہ ڈر گیا اور گدھی پر سوار ہو کر بددعا کرنے کے لیے گیا۔ گدھی راستہ میں رک گئی اور چلتی نہ تھی وہ گدھی کو مارنے لگا گدھی نے کہا مجھے کیوں مارتے ہو ؟ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے۔ پھر وہ لوٹ آیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! ہم کسی وجہ سے میدان تیہ میں بھٹک رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلعام کی دعا کی وجہ سے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! جس طرح تو نے میرے خلاف اس کی دعا سن لی ہے اسی طرح اس کے خلاف میری دعا بھی قبول فرما ! پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا کی کہ اس سے اسم اعظم چھین لیا جائے اور اس سے ایمان سلب کرلیا جائے۔ سو ایسا ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فانسلخ منہا یعنی اس سے ایمان اور اسم اعظم چھین لیا گیا۔ (تفسیر ابن ابی حاتم ج 5، س 1617)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص، سعید بن المسیب، زید بن اسلم اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ یہ آیت امیہ بن الصلت ثقفی کے متعلق نازل ہوئی ہے، اس نے کتاب (تورات) کو پڑھا تھا اور اس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک رسول بھیجنے والا ہے، اس کو امید تھی کہ وہ متوقع رسول وہ ہوگا، اور جب اللہ تعالیٰ نے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنادیا تو اس نے آپ سے حسد رکھا اور آپ کا کفر کیا، وہ بہت حکمت والا اور نصیحت کرنے والا تھا۔ وہ بعض ممالک کے دورہ پر گیا جب وہ واپس آیا تو مقتولین بدر کے پاس سے گزرا۔ اس نے ان کے متعلق پوچھا اس کو بتایا گیا کہ ان کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قتل کیا ہے تو وہ کہنے لگا کہ اگر وہ نبی ہوتے تو اپنے رشتے داروں کو قتل نہ کرتے، آخر کار وہ کفر پر ہی مرگیا۔ (تفسیر ابن ابی حاتم، ج 5، ص 1616، معالم التنزیل ج 2، ص 179 ۔ 180، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1414 ھ)

امام فخر الدین رازی متوفی 606 ھ نے ان روایات کے علاوہ یہ بھی ذکر کیا ہے کہ یہ آیت ابوعامر راھب کے متعلق نازل ہوئی ہے جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاسق فرمایا تھا۔ یہ زمانہ جاہلیت میں راہب تھا۔ جب اسلام آیا تو یہ شام چلا گیا اور اس نے منافقین کو مسجد ضرار بنانے کا حکم دیا اور یہ قیصر کے پاس گیا اور اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف لڑنے پر ابھارا، اور یہ وہیں پر مرگیا۔ یہ سعید بن مسیب کو قول ہے اور حسن اور اصم نے کہا کہ یہ آیت اہل کتاب کے ان منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہپچانتے تھے، اور قتادہ، عکرمہ اور ابومسلم کا قول یہ ہے کہ یہ ان تمام لوگوں کے متعلق عام ہے جن کو ہدایت دی گئی اور انہوں نے ہدایت سے اعراض کیا پھر ان سے ہدایت چھین لی گئی۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 403، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

بدعمل اور رشوت خور عالم کی مذمت 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس کو ہم نے اپنی آیتوں کا علم دیا تو وہ ان کی اطاعت سے نکل گیا۔ اس کے دو معنی ہیں ایک معنی یہ ہے کہ ہم نے اس کو دلائل توحید کی تعلیم دی اور وہ ان کا عالم ہوگیا پھر وہ للہ کی اطاعت سے اس کی معصیت کی طرف اور اس کی محبت سے اس کی ناراضگی کی طرف نکل گیا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم نے اس پر توحید کی ہدایت پیش کی لیکن اس نے ہدایت کو قبول نہیں کیا اور کفر پر برقرار رہا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا پس شیطان نے اس کا پیچھا کیا سو وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ جس شخص کو ہدایت دی گئی اور اس نے ہدایت سے اعراض کرکے خواہش نفس اور گمراہی کو اختیار کرلیا اور دنیا کی دلچسپیوں کی طرف راغب ہوا حتی کہ وہ شیطان کا ہم نوا ہوگیا تو اس کا انجام آخرت کی ناکامی اور نامرادی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ اس لیے بیان فرمایا ہے تاکہ لوگ اس کے حال سے عبرت پکڑیں۔ 

پھر فرمایا اور اگر ہم چاہتے تو اس کو بلندی عطا کرتے مگر وہ پستی کی طرف جھکا اور اپنی خواہش نفس کی پیروی کی۔

اس کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو اس کے اور اس کے کفر کے درمیان اپنی حفاظت کو حائل کردیتے بایں طور کہ اس کو قہرا اور جبراً ہدایت پر قائم کردیتے لیکن ایسا کرنا اس کو مکلف کرنے کے کے منافی تھا اس لیے ہم نے اس کو اس کے اختیار پر قائم رکھا۔ اور اس نے اپنے اختیار سے ہدایت کی بلندی کے بجائے گمراہی کی پستی کو اختیار کرلیا اور اس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی۔ 

اس کی نظیر یہ آیتیں ہیں ” فلو شاء لہدکم اجمعین : سو اگر اللہ چاہتا تو ضرور تم سب کو ہدایت عطا فرماتا ” (الانعام :149) ۔ ” لو یشاء اللہ لہدی الناس جمیعا : اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت یافتہ بنا دیتا ” (الرعد :31) ۔ 

ان آیات میں علماء کے لیے بہت سخت حکم ہے، کیونکہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنی آیات بینات کا علم عطا فرمایا اور اس کو اپنے اسم اعظم کی تعلیم دی اور اس کو مستجاب الدعوات بنایا یعنی اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ لیکن جب اس نے اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کی تو وہ دین سے نکل گیا اور کتے کی مانند ہوگیا اور اس میں یہ دلیل ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنی بہت زیادہ نعمتیں عطا فرماتا ہے تو اس پر گرفت بھی بہت سخت ہوتی ہے سو اگر وہ شخص ہدایت سے اعراض کرے اور خواہش نفس کی پیروی کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے الطاف و عنایات سے بہت زیادہ دور ہوجاتا ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کا علم زیادہ ہو اور اس کی دنیا میں بےرغبتی زیادہ نہ ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ ہی دور ہوگیا (الفردوس بما ثور الخطاب ج 3، رقم الحدیث : 5887 ۔ الجامع الصغیر، ج 2، رقم الحدیث : 8397، کنز العمال ج 10 رقم الحدیث : 29016)

اسی وجہ سے علماء نے کہا ہے کہ جو علم اللہ کی اطاعت کے ماسوا کا ہو وہ گناہوں کا مادہ ہے۔ علم کی اصل عبادت کی طرف رگبت ہے اور اس کا ثمرہ سعادت ہے۔ اور زہد کی اصل خوف خدا ہے اور اس کا ثمرہ عبادت ہے۔ پس جب زہد اور علم مل جائیں تو سعادت مکمل ہوجاتی ہے۔ حجت الاسلام نے کہا طلب علم میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں، ایک وہ شخص ہے جو علم کو آخرت کے زاد راہ کے لیے طلب کرتا ہے، وہ علم سے صرف اللہ کی رضا کا ارادہ کرتا ہے یہ کامیاب لوگوں میں سے ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جو علم کو دنیا کے مال و متاع کے لیے طلب کرتا ہے اگر توبہ سے پہلے اس کو موت آگئی تو اس کے برے خاتمہ کا اندیشہ ہے، اور اگر اس کو توبہ کی مہلت مل گئی تو یہ کامیاب لوگوں میں سے ہے۔ تیسرا وہ شخص ہے جس پر شیطان غالب ہوتا ہے اور وہ اپنے علم کو مال کی کثرت کا ذریعہ بناتا ہے اور اپنے پیروکاروں کی کثرت کی بنا پر تکبر کرتا ہے اور خواہش نفس کی پیروی کرنے کے باوجود اپنے آپ کو نیکوں میں سے شمار کرتا ہے، سو یہ شخص ہلاک ہونے والوں میں سے ہے۔ 

مسند الفردوس کی یہ حدیث ضعیف ہے اس کی سند میں موسیٰ بن ابراہیم ہے۔ امام دار قطنی نے اس کو متروک قرار دیا ہے۔ امام ابن حبان نے روضۃ العقلاء میں اس کو موقوف قرار دیا ہے، یہ حضرت علی کا قول ہے۔ امام ازدی نے کتاب الضعفاء میں حضرت علی سے روایت کیا ہے جس شخص کا علم اللہ کے متعلق زیادہ ہو پھر اس کے دل میں دنیا میں محبت زیادہ ہو تو اس پر اللہ کا غضب زیادہ ہوتا ہے۔ (فیض القدیر ج 11، ص 5628، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ المکرمہ، 1418 ھ)

بدعمل اور رشوت خور عالم کی کتے کے ساتھ مماثلت کا بیان 

نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی وہ ہانپ کر زبان نکالے یا چھوڑ دو پھر بھی وہ ہانپ کر زبان نکالے۔

قرآن مجید میں یلھث کا لفظ ہے اور جب کتا شدید تھکاوٹ کی وجہ سے یا شدید گرمی اور پیاس کی وجہ سے زبان باہر نکالے تو اس کو عربی میں لہث کہتے ہیں۔

جو عالم دین دنیا کے مال و متاع کی وجہ سے دین کے احکام کو پس پشت ڈال دے اس آیت میں اس کی مثال ہانپنے والے کتے سے دی گئی ہے۔ کتاب بہ ذات خود ذلیل جانور ہے اور ذلیل تر وہ کتاب ہے جو ہر وقت ہانپتا رہتا ہو اور زبان باہر نکالے رہتا ہو خواہ تھکاوٹ ہو یا نہ ہو یا شدید گرمی اور پیاس ہو یا نہ ہو، گویا کہ ہانپنا اور زبان باہر نکالنا اس کی طبیعت ثانیہ اور عادت اصلیہ بن گئی ہو۔ اسی طرح جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے علم دین کی عزت اور کرامت سے نوازا ہو اور اس کو لوگوں کے مال کے میل کچیل لینے سے مستغنی کردیا ہو، پھر وہ دین کے واضح احکام سے اعراض کرکے دنیا کی طرف جھکے اور اس خبیث عمل اور قبیح فعل پر برقرار رہے اور اس کو پسند کرے تو وہ اپنی طبعی دناءت اور خست کی وجہ سے یہ مذموم کام کر رہا ہے اس کو اس کی کوئی حاجت اور ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ ہر وقت ہانپنے والا کتا کسی ضرورت اور حاجت کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی فطرت ثانیہ کی وجہ سے ہر وقت ہانپتا رہتا ہے اور خوصیت کے ساتھ کتے کے ساتھ اس لیے مثال دی گئی ہے کہ حدیث میں دنیا کو مردار اور اس کے طلب گاروں کو کتا قرار دیا گیا ہے۔ 

امام ابو شجاع شیرویہ بن شہرداد بن شیرویہ الدیلمی المتوفی 509 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت علی بن ابی (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے حضرت داود (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ دنیا کی مثال ایسے مردار کی طرح ہے جس پر کتے جمع ہوگئے ہوں اور اس کو گھسیٹ رہے ہوں تو کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تم ان کی مثل کتے ہو اور ان کے ساتھ (اس مردار کو) گھسیٹو (الفردوس بماثور الخطاب ج 1، رقم الحدیث : 502، الدر المتنثرہ رقم الحدیث : 242، ص 169 ۔ جمع الجوامع رقم الحدیث : 8701، کنزالعمال رقم الحدیث : 6215)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم اس کتے پر حملہ کرو پھر بھی زبان نکالے گا اور اگر اس پر حملہ نہ کرو پھر بھی زبان نکالے گا اس کا معنی یہ ہے کہ زبان نکال کر ہانپنا اس کی فطرت ثانیہ اور عادت اصلیہ بن چکی ہے۔ اسی طرح جو شخص گمراہ ہو اور مال پر حریص ہو اس کو تم نصیحت کرو پھر بھی گمراہی پر برقرار رہے گا اور مال کی حرص کرے گا اور اگر اس کو نصیحت کرنا چھوڑ دو پھر بھی وہ گمراہی پر برقرار رہے گا اور مال کی حرص کرے گا۔ 

ہانپنے والے کتے کی مثال کا تمام گمراہوں اور کافروں کو شامل ہونا 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ یہ مثال ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ پہلے اہل مکہ یہ تمنا کرتے تھے کہ کوئی ہدایت دینے والا ہادی آئے جو ان کو اللہ کی اطاعت کی طرف ہدایت دے، پھر جب ان کے پاس ایک ایسا شخص کریم آیا جس کی امانت اور دیانت میں ان کو کوئی شک نہیں تھا تو انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اللہ کی اطاعت نہ کی۔ سو جب انہیں اللہ کے دین اور اس کی عبادت کی دعوت نہیں دی گئی تھی جب بھی وہ اللہ کی توحید اور اس کی عبادت سے اعراض کرتے تھے اور جب انہیں یہ دعوت دی گئی تب بھی وہ اللہ کی توحید اور اس کی عبادت سے اعراض کرتے تھے تو ان پر یہ مثال منطبق ہوگئی کہ وہ اس ہانپنے والے کتے کی طرح ہیں کہ تم اس پر حملہ کرو تو پھر بھی وہ ہانپتا ہے اور حملہ نہ کرو تو وہ پھر بھی ہانپتا ہے۔ 

آیات مذکورہ سے مستنطب شدہ احکام شرعیہ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیسی بری مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیتوں کو جھٹالتے تھے اور وہ اپنے ہی نفسوں پر ظلم کرتے تھے 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے وہ کتے کی مثل ہے اور یہ کیسی بری مثال ہے، کتے کی فطرت یہ ہے کہ وہ اجنبی شخص پر بھونکنے لگتا ہے اور اگر وہی شخص اسے کوئی روٹی کا ٹکڑا یا ہڈی ڈال دے تو وہ اس کے آگے دم ہلانے لگتا ہے، اس طرح جو بےضمیر اور رشوت خور علماء اور حکام ہیں وہ لوگوں کو سخت سزاؤں اور جرمانوں سے ڈراتے ہیں اور جب ان کو رشوت کی ہڈی پیش کردی جائے تو وہ ان کے موافق ہوجاتے ہیں۔ ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ ایک شخص کو اللہ کی آیات کا علم دیا گیا لیکن جب اس نے رشوت لے کر غلط کما کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے وہ علم چھین لیا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ کسی بےقصور کو نقصان پہنچانے کے لیے یا ناجائز فوائد حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا حرام ہے، ہاں اپنا حق لینے کے لیے یا اپنے آپ کو نقصان سے بچانے کے لیے اگر رشوت دینا ناگزیر ہو تو رشوت دینا جائز ہے البتہ رشوت لینا ہر صورت میں ناجائز ہے۔ سورة مائدہ میں ہم اس کی تفصیل بیان کرچکے ہیں، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بغیر دلیل کے کسی عالمل کی تقلید نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دلائل کا علم دیا جو اس سے چھین لیا گیا، اور خاص طور پر علماء کو اس آیت سے ڈرنا چاہیے کیونکہ ایک عالم کی غلط کاری کی وجہ سے اس کا علم چھین لیا گیا۔ اس لیے علماء کو غلط کاموں کے ارتکاب سے خصوصا رشوت لے کر غلط کام کرنے سے بچنا چاہیے مبادا ان کا انجام بھی بلعم بن باعوراء کی طرح ہو۔ حکومت بعض علماء کو مختلف مناصب، مراعات اور وظائف دے کر ان سے اپنے حق میں فتوے لیتی ہے اور اپنے موافق بیان دلواتی ہے اگر یہ فتوے اور بیان قرآن اور سنت کی نصوص صریحہ کے خلاف اور ان سے متصادم ہوں تو پھر یہ لوگ اپنے دور کے بلعم بن باعوراء ہیں اور انہیں اس کے انجام سے عبرت پکڑنی چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 175