أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا‌ ۖ وَذَرُوا الَّذِيۡنَ يُلۡحِدُوۡنَ فِىۡۤ اَسۡمَآئِهٖ‌ ؕ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں تو ان ہی ناموں سے اس کو پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں غلط راہ اختیار کرتے ہیں، جو کچھ وہ کرتے ہیں عنقریب ان کو اس کی سزا دی جائے گی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں تو ان ہی ناموں سے اس کو پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں غلط راہ اختیار کرتے ہیں، جو کچھ وہ کرتے ہیں عنقریب ان کو اس کی سزا دی جائے گی “

آیات سابقہ سے ارتباط 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تاھ کہ بہت سے جنات اور انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ کے لیے پیدا کیا اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ اللہ کی یاد سے افل ہیں، اور اس آیت میں فرمایا اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں تو ان ہی ناموں سے اس کو پکارو، اس میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے کہ غفلت اور عذاب جہنم سے نجات کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کا ذکر کرو اور اس کو یاد کرو، اور اصحاب ذوق اور ارباب مشاہدہ کا وجدان یہ ہے کہ دل جب اللہ کی یاد سے غافل ہو اور دنیا اور اس کی دلچسپیوں اور رنگینیوں کی طرف متوجہ اور راغب ہو تو وہ حرص کی آگ اور زمہریر کے بعد اور حجاب میں واقع ہوجاتا ہے اور جب دل میں اللہ کی یاد اور اس کی معرفت ہوتی ہے تو وہ آفتوں اور مصیبتوں کی آگ اور ناکامی اور نامرادی پر حسرتوں کے عذاب سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ کا معنی 

اللہ تعالیٰ کے لیے اسماء حسنی ہیں۔ کیونکہ یہ اسماء احسن معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد الفاظ ہیں کیونکہ یہ الفاظ اللہ عز وجل پر دلالت کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کو یاد کرلیا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ ھواللہ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم الملک القدوس (الحدیث) (صحیح البخاری رقم الحدیث : 7392 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 3518) اور ایک قول یہ ہے کہ ان اسماء سے مراد صفات ہیں۔ گویا کہ یوں کہا گیا ہے کہ اللہ کے اوصاف حسنیٰ ہیں۔ مثلاً اللہ علم قدیم کے ساتھ عالم ہے اور ہر چیز پر قادر ہے اور ہر چیز کا خالق ہے اور جس چیز کا ارادہ کرے وہ ہوجاتی ہے وغیرہ۔ کیونکہ اسم کا اطلاق صفت پر بھی ہوتا ہے۔

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنہ ہیں اور انسان اللہ تعالیٰ کو صرف ان ہی اسماء حسنہ کے ساتھ پکارے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفیہ ہیں نہ کہ اصطلاحیہ، لہذا اللہ تعالیٰ کو یا جواد کہنا جائز ہے اور یا سخی کہنا جائز نہیں ہے، اور اس کو یا عالم کہنا جائز ہے اور یا فقیہ کہنا جائز نہیں ہے۔ اور یا عاقل کہنا بھی جائز نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ہے یخادعون اللہ وھو خادعہم (النساء :142) اور ومکروا ومکر اللہ (آل عمران :54) لیکن دعا میں یا مخادع اور یا مکار کہنا جائز نہیں ہے کیونکہ افعال کے اطلاق سے مشتق کا اطلاق لازم نہیں آتا، اور یہ کہنا جائز ہے کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز کا رب ہے لیکن یہ کہنا جائز نہیں ہے یا خالق الخنزیر، یا خالق الخبائث۔

مقاتل (رح) نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نماز میں اللہ اور رحمن سے دعا کی تو ایک مشرک نے کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اصحاب یہ کہتے ہیں کہ ہم رب واحد کی پرستش کرتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ دو خداؤں کو پکارتے ہیں (یعنی اللہ اور رحمن کو) تب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ کو پکارو یا رحمٰن کو، ان اسماء میں سے جس نام کے ساتھ بھی پکارو اس کے اسماء حسنہ ہیں (حاشیہ محی الدین شیخ زادہ علی البیضاوی ج 2، ص 286، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کی بحث میں ہم پہلے یہ بیان کریں گے کہ اسم مسمی کا عین ہے یا غیر۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اسماء کا توقیفی ہونا بیان کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء کا بیان کریں گے اور آخر میں اسم اعظم کے متعلق بیان کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق۔

اسم مسمی کا عین ہے یا غیر 

علامہ وشتانی ابی مالکی لکھتے ہیں : 

اشاعرہ کہتے ہیں کہ اسم مسمی کا غیر ہے اور معتزلہ کہتے ہیں کہ اسم مسمی کا عین ہے، اس کی تحقیقی یہ ہے کہ اسم کا اطلاق کبھی کلمہ پر ہوتا ہے اور کبھی اسم کا اطلاق ذات اور مسمی پر ہوتا ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ حقیقی اطلاق کون سا ہے، اشاعرہ نے کہا کہ اسم کا اطلاق کلمہ پر حقیقت ہے اور مسمی پر مجاز ہے اور معتزلہ کا قول اس کے برعکس ہے اور استاذ ابومنصور نے کہا کہ اسم دونوں میں مشترک ہے۔ 

اشاعرہ کے دلائل میں سے یہ ہے کہ جب کسی معین شخص کا نام پوچھا جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس شخص کا اسم کیا ہے ؟ پھر جواب میں وہ کلمہ ذکر کیا جاتا ہے۔ جس سے وہ شخص دوسروں سے ممتاز ہوجاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اسم کی حقیقت وہ کلمہ ہے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ تمام امت کا اس پر اجماع ہے اور اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء ہیں سو اگر اسم مسمی کا عین ہو تو متعدد خداؤں کا ہونا لازم آئے گا۔

معتزلہ کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سبح اسم ربک الاعلی (الاعلی :1) ” اپنے رب اعلی کے نام کی تسبیح کیجیے ” اور تسبیح اللہ کی ذات کی ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسم اس کی ذات کا عین ہے۔ بہرحال اس مسئلہ میں ہر فریق کے دلائل اور ان کے جوابات موجود ہیں۔ (اکمال اکمال المعلم ج 9، ص 73 ۔ 74، بیروت)

اللہ تعالیٰ کے اسماء کے توقیفی ہونے کی تحقیق 

علامہ وشتانی ابی مالکی لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر اسی اسم کا اطلاق جائز ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر اطللاق کیا ہو یا اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس اسم کا اطلاق کیا ہو یا اس اسم کے اطلاق پر اجماع منعقد ہوچکا ہو۔ (مثلاً اللہ تعالیٰ پر خدا کا اطلاق کرنا) اور جس اسم کے اطلاق پر اذن شرعی ہو نہ ممانعت ہو اس میں اختلاف ہے۔ اس میں ایک قول توقف کا ہے اور ایک قول ممانعت کا ہے۔ علامہ ابن رشد نے اس قول کو امام اشعری اور امام مالک کی طرف منسوب کیا ہے۔ مقترح نے اس قول کو رد کردیا ہے کیونکہ ممانعت حکم شرعی ہے اور بغیر دلیل سمعی کے ممانعت شرعی کا حکم صحیح نہیں ہے۔ مقترح نے کہا اگر اس لفظ سے کسی محال معنی کا وہم ہو تو پھر اس اسم کا اطلاق ناجائز ہے اور اگر کسی محال معنی کا وہم ہو تو پھر اس اسم کا اطلاق ناجائز ہے اور اگر کسی محال معنی کا وہم نہ ہو تو پھر اس قسم کا اطلاق جائز ہے۔ علامہ باقلانی نے کہا ہر وہ صفت جو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہو اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر جائز ہے بشرطیکہ اس کی ممانعت پر اجماع نہ ہو۔ اس لیے سید اور حنان کا اطلاق جائز ہے اور عاقل اور فقیہ کا اطلاق ناجائز ہے۔ البتہ امام مالک نے سید اور حنان کے اطلاق سے منع کیا ہے۔ علامہ باقلانی نے کہا اللہ تعالیٰ نے جن افعال کے ساتھ خود کو موصوف کیا ہے ان کے اسماء کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر لازم نہیں ہے کیونکہ جن چیزوں کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے لیے محال ہے اور وہ قرآن میں مذکور ہیں تو ان کا جتنا اطلاق قرآن مجید میں آگیا ہے بس اتنا اطلاق جائز ہے اس سے زیادہ جائز نہیں ہے۔ مثلا اللہ یستہزئ بہم۔ اس کی وجہ مستہزی کا اور سخر اللہ منہم، اس کی وجہ سے ساخر کا اطلاق جائز نہیں ہے اور متکلمین اللہ تعالیٰ پر صانع، واجب الوجود اور موثر کا اطلاق بھی جائز قرار دیتے ہیں۔ (اکمال اکمال المعلم ج 9، ص 76 ۔ 77، مطبوعہ بیروت)

حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی لکھتے ہیں : اسماء حسنی میں اختلاف ہے، آیا یہ توقیفی ہیں یا نہیں۔ توقیفی کا مطلب یہ ہے کہ کتاب اور سنت کی نص کے علاوہ کسی اسم کا اللہ تعالیٰ پر اطلاق جائز نہ ہو۔ امام فخر الدین رازی نے یہ کہا کہ ہمارے اصحاب کا مشہور قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں اور معتزلہ اور کر امیہ کا قول یہ ہے کہ جب کسی لفظ کی اللہ پر دلالت عقلاً صحیح ہو تو اس کا اطلاق جائز ہے۔ قاضی ابوبکر اور امام غزالی نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں اور صفات توقیفی نہیں ہیں۔ (اس کے برخلاف جمہور علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اسماء غیر توقیفی ہیں اور صفات توقیفی ہیں۔ سعیدی غفرلہ) امام غزالی کی دلیل یہ ہے کہ ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ نام رکھیں جو آپ کے والد نے رکھا نہ آپ نے خود رکھا۔ اسی طرح مخلوق میں سے کسی بھی بزرگ شخص کا نام ہم از خود نہیں رکھ سکتے اور جب مخلوق کا نام ازخود رکھنا ممنوع ہے تو خالق کا نام از خود رکھنا بہ طریق اولی منع ہونا چاہیے۔ اس پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کسی ایسے اسم یا صفت کا اطلاق جائز نہیں ہے جس سے نقص کا وہم ہو خواہ نص میں اس لفظ کا اطلاق ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ کو ماہد، زارع اور فالق کہنا جائز نہیں ہے اگرچہ نص قرآن میں یہ الفاظ موجود ہیں۔ فنعم الماہدون (الذاریات :48) ۔ ام نحن الزارعون (الواقعہ :64) ۔ فالق الحب والنوی (الانعام :95)

امام ابو القاسم قشیری نے کہا کہ کتاب، سنت اور اجماع سے جن اسماء کا ثبوت ہو ان اسماء کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر جائز ہے اور جس اسم کا ان میں ثبوت نہ ہو تو اس کا اطلاق جائز نہیں ہے خواہ اس کا معنی صحیح ہو، اور ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ لفظ جس کے اطلاق کی شریعت میں ثبوت ہو عام ازیں کہ وہ مشتق ہو یا غیر مشتق ہو وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے۔ اور ہر وہ لفظ جس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف صحیح ہے، عام ازیں کہ اس میں تاویل ہو یا نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور اس پر اسم کا اطلاق بھی ہوتا ہے۔

امام رازی نے کہا کہ وہ الفاظ جو اللہ تعالیٰ کی صفات پر دلالت کرتے ہیں ان کی تین قسمیں ہیں : پہلی قسم کی تفصیل یہ ہے : 

1 ۔ جن صفات کا اللہ تعالیٰ کے لیے ثبوت قطعی ہے ان کا اطلاق مفرد اور مضاف دونوں اعتبار سے صحیح ہے جیسے قادر، قاہر، یا فلاں پر قادر فلاں پر قاہر۔

2 ۔ جن صفات کا بہ طور مفرد اطلاق صحیح ہے اور بطور مضاف خاص شرائط کے ساتھ صحیح ہے۔ مثلاً خالق یا ہر چیز کا خالق کہنا صحی ہے لیکن بندر اور خنزیر کا خالق کہنا صحیح نہیں ہے۔

3 ۔ جن صفات کا بطور مضاف اطلاق صحیح ہے اور بہ طور مفرد صحیح نہیں ہے مثلاً منشی کہنا صحیح نہیں ہے اور منشی الخلق کہنا صحیح ہے۔

دوسری قسم وہ ہے کہ اگر شریعت میں اس کا سماع ثابت ہو تو اس اطلاق کیا جائے گا ورنہ نہیں، اور تیسرے قسم وہ ہے کہ شریعت میں اس کا بہ حیثیت افعال سماع ہے تو انہی کا اطلاق کیا جائے گا اور ان پر قیاس کرکے ان مشتقات کا اطلاق نہیں کیا جائے گا جیسے مکر اللہ اور یستہزئ بہم سو اللہ تعالیٰ پر ماکر اور مستہزئ کا اطلاق نہیں کیا جائے گا۔ (فتح الباری ج 11، ص 223 ۔ 224، مطبوعہ لاہور)

علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں : خلاصہ بحث یہ ہے کہ علماء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ جن اسماء اور صفات کے اطلاق کا اذن شرعی ثابت ہے ان کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر اطلاق جائز ہے اور جن کی ممانعت ثابت ہے ان کا اطلاق منع ہے، اور جن اسماء کا شریعت میں اذن ہو نہ ممانعت ہو ان کے اطلاق میں اختلاف ہے بہ شرطی کہ وہ ان اسماء میں سے نہ ہوں جو باقی لغات میں اللہ تعالیٰ کے لیے علم (نام) ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اسماء اعلام کا اطلاق کسی کے نزدیک محل نزاع نہیں ہے۔ نیز ان اسماء کا اطلاق نقص کا موہم نہ ہو بلکہ مدح کا مظہر ہو، سو ایسے اسماء کے اطلاق کو اہل حق نے منع کیا ہے اور جمہور معتزلہ نے جائز کہا ہے۔ قاضی ابوبکر کا اسی طرف میلان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر خدا اور تنکری کا اطلق جائز ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے لہذا اس پر اجماع ہوگیا۔ لیکن یہ استدلال مردود ہے کیونکہ اگر اجماعت ثابت ہو تو وہ ذن شرعی کے ثبوت کے لیے کافی ہے اور بحث ان اسماء کے اطلاق میں ہے جن کے لیے اذن شرعی نہ ہو۔ (روح المعانی ج 9، ص 121، مطبوعہ بیروت)

علامہ تفتا زانی لکھتے ہیں : اگر یہ اعتراض ہو تو اللہ تعالیٰ پر موجود، واجب اور قدیم وغیرہا کا اطلاق کیسے صحیح ہوگا کیونکہ ان کا شریعت میں ثبوت نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا اطلاق اجماع سے ثابت ہے اور جماع بھی دلائل شرعیہ میں سے ہے (شرح العقائد ص 31، مطبوعہ کراچی)

علامہ میر سید شریف لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں یعنی ان کا اللہ تعالیٰ پر اطلاق اذن شرعی پر موقوف ہے اور یہ بحث ان اسماء میں نہیں ہے جو لغات میں اللہ تعالیٰ کے لیے بہ طور علم (نام) وضع کیے گئے ہیں بلکہ بحث ان اسماء میں ہے جو صفات اور افعال سے ماخوذ ہیں۔ سو ان اسماء میں معتزلہ اور کر امیہ کا مذہب یہ ہے کہ جب عقل کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا کسی صفت سے متصف ہونا صحیح ہو تو اس کا اطلاق جائز ہے خواہ اس کا شرع میں ثبوت ہو یا نہ ہو۔ اور ہمارے اصحاب میں سے قاضی ابوبکر نے یہ کہا کہ جب کوئی لفظ ایسے معنی پر دلالت کرے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہو اور اس میں نقص کا وہم نہ ہو تو اس کا اطلاق جائز ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ پر عارف کا اطلاق جائز نہیں، کیونکہ لفظ معرفت سے غفلت کے بعد علم کا ارادہ بھی کیا جاتا ہے، اسی طرح فقیہ کا اطلاق بھی جائز نہیں کیونکہ فقیہ اس شخص کو کہتے ہیں جو متکلم کی غرض کو سمجھ لگے۔ اسی طرح عاقل کا اطلاق بھی جائز نہیں کیونکہ عاقل اس شخص کو کہتے ہیں جو غط کام کرنے سے رکے، اور شیخ اور ان کے متبعین نے یہ کہا ہے کہ توقیف ضروری ہے اور یہی مختار ہے۔ (شرح المواقف ص 685، مطبوعہ ہند)

واضح رہے کہ علامہ میر سید شریف نے شیخ کے جس قول میں توقیف کو مختار کہا ہے اس کا تعلق ان اسماء سے ہے جو صفات اور افعال سے ماخوذ ہوں کیونکہ نزاع اور بحث انہی میں ہے۔ رہے وہ اسماء جو لغات میں اللہ تعالیٰ کے لیے اعلام ہیں تو ان کے متعلق علامہ میر سید شریف نے تصریح کردی ہے کہ وہ محل نزاع سے خارج ہیں اور ان کے اطلاق کے جواز پر سب کا اتفاق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ پر خدا کا اطلاق اجماع اور اتفاق سے ثابت ہے اور اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء کی تفصیل 

اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کو یاد کرلیا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ اس اسماء کی تفصیل جامع ترمذی میں ہے۔ 

امام ترمذی اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، جس نے ان کو گن لیا وہ جنت میں داخل ہوجائے۔ گا۔ ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم الملک القدوس السلام المومن المہیمن العزیز الجبار المتکبر الخالق البارئ المصور الغفار القہار الوھاب الرزاق الفتاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المزل السمیع البصیر الحکم العدل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العلی الکبیر الحفیظ المقیت الحسیب الجلیل الکریم الرقیب المجیب الواسع الحکیم الودود المجید الباعث الشہید الحق الوکیل القوی المتین الولی الحمید المحصی المبدئ المعید المحی الممیت الحی القیوم الماجد الواجد الصمد القادر المقتدر المقدم المؤخر الاول الاخر الظاھر الباطن الوالی المتعالی البر التواب المنتقم العفو الرؤوف مالک الملک ذوالجلال والاکرام المقسط الجامع الغنی المغنی المانع الضار النافع النور الھادی البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3518)

علامہ نووی لکھتے ہیں :

علماء کا اتفاق ہے کہ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے اسماء کا حصر نہیں ہے اور اس حدیث کا مقصود یہ ہے کہ یہ وہ ننانوے نام ہیں جس نے ان ناموں کو گن لیا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ اسی وجہ سے ایک اور حدیث میں یہ ہے میں تجھ سے ہر اسم کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں جس اسم کے ساتھ تو نے اپنے آپ کو موسوم کیا ہے یا جس اسم کو تو نے اپنے علم غیب میں مخصوص کرلیا ہے، حافظ ابوبکر بن العربی مالکی نے بعض علماء سے یہ نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہزار نام ہیں۔ ابن العربی نے کہا یہ بہت کم ہیں۔ ان اسماء کی تعیین کا ذکر جامع ترمذی اور دیگر کتب حدیث میں ہے۔ بعض اسماء میں اختلاف ہے ایک قول یہ ہے کہ ان کا تعین اسم اعظم اور لیلۃ القدر کی طرح مخفی ہے۔ (شرح مسلم ج 2، ص 342، مطبوعہ کراچی)

علامہ قرطبی نے کہا کہ جس شخص نے صحت نیت کے ساتھ جس طرح بھی ان کلمات کو گن لیا، اللہ تعالیٰ کے کرم سے امید ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کردے گا۔ (فتح الباری ج 11، ص 225، مطبوعہ لاہور)

اسم اعظم کی تحقیق 

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

امام ابو جعفر طبری، امام ابو الحسن الاشعری، امام ابوحاتم بن حبان، قاضی ابوبکر باقلانی وغیرہ نے اسم اعظم کا انکار کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کے بعض اسماء کو بعض دوسرے اسماء پر فضیلت دینا جائز نہیں ہے، اور امام مالک نے اللہ تعالیٰ کے کسی اسم کو اعظم کہنا مکروہ قرار دیا ہے اور جن احادیث میں اعظم کا ذکر ہے اس سے مراد عطیم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء عظیم ہیں۔ امام ابو جعفر طبری نے کہا میرے نزدیک اس سلسلہ میں تمام اقوال صحیح ہیں۔ کیونکہ کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ فلاں اسم اعظم ہے اور کوئی اسم اس سے زیادہ اعظم نہیں ہے۔ امام ابن حبان نے کہا کسی اسم کے اعظم ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس اسم کے ساتھ دعا کرنے والے کو عظیم اجر ملے گا۔ امام جعفر صادق اور جنید وغیرہ نے یہ کہا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے جس اسم میں ڈوب کر دعا کرے وہی اسم اعظم ہے، اور بعض علماء نے یہ کہا کہ اسم اعظم کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اس نے مخلوق میں سے کسی شخص کو اس پر مطلع نہیں کیا۔ 

بعض علماء اسم اعظم کے ثبوت کے قائل ہیں اور اس کی تعیین میں ان کا اختلاف ہے اور اس مسئلہ میں کل چودہ قول ہیں :

1 ۔ امام فخر الدین رازی نے بعض اہل کشف سے نقل کیا کہ اسم اعظم ” ھو ” ہے۔

2 ۔ اسم اعظم ” اللہ ” ہے۔ کیونکہ یہی وہ اسم ہے جس کا اللہ کے غیر پر اطلاق نہیں ہوتا۔ 

3 ۔ اسم اعظم ” اللہ الرحمن الرحیم ” ہے۔ اس سلسلہ میں امام ابن ماجہ نے حضرت عائشہ سے ایک حدیث روایت کی ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔

4 ۔ اسم اعظم ” الرحمن الرحیم الحی القیوم ” ہے۔ کیونکہ امام ترمذی نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے والہکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم اور سورة آل عمران کی ابتداء اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ اس حدیث کو امام ابو داود اور امام ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے۔ 

5 ۔ الحی القیوم۔ کیونکہ امام ابن ماجہ نے حضرت ابوامامہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ اسم اعظم تین سورتوں میں ہے۔ بقرہ، آل عمران، اور طہ۔ حضرت ابوامامہ کہتے ہیں میں نے ان سورتوں میں اسم اعظم کو تلاش کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ” الحی القیوم ” ہے۔ امام فخر الدین رازی نے بھی اس کو ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور ربوبیت پر ان کی دلالت سب اسماء سے زیادہ ہے۔

6 ۔ ” الحنان المنان بدیع السموات والارض ذوالجلال والاکرام الحی القیوم ” امام احمد اور امام حاکم نے اس کو حضرت انس سے روایت کیا ہے۔ سنن ابو داود اور سنن نسائی میں اس کی اصل ہے اور امام ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔

7 ۔ ” بدیع السموات والارض ذوالجلال والاکرام، اس کو امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔ 

8 ۔ ” ذوالجلال والاکرام ” امام ترمذی نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے یا ذالجلال والاکرم کہا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی دعا قبول ہوگی۔

9 ۔ ” اللہ الا الہ ھو الاحد الصمد الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد “۔ امام ابو داود، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، امام ابن حبان اور امام حاکم نے اس کو حضرت بریدہ (رض) سے روایت کیا۔ اسم اعظم کی روایت کے سلسلہ میں اس روایت کی سند سب سے زیادہ قوی ہے۔ 

10 ۔ ” رَبِّ رَبِّ ” امام حاکم نے حضرت ابودرداء اور حضرت ابن عباس سے روایت کیا : اللہ کا اسم اکبر ” رب رب ” ہے اور امام ابن ابی الدنیا نے حضرت عائشہ (رض) سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ جب بندہ رب رب کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” لبیک میرے بندے ! تو سوال کر تجھے دیا جائے گا “۔

11 ۔ ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین ” امام مسلم اور امام نسائی نے حضرت فضالہ بن عبید (رض) سے مرفوعاً روایت کیا کہ جو مسلمان شخص ان کلمات کے ساتھ دعا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرمائے گا۔ 

12 ۔ ” ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو رب العرش العظیم ” امام رازی نے نقل کیا ہے کہ امام زین العابدین نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کو اسم اعظم کی تعلیم دے تو انہوں نے خوب میں یہ کلمات دیکھے۔ 

13 ۔ اسم اعظم اسماء حسنی میں مخفی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ سے فرمایا اسم اعظم ان اسماء میں ہے جن سے تم نے دعا کی ہے۔ 

14 ۔ اسم اعظم کلمۃ التوحید ہے۔ اس کو قاضی عیاض نے نقل کیا ہے۔ (فتح الباری ج 11، ص 224 ۔ 225، مطبوعہ لاہور)

الحاد کا معنی 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں الحاد (غلط راہ اختیار) کرتے ہیں جو کچھ وہ کرتے ہیں عنقریب ان کو اس کی سزا دی جائے گی۔ 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں : 

الحاد کے معنی ہیں حق سے تجاوز کرنا، اور الحاد کی دو قسمیں ہیں ایک اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے یہ ایمان کے منافی ہے۔ دوسری قسم ہے اسباب کو شریک بنانا یہ ایمان کو کمزور کرتا ہے اور ایمان کی گرہ کو نہیں کھولتا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں الحاد کرنے کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی صفت بیان کی جائے جس کے ساتھ اس کو موصوف کرنا جائز نہیں ہے۔ دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی ایسی تاویل کی جائے جو اس کی شان کے لائق نہیں ہے۔ (المفردات ج 2، ص 577، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

اللہ تعالیٰ کے اسماء میں الحاد کی تفصیل 

امام فخر الدین محمد بن عمر الرازی الشافعی المتوفی 606 ھ لکھتے ہیں : 

محققین نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں الحاد تین قسم پر ہے :

1 ۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء مقدسہ طاہرہ کا غیر اللہ پر اطلاق کیا جائے جیسا کہ کفار نے اپنے بتوں پر اللہ کے ناموں کا ان میں تصرف کر کے اطلاق کیا۔ مثلاً انہوں نے لفظ اللہ سے اللات بنایا اور العزیز سے عزی بنایا اور المنان سے المناۃ بنایا اور مسیلمہ کذاب نے خود اپنا نام الرحمن رکھا۔ 

2 ۔ اللہ کا ایسا نام رکھنا جو اس کے حق میں جائز نہیں ہے جیسا عیسائی اللہ تعالیٰ کو مسیح کا باپ کہتے ہیں اور کر امیہ اللہ تعالیٰ پر جسم کا اطلاق کرتے ہیں، اسی طرح معتزلہ اپنی بحث کے دوران کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا تو وہ جاہل ہوگا اور لائق مذمت ہوگا اور اس قسم کے الفاظ بےادبی کے مظہر ہیں۔ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ ہر وہ لفظ جس کا معنی صحیح ہو اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر کرنا لازم نہیں ہے، کیونکہ دلیل سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق الاجسام ہے لیکن اس کو کیڑوں مکوڑوں اور بندروں کا خالق کہنا جائز نہیں ہے، بلکہ اس قسم کے الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ واجب ہے۔ 

3 ۔ بندہ اپنے رب کا ایسے الفاظ کے ساتھ ذکر کرے جس کا معنی وہ نہیں جانتا، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی ایسے لفظ کا ذکر کرے جس کا معنی اللہ کی جناب کے لائق نہیں ہے۔ (تفسیر کبیر ج 5، س 416 ۔ 417، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہونے پر مذاہب اربعہ کے مفسرین کی تصریحات 

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی الشافعی المتوفی 606 ھ لکھتے ہیں : 

اگر کوئی شخص یہ پوچھے کہ اگر ایک لفظ کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر ثابت ہو تو کیا اس کے تمام مشتقات کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر جائز ہے ؟ تو ہم یہ کہیں گے کہ یہ نہ اللہ تعالیٰ کے حق میں جائز ہے نہ انبیاء (علیہم السلام) کے، اور نہ ملائکہ کے، کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیی کے لیے علم کا لفظ آیا ہے۔ علم ادم الاسماء کلہا (البقرہ :31) ۔ علمک مالم تکن تعلم (النساء :113) لیکن اللہ تعالیٰ کو یا معلم کہنا جائز نہیں ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے لیے یحب کا لفظ آیا ہے یحبہم ویحبونہ (المائدہ :54) لیکن اللہ تعالیٰ کو یا محب کہنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) کا معاملہ ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے حق میں وارد ہے وعصی ادم ربہ فغوی (طہ :121) لیکن یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ آدم عاصی و غاوی تھے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں ہے یا ابت استاجرہ (القصس :26) لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اجیر (اجرت پر کام کرنے والا) کہنا جائز نہیں ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ یہ الفاظ موہم ہیں اس لیے ان کا نحصار ان ہی نصوص میں واجب ہے اور ان سے مشتق الفاظ کے اطلاق میں توسع میرے نزدیک ممنوع اور ناجائز ہے۔ (تفسیر کبیر ج 5 ص 417، مطبوعہ دار احیاء لتراث العربی بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی المتوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

علامہ ابن العربی مالکی نے کہا ہے کہ صرف ان ہی اسماء کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے اور حدیث کی ان پانچ کتابوں میں ہے۔ صحیح البخاری صحیح مسلم سنن الترمذی سنن ابوداود۔ سنن النسائی۔ یہ وہ کتاب ہیں جن پر اسلام کے احکام کا مدار ہے اور ان کتابوں میں الموطا بھی داخل ہے جو تمام تصانیف حدیث کی اصل ہے اور ان کے علاوہ باقی اسماء کو چھوڑ دو ۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 7، ص 294، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں : زجاج نے کہا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کو اس نام کے علاوہ کسی اور نام سے پکارے جو اللہ تعالیٰ نے اپنا نام رکھا ہے، اس لیے یا جواب کہنا جائز ہے اور یا سخی کہنا جائز نہیں ہے اور یا رحیم کہنا جائز ہے اور یا رفیق کہنا جائز نہیں۔ علامہ ابو سلیمان خطابی نے کہا ہے کہ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ اللہ کا نام لینے میں غلطی کرنا زیغ اور الحاد ہے۔ (زاد المسیر ج 3، ص 293، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، 1407 ھ)

علامہ ابواللیث نصر بن محمد السمرقندی الحنفی المتوفئ 375 ھ نے بھی زجاج کا مذکور الصدر قول نقل کیا ہے۔ (تفسیر السمر قندی ج 1، ص 858، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1413 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 180