أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآ قُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ ۚ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ۞

ترجمہ:

اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

تفسیر:

13 ۔ 14:۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ یہ ہے (تمہاری سزا) سو اس کو چکھو اور بیشک کافروں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر ان نعمتوں کا ذکر فرمایا تھا جو براہ راست اور بلا واسطہ نعمتیں ہیں اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کی ہوئی ان نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو بالواسطہ نعمتیں ہیں، کیونکہ کسی جماعت کے مخالفین پر عذاب بھی اس جماعت کے حق میں نعمت ہوتا ہے۔

اس آیت میں فرمایا ہے : انہوں نے اللہ سے شقاق کیا۔ شقاق کا معنی ہے ایک شخص ایک شق (جانب) پر ہو اور دوسرا شخص دوسری شق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے لیے یہ متصور نہیں ہے کہ وہ کسی ایک شق پر ہو یا کسی ایک جانب ہو، اس لیے اس آتی کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اولیاء سے شقاق کیا کہ وہ ایک جانب دین اسلام پر تھے اور وہ دوسری جانب کفر پر تھے۔ 

پہہلی آیت میں فرمایا تھا جو اللہ اور اس کے رسول سے شقاق (تنازع) کرے تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے اور اس دوسری آیت میں اس عذاب کی صفت بیان کی ہے کہ وہ عذاب معجل (فوری) بھی ہے اور موجل (اخروی) بھی ہے۔ معجل عذاب کو ذالکم سے بیان فرمایا یعنی : یہ ہے (تمہاری سزا) یہ اشارہ دنیاوی سزا کی طرف ہے، اس میں ستر کافر مارے گائے تھے اور ستر کافروں کو قید کرلیا گیا تھا۔

اور فرمایا ہے چکھو، اس میں اس عذاب کو کھانے پینے کی اشیاء تشبیہ دی گئی ہے، یعنی جس طرح کھانے پینے کی چیزیں لذیذ اور نفس کو مرغوب ہوتی ہیں تو یہ عذاب بھی حکماً تمہارے لیے مرغوب ہے، کیونکہ تمہیں بارہا بتایا گیا کہ تم جو کفر اور شرک کر رہے ہو یہ عذاب کا باعث ہے اس کے باوجود تم کفر اور شرک سے چمٹے رہے سو تمہیں کفر اور شرک مرغوب تھا اور وہ عذاب کو مستلزم ہے تو عذاب بھی تمہیں حکماً مرغوب ہوگا، سو اب تم اپنی مرغوب چیز کو چکھو۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقتولین بدر سے خطاب فرمانا اور سماع موتی کی بحث 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتولین بدر کو تین دن تک پڑے رہنے دیا، پھر آپ ان کے پاس جا کر کھڑے ہوئے اور ان کو پکار کر فرمایا اے ابوجہل بن ہشام ! اے امیہ بن خلف، اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شیبہ بن ربیعہ ! کیا تم نے اپنے رب کے کیے ہوئے وعدہ کو سچا پا لیا، بیشک میرے رب نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا میں نے اس کو سچا پایا ہے، حضرت عمر رضٰ اللہ عنہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کو سن کر عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ کیسے سنیں گے اور کس طرح جواب دیں گے حالانکہ یہ مردہ اجسام ہیں، آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! میں جو کچھ ان سے کہہ رہا ہوں اس کو تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو، لیکن یہ جواب دینے پر قادر نہیں ہیں، پھر آپ کے حکم سے ان کی لاشوں کو گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ (صحیح مسلم صفۃ الجنۃ 77 (2874) 7090)

علامہ ابوالعباس احمد بن عمر القربطنی المالکی الموفی 656 ھ لکھتے ہیں :

چونکہ عادتاً مردوں سے کلام نہیں کیا جاتا تھا اس لیے حضرت عمر (رض) نے مردوں سے کلام کرنے کو مستبعد جانا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا یہ جواب دیا کہ وہ زندوں کی طرح آپ کے کلام کو سن رہے ہیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے سننے کی یہ صفت دائمی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی یہ صفت بعض اوقات میں ہو (المفہم ج 7، ص 151، مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت، 1417 ھ)

علامہ ابی مالکی متوفی 828 ھ نے قاضی عیاض مالکی سے اس حدیث کی یہ شرح نقل کی ہے : 

جس طرح عذاب قبر اور قبر کے سوال و جواب کی احادیث سے مردوں کا سننا ثابت ہے اس طرح ان کا سننا بھی ثابت ہے، اور یہ اس طرح ہوسکتا ہے ان کے جسم یا جسم کے کسی جز کی طرف روح کو لوٹا دیا جائے، علامہ ابی مالکی فرماتے ہیں جو شخص یہ دعوی کرے کہ بغیر روح کے لوٹائے ہوئے جسم سن لیتا ہے، اس کا یہ دعوی بداہت کے خلاف ہے۔ اور شاید جو لوگ سماع موتی کے منکر ہیں ان کی یہی مراد ہو کہ روح کو لوٹائے بغیر جسم نہیں سن سکتا اور جو اس کے قائل ہیں وہ اعادہ روح کے ساتھ سماع کے قائل ہیں اور اس صورت میں یہ اختلاف اٹھ جاتا ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ج 7، ص 322، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ)

علامہ محمد بن محمد بن یوسف السنوسی الحسینی المتوفی 895 ھ لکھتے ہیں : 

اگر علامہ ابی کی روح سے مراد حیات ہے تو پھر تو واضح ہے کہ بغیر حیات کے جسم کے سننے کا دعوی کرنا بداہت کے خلاف ہے اور اگر روح سے وہ متعارف معنی مراد ہے جس کا جسم میں حلول ہوتا ہے اور جس کے نکلنے سے جسم مردہ ہوجاتا ہے اور جسم میں اس کے حلول کی وجہ سے جسم عادتاً زندہ ہوتا ہے تو پھر یہ لازم نہیں ہے کہ اگر روح کو جسم میں نہ لوٹایا جائے، تو جسم نہ سن سکے، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جسم میں روح کو لوٹائے بغیر اس میں حیات پیدا کردے اور سماعت کا ادراک پیدا کردے۔ (اکمال اکمال المعلم ج 7، ص 322، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں :

علامہ مازری نے کہا اس حدیث سے بعض لوگوں نے سماع موتی (مردوں کے سننے پر) استدلال کیا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے کیونکہ اس حدیث سے عام حکم ثابت نہیں ہوتا یہ صرف مقتولین بدر کے ساتھ خاص ہے، قاضی عیاض مالکی نے ان کا رد کرتے ہوئے لکھا جن احادیث سے عذاب قبر اور قبر میں سوالات اور جوابات ثابت ہیں اور ان سے سماع موتی ثابت ہوتا ہے اور ان کی کوئی تاویل نہیں ہوسکتی، اسی طرح اس حدیث سے بھی سماع موتی ثابت ہے دونوں کا ایک محمل ہے، اور یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا ہو یا ان کے جسم کے کسی ایک عضو میں حیات پیدا کردی ہو اور جس وقت اللہ ان میں سماعت پیدا کرنا چاہے وہ سن لیتے ہوں، یہ قاضی عیاض کا کلام ہے اور یہی مختار ہے اور جن احادیث میں اصحاب قبور کو سلام کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا بھی یہی تقاضا ہے۔ (صحیح مسلم بشر النووی ج 11، ص 7091، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ موت عدم محض اور فناء صرف نہیں ہے بلکہ موت روح کے بدن سے منقطع ہونے اور اس کی بدن سے مفارقت کا نام ہے اور وہ ایک حال سے دوسرے حال میں اور ایک دار سے دوسرے دار میں میں منتقل ہونا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 7، ص 338، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابو عبداللہ قرطبی نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بندہ کو جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے اصحاب پیٹھ موڑ کر چلے جاتے ہیں تو مردہ ان کی جوتیوں کے چلنے کی آواز سنتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اس کے بعد قبر میں سوال و جواب کا ذکر ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1338، 1374 ۔ صحیح مسلم کتاب الجنۃ : 71 (2870) ۔ سنن النسائی، رقم الحدیث : 2048)

سماعی موتی سے حضرت عائشہ (رض) کے انکار کی توجیہ 

عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) کے سامنے ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : مردہ کے گھر والوں کے رونے سے مردہ کو عذاب ہوتا ہے، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح فرمایا تھا کہ مردہ کو اس کے گناہوں کی وجہ سے عذاب ہورہا ہے اور اس کے گھروالے اس پر رو رہے ہیں، اور یہ ایسا ہی کہ جب جنگ بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے اور اس میں مشرکین میں سے مقتولین بدر پڑے ہوئے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا جو فرمانا تھا، حضرت عمر نے روایت کیا یہ میرا کلام سن رہے ہیں اور وہ بھول گئے۔ آپ نے فرمایا تھا ان کو علم ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ برحق ہے۔ پھر حضرت عائشہ نے یہ آیت پڑھی : ” انک لاتسمع الموتی : بیشک آپ مردوں کو نہیں سناتے ” (النمل :80) ۔ ” وما انت بمسمع من فی القبور : اور آپ ان کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں میں ہیں ” (فاطر :22) ۔ (صحیح مسلم الجنائز 26 (932) 2121 ۔ سنن ابو داود رقم الحدیث : 3129 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 2076)

علامہ ابوالعباس احمد بن عمر القرطبی المالکی المتوفی 656 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) نے جن آیتوں سے استدلال کیا ہے ان سے مراد کفار ہیں گویا کہ وہ اپنی قبروں میں مردہ ہیں اور ان آیتوں میں سنانے سے مراد ان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کو سمجھنا اور آپ کے پیغام کو قبول کرنا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” ولو علم اللہ فیہم خیرا لا اسمعہم ولو اسمعہم لتولوا وھم معرضون : اور اگر (بالفرض) اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو انہیں (آپ کا پیغام) ضرور سنا دیتا اور اگر بالفرض) اللہ انہیں سنا بھی دیتا تب بھی وہ اعراض کرتے ہوئے ضرور پیٹھ پھیرتے ” (الانفال :23)

اور یہ اس طرح ہے جیسے ان کے حواس خمسہ سلامت ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرا، گونگا اور اندھا فرمایا، کیونکہ سننے، بولنے اور دیکھنے کی جو غرض وغایت اور اس کے تقاضے ہیں وہ ان کو پورا نہیں کرتے تھے، اور ان آیتوں کا معنی یہ ہے کہ آپ ان کو اپنا پیغام نہیں سناتے جو اس پیغام کو فہم و تدبر سے نہیں سنتے اور نہ اس پیغام کو قبول کرتے ہیں۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر ہم مان بھی لیں کہ ان آیتوں میں حقیقتاً مردے مراد ہیں تب بھی ان آیات کا ان احادیث سے کوئی تعارض نہیں ہے جن سے مردوں کا سننا ثابت ہے، کیونکہ اگر ان آیتوں سے بالعموم مردوں کے سننے کی نفی مراد ہو تب بھی عام میں تخصیص جائز ہے اور مخصص وہ احادیث ہیں جن سے مردوں کا سننا ثابت ہے اور ان سے یہ ثابت ہوگیا کہ کسی وقت اور کسی حال میں مردے سن لیتے ہیں۔ حضرت ابوطلحہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے میں نے جو کچھ ان (مقتولین بدر) سے کہا اس کو تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1374 ۔ صحیح مسلم رقم الحدیث : 932 ۔ المفہم ج 2، ص 586، مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت، 1417 ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر بن عسقلانی شافعی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) مردوں کے سننے کا انکار کرتی ہیں اور ان کے علم اور جاننے کا اعتراف اور اقرار کرتی ہیں، امام بیہقی نے فرمایا علم سماعت کے منافی نہیں ہے اور آیت کریمہ آپ مردوں کو نہیں سناتے (النمل :40) کا جواب یہ ہے کہ آپ مردوں کو بہ حیثیت مردہ نہیں سناتے لیکن اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کردیتا ہے اور وہ سن لیتے ہیں، جیسا کہ قتادہ نے بیان کیا ہے، اور مقتولین بدر کے سننے کی حدیث صرف حضرت عمر نے روایت نہیں کی اور نہ اس روایت میں حضرت ابن عمر منفرد ہیں بلکہ اس حدیث کو حضرت ابو طلحہ نے بھی روایت کیا ہے (صحیح البخاری رقم الحدیث : 3976 ۔ صحیح مسلم رقم الحدیث : 2875) اور اس کی مثل حدیث کو امام طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا یہ سنتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ اسی طرح سنتے ہیں جس طرح تم سنتے ہو لیکن وہ جواب دینے پر قادر نہیں ہیں۔ حافظ عسقلانی نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے کنویں والو ! کیا تم نے اس وعدہ کو سچا پا لیا جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا، کیونکہ میں نے اس وعدہ کو سچا پا لیا جو مجھ سے میرے رب نے کیا تھا۔ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا یہ سن رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ اسی طرح سن رہے ہیں جس طرح تم سن رہے ہو لیکن یہ آج جواب نہیں دے سکتے ! (المعجم الکبیر ج 10، رقم الحدیث : 10320 ۔ کتاب السنہ، رقم الحدیث : 884 ۔ نیز امام ابن اسحاق نے اس حدیث کو حضرت انس سے روایت کیا ہے۔ السیرۃ النبویہ، ج 2، ص 250)

اور نہایت عجیب بات یہ ہے کہ امام ابن اسحاق نے مغازی میں یونس بن بکیر کی سند جید کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) سے بھی حضرت ابوطلحہ کی حدیث کی مثل کو روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس کو تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو۔ (السیرۃ النبویہ ج 2، ص 250)

اس حدیث کو امام احمد نے بھی سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حافظ عسقلانی نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے : امام احمد عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے بیان فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا کہ مقتولین بدر کو کنویں میں پھینک دیا جائے۔ امیہ بن خلف کے علاوہ سب کو پھینک دیا گیا کیونکہ وہ اپنی زرہ میں پھول چکا تھا۔ جب ان کو کنویں میں ڈال دیا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا اے کنویں والو ! کیا تم نے اپنے رب کے اس وعدہ کو سچا پا لیا جو اس نے تم سے کیا تھا ؟ کیونکہ میں نے اس وعدہ کو سچا پا لیا جو مجھ سے میرے رب ن کیا تھا، آپ کے اصحاب نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ مردوں سے باتیں کر رہے ہیں ؟ آپ نے ان سے فرمایا انہوں نے جان لیا ہے کہ میں نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ برحق ہے، اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سن لیا۔ میں نے ان سے جو کہا تھا وہ برحق تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا انہوں نے جان لیا۔ (مسند احمد ج 18 رقم الحدیث : 4639، طبع قاہرہ۔ مسند احمد ج 6، ص 276، طبع قدیم، دار الفکر) حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے کہ حضرت عائشہ نے یہ روایت کیا ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تم اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو، ہم کو مسند احمد میں یہ الفاظ نہیں ملے۔ البتہ امام ابن اسحاق کی روایت میں یہ الفاظ ہیں، بہرحال حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : اگر امام احمد کی یہ روایت (یا امام ابن اسحاق کی یہ روایت) محفوظ ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت عائشہ نے اپنے سابق انکار سے رجوع فرما لیا، کیونکہ ان کے نزدیک دیگر صحابہ کی روایت سے یہ امر ثابت ہوگیا تھا جو اس موقع پر حاضر تھے اور حضرت عائشہ اس موقع پر حاضر نہیں تھیں۔ امام اسماعیلی نے یہ کہا ہے کہ ہرچند کہ حضرت عائشہ (رض) فہم اور ذکاوت اور کثرت روایت اور بحر علم میں غواص ہونے کے لحاط سے تمام صحابہ پر فائق ہیں لیکن ثقہ اور معتمد صحابہ کی روایت کو اسی وقت مسترد کیا جاسکتا ہے جبکہ اس کا مثل ثقہ روایت میں اس کے منسوخ یا مخصوص یا محال ہونے کی تصریح ہو۔ اور یہ کیوں کر ہوسکتا ہے جبکہ جس چیز کا حضرت عائشہ نے انکار کیا ہے اور جس چیز کو دوسرے صحابہ نے ثابت کیا ہے ان کو جمع کرنا ممکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے ” انک لاتسمع الموتی : آپ مردوں کو نہیں سناتے ” (انک لا تسمع الموتی) ۔ یہ اس کے منافی نہیں کہ وہ اس وقت سن رہے تھے۔ کیونکہ اسماع کا معنی ہے سنانے والے کی آواز کو سامع تک پہنچانا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہی ان کو سنایا تھا بایں طور کہ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز ان تک پہنچائی۔ رہا حضرت عائشہ کا یہ فرمانا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا وہ اب جان رہے ہیں یا ان کو اب علم ہورہا ہے، تو اگر حضرت عائشہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خود یہ الفاظ سنے تھے تو یہ دیگر صحابہ کی اس روایت کے منافی نہیں ہے کہ وہ اب سن رہے ہیں بلکہ اس کی موید ہے، علامہ سہیلی نے جو اس مقام پر بحث کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث خرق عادت (معجزہ) پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ صحابہ نے کہا کیا آپ مردوں سے کلام کر رہے ہیں تو آپ نے جواب دیا جو صحابہ کی روایت کے مطابق وہ اب سن رہے ہیں اور حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق ان کو اب علم ہورہا ہے، اور جب مردہ ہونے کی حالت میں ان کا عالم ہونا جائز ہے تو اس حال میں ان کا سامع ہونا بھی جائز ہے۔ اور یہ سماعت یا ان کے سر کے کانوں سے تھی یا ان کے دل کے کانوں سے تھی۔ اور دیگر صحابہ کی روایت کو حضرت عائشہ کی روایت پر اس لیے ترجیح ہے کہ وہ اس موقع پر حاضر تھے اور حضرت عائشہ اس موقع پر موجود نہ تھیں، حضرت عائشہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے ” ما انت بمسمع من فی القبور : آپ ان کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں میں ہیں ” (فاطر :22) ۔ اور یہ آیت اس آیت کی مثل ہے افانت تسمع الصم او تہدی العمی : تو کیا آپ بہروں کو سنائیں گے اور اندھوں کو ہدایت دیں گے (الزخرف :4) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیتا ہے اور وہی توفیق دیتا ہے اور وہی دلوں کے کانوں تک نصیحت پہنچاتا ہے نہ کہ آپ، اور مردوں اور بہروں کے ساتھ تشبیہ دینے کے لیے کفار کو مردہ اور بہرہ فرمایا، پس حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی سناتا ہے جب وہ چاہتا ہے اور حقیقت میں نہ اس کا نبی سنا سکتا ہے نہ کوئی اور، پس اس آیت سے حضرت عائشہ کے استدلال کا دو وجوہ سے کوئی تعلق نہ رہا۔ اول یہ کہ یہ آیت کفار کو اہل ایمان کی دعوت دینے کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے اور ثانی یہ کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے اس چیز کی نفی کی ہے کہ حقیقت میں وہ سنانے والے نہیں ہیں بلکہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی سنانے والا ہے۔ اور اللہ نے صحیح فرمایا ہے وہی جب چاہتا ہے ان کو سناتا ہے وہ جو چاہے کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (الروضۃ الانفس، ج 2، ص 74، مطبوعہ ملتان، فتح البار، ج 7، ص 303، 304، مطبوعہ لاہور، 1401 ھ)

حافظ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی 855 ھ اس سلسلہ میں بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

حضرت عائشہ نے یہ آیات اپنے موقف میں تلاوت کیں، ان آیات کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ ان آیات میں سماع کے پیدا کرنے کی نفی کی گئی اور سماع کو اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا نہیں کرتے، بدر کے کنویں میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کرکے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام سنا دیا، یہ تفسیر قتادہ نے بیان کی ہے اور علامہ سہیلی نے یہ کہا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) اس موقع پر حاضر نہیں تھیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا کہ ” تم میری بات کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو “۔ تو اس موقع پر انہی کی روایت معتبر ہے جنہوں نے یہ الفاظ سنے تھے، اور جب اس حالت میں ان کا جاننا ممکن ہے تو ان کا سننا بھی ممکن ہے، یا تو ان کفار نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کو اپنے سر کے کانوں سے سنا تاھ اور یہ اس وقت ہے جب فرشتوں کے سوال کے وقت ان کی روحیں ان کے جسموں میں لوٹا دی گئی تھیں جیسا کہ اکثر اہل سنت کا قول ہے۔ یا انہوں نے دل اور روح کے کانوں سے سنا جیسا کہ ان لوگوں کا مذہب ہے کہ سوال صرف روح کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور روح کو جسم میں لوٹایا نہیں جاتا۔ (عمدۃ القاری ج 17، ص 93، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ، مصر 1348 ھ)

ملا علی سلطان بن القاری متوفی 1041 ھ میں اس بحث میں لکھتے ہیں : 

علامہ ابن ھمام نے شرح الہدایہ میں یہ تصریح کی ہے کہ اکثر مشائخ حنفیہ کا یہ موقف ہے کہ مردہ سنتا نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کتاب الایمان میں یہ تصریح کی ہے کہ اگر کسی شخص نے یہ قسم کھائی کہ وہ کسی سے کلام نہیں کرے گا، پھر اس نے کسی مردہ سے کلام کیا تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی کیونکہ اس کی قسم اس شخص کے متعلق تھی جو سوچ سمجھ کر اس کی بات کا جواب دے اور مردہ اس طرح نہیں ہے۔ (ملا علی قاری فرماتے ہیں) یہ جزیہ اس قاعدہ پر متفرع ہے کہ قسم کی بنا عرف پر ہوتی ہے اور مردہ سے بات کرنے کو عرف میں کلام نہیں کہتے اور اس سے حقیقت میں مردہ کے سننے کی نفی نہیں ہوتی، جس طرح فقہاء نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھالے کہ وہ گوشت نہیں کھائے گا تو مچھلی کھانے سے اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو گوشت فرمایا ہے : ” وھو الذی سخر البحر لتاکلوا منہ لحما طریا : وہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کردیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ ” (النحل :14)

حضرت عمر کی اس حدیث کو حضرت عائشہ (رض) نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کس طرح فرما سکتے ہیں کہ تم میرے کلام کو ان (مقتولین بدر) سے زیادہ سننے والے نہیں ہو، جبکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : آپ مردوں کو نہیں سناتے (النمل :80) اور فرمایا ہے آپ ان کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں میں ہیں (فاطر :22) ۔ حضرت عمر (رض) کی یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے، اس کو مسترد کرنا صحیح نہیں ہے خصوصاً اس صورت میں جبکہ اس حدیث اور قرآن مجید کی آیتوں میں کوئی تعارض بھی نہیں کیونکہ مردوں سے مراد قرآن مجید میں کفار ہیں، اور نفی کا حاصل یہ ہے کہ آپ ان کفار کو میرا پیغام سنا کر کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے، اور اس آیت میں مطلقاً سنانے کی نفی نہیں کی گئی ہے۔ اس کی نظری یہ آیت ہے : ” صم بکم عمی فہم لا یعقلون : وہ بہرے گونگے اندھے ہیں پس وہ عقل سے کام نہیں لیں گے ” (البقرہ :171)

ان کو بہرا، گونگا اور اندھا اس لیے فرمایا کہ وہ کان، زبان اور آنکھوں سے نفع نہیں اٹھاتے تھے۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ ان کافروں کو ایسا پیغام نہیں سنا سکتے جس سے وہ آپ کے پیغام کو تسلیم اور قبول کرلیں، علامہ بیضاوی نے کہا ہے کہ یہ آیت اور اس کی مثل دوسری آیتوں کا محمل یہ ہے کہ انہوں نے اپنے حواس کو حق بات سننے اور حق کو دیکھنے سے روک لیا تھا، بیشک اللہ جس کو چاہے سناتا ہے اور اس میں ہدایت پیدا کرتا ہے تاکہ وہ اللہ کی آیات میں فہم سے کام لے اور نصیحت حاصل کرے۔ رہی دوسری آیت آپ ان کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں میں ہیں (فاطر :22) سو اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ کفر پر اصرار کرتے تھے۔ ان کو اس آیت میں مردوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور ان کے ایمان لانے سے مایوس کرنے میں مبالغہ کیا گیا ہے۔ اور اس آیت کی نظیر یہ آیت ہے : ” انک لاتھدی من احبب ولکن اللہ یھدی من یشاء : بیشک آپ اس کو ہدایت ایفتہ نہیں بناتے جس کا ہدایت یافتہ ہونا آپ کو پسند ہو لیکن اللہ جو کو چاہتا ہے ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے ” (القصص :56) ۔ پھر انہوں نے یہ جواب دیا کہ مقتولین بدر کو اپنا کلام سنان، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت اور آپ کا معجزہ تھی۔ اور کفار کو زیادہ حسرت زدہ کرنا تھا، میں کہتا ہوں کہ یہ قتادہ کا قول ہے اور یہ جواب اور یہ قول مردود ہے کیونکہ خصوصیت بغیر دلیل کے ثابت نہیں ہوتی اور وہ یہاں موجود نہیں ہے بلکہ صحابہ کا سوال کرنا اور آپ کا جواب دینا خصوصیت کے منافی ہے اور منکرین سماع موتی پر اس حدیث سے اشکال ہوگا کہ جب لوگ مردہ کو دفن کرکے واپس چلے جاتے ہیں تو وہ کی جوتیوں سے چلنے کی آواز سنتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1374 ۔ صحیح مسلم رقم الحدیث : 932)

اور اگر اس کا یہ جواب دیا جائے کہ یہ حدیث دفن کے بعد اول وقت تک کے ساتھ مخصوص ہے تاکہ مردہ منکر نکیر کے سوال کا جواب دے سکے تو یہ جواب اس حدیث سے مردود ہے، حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ قبرستان میں گئے اور فرمایا السلام علیکم دار قوم مومنین۔ (صحیح مسلم رقم الھدیث : 249 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4304، مرقاۃ المفاتیح، ج 8، ص 11، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، 1390)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں : 

صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں جو یہ حدیث ہے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تم اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو ہرچند کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن یہ معنی کے اعتبار سے معلول ہے اور اس میں ایک ایسی علت ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہ ہو اور وہ علت یہ ہے کہ یہ حدیث قرآن مجید کے مخالف ہے (رد المحتار، ج 3، ص 131، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1407 ھ)

علامہ شامی کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ یہ حدیث قرآن مجید کے مخالف ہے۔ ہم علامہ قرطبی، علامہ ابن حجر عسقلانی، علامہ سہیلی، علامہ محمود بن احمد عینی اور ملا قاری کی وہ توجیہات نقل کرچکے ہیں جن میں انہوں نے اس حدیث اور قرآن مجید کی آیات میں تطبیق دی ہے، اور ہم قبر والے پر سلام پڑھنے کی حدیث بھی باحوالہ بیان کرچکے ہیں اور انشاء اللہ اس حدیث کو مزید حوالہ جات اور دیگر احادیث کو بھی بحث کے آخر میں بیان کریں گے۔ 

اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی 3140 ھ اس بحث میں فرماتے ہیں :

عرض ؛ ام المومنین صدیق (رض) کا انکار سماع موتی سے رجوع ثابت ہے یا نہیں ؟ 

ارشاد : نہیں، وہ جو فرما رہی ہیں حق فرما رہی ہیں۔ وہ مردوں کے سننے کا انکار فرماتی ہیں، مردے کون ہیں، جسم، روح مردہ نہیں، اور بیشک جسم نہیں سنتا، سنتی روح ہے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب ام المومنین کے حضور میں سیدنا عمر فاروق (رض) کی حدیث بیان کی گئی کہ حضور اقدس (رض) نے ارشاد فرمایا ” ما انتم باسمع منہم ” تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں۔ ام المومنین نے فرمایا اللہ رحم فرمائے امیر المومنین پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں ارشاد فرمایا بلکہ فرمایا ” انہم لیعلمون ” بیشک وہ جانتے ہیں امیر المومنین کو سہو ہوا، انہوں نے فرمایا ماانتم باسمع منہم، تو خود ام المومنین (رض) مردوں کے علم کا اقرار فرماتی ہیں : سماع سے بیشک انکار فرماتی ہیں، اور وہ بھی اس کے ان معنوں سے جو عرف میں شائع ہیں، سماع کے عرفی معنی ان آلات کے ذریعہ سے سننا، یہ یقینا بعد مرنے کے روح کے لیے نہیں، روح کو جسم مثالی دیا جاتا ہے اس جسم کے کانوں سے سنتی ہے۔ پھر ام المومنین کا ان آیتوں سے استدلال اور بھی اس کو ظاہر کر رہا ہے۔ انک لا تسمع الموتی اور وما انت بمسمع من فی القبور۔ موتی کون ہیں ؟ اجسام، قبور میں کون ہیں ؟ وہی اجسام، تو پھر اجسام ہی کے سننے سے انکار ہوا۔ اور وہ یقینا حق ہے (پھر فرمایا) خود ام المومنین (رض) کا طرز عمل سماع موتی کو ثابت کر رہا ہے۔ فرماتی ہیں کہ جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے حجرہ میں دفن ہوئے میں بغیر چادر اوڑھے بےحجابانہ حاضر ہوتی اور کہتی ” انما ھو زوجی ” میرے وہر ہی تو ہیں، پھر میرے باپ حضرت ابوبکر صدیق (رض) دفن ہوئے، جب بھی میں بغیر احتیاط کے چلی جاتی اور کہتی ” انما ھما زوجی وابی۔ میرے شوہر اور میرے باپ ہی تو ہیں، پھر جب حضرت عمر (رض) دفن ہوئے تو میں نہایت احتیاط کے ساتھ چادر سے لپٹی ہوئی حاضر ہوتی، اس طرح کہ کوئی عضو کھلا نہ رہے، حیاء من عمر، عمر (رض) کی شرم سے۔ تو اگر ارواح کا سمع و بصر نہ مانتیں تو پھر حیاء من عمر کے کیا معنی ؟ (پھر فرمایا) تین باتوں میں ام المومنین کا خلاف مشہور ہے اور ان تینوں میں غلط فہمی، ایک تو یہی سماع موتی کہ و سماع عرفی کا جسموں کے واسطے انکار فرماتی ہیں، اور اس کو غلط فہمی سے ارواح کے سماع حقیقی پر محمول کیا جاتا ہے۔ دوسرے معراج کے جسدے کے بارے میں انکار مشہور ہے کہ ام المومنین فرماتی ہیں ” ما فقدت جسد رسول اللہ ” جسد اقدس میرے پاس سے کہیں نہ گیا۔ حالانکہ آپ معراج منامی کے بارے میں فرما رہی ہیں جو مدینہ منورہ میں ہوئی اور وہ معراج تو مکہ معظمہ میں ہوئی۔ اس وقت ام المومنین خدمت اقدس میں حاضر بھی نہ ہوئی تھیں بلکہ نکاح سے بھی مشرف نہ ہوئی تھی اسے اس پر محمول کرنا سراسر غلطی ہے۔ تیسرے علم ما فی الغد کے بارے میں ام المومنین کا قول ہے کہ جو یہ کہے کہ حضور کو علم ما فی الغد (یعنی آنے والی کل کا علم) تھا وہ جھوٹآ ہے۔ اس سے مطلق علم کا انکار نکالنا محض جہالت ہے، علم جبکہ مطلق بولا جائے خصوصاً جبکہ غیب کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے۔ اس کی تشریح حاشیہ کشاف پر میر سید شریف (رح) نے کردی ہے اور یہ یقیناً حق ہے۔ کوئی شخص کسی مخلوق کے لیے ایک ذرہ کا بھی علم ذاتی مانے یقیناً کافر ہے۔ (الملفوظ ج 3 ص 281 ۔ 283 ۔ حامد اینڈ کمپنی لاہور)

دیوبند کے مشہور محدث انور شاہ کشمیری متوفی 1352 ھ لکھتے ہیں : 

سماع موتی کا مسئلہ گزر چکا ہے اور رہا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : آپ ان کو سنانے والے نہیں جو قبروں میں ہیں (فاطر :22) سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ قبر والوں کو ایسا پیغام نہیں سناتے جس پر ان کا قبول کرنا مترتب ہو یا اس کا معنی یہ ہے کہ آپ قبر والوں کو ایسا پیغام نہیں سناتے جس پر ان کا قبول کرنا مترتب ہو یا اس کا معنی یہ ہے کہ آپ ان قبر والوں کو ہمارے اس جہان میں نہیں سناتے اور ان قبر والوں کا سننا عالم برزخ میں ہے۔ اور وہ ہمارے جہان کے اعتبار سے معدوم ہے اور یا یہ آیت اس طرح ہے جس طرح فرمایا ہے وہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں (البقرہ :171) یعنی ان کو سننے کے باوجود بہرہ فرمایا۔ اسی طرح یہاں فرمایا کہ آپ ان بہروں کو نہیں سناتے۔ علامہ سیوطی نے کہا وہ آپ کے پیغام کو کان لگا کر نہیں سنتے، اس کو قبول نہیں کرتے اور اس سے ہدایت حاصل نہیں کرتے اس لیے فرمایا آپ ان کو نہیں سناتے گویا اس آیت میں کفار کو قبر والوں سے تشبیہ دی ہے۔ (فیض البار ج 4، ص 90، مطبوعہ مجلس علمی ہند، 1357 ھ)

شیخ انور شاہ کشمیری نے جس عبارت کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے : 

میں یہ کہتا ہوں کہ مردوں کے سننے کے متعلق احادیث حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ امام ابو عمر (ابن عبد البر) نے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے، کہ جب کوئی شخص مردہ کو سلام کرے تو وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے اور اگر دنیا میں اس کو پہچانتا تھا تو اس کو پہچان لیتا ہے، (یہ روایت بالمعنی ہے) حافظ ابن کثیر نے بھی اس حدیث کو سند کے ساتھ روایت کیا ہے، پس اس کے انکار کی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ ہمارے ائمہ رحمہم اللہ میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا، البتہ علامہ ابن الہمام نے یہ کہا ہے کہ سماع موتی میں اصل نفی ہے اور جن مواضع میں سماع ثابت ہے ان کا استثناء کیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ پھر اصل میں نفی کا عنوان قائم کرنے کا کیا فائدہ اور جب فی الجملہ سماع ثابت ہے تو پھر تخصیص کے ادعا کی کیا ضرورت ہے ؟ ہاں قرآن مجید میں فرمایا ہے انک لاتسمع الموتی اور ما انت بمسمع من فی القبور اور ان آیتوں سے بظاہر مردوں کے مطلقاً سننے کی نفی ہوتی ہے، اس کا ایک جواب یہ ہے کہ قرآن مجید نے سنانے کی نفی کی ہے، سننے کی نفی نہیں کی اور ہماری بحث مردوں کے سننے میں ہے، اور علامہ سیوطی نے یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے پیغام کو کان لگا کر نہیں سنتے اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کا نفع نہیں حاصل کرتے، کیونکہ مردوں کا سماع سے فائدہ حاصل کرنا دنیاوی زندگی میں متصور ہے اور اب اس کا وقت گزر چکا ہے، اسی طرح یہ کفار ہرچند کہ زندہ ہیں لیکن آپ کا ان کو ہدایت دینا غیر مفید ہے کیونکہ یہ نفع نہ اٹھانے میں مردوں میں مثل ہیں۔ پس ان آیتوں سے مردوں کے سننے کی نفی مقصود نہیں ہے بلکہ سننے سے ان کے فائدہ اٹھانے کی نفی مقصود ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نفی سماع سے ماننے اور عمل کرنے کی نفی بھی مراد ہوسکتی ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کو کتنی مرتبہ نماز پڑھنے کے لیے کہا مگر وہ سنتا ہی نہیں۔ یعنی مانتا نہیں اور عمل نہیں کرتا، سو قبر میں مردے بھی سنتے نہیں اور عمل نہیں کرتے۔ اس اعتبار سے زندہ کافروں کو مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے کہ وہ آپ کی بات مانیں گے نہیں اور اس پر عمل نہیں کریں گے، اگر تم یہ اعتراض کرو کہ جب مردوں کے لیے سننا ثابت ہے تو کیا وہ نفع بھی اٹھا سکتے ہیں تو میں کہوں گا کہ جو لوگ نیکی پر فوت ہوئے وہ سننے سے نفع بھی حاصل کرتے ہیں اور جو لوگ العیاذ باللہ کفر پر فوت ہوئے تو ان کے لیے نفع کہاں ؟ وہ لوگ صرف آواز سنتے ہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ ہم قبر میں جس سماع کے ثبوت کے درپے ہیں وہ عالم برزخ میں سماع ہے۔ اور قرآن مجید نے مردوں کے جس سننے کی نفی کی ہے وہ ہمارے اس عالم کے اعتبار سے ہے۔ (فیض الباری، ج 2، ص 267 ۔ 268، ملخصاً ، مطبوعہ ہند، 1357 ھ)

سماع موتی کے ثبوت میں بعض دیگر احادیث اور آثار 

اس سے پہلے ہم صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالوں سے یہ حدیث بیان کرچکے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتولین بدر کے متعلق صحابہ سے فرمایا (1) تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو، اور اس پر مفصل بحث و نظر کا بھی ذکر کی اور صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن نسائی کے حوالہ سے یہ حدیث یان کی (2) کہ دفن کے بعد قبر میں مردہ جوتیوں سے چلنے کی آواز سنتا ہے اور اس پر وارد ہونے والے اعتراض کا جواب دیا اور اس کی تائید میں صحیح مسلم اور سنن ابن ماجہ کے حوالوں سے یہ حدیث بیان کی (3) کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبرستان میں گئے اور فرمایا السللام علیکم دار قوم مومومنین اور ظاہر ہے کہ یہ سلام کرنا اسی وجہ سے تھا کہ قبر میں مردے سنتے ہیں۔ اب اس کی تائید میں ہم مزید احادیث پیش کر رہے ہیں : 

(4) امام ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر مالکی اندلسی متوفی 463 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص بھی اپنے کسی ایسے مسلمان بھائی کی قبر کے پاس سے گزرے جس کو وہ دنیا میں پہچانتا تھا تو وہ اس کو پہچان لیتا ہے، اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔ (الاستذکار، ج 2، ص 165، رقم الحدیث : 1858، مطبوعہ موسسۃ الرسالتہ، بیروت)

علامہ قرطبی اور علامہ مناوی وغیرہ نے لکھا ہے کہ امام ابن عبد البر نے اس حدیث کو التمہید میں بھی روایت کیا ہے لیکن ہم نے التمہید کے دو نسخوں اور فتح المالک میں اس حدیث کو تلاش کیا اس میں یہ حدیث نہیں ہے، امام عبدالبر نے اس حدیث کو صرف الاستذکار میں روایت کیا ہے۔ 

امام غزالی متوفی 505 ھ نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے (احٰیاء العلوم، ج 6، ص 127) اور اس کے حاشیہ پر حافظ عراقی نے لکھا ہے کہ عبدالحق الاشبیلی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، علامہ سید مرضی زبیدی متوفی 1205 ھ نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے امام ابن ابی الدنیا نے اس حدیث کو کتاب القبور میں روایت کیا ہے، اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں اس کو حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا (اتحاف السادۃ المتقین، ج 10، ص 366) علامہ زین الدین رجب حنبلی متوفی 795 ھ نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (احوال القبور، ص 142، مطبوعہ دار الکتاب العربی 1414 ھ) محمد ناصر المجیولی نے اس کا دار البرزخ میں زکر کیا ہے۔ 

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی مالکی متوفی 668 ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں : 

امام ابن عبدالبر نے اس حدیث کو الاستذکار اور التمہید میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو ابو محمد عبدالحق نے صحیح قرار دیا ہے۔ 

حافظ شمس الدین ابوعبداللہ بن قیم جوزیہ حنبلی متوفی 751 ھ لکھتے ہیں : 

حافظ ابو محمد عبدالحق الاشبیلی نے یہ عنوان قائم کیا کہ مردے زندوں کے متعلق سوال کرتے ہیں اور ان کے اقوال اور اعمال کو پہچانتے ہیں پھر کہا کہ امام ابن عبدالبر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص بھی اپنے ایسے مسلمان بھائی کی قبر کے پاس سے گزرے جس کو وہ پہچانتا ہو پس اس کو سلام کرے تو وہ اس کو پہچان لیتا ہے، اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر وہ اس کو نہ پہچانتا ہو اور سلام کرے، تب بھی وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔ عنقریب ہم اس حدیث کو باحوالہ ذکر کریں گے۔ (الروح ص 10 ۔ 11، مطبوعہ دار الحدیث قاہرہ 1410 ھ)

علامہ عبد الرؤوف مناوی شافعی متوفی 1003 ھ لکھتے ہیں : 

علامہ ابن القیم نے کہا ہے کہ اس قسم کی احادیث اور آثار اس پر دلالت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص قبر والے کی زیارت کرتا ہے اور اس کو سلام کرتا ہے تو وہ اس کے سلام کو سنتا ہے اور اس سے مانوس ہوتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے، اور یہ حکم شہداء اور غیر شہداء دونوں کے لیے عام ہے اور اس میں وقت کی کوئی قید نہیں ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت کے لیے یہ مشروع کیا ہے کہ وہ اہل قبور کو سلام کریں جس طرح سننے والے اور عقل والے شخص کو سلام کیا جاتا ہے۔ حافظ عراقی نے کہا ہے کہ امام عبدالبر نے اس حدیث کو التمہید اور الاستذکرار میں حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو حافظ عبدالحق نے صحیح قرار دیا ہے۔ (فیض القدیر ج 10، ص 5438، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

حافظ ابوبکر احمد بن علی الخطیب المتوفی 463 ھ نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 

(5) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو بندہ بھی کسی ایسے شخص کی قبر کے پاس سے گزرے، جس کو وہ دنیا میں پہچانتا تھا، پس اس کو سلام کرے تو وہ اس کو پہچان لیتا ہے اور وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔ (تاریخ بغداد ج 6، ص 137، مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ، الجامع الصغیر، ج 2، رقم الحدیث : 8062 ۔ شرح الصدور ص 204، دار الکتب العلمیہ بیروت، 1403 ھ۔ کنز العمال ج 15، رقم الھدیث : 42556، مطبوعہ بیروت)

امام عبدالرزاق بن ہمام صنعانی متوفی 211 ھ روایت کرتے ہیں : 

(6) سالم بن عبد اللہ بینا کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) جس قبر کے پاس سے گزرتے اس کو سلام کرتے تھے (المصنف ج 3، رقم الحدیث : 6721)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : ہم قبروں پر سلام کرنے کے لیے کیا کہیں ؟ آپ نے فرمایا کہو السلام علی اھل الدیار من المومنین والمسلمین یرحم اللہ المستقدمین منا والمستاخرین، انا انشاء اللہ بکم لاحقون۔ (المصنف، ج 3، رقم الحدیث : 6722)

(8) زید بن اسلم بیان کرتے کہ حضرت ابوہریرہ اور ان کے ایک شاگرد ایک قبر کے پاس سے گزرے، حضرت ابوہریرہ اور ان کے شاگرد ایک قبر کے پاس سے گزرے، حضرت ابوہریرہ نے کہا سلام کرو، اس شخص نے پوچھا کیا قبر کو سلام کروں، حضرت ابوہریرہ نے کہا، اگر اس نے کس دن دنیا میں تمہیں دیکھ لیا تھا تو وہ اب تمہیں پہچان لے گا۔ (المصنف، ج 3، رقم الحدیث : 6723)

امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی 235 ھ روایت کرتے ہیں : 

(9) زازان بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) جب قبرستان میں داخل ہوتے تو فرماتے اس دیار میں رہنے والے مومنین اور مسلموں پر میرا سلام ہو، تم ہم پر مقدم ہو اور ہم تمہارے تابع ہیں اور ہم تمہارے ساتھ ضرور ملیں گے، اور ہم اللہ کے لیے ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوتنے والے ہیں۔ 

(10) ۔ جندب ازدی بیان کرتے ہیں کہ ہم سلمان کے ساتھ حرہ کی طرف گئے۔ حتی کہ جب ہم قبروں کے پاس پہنچے تو انہوں نے دائیں طرف متوجہ ہو کر کہا، السلام علیکم یا اھل الدیار من المومنین و المومنات۔ الحدیث۔ 

(11) مجاہد سے روایت ہے کہ وہ قبروں پر سلام عرض کرتے تھے 

(12) موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا سالم بن عبداللہ رات ہو یا دن، جس وقت بھی قبر کے پاس سے گزرتے تو اسکو سلام کرتے تھے اور وہ یہ کہتے تھے السلام علیکم ! میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بھی اسی طرح کرتے تھے۔

(13) حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو ان میں سے کوئی شخص یہ کہے السلام علیکم یا اھل الدیار من المومنین والمسلمین وانا انشاء اللہ بکم للاحقون انتم لنا فرط ونحن لکم تبع ونسال اللہ لنا ولکم العافیۃ۔ 

(14) عامر بن سعد اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی زمین سے لوٹتے اور شہداء کی قبروں کے پاس سے گزرتے تو کہتے السلام علیکم و انا بکم للاحقون، پھر اپنے اصحاب سے کہتے کہ تم شہداء کو سلام نہیں کرتے تاکہ وہ تمہارے سلام کا جواب دیں۔ 

(15) عبداللہ بن سعد الجاری بیان کرتے ہیں کہ مجھے سے حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا جب تم ان قبروں کے پاس سے گزرو جن کو تم ہپچانتے تھے تو کہو، السلام علیکم اصحاب القبور اور جب تم ان قبروں کے پاس سے گزرو جن کو تم نہیں پہچانتے تھے تو کہو السلام علی المسلمین۔ 

(16) ابو مویبہ بیان کرتے ہیں کہ ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا کہ وہ البقیع کی طرف جائیں ان کے لیے دعا کریں اور ان کو سلام کریں۔ (المصنف ج 3، ص 339 ۔ 341، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی، 1406 ھ)

امام ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی متوفی 360 ھ روایت کرتے ہیں : 

(17) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد سے لوٹتے ہوئے حضرت مصعب بن عمری (رض) کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ کے نزدیک زندہ ہو۔ (پھر صحابہ سے فرمایا) تم ان کی زیارت کرو اور ان کو سلام کرو۔ (المعجم الاوسط ج 4، ص 426، رقم الحدیث : 3712، مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض، 1415 ھ)

(18) عبداللہ الاودی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوامامہ رضیا للہ عنہ کے پاس گیا اس وقت وہ حالت نزع میں تھے۔ انہوں نے کہا جب میں مرجاؤں تو میرے ساتھ اسی طرح کرنا جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں مردوں کے ساتھ کرنے کا حکم دیا ہے، آپ نے فرمایا جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی شخص فوت ہوجائے تو تم اس کی قبر پر مٹی ہموار کردینا، پھر تم میں سے کوئی شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہوجائے، پھر اس کو چاہیے کہ یہ کہے یا فلاں بن فلانہ، وہ اس کلام کو سنے گا اور جواب م نہیں دے گا، پھر کہے کہ یا فلاں بن فلانہ، تو وہ اٹھ کر سیدھا بیٹھ جائے گا پھر کہے یا فلاں بن فلانہ، تب وہ مردہ کہے گا اللہ تم پر رحم کرے ہماری رہنمائی کرو۔ لیکن تم کو (ان کے کلام کا) شعور نہیں ہوتا، پس اس شخص کو کہنا چاہیے : یاد کرو جب تم دنیا سے گئے تھے تو یہ شہادت دیتے تھے کہ ان لا الہ الا اللہ و ان محمدا عبدہ ورسولہ اور تم اللہ کو رب مان کر راضی تھے اور اسلام کو دین مان کر اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی مان کر اور قرآن کو امام مان کر، پھر منکر اور نکیر میں سے ایک اپنے صاحب کا ہاتھ پکڑ کر کہے گا اب یہاں سے چلو ہم اس شخص کے پاس نہیں بیٹھتے جس کو حجت کی تلقین کردی گئی ہے، پھر ان کے سامنے اللہ حجت کرنے والا ہوگا، ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر ہمیں اس کی ماں کا نام معلوم نہ ہو تو ! آپ نے فرمایا تو پھر اس کو حواء کی طرف منسوب کرے اور کہے یا فلاں بن حواء (المعجم الکبیر ج 8، رقم الحدیث : 7979 ۔ مجمع الزوائد، ج 2، ص 202 ۔ التزکرہ، ج 1، ص 119 ۔ تہذیب تاریخ دمشق، ج 6، ص 424 ۔ کنز العمال، رقم الحدیث : 42406، 42934)

علامہ ابو عبداللہ قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں کہ حافظ ابو محمد عبدالحق اور شیبہ بن ابی شیبہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ یہ حدیث احیاء العلوم میں بھی ہے اور بہت علماء نے اس سے استدلال کیا ہے، اور شیخ فقیہ امام مفتی الامام ابو الھسن علی بن ھبۃ اللہ شاعی نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ زکر کیا ہے اور ہمارے شیخ علامہ ابوالعباس احمد بن عمر قرطبی فرماتے ہیں اس حدیث پر عمل کرکے میت کو تلقین کرنی چاہیے۔ (التذکرہ ج 1، ص 119، 120، ملخصاً ، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

واضح رہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے آباء کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا۔ اور اس حدیث میں جو امہات کی طرف نسبت کا ذکر ہے یہ قیامت کا واقعہ نہیں ہے بلکہ دفن کے بعد قبر کا واقعہ ہے۔ اس حدیث میں مردہ کے سننے کی صفات تصریح ہے۔ اور چونکہ اس حدیث پر اہل علم کا عمل ہے اور یہ اس حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔ 

ملا علی قاری نے علامہ نووی سے یہ نقل کیا ہے کہ امام ترمزی کے نزدیک ضعیف حدیث اہل علم کے عمل سے قوی ہوجاتی ہے۔ (مرقات، ج 2، ص 98، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، 1390 ھ)

امام ابوبکر حسین بن احمد بیہیقی متوفی 458 ھ روایت کرتے ہیں۔ 

(19) ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص ایسی قبر کے پاس سے گزرے جس کو وہ دنیا میں پہچانتا ہو اور اس کو سلام کرتے تو وہ اس کو پہچان لیتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے اور جب وہ ایسی قبر کے پاس سے گزرے جس کو وہ نہ پہچانتا ہو اور اس کو سلام کرے تو وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔ (شعب الایمان ج 7، رقم الحدیث : 9296 ۔ شرح الصدور ص 202)

(20) نیشا پور کے قاضی ابوابراہیم بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا، اور اس نے کہا میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ ہوا، قاضی کے پوچھنے پر بتایا کہ میں کفن چور تھا اور قبروں سے کفن چراتا تھا۔ ایک عورت فوت ہوگئی میں نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تاکہ میں اس کی قبر دیکھ لوں۔ رات کو میں نے قبر کھو دی اور اس کا کفن اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس عورت نے کہا سبحان اللہ ! ایک جنتی مرد جنتی عورت کا کفن اتار رہا ہے، پھر اس عورت نے کہا کیا تم کو معلوم نہیں کہ تم نے میری نماز جنازہ پڑھی تھی، اور اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو بخش دیا، جنہوں نے میری نماز جنازہ پڑھی تھی۔ (شعب الایمان ج 7، رقم : 9261، شرح الصدور، ص 208)

امام ابو القاسم علی بن الھسن بن عساکر متوفی 571 ھ روایت کرتے ہیں : 

(21) یحییٰ بن ایوب الخزاعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حضرت عمر بن الخطاب کے زمانہ میں ایک عبادت گزار نوجوان تھا جس نے مسجد کو لازم کرلیا تھا، حضرت عمر اس سے بہت خوش تھے، اس کا باپ بوڑھا آدمی تھا، وہ عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے باپ کی طرف لوٹ آتا تھا، اس کے راستہ میں ایک عورت کا دروازہ تھا وہ اس پر فریفتہ ہوگئی تھی، وہ اس کے راستہ میں کھڑی ہوجاتی تھی، ایک رات وہ اس کے پاس سے گزرا تو وہ اس کو مسلسل بہکاتی رہی حتی کہ وہ اس کے ساتھ چلا گیا، جب وہ اس کے گھر کے دروازہ پر پہنچا تو وہ بھی اندر آگئی۔ اس نوجوان نے اللہ کو یاد کرنا شروع کردیا اور اس کی زبان پر یہ آیت جاری ہوگئی : ” ان الذین اتقوا اذا مسہم طائف من الشیطان تذکرو فاذا ھم مبصرون : بیشک جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، انہیں اگر شیطان کی طرف سے کوئی خیال چھو بھی جاتا ہے تو وہ خبردار ہوجاتے ہیں، اور اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ” (الاعراف :201)

پھر وہ نوجوان بےہوش ہو کر گرگیا ، اس عورت نے اپنی باندی کو بلایا اور دونوں نے مل کر اس نوجوان کو اٹھایا اور اسے اس کے گھر کے دروازہ پر چھوڑ آئیں۔ اس کے گھر والے اسے اٹھا کر گھر میں لے گئے، کافی رات گزرنے کے بعد وہ نوجوان ہوش میں آیا اس کے باپ نے وپچھا اے بیٹے ! تمہیں کیا ہوا تھا ؟ اس نے کہا خیر ہے، باپ نے پھر پوچھا تو اس نے پورا واقعہ سنایا، باپ نے پوچھا ! اے بیٹے ! تم نے کونسی آیت پڑھی تھی ؟ تو اس نے آیت کو دہرایا جو اس نے پڑھی تھی اور پھر بےہوش ہو کر گرگیا ۔ گھر والوں نے اسے ہلایا جلایا، لیکن وہ مرچکا تھا، انہوں نے اس کو غسل دیا اور اسے جا کر دفن کردیا۔ صبح ہوئی تو اس بات کی خبر حضرت عمر (رض) تک پہنچی، صبح کو حضرت عمر اس کے والد کے پاس تعزیت کے لیے آئے اور فرمایا تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی۔ اس کے باپ نے کہا رات کا وقت تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا ہمیں اس کی قبر کی طرف لے چلو، پھر حضرت عمر اور ان کے اصحاب اس کی قبر پر گئے، حضرت عمر نے کہا اے نوجوان ! جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں ؟ تو اس نوجوان نے قبر کے اندر سے جواب دیا : اے عمر ! مجھے میرے رب عز و جل نے جنت میں دو بار دو جنتیں عطا فرمائی ہیں۔ (مختصر تاریخ دمشق ترجمہ عمرو بن جامع رقم : 114، ج 1، ص 190 ۔ 191، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

حافظ ابن عساکر کے حوالہ سے اس حدیث کو حافظ ابن کثیر متوفی 774 ھ، حافظ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ اور امام علی متقی ہندی متوفی 975 ھ نے بھی ذکر کیا ہے۔ 

(تفسیر ابن کثیر الاعراف 201، ج 3، ص 269، طبع دار الاندلس بیروت۔ شرح الصدور ص 213، طبع دار الکتب العلمیہ بیروت، 1404 ھ۔ کنز العمال ج 2، ص 516 ۔ 517، رقم الحدیث : 4634)

امام ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبد البر مالکی قرطبی متوفی 463 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

(22) عطاء بن یسار حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو قبرستان میں جاتے اور فرماتے ” السلام علیکم دار قوم مومنین ” ہمارے پاس اور تمہارے اپس وہ چیز آچکی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور ہم انشاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، اے اللہ ! بقیع الغرقد والوں کی مغفرت فرما۔ 

جن علماء کا یہ مذہب ہے کہ مردوں کی روحیں قبروں کے صحنوں پر ہوتی ہیں وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں : اور بیشک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے کنویں میں پڑے ہوئے مردوں کو خطاب فرمایا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو، مگر یہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے (الی قولہ) قتادہ نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ مردہ کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو وہ لوگوں کی جوتیوں سے چلنے کی آواز سنتا ہے، اور ان امور کی کیفیت نہیں بیان کی جاسکتی ان کو صرف تسلیم کیا جائے گا اور ان کی اتباع کی جائے گی۔ امام عبدالبر فرماتے ہیں جو شخص قبرستان میں جائے وہ ان کو سلام کرے اور وہ الفاظ کہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہیں۔ (التمہید ج 20، ص 240، مطبوعہ المکتبۃ التجاریہ، مکہ المکرمہ 1412 ھ)

(23) عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موجود نہ پایا میں آپ کے پیچھے گئی، آپ بقیع کے قبرستان میں گئے تو آپ نے فرمایا السلام علیکم دار قوم مومنین ! تم ہمارے پیش رو ہو، اور بیشک ہم تم سے ملنے والے ہیں، اے اللہ ! ہم کو ان کے اجر سے محروم نہ کر اور ہم کو ان کے بعد آزمائش میں نہ ڈال۔ (التمہید، ج 20، ص 241 مطبوعہ المکتبہ التجاریہ، مکہ المکرمہ، 1412 ھ)

(24) روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) قبرستان میں گئے اور قبروں کی طرف متوجہ ہو کر بلند آواز سے ندا کی اے اہل قبور ! آیا تم ہمیں اپنی خبریں دوگے یا ہم تمہیں خبریں سنائیں ؟ ہمارے پاس یہ خبر ہے کہ تمہارے مال تقسیم کردیے گئے اور عورتوں نے دوسری شادیاں کرلیں، اور تمہارے گھروں میں اب تمہارے سوا اور لوگ رہتے ہیں، یہ ہماری خبریں ہیں، اب تم ہمیں اپنی خبریں سناؤ، پھر آپ نے اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر کہا سنو، اللہ کی قسم اگر یہ جواب دینے کی طاقت رکھتے تو یہ کہتے کہ ہم نے تقوی سے بہتر کوئی زاد راہ نہیں پایا۔

(25) ابوعثمان النہدی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سخت گرم دمن میں نکلا اور قبرستان میں گیا، وہاں دو رکعت نماز پڑھی، پھر ایک قبر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس نے ایک آواز سنی ” میرے پاس سے ہٹ جا، اور مجھے ایذا نہ پہنچا ” تم جو کہتے ہو تمہیں اس کا علم نہیں ہے اور ہمیں علم ہے اور ہم کہتے نہیں ہیں، تمہاری یہ دو رکعت نماز مجھے فلاں فلاں چیز سے زیادہ محبوب ہے۔ 

(26) ثابت بنانی بیان کرتے ہیں کہ میں قبرستان میں جا رہا تھا، اچانک میں نے غیب سے ایک آواز سنی : اے ثابت ہماری خاموشی سے دھوکا نہ کھانا، یہاں پر کتنے ہی لوگ مغموم ہیں۔ 

(27) امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن الکطاب (رض) بقیع الغرقد کے پاس سے گزرے تو فرمایا السلام علیکم اھل القبور ! ہمارے پاس یہ خبریں ہیں کہ تمہاری بیویوں نے شادیاں کرلیں، اور تمہارے گھروں میں اب اور لوگ رہتے ہیں، اور تمہارے مال تقسیم کردیے گئے، تو غیب سے آواز آئی : اے عمر بن الخطاب ! ہماری خبریں یہ ہیں کہ ہم نے جو نیک اعمال بھیجے تھے وہ مل گئے، اور ہم نے جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا تھا اس کا نفع پا لیا، اور ہم نے جو اپنے پیچھے مال چھوڑا وہ گھاٹا تھا۔ (التمہید ج 20، ص 242، مطبوعہ المکتبہ التجاریہ مکہ المکرمہ 1412 ھ)

ہمارے زمانہ میں بعض لوگ سماع موتی کا شدت سے انکار کرتے ہیں، اس لیے میں نے احادیث صحیحہ و مقبولہ کی روشنی میں اس مسئلہ کو واضح کیا ہے اور مذاہب اربعہ کے مستند علماء کی تصریحات بھی پیش کی ہیں جن میں خصوصیت کے ساتھ علامہ قرطبی مالکی، علامہ نووی شافعی، علامہ ابن قیم حنبلی اور علامہ بدر الدین عینی حنفی قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں امام احمد رضا بریلوی اور مکتب فکر دیوبند کے محدث شیخ انور شاہ کشمریی کی تصریحات بھی پیش کردی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس تحریر کو اثر آفریں بنا دے (آمین) انشاء اللہ النمل : 80 اور فاطر : 22 میں اس پر مزید بحث کی جائے گی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین قائد المرسلین شفیع المذنبین وعلی آلہ و اصحابہ الراشدین و علماء ملتہ اجمعین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 13