شیخ المنہاج کا سیدنا جہجاہ غفاری کی بے ادبی کرنا😠

منہاجی مجددد طاہر القادری نے اپنی کتاب میں صحابی رسول حضرت سیدنا جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ کا ایسے عامیانہ انداز میں ذکر کیا ، جیسے یہ کوئی بے ادب و گستاخ شخص ہوں کہ پڑھنے والا یقیناََ یہی تاثر لے گا ۔۔۔۔اور پھر اسی پہ بس نہیں کی بلکہ شفاء شریف کی اس عبارت کا ترجمہ کرتے ، مزید صحابی رسول کی بے ادبی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔۔۔۔۔ جیسا کہ خود ساختہ مجددد نے لکھا ہے کہ

“جہجاہ غفاری نے حضور نبی اکرم ﷺ کا عصا مبارک حضرت عثمان غنی کے ہاتھ سے چھین لیا اور اسے اپنے گھٹنے پہ رکھ کر توڑنے کی (مذموم) کوشش کی ، لیکن لوگوں نے شور مچا کر اسے روک دیا ، پھر (اس کو اس بے ادبی کی غیبی سزا اس طرح ملی) کہ اس کے گھٹنے پر پھوڑا نکلا جو ناسور بن گیا ، جس کی وجہ سے اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی ، اور وہ اُسی وجہ سے سال سے کم عرصے میں مرگیا ۔

(برکات مصطفی ﷺ ص 77 ، منہاج القرآن پبلی کیشنز لاہور)

پہلے تو اس عصا توڑنے والی روایت کی اسنادی حیثیت بیان کی جاے اور اسے صحیح ثابت کیا جاے؟

پھر سارے تفضیلی لائن بنائیں خصوصاً حنیف قریشی اور منہاجی یہ بتائیں ۔۔۔ کہ یہ سیدنا جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ کی بے ادبی اور گستاخی ہے کہ نہیں؟

اگر یہ گستاخی و بے ادبی ہے۔۔۔ تو پھر ہم منتظر رہیں گے۔۔۔ کہ جلیل القدر صحابی رسول ﷺ کی اس بے ادبی پر ۔۔۔۔وہ فتنے باز منہاجی اور ان کے ممدوح حنیف قریشی اینڈ پارٹی کب غیرت کھا کر سامنے آتے ہیں ۔۔۔۔جو آج تک حضرت مولانا الیاس قادری صاحب کے آٹھ دس سال پہلے لاعلمی میں لکھے گئے الفاظ کو لے کر بغلیں بجاتے اور چینختے چِلّاتے ہیں ۔۔۔۔

حالانکہ امیر اہل سنت مدظلہ العالی اور دعوت اسلامی والوں کی طرف سے اُنہی دنوں میں نہ صرف ان الفاظ کی وضاحت کردی گئی۔۔۔ بلکہ اس سے رجوع کرتے ہوئے اسے “سیدنا عثمان غنی کی کرامات” والے رسالے سے بھی نکال دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔اب گزشتہ سال پھر اس کی وضاحت کی گئی مگر اس کے باوجود حنیف قریشی اینڈ کمپنی باز نہیں آئی ؛

اب منہاجی اور یہ تفضیلی پنڈی ٹولہ اپنے مجددد سے پوچھ کر بتاے ، یہ روایت لکھتے وقت کیا انہیں حضرت جہجاہ غفاری جیسے صحابی کی صحابیت کا علم نہیں تھا؟

اگر تھا تو پھر یہ گستاخانہ انداز کیوں اختیار کیا گیا؟

اگر علم نہیں تھا ۔۔۔۔تو پھر ایسے ہی حضرت الیاس قادری صاحب سے لاعلمی میں سیدنا جہجاہ کے بارے میں وہ الفاظ لکھے گئے۔۔۔۔۔اس کے باوجود فتنہ پروری اور گستاخی و بے ادبی فتوے کیوں لگاے گئے؟

ہم منتظر رہیں گے کہ کب فتنہ پرور خطیب حنیف قریشی صاحب اسٹیجوں پر گلا پھاڑ کر عوام کو طاہر القادری کی یہ گستاخی بتلاتے ہیں ۔ اور کب ان کی اس محنت پر طاہر القادری اپنے غرور و تکبر سے باہر آکر ان الفاظ سے توبہ و رجوع کرتے ہیں۔

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری

19/3/2020ء