أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الۡبُكۡمُ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ کے نزدیک بدترین جاندار وہ لوگ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” بیشک اللہ کے نزدیک بدترین جاندار وہ لوگ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے “

عربی میں دابہ چوپایہ کو کہتے ہیں اس آیت میں کفار کو جانوروں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ جس طرح جانور کسی نصیحت سے نفع حاصل نہیں کرتے اسی طرح یہ کفار بھی کسی نصیحت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اسی وجہ سے ان کے متعلق فرمایا یہ بہرے اور گونگے ہیں، کیونکہ یہ کسی حکم کو سن کر اس کو قبول نہیں کرتے اور کسی وعظ اور نصیحت کو سن کر اس سے نفع نہیں اٹھاتے اور اپنی زبان سے کبھی سچ بولتے ہیں نہ سچائی کا اعتراف کرتے ہیں، سو یہ اپنے کانوں اور اپنی زبانوں سے کام نہیں لیتے اور نہ عقل سے کام لیتے ہیں

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 22