أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡۖ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى‌ ۚ وَلِيُبۡلِىَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَاۤءً حَسَنًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

سو (اے مسلمانو ! ) تم نے ان کو قتل نہیں کیا، لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا ہے اور (اے رسولِ معظم ! ) آپ نے وہ خاک نہیں پھینکی جس وقت آپ نے وہ خاک پھینکی تھی، لیکن وہ خاک اللہ نے پھینکی تھی تاکہ وہ مومنوں کو اچھی آزمائش کے ساتھ گزارے، بیشک اللہ بہت سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

تفسیر:

17 ۔ 19:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” سو (اے مسلمانو ! ) تم نے ان کو قتل نہیں کیا، لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا ہے اور (اے رسولِ معظم ! ) آپ نے وہ خاک نہیں پھینکی جس وقت آپ نے وہ خاک پھینکی تھی، لیکن وہ خاک اللہ نے پھینکی تھی تاکہ وہ مومنوں کو اچھی آزمائش کے ساتھ گزارے، بیشک اللہ بہت سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ یہ تو تمہارے ساتھ معاملہ ہے اور اللہ کفار کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے “

مسلمانوں سے کفار بدر کے قتل کی نفی کے محامل 

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس بن ابی حاتم رازی متوفی 327 ھ اپنی سند کے ساتھ مجاہد سے روایت کرتے ہیں : (جنگ بدر کے دن صحابہ آپس میں بحث کرنے لگے، ایک نے کہا میں نے فلاں کو قتل کیا ہے۔ دوسرے نے کہا میں نے فلاں کو قتل کیا ہے، تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : سو اے مسلمانو ! تم نے ان کو قتل نہیں کیا، لیکنا للہ نے ان کو قتل کیا ہے۔ (تفسیر امام ابن ھاتم ج 5، ص 1672 ۔ جامع البیان ج 9، ص 270، الدر المنثور، ج 4، ص 39)

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تم ان کو قتل کرنے پر فخر نہ کرو، اگر اللہ تمہاری مدد نہ فرماتا اور تمہیں حوصلہ اور قوت نہ عطا فرماتا تو تم ان کو قتل نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے بظاہر تم نے ان کو قتل کیا ہے لیکن حقیقت میں ان کو اللہ نے قتل کیا ہے، یا تم نے ان کو کسباً قتل کیا ہے اور اللہ نے ان کو خلقاً قتل کیا ہے۔ یا تم نے اس کو صورۃً قتل کیا ہے اور اللہ نے ان کو معناً قتل کیا ہے۔ اس آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ ہر اچھے اور نیک کام کی نسبت اللہ کی طرف کرنی چاہیے اور جب انسان اللہ کی توفیق سے کوئی اچھا اور نیک کام کرے تو اس پر فخر نہیں کرنا چاہیے۔

وما رمیت اذ رمیت کے شان نزول میں مختلف 

اس سلسلہ میں ایک قول یہ ہے : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ زہری سے روایت کرتے ہیں : 

ابی بن خلف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ہڈی لے کر آیا اور کہنے لگا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب یہ ہڈی بوسیدہ ہوجائے گی تو اس کو کون زندہ کرے گا ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ٹھہرو ! ٹھہرو ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دست مبارک میں نیزہ پکڑا اور ابی بن خلف کی طرف تاک کر مارا اور اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی توڑ دی، ابی بن خلف زخمی ہو کر اپنے اصحاب کی طرف پلٹا اس کے اصحاب اس کو اٹھا کرلے گئے اور کہا خطرہ کی کوئی بات نہیں۔ یہ سن کر ابی بن خلف نے کہا خدا کی قسم ! اگر میں لوگوں کے درمیان ہوتا تو وہ پھر بھی مجھے قتل کردیتے، کیا انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ انشاء اللہ میں تجھ کو قتل کردوں گا۔ اس کے اصحاب اس کو بےہوشی کی کیفیت میں لے گئے وہ راستہ ہی میں مرگیا اور انہوں نے اس کو وہیں دفن کردیا، ابن المسیب نے کہا اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی تھی ” وما رمیت اذ رمیت ” یعنی آپ نے وہ نیزہ نہیں مارا، جب آپ نے نیزہ مارا تھا، لیکن اللہ نے وہ نیزہ مارا تھا۔ (تفسیر امام ابن ابی حتم ج 5، ص 1673 ۔ الجامع لاحکام القرآن جز 7، ص 344، الدر المنثور ج 4، ص 41 ۔ المستدرک ج 2، ص 327 ۔ اسباب النزول رقم الحدیث : 471)

اس سلسلہ میں دوسرا قول یہ ہے : 

امام ابن ابی حاتم رازی متوفی 327 ھ اور امام علی بن احمد واحدی متوفی 468 ھ روایت کرتے ہیں : 

عبدالرحمن بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خیبرکے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کمان منگوائی تو ایک بہت لمبی کمان لائی گئی۔ آپ نے فرمایا کوئی اور کمان لاؤ تو ایک درمیانی کمان لائی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کمان سے یہودیوں کے قلعہ کا نشانہ لگا کر تیر مارا جو کنانہ بن ابی الحقیق کو جا کر لگا جو اس وقت بستر پر لیٹا ہوا تھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی ” یعنی آپ نے تیر نہیں مارا، جس وقت آپ نے تیر مارا تھا لیکن اللہ نے وہ تیر مارا تھا۔ (تفیسر امام ابن حاتم ج 5، ص 1674، 1673 ۔ اسباب نزول القرآن، رقم الحدیث : 472، الدر المنثور ج 4، ص 41)

اس سلسلہ میں تیسرا قول یہ ہے اور یہی جمہور مفسرین کا مکتار ہے : 

جب مسلمانوں اور کافروں کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاک کی ایک مٹھی کافروں کے چہرے پر ماری اور فرمایا یہ لوگ روسیاہ ہوجائیں تو وہ خاک سب کافروں کی آنکھوں میں پڑگئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب بڑھ کر ان کو قتل کرنے لگے اور گرفتار کرنے لگے اور ان کی شکست کا اصل سبب خاک کی وہ مٹھی تھی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھینکی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی اور (اے رسول معظم آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی جس وقت آپ نے پھینکی تھی لیکن وہ خاک اللہ نے پھینکی تھی۔ (اجمع البیان جز 9، ص 270 ۔ 272، تفسیر امام ابن ابی حاتم، ج 5، س 1673 ۔ اسباب نزول القرآن، رقم الحدیث : 473، المعجم الکبیر ج 3، رقم الحدیث : 3128، حافظ الہیثمی نے کہا اس کی سند حسن ہے۔ مجمع لازوائد ج 6، ص 84، الدر المنثور، ج 4، ص 40)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خاک کی مٹھی پھینکنے کی نفی اور ثابت کے محامل 

اس آیت سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خاک کی مٹھی پھینکنے کی نفی کی ہے اور پھر اس کو ثابت کیا ہے اور بظاہر یہ تعارض ہے۔ اس کا بھی یہی جواب ہے کہ نفی اور اثبات کے محمل الگ الگ ہیں اور معنی اس طرح ہے : آپ نے خاک کی مٹھی حقیقتا نہیں پھینکی جب آپ نے خاک کی مٹھی بظاہر پھینکی تھی یا آپ نے خاک کی مٹھی خلقا نہیں پھینکی جب آپ نے خاک کی مٹھی کسباً پھینکی تھی، یا آپ نے خا کی مٹھی بظاہر پھینکی تھی یا آپ نے خاک کی مٹھی معناً نہیں پھینکی جب آپ نے خاک کی مٹھی صورۃ پھینکی تھی، یا آپ نے خاک کی مٹھی عادۃ نہیں پھینکی جب آپ نے خاک کی مٹھی خالف عادت پھینکی تھی۔ 

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی 685 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے خاک کی مٹھی اس طرح نہیں پھینکی کہ آپ تمام کافروں کی آنکھوں میں وہ خاک پہنچا دیں، جب کہ آپ نے صورۃ خاک کی مٹھی پھینکی تھی، لیکن یہ مقصود اللہ نے پورا کیا اور وہ خاک تمام کافروں کی آنکھوں میں پہنچا دی حتی کہ وہ سب شکست کھا گئے اور آپ کافروں کی جڑ کاٹنے پر قادر ہوگئے۔ اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ آپ نے خا کی مٹھی پھینک کر ان کو مرعوب نہیں کیا جب آپ نے خاک پھینکی تھی لیکن اللہ نے ان کے دلوں میں رعب پیدا کردیا۔ (انوار التنزیل مع الکزرونی ج 3، ص 96، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1416 ھ)

علامہ منصورب بن الحسن القرشی المتوفی 860 ھ اس کے حاشیہ پر لکھتے ہیں : علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں : اکثر علماء نے اس آیت کا یہ معی کیا ہے کہ آپ نے خلقا اور حقیقتاً خاک کی مٹھی نہیں پھینکی جب کہ آپ نے کسبا اور صورۃً خاک کی مٹھی پھینکی تھی، لیکن اس پر یہ اعتراض ہے کہ تمام بندوں کے افعال اسی طرح ہیں، ظاہرا اور کسباً بندے فعل کرتے ہیں اور حقیقتاً اور خلقاً اللہ تعالیٰ فعل کرتا ہے۔ یعنی فعل کا کسب بندہ کرتا ہے اور فعل کا خلق اور اس کو پیدا اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ تو پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خاک کی مٹھی پھینکنے کی کیا خصوصیت تھی جو یہ فرمایا کہ آپ نے حقیقتاً خاک نہیں پھینکی جب آپ نے بظاہر خاک پھینکی تھی، جب کہ تمام بندوں کے افعال اسی طرح ہیں۔ اس کے جواب میں، میں یہ کہتا ہوں کہ بندہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک قدرت پیدا کی ہے جو اللہ کے اذن سے موثر ہوتی ہے پس جب اللہ سبحانہ چاہتا ہے تو وہ قدرت موثر ہوتی ہے اور جب وہ نہیں چاہتا تو وہ قدرت موثر نہیں ہوتی، یہ بات نہیں ہے کہ بندہ میں بالکل قدرت نہ ہو جیسا کہ جبریہ کہتے ہیں اور نہ یہ بات ہے کہ بندہ کی ایسی قدرت موثرہ ہے کہ اللہ جس فعل کو کرنا نہ چاہے بندہ اس فعل کو بھی کرے، اور جب یہ معاملہ اس طرح ہے تو میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ضو خاک پھینکی تھی یہ وہی ھینکنا ہو، جس پر وہ عظیم اثر مرتب ہوا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حقیقتاً یہ فعل کیا اور یہ فعل اس قدرت سے کیا جو آپ کو عطا کی گئی تھی اور جو اللہ کے اذن سے موثر تھی۔ لیکن چونکہ یہ فعل خلاف عادت اور خلاف معمول تھا کیونکہ معروف اور معمول یہ ہے کہ بندہ کو جو قدرت دی جاتی ہے اس سے اس قسم کے عظیم آثار پیدا نہیں ہوتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس فعل کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نفی کی اور اس فعل کو انا فعل قرار دیا۔ گویا کہ یوں کہا گیا کہ خاک کی اس مٹھی کا پھینکنا ہرچند کہ حقیقتاً آپ سے صادر ہوا ہے، اس قدرت کے ساتھ جو اللہ سبحانہ کے اذن سے موثر ہوئی ہے لیکن چونکہ یہ بہت عظیم الشان کام ہے اور عادۃ افعال بشر کے خلاف ہے تو گویا کہ یہ فعل آپ سے صادر نہیں ہوا، بلکہ اللہ جل شانہ سے بلا واسطہ صادر ہوا ہے، اسی طرح یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ آپ نے خاک پھینک کر ان کو مرعوب نہیں کیا جب آپ نے خاک کی مٹھی پھینکی تھی لیکن اللہ نے خاک پھینک کر ان کو مرعوب کیا اور اس طرح دونوں آیتوں کا فرق بھی واضح ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں سے اللہ نے قتل کی نفی کی اور اپنی طرف قتل کرنے کی نسبت کی اور فرمایا سو تم نے ان کو قتل نہیں کیا لیکن ان کو اللہ نے قتل کیا ہے اور مسلمانوں کے لیے اس فعل کو ثابت نہیں کیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا آپ نے خاک نہیں پھینکی جب آپ نے خاک پھینکی تھی، پہلے آپ سے اس فعل کی نفی کی پھر آپ کے لیے اس فعل کو ثابت کیا، اور وجہ فرق یہ ہے کہ قتل کرنا کوئی اس قدر مستبعد اور محیر العقول کام نہیں تھا اس لیے عام اصول کے مطابق فرمایا کہ تم نے حقیقتاً ان کو قتل نہیں کیا جب تم نے ان کو ظاہراً قتل کیا تھا، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وآلہ وسلم نے جو خاک پھینکی وہ تمام کافروں کی آنکھوں میں پڑگئی اور وہ مرعوب ہو کر شکست کھا گئے اور چونکہ یہ فعل عام افعال بشر کے منافی تھا اس لیے پہلے اس کی آپ سے مبالغۃً نفی کی اور پھر اس کو حقیقتاً آپ کے لیے ثابت کیا اور چونکہ آپ نے حقیقتا یہ فعل اللہ سبحانہ کی دی ہوئی قدرت سے کیا تھا اس لیے فرمایا اللہ نے یہ خاک پھینکی تھی۔ (روح المعانی، جز 9، ص 186 ۔ 187، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

معجزات کا مقدور ہونا 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاک کی اس مٹھی کو پھینکنا معجزہ تھا اور علامہ آلوسی کی تحقیق اور تقریر کے مطابق آپ نے یہ خاک اللہ سبحانہ کی دی ہوئی قدرت سے پھینکی تھی جو اس کے اذن سے موثر تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات ان کی قدرت اور ان کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ البتہ یہ قدرت اللہ تعالیٰ کے اذن کے تابع ہے۔ اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر جزی فعل کے صدور کے وقت تازہ اذن لیا جائے بلکہ اس کے لیے اذن کلی کافی ہے۔ جیسے شفاعت بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہیں کی جاسکتی لیکن اس کے لیے بھی اذن مطلق کافی ہے اور ہر جزی شفاعت کے لیے تازہ اذن لینا ضروری نہیں۔ چناچہ بکثرت احادیث میں ہے کہ صحابہ آپ سے استغفار کی درخواست کرتے اور آپ ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے اور کہیں یہ وارد نہیں ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے استغفار کے لیے اذن لیتے پھر استغفار کرتے، سو یہی حال معجزات کا ہے۔ 

اچھی آزمائش کا معنی 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا تاکہ وہ مومنوں کو اچھی آزمائش کے ساتھ گزارے مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت میں آزمائش کا معنی انعام ہے، یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس خاک پھینکنے کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عظیم نعمت عطا فرمائے گا اور وہ نعمت معرکہ بدر میں مسلمانوں کی فتح ہے اور مال غنیمت اور اجر وثواب ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معرکہ بدر کی فتح کے بعد اللہ عزوجل مسلمانوں کو آزمائش میں ڈالے گا کہ اس کے بعد کی جنگوں میں وہ بدر کی فتح کے گھمنڈ میں چور ہوجاتے ہیں یا حسب سابق عجز و نیاز کے پیکر بنے رہتے ہیں یا آئندہ وہ اپنی قوت اور عددی برتری پر اتراتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر نگاہ رکھتے ہیں۔ 

پھر فرمایا ” اللہ کفار کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے ” یعنی اللہ سبحانہ کفار کے دلوں میں رعب ڈال دے گا، حتی کہ وہ بکھر کر کمزور ہوجائیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 17