أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ عَلِمَ اللّٰهُ فِيۡهِمۡ خَيۡرًا لَّاَسۡمَعَهُمۡ‌ؕ وَلَوۡ اَسۡمَعَهُمۡ لَـتَوَلَّوْا وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور اگر اللہ کے علم میں ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ان کو ضرور سنا دیتا، اور اگر (بالفرض) وہ ان کو سنا دیتا تو وہ ضرور اعراض کرتے ہوئے پشت پھیر لیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر اللہ کے علم میں ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ان کو ضرور سنا دیتا، اور اگر (بالفرض) وہ ان کو سنا دیتا تو وہ ضرور اعراض کرتے ہوئے پشت پھیر لیتے۔

اللہ تعالیٰ کی معلومات واقعیہ اور اس کی معلومات فرضیہ 

اس آیت کا لفظی معنی اس طرح ہے اگر اللہ کو ان میں کسی خیر کا علم ہوتا تو وہ ان کو ضرور سنا دیتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کو ان میں کسی خیر کا علم نہیں ہے اور اللہ کو جس چیز کے ہونے کا علم نہ ہو اس کا ہونا محال ہے، یعنی اللہ کو اس چیز کے متعلق یہ علم ہوگا کہ وہ نہیں ہے۔ کیونکہ اگر کوئی چیز فی نفسہ نہ ہو اور اللہ کو یہ علم ہو کہ وہ ہے تو یہ علم خلاف واقع ہوگا، اور جو علم خلاف واقع ہو وہ جہل ہوتا ہے، اور اللہ کے واقع کے مطابق ہے، لہا جو چیز ہے اس کے متعلق اللہ کو علم ہوگا کہ وہ نہیں ہے، اور چونکہ ان میں کوئی خیر نہیں تھی اس لیے اللہ کو علم تھا کہ ان میں کوئی خیر نہیں ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے یوں تعبیر فرمایا کہ اللہ کو ان میں کسی خیر کا علم ہوتا یعنی اللہ کو ان میں کسی خیر کا علم نہیں ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ کو ان میں کسی خیر کا علم ہوتا تو وہ ان کو دین کے حق کے دلائل اور آخرت کے متعلق نصیحتیں سناتا اور ان کے ذہنوں اور دماغوں میں اس کی فہم پیدا کرتا، اور اگر وہ یہ جاننے کے باوجود کہ ان میں کوئی خیر نہیں ہے اور وہ دلائل اور نصائح سے کوئی نفع حاصل نہیں کریں گے، پھر بھی ان کو دلائل اور نصائح سنا دیتا تو وہ ضرور اعراض کرتے ہوئے پیٹھ پھیر لیتے۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ فرماتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کی معلومات کی چار قسمیں ہیں۔ (1) تمام موجودات (2) تمام معدومات (3) اگر ہر موجود نہ ہوتا تو اس کا کیا حال ہوتا (4) اگر ہر معدوم موجود ہوتا تو اس کا کیا حال ہوتا۔ پہلی دو قسموں کا علم واقع کا علم اور بعد کی دو قسموں کا علم فروضات کا علم ہے اور یہ واقعات کا علم نہیں ہے۔ اس کی نظیر قرآن مجید میں منافقین کے متعلق یہ آیت ہے : ” الم تر الی الذین نافقوا یقولون لاخوانہم الذین کفرو من اھل الکتاب لئن اخرجتم لنخرجن معکم ولا نطیع فیکم احدا ابدا و ان قوتلتم لننصرنکم واللہ یشہد انہم لکذبون۔ لئن اخرجوا لا یخرجون معہم ولئن قوتلوا لا ینصرونہم و لئن نصروھم لیولن الادبار ثم لا ینصرون : کیا آپ نے ان منافقوں کو نہ دیکھا جو اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم کو نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور تمہارے متعلق ہم کسی کی اطاعت نہیں کریں گے اور اگر تم سے قتال کیا گیا تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور تم سے قتال کیا گیا تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ (منافق) یقیناً جھوٹے ہیں۔ اگر وہ (اہل کتاب) نکالے گئے تو منافق ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے قتال کیا گیا تو وہ ضرور پیٹھ بھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کی کہیں سے مدد نہیں کی جائے گی ” (الحشر :11 ۔ 12)

اس آیت میں یہ جو فرمایا ہے کہ اگر منافقوں نے اہل کتاب کی مدد کی تو وہ ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے یہ مفروضات کا علم ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ منافقین کا یہ کہنا جھوٹ ہے کہ وہ اہل کتاب کی مدد کریں گے تو ان کا اہل کتاب کی مدد کرنا محال ہے۔ اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے برسبیل فرض فرمایا ہے کہ اگر انہوں نے ان کی مدد کی تو وہ ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔

اور مفروضات کے علم کی دوسری مثال یہ آیت ہے : ” ولو ردوا لعادوا لما نھو عنہ : اور اگر (بالفرض) یہ کافر دنیا میں دوبارہ بھیج دیے گئے تو پھر یہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا تھا ” (الانعام :28)

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اگر معدوم چیز موجود ہوجائے تو اس کا کیا حال ہوگا اور یہ ایک فرضی چیز کی مثال ہے۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 470 ۔ 471، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید میں اس کی اور بھی مثالیں ہیں۔ 

” قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العابدین : آپ کہئے اگر (بالفرض) رحمان کا بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرنے والا ہوتا ” (الزخرف :81) ۔ اس آیت میں معدوم چیز کا حال بیان فرمایا ہے اور یہ بھی فرضی چیز کا علم ہے۔

” لو کان فیہما الہۃ الا اللہ لفسدتا : اگر زمین و آسمان میں (بالفرض) اللہ کے سوا اور بھی خدا ہوتے تو آسمان اور زمین کا نظام الٹ پلٹ ہوجاتا “۔ 

” فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فسئل الذین یقرءون الکتب من قبلک : پس اگر (بالفرض) آپ کو اس چیز کے متعلق شک ہو جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ لیجئے جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں ” (یونس :94)

آپ کا قرآن مجید میں شک کرنا معدوم ہے لیکن بالفرض اگر اس کا وقوع ہو تو اس کا حال بیان فرمایا ہے۔ ” لئن اشرکت لیحبطن عملک : اگر (بالفرض) آپ نے (بھی) شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہوجائیں گے۔ (الزمر :65) “

آپ کا شرک کرنا محال ہے لیکن بہ فرض وقوع اس کا حال بیان فرمایا ہے۔ 

قرآن مجید میں اس طرح کی اور بھی بہت مثالیں ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 23