أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ‌ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمُ‌ ۚ اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡ‌ؕ وَمَا تُـنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيۡكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور (اے مسلمانو ! ) تم بہ قدر استطاعت، ان (سے مقابلہ) کے لیے ہتھیار تیار رکھو اور بندھے ہوئے گھوڑے اور ان سے تم اللہ کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو مرعوب کرو اور ان کے سوا دوسرے دشمنوں کو جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے اور تم اللہ کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کروگے اس کا تمہیں پورا پورا اجر دیا جائے گا اور تم پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مسلمانو ! ) تم بہ قدر استطاعت، ان (سے مقابلہ) کے لیے ہتھیار تیار رکھو اور بندھے ہوئے گھوڑے اور ان سے تم اللہ کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو مرعوب کرو اور ان کے سوا دوسرے دشمنوں کو جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے اور تم اللہ کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کروگے اس کا تمہیں پورا پورا اجر دیا جائے گا اور تم پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا 

حضرت ابو سعید خدری (رض) نے ایک طویل حدیث روایت کی ہے اس میں غضب کے متعلق آپ کا ارشاد ہے۔

سنو ! غضب ایک انگارہ ہے جو ابن آدم کے پیٹ میں جلتا رہتا ہے کیا تم (غضبناک شخص کی) آنکھوں کی سرخی اور اس کی گردن کی پھولی ہوئی رگوں کو نہیں دیکھتے پس تم میں سے وہ شخص غضب میں آئے وہ زمین کو لازم پکڑے سنو ! بہترین آدمی وہ شخص ہے جو بہت دیر سے غضب میں آئے اور بہت جلد راضی ہوجائے اور بدترین آدمی وہ شخص ہے جو بہت جلد غضب میں آئے اور بہت دیر سے راضی ہو اور جو شخص دیر سے غضب میں آئے اور دیر سے راضی ہو اور جو شخص جلدی غضب میں آئے اور جلدی راضی ہو تو یہ (بھی) اچھی خصلت ہے۔

(مسند احمد ج ١٠ رقم الحدیث ١١٠٨٦ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ ١٤١٦ ھ حافظ شاکر نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے سنن الترمذی رقم الحدیث ٢١٩٨ امام ترمذی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ٤٠٠٠ صحیح ابن حبان ج ٨ رقم الحدیث ٣٢٢١ ) ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم لوگ رقوب کسی کو شمار کرتے ہو ؟ ہم نے کہا جس شخص کے ہاں اولاد نہ ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ رقوب نہیں ہے رقوب وہ شخص ہے جس کی (نابالغ) الاد میں سے اس کی زندگی میں کوئی فوت نہ ہو (حتیٰ کہ وہ اس کے لیے فرط اور سلف ہوجائے) پھر فرمایا تم لوگ پہلوان کس کو شمار کرتے ہو ؟ ہم نے کہا کہ جس کو لوگ پچھاڑ نہ سکیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ پہلوان نہیں ہے پہلوان وہ ہے جو غضب کے وقت خود کو قابو میں رکھنے پر قادر ہو۔

(صحیح مسلم البروالصلہ ١٠٦ (٢٦٠٨) ٦٥١٨ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١١٤ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٧٩ موطا امام مالک رقم الحدیث : ٥٦٥ مسند احمد ج ٤ ص ٢٣٦ الادب المفردرقم الحدیث : ١٣١٧ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث : ٦١٩٩) ۔

عروہ بن محمد السعدی اپنے باپ سے اور وہ اپنی دادی عطیہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا غضب شیطان سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو صرف پانی سے بجھایا جاتا ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی شخص غضبناک ہو تو وہ وضو کرے۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٨٤ مسند احمد ج ٤ ص ٢٢٦ جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٢٠١)

حضرت ابوذر غفاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص غضب میں آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے۔ اگر اس کا غضب دور ہوگیا تو فبہا ورنہ لیٹ جائے۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٨٢ مسند احمد ج ٥ ص ١٥٢ جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٢٠٢) ۔

کیونکہ جو شخص کھڑا ہوا ہو وہ اپنے ہاتھ پیر چلانے پر بیٹھے ہوئے شخص کے بہ نسبت زیادہ قادر ہوتا ہے اور بیٹھا ہوا شخص اس کی بہ نسبت کم قادر ہوتا ہے اور لیٹا ہوا شخص اور بھی کم قادر ہوتا ہے۔

حضرت سلیمان بن صرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہاں دو شخص ایک دوسرے پر سب وشتم کررہے تھے اور جب ان میں سے ایک شخص دوسرے کو برا کہہ رہا تھا تو اس کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے ایک ایسے کلمہ کا علم ہے اگر یہ شخص اس کو پڑھ لے تو اس کا غضب جاتا رہے گا تب ایک شخص اس کے پاس گیا اور کہا تم پڑھو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اس نے کہا کیا مجھے کوئی بیماری ہوئی ہے ؟ یا میں مجنون ہوں جائویہاں سے۔

(صحیح مسلم البروالصلہ ١٠٩ (٢٦١٠) ٦٥٢٣ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٨٢ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٨١ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٤٥٩ مسند احمد ج ٦ ص ٣٩٤ الادب المفردر قم الحدیث : ٤٣٤ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث : ٦٢٠٣) ۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : مجھے وصیت کیجئے اور مجھے زیادہ احکام نہ بتائیں یا اس نے کہا مجھے حکم دیجئے اور مجھے کم سے کم باتیں فرمائیں تاکہ میں بھول نہ جائوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم غضب نہ کرو۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١١٦ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٢٧ موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٦٨٠ مسند احمد ج ٢ ص ٤٦٦ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث : ٦٢٠٥) ۔

حضرت معاذ بن انس جنسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے غضب کے تقاضوں کو پورا کرنے پر قادر ہو اور وہ اپنا غضب ضبط کرلے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کو تمام لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اس کو یہ اختیار دے گا کہ وہ جو حور چاہے لے لے۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٧٧ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٢٨ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٨٦ مسند احمد ج ٣ ص ٤٣٨ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث : ٦٢٠٦) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 60