¹ دم ² دوائی ³ پرہیز
sulemansubhani نے Monday، 23 March 2020 کو شائع کیا.
رحمتِ عالم ﷺ کے حضور عرض کی گئی :
یارسول اللہ ! یہ جو دم ( کے کلمات ہوتے ) ہیں ، جن کےساتھ ہم دم کرتے ہیں ، اور دوائیں ، جن کے ذریعے علاج کرتے ہیں ، اور حفاظتی چیزیں ، جن کے ذریعے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں ؛ کیا یہ تقدیرِ الہی کو ٹال سکتے ہیں ؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
یہ تو خود اللہ کی تقدیر سے ہیں ۔
( اللہ پاک چاہتا ہے کہ میرا بندہ جب بیمار ہو تو وہ دم کروائے ، دوائی لے ، حفاظتی اقدامات کرے اور میں اسے شفا سے نوازوں ۔ )
سنن الترمذی ، ر 2065 ، قال الترمذی: ھذا حدیث حسن صحیح
اس حدیث پاک پر غور کریں !
رسول اللہ ﷺ سے بیماری کے تین طریقۂ علاج پوچھے گئے:
¹ دم
² دوائی
³ پرہیز
سرکار نے تینوں طریقوں کو برقرار رکھا اور اللہ کی تقدیر قرار دیا ۔
جب ہم بیمار ہوجائیں تو اللہ پاک سے شفا کیامید رکھتے ہوئے ، ہمیں ان تینوں طریقوں سے علاج کرنا چاہیے ۔
مجھے کچھ سال پہلے ایک مرض لاحق ہوا تھا ، میں نے اس کا دوائی کے ذریعے علاج کیا ، پرہیز بھی بہت کیا ، لیکن افاقہ نہ ہوا ۔
ایک دن مسجد میں بیٹھے اچانک خیال آیا کہ کیوں نہ خود کو دم کروں ۔
الحمدللہ ، میں نے صدق دل سے اپنے آپ کو دم کیا تو اللہ کے حکم سے میرا مرض جاتا رہا ۔
کرونا وائرس کے مبتلاؤں کو دوائی لینی چاہیے ، پرہیز بھی کرنا چاہیے اور ساتھ ساتھ اپنے اوپر دم بھی کرنا یا کروانا چاہیے ۔
اگر ہوسکے تو دم کے یہ الفاظ پڑھیں جو دم بھی ہیں ، دعا بھی ہیں ، اور رسولپاک ﷺکی زبان مبارک سے ادا بھی ہوئے ہیں:
اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ ، اَذْهِب البَأسَ ، وَاشْفِ أنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَآءَ إِلاَّ شِفآؤُكَ ، شِفَآءً لَا يُغَادِرُ سَقماً ۔
ان کے علاوہ سات دفعہسورت فاتحہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیں ۔
اللہ پاککی رحمت سے کوئی بعید نہیں کہ اس کی برکت سے شفاے کاملہ عطافرمادے ۔
✍️لقمان شاہد
22-3-2020 ء