أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّمَنۡ فِىۡۤ اَيۡدِيۡكُمۡ مِّنَ الۡاَسۡرٰٓىۙ اِنۡ يَّعۡلَمِ اللّٰهُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ خَيۡرًا يُّؤۡتِكُمۡ خَيۡرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنۡكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اے نبی ! ان قیدیوں سے کیے جو آپ کے قبضہ میں ہیں، اگر اللہ تمہارے دلوں کی کسی نیکی کو ظاہر فرمائے گا تو وہ تم کو اس سے بہت زیادہ دے گا جو (بہ طور فدیہ) تم سے لیا گیا ہے اور اللہ تم کو بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ا ے نبی ان قیدیوں سے کہیے جو آپ کے قبضہ میں ہیں اگر اللہ تمہارے دلوں کی کسی نیکی کو ظاہر فرمائے گا تو وہ تم کو اس سے بہت زیادہ دے گا جو (بطور فدیہ) تم سے لیا گیا ہے اور اللہ تم کو بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے (الانفال : 70)

بدر میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے غیب کی خبر دینے سے متاثر ہو کر حضرت عباس کا مسلمان ہونا 

امام احمد بن حنبل متوفی 241 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

امام محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ جس شخص نے عکرمہ سے سنا اس نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ عکرمہ حضرت ابن عباس (رض) عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص نے ( جنگ بدر میں) عباس بن عبد المطلب کو گرفتار کیا وہ ابو الیسر کعب بن عمرو تھے۔ ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا۔ ان سے رسول اللہ صللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اے ابو الیسر ! تم نے اس کو کیسے گرفتار کیا تھا ؟ انہوں نے کہا اس معاملہ میں ایک ایسے شخص نے میری مدد کی تھی جس کو میں نے اس سے پہلے دیکھا تھا نہ اس کے بعد، اس کی ایسی ایسی ہیئت تھی۔ تب رسول اللہ صللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری مدد ایک مکرم فرشتے نے کی تھی۔ اور عباس سے فرمایا اے عباس تم اپنا فدیہ بھی دو اور اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن الحارث کا فدیہ بھی دو اور اپنے حلیف عتبہ بن حجدم کا فدیہ بھی دو جن کا تعلق بنوالحارث بن فھر سے ہے۔ عباس نے ان کا فدیہ دینے سے انکار کیا اور کہا میں اس غزوہ سے پہلے اسلام قبول کرچکا تھا، یہ لوگ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لائے ہیں۔ آپنے فرمایا اللہ تمہارے معاملہ کو خوب جاننے والا ہے اگر تمہارا دعویٰ برحق ہے تو اللہ تم کو اس کی جزا دے گا۔ لیکن تمہارا ظاہر حال یہ ہے کہ تم ہم پر حملہ آور ہوے ہو سو تم اپنا فدیہ ادا کرو۔ اور رسول اللہ صللہ علیہ وسلم اس سے بیس اوقیہ سونا (بطور مال غنیمت) وصول کرچکے تھے۔ عباس نے کہا یارسول اللہ اس بیس اوقیہ سونے کو میرے فدیہ میں کاٹ لیجئے۔ آپ نے فرمایا نہیں ! یہ وہ مال ہے جو اللہ نے ہمیں تم سے لے کردیا ہے۔ عباس نے کہا میرے پاس ارمال تو نہیں ہے، آپ نے فرمایا وہ مال کہاں ہے جو تم نے مکہ سے روانگی کے وقت ام الفضل کے پاس رکھا تھا اس وقت تم دونوں کے پاس اور کو نہیں تھا۔ اور تم نے یہ کہا تھا کہ اگر میں اس مہم میں کام آگیا تو اس مال میں سے اتنا فضل کو دینا، اتنا قثم کو دینا اور اتنا عبداللہ کو دینا۔ تب عباس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میرے اور ام الفضل کے سوا اس کو اور کو نہیں جانتا اور اب مجھے یقین ہوگیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔

(مسند احمد ج 1، ص 353، طبع قدیم، دار الفکر مسند احمد ج 1 رقم الحدیث :3310 طبع جدید، دارالفکر شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند ضعیف ہے کیونکہ امام محمد بن اسحاق اور عکرمہ کے درمیان راوی مجہول ہے، مسند احمد ج 1، رقم الحدیث :3310، مطبوعہ دار الحدیث قاہرہ، 1416 ھ، حافظ الہیثمی نے کہا اس کی سند میں ایک راوی کا نام مذکور نہیں ہے اور اس کے باقی تمام رجال ثقہ ہیں، مجمع الزوائد ج 2، ص 86 امام محمد بن سعد متوفی 230 نے اس حدیث کو دو مختلف سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور یہ دونوں سندیں متصل ہیں ۔ طبقات کبری ج 4، ص 9-10، 10-11، مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت، 1418 ھ، طبقات کبری ج 13-14، 15، مطبوعہ دار صادر بیروت، 1388 ھ، امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری نتوفی 405 ھ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عاشہ (رض) سے روایت ہے اور لکھا ہے کہے ہ حدیث امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو روایت نہیں کیا، حافظ ذہبی نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور اس پر کوئی جرح نہیں کی ۔ المستدرک ج 3، ڈ 324، مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ، امام ابو نعیم الاصبہانی المتوفی 430 ھ نے بھی اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، دلائل انبوۃ ج 2، ص 476، رقم الحدیث :409، مطبوعہ دارالنفائس، بیروت، حافظ ابوالقاسم علی بن الحسن المعروف بابن العساکر، المتوفی 571 ھ نے بھی اس کو روایت کیا ہے ۔ تہذیب تاریخ و مشق، ج 7، ص 233، مطبوعہ دار احیاء اتراث العربی، بیروت، مختصر تاریخ ومشق، ج 11، ص 330-329، علامہ ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ السہیلی المتوفی 571 ھ نے اس لا ذکر کیا ہے، الروض الائف، ج 2، ص 93، مطبوہ ملتان، امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی نے اس حدیث کو زہری اور ایک جماعت سے روات کیا ہے، دلائل النبوۃ، ج 3، ص 143-142، حافظ ابن کثیر، متوفی 774 ھ نے بھی اس کا از محمد بن اسحاق ازابی نجیح از عطا از ابن عباس ذکر کیا ہے اور یہ بھی سند متصل ہے السیرۃ النبویہ، ج 3، ص 402، مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت، 1417 ھ ۔ البدایہ والنہایہ، ج 3، ص 699، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1393 ھ، تفسیر ابن کثیر، ج 3، ص 349، مطبوعہ ادارہ الاندلس بیروت 1375 ھ، علامہ محمد بن یوسف شامی متوفی 942 ھ نے بھی اس کا اپنی سیرت میں ذکر کیا ہے سیل الھدیٰ والرشاد ج 4، ص 69، نفسرین نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے، علامہ ابوالحسن بن محمد مادردی، متوفی 450 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے، النکت والعیون، ج 2، ص 334-333، موسسہ الکتب الثقافیہ، بیروت، امامالحسین بن مسعود الفراء البغوی، متوفی 516، نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے، اس کے آخر میں ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے رسول ہیں، بیشک آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اس بات پر اللہ کے سوا اور کوئی نطلع نہیں تھا، معالم التنزیل، ج 2، ص 220، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1414 ھ، امام حاکم اور امام بیہقی کی روایت میں بھی یہی الفاظ میں، علامہ جار اللہ محمود بن عمر زمحشری، متوفی 568 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے، الکشاف ج 2، ص 238، مطبوعہ ایران، امام ابوالحسن علی بن احمد الواحدی 469 ھ نے کلبی کی روایت سے اس کا ذکر کیا ہے، اسباب النزول، ص 245، رقم الحدیث 489، امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھنے اس کا ذکر کیا ہے، تفسیر کبیر، ج 5، ص 513، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت 1415 ھ، علامہ ابوالفرج محمد بن علی جوزی متوفی 577 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے، زادالمسیر، ج 3، ص 383، مطبوعہ مکتب اسلانی بیروت، 1407 ھ، علامہ ابوعبداللہ بن محمد قرطبی 668 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے، الجامع لا حکام القران جز 8، ص 409، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ، علامہ عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی 685، نے اس کا ذکر کیا ہے، انوارالتنزیل مع الکازرونی، ج 3 ص 123، مطبوعہ دارالفکر بیروت، علامہ علی بن محمد خازن متوفی 725 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے، لباب التاویل، ج 2، ص 411، مطبوعہ پشاور، علامہ نطام الدین حسین بن محمد قمی متوفی 728 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے، غرا ئب القرآن، ج 3، ص 421، دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1416 ھ، علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی 754 نے اس کا ذکر کیا ہے، البحرالمحیط، ج 5، ص 355، مطبوعہ 1412 ھ، شیخ محمد بن علی شوکانی متوفی 1250 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے، فتح القدیر، ج 3 ص 421، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت، شیخ سلیمان بن عمرالمعروف بالجمل متوفی 1204 ھ نے اس کا ذ کر کیا ہے، المفتوحات الالھیہ، ج 2 ص 258، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کرا چی، علامہ سید محمودآلوسی نے اس کا ذ کر کیا ہے، روح المعانی، ج 10، ص 37-36، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی 1396 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے، معارف القرآن، ج 4 ص 290، مطبوعہ ادارت المعارف کراچی، 1397 ھ، شیعہ مفسرین میں سے سید محمد حسین طباطبائ نے اس کا ذکر کیا ہے، المیزان، ج 9، ص 142، مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ، طہران، شیخ فضل بن حسن طبرسی متوفی اصاد قین، ج 4، ص 215، مطبوعہ ایران، غیر مقلدین میں سے نواب صدیق حسن خان بھوپالی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے، فتح البیان، ج 5، ص 218 ۔ 217، مطبوعہ المکتبہ العصریہ، بیروت، 1412 ھ)

اس حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کا ثبوت ہے، اور یہ علم غیب آپکو اللہ عزو جل کی عطا سے حاصل ہوا تھا۔ ہم نے اس کے ثبوت میں اسقدر حوالہ جات اس لیے ذکر کیے ہیں تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ ہر مکتب فکر کے قدیم اور جدید علما اسلام کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم ٖیطب مسلم اور غیرنزاعی ہے۔

بدر کے قیدیوں سے جو مال غنیمت لیا گیا تھا مسلمان ہونے کے بعد ان کو اس سے زیا دہ مال مل جانا۔

امام محمد بن اسحاق المطلبی متوفی 151 ھ لکھتے ہیں :

حضرت عباس بن عبدالمطلب کہتے تھے کہ یہ آیت مبارکہ یا ایھا النبی قلمن فی اید یکم من ال اسری (الانفال :70) اللہ کی قسم میرے متعلق نازل ہوئی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تاکہ میں مسلمان ہوچکا ہوں اور میں نے کہا تھا کہ میرے میرے بیس اوقیا (آٹھ سودرہم) جو مجھ سے لیے گئے ہیں وہ مجھے واپس کردیے جائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نے اس کا انکار کیا پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان بیس اوقیہ کے بدلہ میں بیس غلام عطا کیے جن میں سے ہر ایک میرے مال کی تجا رت کرتا تھا۔ 

(سیرۃ امام ابن اسحاق، مطبوعہ 1368 ھ، مطبوعہ معارف اسلامی ایران )

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد اطبرانی متوفی 340 ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عباس بن عبدالمطلب نے فرمایا بہ خدا یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئ ہے جب میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ذکر کیا کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں اور یہ سوال کیا کہ مجھ سے جو بیس اوقیہ لیے ہیں ان کو فدیہ کی رقم میں کاٹ لیا جائے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انکار کیا۔ پھر اللہ نے مجھے ان بیس اوقیہ کے بدلہ میں بیس غلام عطاکیے۔ جن میں سے ہر ایک میرے مال کی تجارت کرتا ہے۔ علاوہ ازیں میں اللہ عزوجل سے مغفرت کی امید بھی رکھتا ہوں۔

(المعجم الاوسط، ج 9، ص 94، رقم الحدیث :8103، مطبوعہ ریاض، المعجم الکبیرج 1، ص 

137، رقم الحدیث :113989 )

امام محمد بن سعد متوفی روایت کرتے ہیں :

حضرت عباس نے فرمایا مجھ سے جو بیس اوقیہ لیے گئے تھے اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بیس غلام عطا کیے جن میں سے ہر ایک میرے مال کی تجارت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے زم زم عطا فرمایا اور اگر مجھے زم زم کے بدلہ میں تمام اہل مکہ کا مال دیا جاتا تو وہ میں پسند نہ کرتا، اور اس کے علاوہ میں اپنے رب سے مغفرت کی امید رکھتا ہوں (الطبقات الکبری، ج 4، ص 15، مطبوعہ دار صادر، بیروت، ج 1، ص 10، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1418 ھ)

ہر چند کہ اس آیت کے نزول کا سبب حضرت عباس (رض) کو زیادہ مال مل جانا ہے لیکن اس آیت کا حکم تمام بدر کے قید یوں کو شامل ہے کیونکہ آیت کے الفاظ میں عموم ہے۔ مثلاً آپ ان لوگوں سے کہیے جو آپ کے قبضہ یا آپ کی قید میں ہیں اور فرمایا جو قیدی ہیں، اور فرمایا تمہارے دلوں میں، اور فرمایا اللہ تمہیں اس سے زیادہ دے گا، اور فرمایا جو تم سے لیا گیا تھا، اور فرمایا تم کو بخش دے گا یہ سب عام الفاظ ہیں۔ اور جب خصو صیت مورد اور عموم الفاظ میں تعارض ہو تو ان الفاظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے خصوصیت مورد کا اعتبار نہیں ہوتا۔ اس آیت میں فرمایا ہے 

جو کچھ تم سے لیا گیا ہے وہ تم کو اس سے خیر (زیادہ اچھی چیز) دے گا، اس خیر سے زیا دہ مال بھی مرادہوسکتا ہے۔ لیکن زیادہ بہتر یہ ہے اس سے ایمان اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کو مراد لیا جائے اور یہ کہ وہ کفر اور تمام بری باتوں سے توبہ کریں گے اور مسلمانوں کے خلاف لڑنے سے توبہ کریں گے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصرت کریں گے۔

اللہ تعالیٰ کا علم ماضی، حال اور مستقبل، تمام زمانوں پر محیط ہے 

اس آیت کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے : اگر اللہ تمہارے دلوں میں کسی خیر کو جان لے گا تو تم کو اس سے زیادہ بہتر چیز عطا فرمائے گا جو تم سے بہ طور مال غنیمت لیا گیا ہے۔ 

بعض لوگوں کا یہ مسلک ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کا اس وقت علم ہوتا ہے جب وہ چیز حادث ہوتی ہے۔ ان کی دلیل یہ آیت ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے قیدیوں کے دلوں میں خیر کے جاننے کو شرط اور ان کو اس سے بہتر چیز عطا کرنے کو جزا بنایا ہے اور شرط اور جزاء کا تحقق مستقبل میں ہوتا ہے۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم نہیں تھا جب ان کے دلوں میں خیر ہوگی تو اللہ اس کو جان لے گا۔ امام رازی متوفی 606 ھ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس آیت کا ظاہر تو اسی طرح ہے جس طرح ان لوگوں نے تقریر کی ہے لیکن جب دلائل سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا حادث ہونا محال ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کی صفات حادث ہوں تو وہ محل حوادث ہوگا اور محل حوادث حادث ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ قدیم اور واجب الوجود ہے، اس لیے اس آیت میں علم سے مراد معلوم ہے۔ یعنی جب یہ معلوم (ان کے دلوں کی خیر) حادث ہوگا تو اللہ ان کو اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا جو ان سے لی گئی تھی۔ (تفسیر کبیر، ج 5، ص 514، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

ہمارے شیخ علامہ سید احمد سعید کاظمی متوفی 1406 ھ قدس سرہ العزیز نے اس آیت میں علم کا معنی علم ظہور کیا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے علم کا حادث ہونا لازم نہیں آتا۔ وہ لکھتے ہیں : 

اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں کسی بھلائی کو ظاہر کردیا تو تمہیں اس سے بہتر دے گا جو تم سے (فدیہ) لیا گیا ہے۔ 

اب ہم اس آیت کے چند مزید تراجم پیش کر رہے ہیں : 

شیخ سعدی شیرازی متوفی 691 ھ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : 

اگر دان خدا در دل ہائے شما نیکی بدھد شمارا بہتر از آنچہ گرفتند از شما۔ 

شاہ ولی اللہ دہلوی متفی 1176 ھ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : 

اگر داند خدا در دل شما نیکی البتہ بدھد شمارا بہتر از آنچہ گرفتہ از شما۔

شاہ رفیع الدین متوفی 1233 ھ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں۔ 

اگر جانے گا اللہ بیچ دلوں تمہارے کے بھلائی دیوے گا تم کو بھلائی اس چیز سے کہ لیا گیا ہے تم سے۔ 

شاہ عبدالقادر متوفی 1230 ھ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : 

اگر جانے اللہ تمہارے دلوں میں کچھ نیکی تو دے گا تم کو بہتر اس سے جو تم سے چھن گیا۔ 

اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی 1340 ھ قدس سرہ اس آیت کے ترجمہ میں تحریر فرماتے ہیں : 

اگر اللہ نے تمہارے دل میں بھلائی جانی تو جو تم سے لیا گیا اس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا۔ 

شیخ محمود الحسن متوفی 1339 ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : 

اگر جانے گا اللہ تمہارے دلوں میں کچھ نیکی تو دے گا تم کو بہتر اس سے جو تم سے چھن گیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 70