أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِذَا انْسَلَخَ الۡاَشۡهُرُ الۡحُـرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَيۡثُ وَجَدْتُّمُوۡهُمۡ وَخُذُوۡهُمۡ وَاحۡصُرُوۡهُمۡ وَاقۡعُدُوۡا لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٍ‌ ۚ فَاِنۡ تَابُوۡا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوۡا سَبِيۡلَهُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

پس جب حرمت والے مہینے گذر جائیں تو تم مشرکین کو جہاں پائو قتل کردو، ان کو گرفتار کرو، اور ان کا محاصرہ کرو اور ان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ، بیشک اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو تم مشرکین کو جہاں پائو قتل کردو، ان کو گرفتار کرو اور ان کا محاصرہ کرو اور ان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے (التوبہ : ٥)

مشکل اور اہم الفاظ کے معانی :

انسلخ : سلخ کا معنی ہے جانور کی کھال اتارنا، پھر اس کو زرہ اتارنے کے لیے بھی استعارہ کیا ہے۔ (المفردات ج ٢ ص ٣١٤) یہاں اس کا معنی ہے جب حرمت والے مہینے گزر جائیں زمانہ کے گزرنے کو جانور کی کھال اتارنے سے تشبیہ دی ہے کیونکہ جس طرح کھال جانور کو محیط ہوتی ہے، اسی طرح مہینہ اپنے دنوں کو محیط ہوتا ہے اور جب ایک مہینہ گزر جاتا ہے تو وہ ان دنوں سے منفصل ہوجاتا ہے جن کو وہ محیط تھا۔ الاشھر الحرم : حرمت والے مہینے، ان مہینوں سے مراد یا تو وہ مہینے ہیں جن مہینوں کی مشرکین کو مہلت دی گئی تھی، اور امام ابوبکر رازی کی تحقیق کے مطابق وہ مہینے ١٠ ذوالقعدہ سے لے کر ١٠ ربیع الاول تک ہیں، اور یا ان مہینوں سے مراد وہ مہینے ہیں جن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے قتال حرام تھا، ان کا بیان اس حدیث میں ہے : حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ اپنی اصل ہیئت پر گھوم کر آچکا ہے، جس ہیئت پر وہ اس دن تھا جب اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا، سال میں بارہ مہینے ہیں ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، تین مہینے مسلسل ہیں : ذوالقعدۃ، ذوالحجہ، محرم اور قبیلہ مضر کا رجب جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔ الحدیث۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٥٠، ٤٦٦٢، ٣١٩٧، صحیح مسلم رقم الحدیث ١٦٧٩، سنن ابودائود، رقم الحدیث : ١٩٤٧) وخذوھم : ان کو گرفتا کرکے پکڑ لو، الاخیذ کا معنی ہے الاسیر۔ واحصروھم :ـ الحصر اور الاحصار کا معنی ہے گھر کے راستہ کو بند کردینا، ظاہری ممانعت اور باطنی ممانعت دونوں کے لیے یہ لفظ مستعمل ہے، ظاہری ممانعت جیسے دشمن کا محاصرہ کرنا اور باطنی ممانعت جیسے مرض کسی مریض کو کسی کام سے روک دے۔ الحصر کا معنی تنگی کرنا بھی ہے اور واحصروھم کا معنی ہے ان پر تنگی کرو اور زمین پر آزادی کے ساتھ ان کے چلنے پھرنے کو بند کردو۔ (المفردات ج ١ ص ١٥٨) یعنی ان کو باہر نکلنے اور دوسرے شہروں میں منتقل ہونے سے منع کرو، ان کے گھروں اور ان کے قلعوں کا محاصرہ کرو حتیٰ کہ وہ قتل کیے جائیں یا اسلام قبول کرلیں۔ واقعدوالھم کل مرصد : رصد کا معنی ہے کسی چیز پر نگاہ رکھنے کی تیاری کرنا اور مرصد کا معنی ہے کسی چیز پر نگاہ رکھنے کی جگہ۔ (المفردات ج ١ ص ٢٦٠) یعنی ان تمام جگہوں پر نظر رکھو جہاں سے مشرکین گزر سکتے ہیں اور کسی دوسرے شہر کی طرف نکل سکتے ہیں۔ اس آیت کی آیت سابقہ سے مناسبت یہ ہے کہ یہ آیت اس سے پہلی آیتوں پر متفرع ہے، کیونکہ اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے برات کا اعلان فرما دیا تھا اور ان کو چار ماہ کی امان دی تھی اور اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ چار ماہ گزرنے کے بعد مسلمانوں پر کیا لازم ہے۔

حرمت والے مہینوں میں ممانعت قتال کا منسوخ کرنا :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جب حرمت والے مہینے گزر جائیں گے تو تم مشرکین کو جہاں پائو قتل کردو۔ (التوبہ : ٥) اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جن مشرکین نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی تھی اور ان کو چار ماہ کی مہلت دی گئی تھی، اس مدت کے گزرنے کے بعد ان مشرکین کو قتل کردو، اسی طرح جن مشرکین نے معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کی تھی جو بنو کنانہ ہیں ان کو معاہدہ کی مدت پوری رکنے کی مہلت دی گئی تھی اور ان سے معاہدہ کی میعاد ابھی نو ماہ تک باقی تھی سو نو ماہ گزرنے کے بعد ان کو بھی قتل کردو، اور اس آیت میں حرمت والے چار ماہ یعنی ذوالقعدۃ، ذوالحج، محرم اور رجب مراد نہیں ہیں کیونکہ ان کی حرمت فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم سے منسوخ ہوگئی کیونکہ اس آیت کا معنی ہے تمام مشرکین کو جہاں بھی پائو ان کو قتل کردو، خواہ ان کو حرم میں پائو یا غیر حرم میں اور ان کو حرمت والے مکان میں قتل کرنے کا حکم اس کو مستلزم ہے کہ ان کو حرمت والے زمانہ میں بھی قتل کردیا جائے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ طائف میں حرمت والے مہینوں میں قتال جاری رکھا تھا۔ امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شوال آٹھ ہجری میں طائف پر حملہ کیا اور اٹھارہ دن تک ان کا محاصرہ کیا اور چالیس دن تک ان پر منجنیق کو نصب کیے رکھا۔ (الطبقات الکبریٰ ١ ص ١٢١۔ ١٢٠، دارالکتب العلمیہ، المنتظم ج ٢ ص ٤٠٧، دارالفکر بیروت) اس کا تقاضا یہ ہے کہ شوال کے دو ماہ بعد تک ذوالقعدہ اور ذوالحجہ میں طائف پر حمہ جاری رہا اور ذوالقعدہ اور ذوالحجہ حرمت والے مہینے ہیں۔ اور حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ نے امام ابن اسحاق کے حوالہ سے لکھا ہے کہ طائف کا محاصرہ ایک ماہ تک جاری رہا۔ (البدایہ والنہایہ ج ٤ ص ٣٥٠، مطبوعہ دارالفکر بیروت) حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ امام مسلم نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ طائف کے محاصرہ کی مدت چالیس دن تھی۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٤٥، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ) اس کا تقاضا یہ ہے کہ ٢٠ ذوالحجہ تک طائف پر حمہ جاری رہا۔ اور علامہ شہاب الدین خفاجی متوفی ١٠٦٧ ھ لکھتے ہیں کہ صحت سے ثابت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٢٠ محرم تک طائف کا محاصرہ کیا۔ (عنایت القاضی ج ٤ ص ٣٠١، مطبوعہ دار صادر بیروت) ۔ ان حوالہ جات سے یہ واضح ہوگیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرمت والے مہینوں میں طائف پر حملہ جاری رکھا اور یہ اس کی ظاہر دلیل ہے کہ حرمت والے مہینوں میں قتال کی ممانعت منسوخ ہوچکی ہے، نیز اس کی ممانعت کے منسوخ ہونے پر اجماع منعقد ہوچکا ہے۔

فاقتلوا المشرکین سے منسوخ ہونے والی آیات کا بیان :

امام ابوبکر رازی متوفی ٣٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ اس آیت فاقتلوا المشرکین نے حسب ذیل آیات کو منسوخ کردیا :

آپ ان کو جبراً مسلمان کرنے والے نہیں ہیں۔

آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔

آپ ان کو معاف کر دیجئے اور درگزر کیجئے۔

آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ وہ ان لوگوں کو معاف کردیں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے۔

اسی طرح حسب ذیل آیت بھی ان مذکور الصدر آیتوں کے لیے ناسخ ہے :

ترجمہ : ان لوگوں سے قتال کرو جو نہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر اور وہ اس کو حرام نہیں کہتے جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور وہ دین حق کو قبول نہیں کرتے وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو کتاب دی گئی، (ان سے قتال کرتے رہو) حتیٰ کہ وہ ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

حضرت موسیٰ بن عقبہ (رض) نے کہا اس سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں سے قتال نہیں کرتے تھے جو آپ سے قتال میں پہل نہیں کرتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا :

ترجمہ : پس اگر وہ تم سے الگ ہوجائیں اور تم سے قتال نہ کریں اور تمہاری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان کے خلاف کوئی راستہ نہیں رکھا۔

پھر اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم سے منسوخ کردیا۔ (احکام القرآن ج ٣ ص ٨١، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور، ١٤٠٠ ھ)

فاقتلوا المشرکین میں قتل کے عمومی حکم سے مستثنٰی افراد :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے لیکن (التوبہ : ٢٩) نے اس حکم سے ان اہل کتاب کو مستثنٰی کرلیا جو جزیہ ادا کردیں۔ اسی طرح حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں : کفار سے قتال کرنے سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دو ، اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو ان سے قتال نہ کرو اور اگر وہ قبول نہ کریں تو پھر ان کو دعوت دو کہ وہ اپنا ملک چھوڑ کر دار مہاجرین میں منتقل ہوجائیں۔ اگر وہ قبول کرلیں تو ان سے قتال نہ کرو، اگر وہ اس کو قبول نہ کریں تو پھر ان سے جزیہ کا سوال کرو۔ اگر وہ اس کو قبول کرلیں تو پھر ان سے قتال سے رک جائو، اور اگر وہ اس کو قبول نہ کریں تو پھر اللہ کی مدد سے ان سے قتال کرو۔ اور ان سے خیانت نہ کرو اور ان سے عہدشکنی نہ کرو اور انکو مثلہ نہ کرو اور ان کے بچوں کو قتل نہ کرو۔ (صحیح مسلم الجہاد : ٢ (١٧٣١) ٤٤٤١، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٦١٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٦٦٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٦٩، السنن الکبریٰ للنسائی، رقم الحدیث : ٨٦١٨)

فاقتلوا المشرکین۔ الایہ سے ائمہ ثلاثہ کا تارک نماز کو قتل کرنے پر استدلال :

اور اس کے جوابات : جو شخص فرضیت نماز کا قائل ہو لیکن نماز کا تارک ہو اور کہنے کے باوجود بھی نماز نہ پڑھتا ہو، امام احمد کا اس کے متعلق مختار قول یہ ہے کہ وہ کافر ہوگیا اور اس کو قتل کرنا واجب ہے، امام مالک اور امام شافع کا مذہب یہ ہے کہ اس کو حداً قتل کردیا جائے اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کو قید کیا جائے اور اس پر تعزیر لگائی جائے حتیٰ کہ وہ نماز پڑھنے لگے۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل اور تحقیق ہم نے تبیان القرآن ج ١ میں البقرہ : ٣ کی تفسیر میں کردی ہے۔ امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ نے فاقتلوا المشرکین۔ الایہ سے تارک نماز کے متعلق امام شافعی کے موقف کی تائید میں استدلال کی تقریر کی ہے، ہم پہلے امام رازی کے استدلال کی تقریر پیش کریں گے پھر اس کے جوابات کا ذکر کریں گے۔ امام رازی فرماتے ہیں : امام شافعی (رح) تعالیٰ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ تارک نماز کو قتل کردیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے خون بہانے کو ہر طریقہ سے مباح کردیا، پھر تین چیزوں کا مجموعہ پائے جانے کی صورت میں ان کے خون کو حرام کردیا : (١) کفر سے توبہ کریں، (٢) نماز قائم کریں (٣) زکوٰۃ ادا کریں اور جب یہ مجموعہ نہ پایا جائے تو ان کا خون بہانے کی اباحت اپنی اصل پر باقی رہے گی۔ اگر یہ جواب دیا جائے کہ نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے ان کی فرضیت کا اعتقاد مراد ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ تارک زکوٰۃ کو قتل نہیں کیا جاتا تو یہ کہا جائے گا کہ یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ اقامو الصلوۃ اور اتوالزکوٰۃ سے ان کی فرضیت کا اعتقاد مراد لینا مجاز ہے اور بلاضرورت حقیقت سے عدول کرنا جائز نہیں اور تارک زکوٰۃ کو اس لیے قتل نہیں کیا جاتا کہ اس میں تخصیص ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٥ ص ٥٢٩۔ ٥٢٨، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔ ہم نے اس آیت میں اقامو الصلوٰۃ اور اتوا الزکوٰۃ سے یہ مراد لیا ہے کہ وہ نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت کا اعتقاد رکھیں، یہ بلاضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کا ظاہری اور حقیقی معنی مراد نہیں ہوسکتا، اس کا ظاہری اور حقیقی معنی یہ ہے کہ جب وہ شرک اور کفر سے توبہ کرلیں اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ورنہ ان کا راستہ نہ چھوڑو، پس ایک مشرک شرک سے تائب ہوگیا لیکن اس نے فوراً نماز نہیں پڑھی کیونکہ ابھی نماز کا وقت نہیں آیا، یا ابھی نماز کا وقت ختم ہونے میں کافی دیر ہے تو ظاہر معنی کے اعتبار سے اس کو قتل کرنا واجب ہے یا اس نے شرک سے توبہ کرنے کے بعد فوراً زکوٰۃ ادا نہیں کی کیونکہ وہ بقدر نصاب مال کا مالک نہیں یا مال کا مالک تو ہے لیکن ابھی اس پر سال نہیں گزرا تو اس آیت کے ظاہر معنی کے اعتبار سے اس کو قتل کرنا واجب ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس آیت کا یہ معنی کیا جائے کہ جس شخص نے شرک سے توبہ کرلی اور نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت کا اعتقاد رکھا اس کا راستہ چھوڑ دو ورنہ اس کو قتل کردو۔ اس معنی کا موجب اور تارک نماز کو قتل نہ کرنے کا باعث یہ حدیث بھی ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں تشریف فرما ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، جو مسلمان شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں ایسے کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے ماسوا تین شخصوں کے : جو شخص اسلام کو ترک کرنے والا ہو اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہونے والا ہو اور شادی شدہ زنا کرنے والا اور جس شخص کو کسی شخص کے قصاص میں قتل کیا جائے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٨٧٨، صحیح مسلم، القسامہ : ٢٥ (١٦٧٤) ٤٢٩٦، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٥٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٠٢، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٠١٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٣٤، مسند احمد، ج ١ ص ٤٠، ج ٦ ص ٥٨ ) ۔ اس حدیث میں کسی بھی مسلمان شخص کو ان تین وجہوں کے علاوہ قتل کرنے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرما دیا ہے اور جو نماز کا تارک ہو وہ ان تین وجہوں میں داخل نہیں ہے لہٰذا اس کو قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ علامہ شہاب الدین خفاجی متوفی ١٠٦٨ ھ اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں : امام شافعی (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام احوال اور تمام صورتوں میں کفار کے قتل کو مباح فرما دیا پھر اس صورت میں ان کے قتل کو حرام فرمایا جب وہ کفر سے توبہ کرلیں اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں، اور جس صورت میں یہ مجموع نہیں پایا جائے گا اس صورت میں ان کو قتل کرنا اپنی اصل پر مباح ہوگا، پس تارک نماز کو قتل کردیا جائے گا اور شاید اسی آیت کی بناء پر حضرت ابوبکر (رض) نے مانعین زکوٰۃ سے قتال کیا تھا، اور ان دو فرضوں کی تخصیص اس لیے کی گئی کہ ان کا اظہار کرنا لازم ہے اور باقی فرائض کی ادائیگی پر مطلع ہونا دشوار ہے۔ علامہ مزنی شافعی نے فقہاء شافعیہ پر اس مسئلہ میں ایک اعتراض کیا ہے جس کا جواب دینے میں فقہاء شافعیہ حیران اور مبہوت ہوگئے، جیسا کہ علامہ سبکی شافعی نے طبقات میں اس کا اعتراف کیا ہے، علامہ مزنی نے کہا جس نماز کا وقت گزر چکا ہے یا تو تارک نماز کو اس کے ترک کرنے پر قتل کیا جائے گا اور یا اس نماز کے ترک پر قتل کیا جائے گا جس کو اس نے اد انہیں کیا اور اس کا وقت موجود ہے۔ اول الذکر صورت میں اس کو قتل کرنا اس لیے درست نہیں کہ قضاء نماز کی ادائیگی کو ترک کرنے پر قتل نہیں کیا جاتا اور ثانی الذکر صورت میں اس کو قتل کرنا اس لیے درست نہیں کہ جب تک کہ نماز کا وقت ختم نہ ہوجائے اس کے لیے نماز کو موخر کرنا جائز ہے۔ فقہاء شافعیہ نے اس اعتراض کا ایک جواب یہ دیا کہ یہ اعتراض امام ابوحنیفہ پر بھی وارد ہوگا جو یہ کہتے ہیں کہ تارک نماز کو قید کیا جائے یا اس کو مارا پیٹا جائے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم اس کا یہ جواب دیں گے کہ جس شخص نے بغیر کسی عذر کے عمداً نماز کو ترک کردیا تو اس نماز کا وقت نکلنے کے بعد اس کو قید کرلیا جائے گا اور جب تک وہ ترک نماز سے توبہ نہیں کرے گا اور وقت پر نماز پڑھنے کا عادی نہیں ہوجائے گا اس کو قید سے نہیں چھوڑا جائے گا اور اس جواب میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ فقہاء شافعیہ نے دوسرا جواب یہ دیا کہ جس نماز کا وقت نکل گیا اس کے بعد اس کو قتل کیا جائے گا کیونکہ اس نے اس نماز کو بلاعذر ترک کیا ہے۔ یہ جواب اس لیے مردود ہے کہ قضاء نماز کو فوراً ادا کرنا واجب نہیں ہے اور امام شافعی (رض) نے یہ تصریح کی ہے کہ کسی شخص کو قضاء نماز کی وجہ سے مطلقاً قتل نہیں کیا جائے گا اور امام شافعی کے اصحاب کا مذہب بھی یہ ہے کہ قضا نماز میں تاخیر کی وجہ سے کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ فقہاء شافعیہ نے تیسرا جواب یہ دیا کہ اگر کسی شخص نے وقت پر نماز ادا نہیں کی اور نماز کا آخری وقت آگیا تو آخری وقت میں اس کو قتل کردیا جائے گا۔ اس جواب پر یہ اعتراض ہے کہ اس صورت میں یہ لازم آئے گا کہ تارک نماز قتل کی سزا کا مرتد سے بھی زیادہ حقدار ہو کیونکہ مرتد کو بھی فوراً قتل نہیں کیا جاتا بلکہ اس کو توبہ کرنے کے لیے تین دن کی مہلت دی جاتی ہے اور اس شخص کو اتنی مہلت بھی نہیں دی گئی کہ اس نماز کا وقت نکل جائے کیونکہ اگر نماز کا وقت نکل جائے گا تو وہ نماز قضا ہوجائے گی اور قضاء نماز کی ادائیگی میں تاخیر پر ان کے نزدیک بھی قتل نہیں کیا جاتا۔ امام شافعی کے مسلک پر علامہ مزنی شافعی کا یہ وہ قوی اعتراض ہے جس کا فقہاء شافعیہ میں سے کسی سے بھی جواب نہیں بن پڑا۔ (عنایت القاضی ج ٤ ص ٣٠٢، مطبوعہ دار صادر بیروت، ١٢٨٣ ھ) ۔ فقہاء احناف نے اس آیت کا ایک یہ جواب بھی دیا ہے کہ یہ معنی کرنا : اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو پھر ان کو چھوڑ دو ، ورنہ ان کو قتل کردو۔ یہ مفہوم مخالف سے استدلال ہے اور فقہاء احناف مفہوم مخالف سے استدلال کے قائل نہیں ہیں اور اس آیت کی صحیح توجیہ یہی ہے کہ اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کو مان لیں اور ان کا التزام کرلیں تو ان کو چھوڑ دو ورنہ ان کا راستہ نہ چھوڑو کیونکہ توبہ کرتے ہی فوراً تو نماز پڑھنا اور زکوٰۃ ادا کرنا متصور نہیں ہے اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ اس وقت کسی نماز کا وقت نہ ہو اور اگر نماز کا وقت ہو بھی تو اس کو آخر وقت تک موخر کرنا جائز ہے، اور زکوٰۃ کا ادا کرنا تو اس وقت واجب ہوتا ہے جب مسلمان بہ قدر نصاب مال کا مالک ہو اور اس پر سال گزر جائے۔ علامہ ابوبکر جصاص، علامہ نسفی، علامہ خفاجی اور علامہ آلوسی نے اسی توجیہ کو اختیار کیا ہے۔ ایک اور جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کریں اور نماز قائم نہ کریں اور زکوٰۃ ادا نہ کریں تو ان کا راستہ نہ چھوڑو، اور راستہ نہ چھوڑنے کا مطلب لازماً قتل کرنا نہیں ہے بلکہ ان کو قید کرنا اور مارنا بھی اس میں شامل ہے۔ مفی محمد شفیع متوفی ١٣٩٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : آٹھواں مسئلہ مذکورہ پانچویں آیت سے یہ ثابت ہوا کہ کسی غیر مسلم کے مسلمان ہوجانے پر اعتماد تین چیزوں پر موقوف ہے : ایک توبہ، دوسرے اقامت صلوٰۃ، تیسری اداء زکوٰۃ۔ جب تک اس پر عمل نہ ہو محض کلمہ پڑھ لینے سے ان کے ساتھ جنگ بند نہ کی جائے گی۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد جن لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تھا ان کے مقابلہ پر صدیق اکبر (رض) نے جہاد کرنے کے لیے اسی آیت سے استدلال فرما کر تمام صحابہ (رض) کو مطمئن کردیا تھا۔ (معارف القرآن ج ٤ ص ٣١٤، مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی، ١٤١٤ ھ) ۔ مفتی محمد شفیع صاحب حنفی ہیں، لیکن اس آیت کی جو انہوں نے تفسیر کی ہے وہ شافعی مذہب کے مطابق ہے۔ ہم علامہ ابوبکر جصاص حنفی، علامہ نسفی، علامہ خفاجی اور علامہ آلوسی حنفی کے حوالوں سے بیان کرچکے ہیں کہ احناف کے نزدیک اس آیت کا معنی یہ ہے کہ مشرکین کو قتل نہ کرنا اس پر موقوف ہے کہ وہ شرک سے توبہ کریں اور اقامت نماز اور اداء زکوٰۃ کی فرضیت کو مانیں اور اس کا التزام کریں اور اقامت نماز اور اداء زکوٰۃ کا عمل اس آیت سے مراد نہیں ہے اور نہ ہی ان کا عمل متصور ہوسکتا ہے جبکہ مفتی صاحب نے یہ لکھا ہے ” جب تک اس پر عمل نہ ہو محض کلمہ پڑھ لینے سے ان کے ساتھ جنگ بند نہ کی جائے گی “۔ باقی مفی صاحب نے مانعین زکوٰۃ سے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے جہاد سے جو استدلال کیا ہے، یہ بھی دراصل فقہاء شافعیہ کا استدلال ہے۔ ہم پہلے اس حدیث کو باحوالہ ذکر کریں گے، پھر اس حدیث سے فقہاء شافعیہ کے استدلال اور پھر احناف کی طرف سے اس حدیث کے جوابات کا ذکر کریں گے، فنقول وباللہ التوفیق۔

مانعینِ زکوٰۃ سے حضرت ابوبکر (رض) کے قتال سے ائمہ ثلاثہ کا استدلال اور اس کے جوابات :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی، اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو خلیفہ بنایا گیا اور عرب کے قبائل میں سے جو کافر ہوئے وہ کافر ہوگئے، تو حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا آپ کیسے لوگوں سے قتال کریں گے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ لا الہ الا للہ کہیں، پس جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس نے مجھ سے اپنی جان اور مال کو محفوظ کرلیا ماسوا اس کے حق کے اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے یہ جان لیا کہ اللہ عزوجل نے قتال کے لیے حضرت ابوبکر (رض) کا سینہ کھول دیا ہے اور میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٩٩، ١٤٥٦، ٦٩٢٤، ٧٢٨٤، ٧٢٨٥، صحیح مسلم، الایمان : ٣٢ (٢٠) ١٢٤، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٥٥٦ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٤٤٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦١٦، مسند احمد ج ٣ رقم الحدیث : ١٠٨٢٤، صحیح ابن حبان ج ١ رقم الحدیث : ٢١٦، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٨٧١٨، سنن کبریٰ للیہقی ج ٤ ص ١٠٤) ۔ علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : علامہ نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ نے کہا اس حدیث سے اس پر استدلال کیا جاتا ہے کہ جو شخص نماز کے وجوب کا معتقد ہو اور عمداً نماز کا تارک ہو اس کو قتل کردیا جائے گا، جمہور کا یہی موقف ہے اور امام ابوحنیفہ اور علامہ مزنی شافعی نے یہ کہا ہے کہ اس کو قید کرلیا جائے گا حتیٰ کہ وہ توبہ کرے اور اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، جمہور فقہاء (امام شافعی، امام مالک اور امام احمد) پر یہ اعتراض ہے کہ انہوں نے اس حدیث سے نماز کے تارک کو قتل کرنے پر استدلال کیا ہے اور وہ مانع زکوٰۃ کو قتل کرنے کا نہیں کہتے، حالانکہ یہ حدیث ان دونوں کو شامل ہے اور ان کا مذہب یہ ہے کہ مانع زکوٰۃ سے جبراً زکوٰۃ وصول کی جائے گی اور زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے اس کو تعزیر دی جائے گی، نیز اس حدیث سے عمداً تارک نماز کو قتل کرنے پر استدلال کرنا اس لیے بھی درست نہیں ہے کہ اس حدیث میں مانعین زکوٰۃ سے قتال کرنے کا ذکر ہے نہ کہ ان کو قتل کرنے کا اور قتال اور قتل میں فرق ہے، قتال جانبین سے ہوتا ہے اور قتل جانب واحد سے۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ١٨٢۔ ١٨١، ملخصاً مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر، ١٣٤٨ ھ) ۔ شیخ انور شاہ کشمیری متوفی ١٣٥٢ ھ نے لکھا ہے کہ امام شافعی کے نزدیک عمداً تارک نماز کو حداً قتل کردیا جائے گا اور ہمارے امام اعظم کے نزدیک اس کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو تین دن قید رکھا جائے گا، اگر اس نے نماز پڑھ لی تو فبہا ورنہ اس پر ضرب لگائی جائے گی۔ (فیض الباری ج ١ ص ١٠٦، مطبوعہ ہند ١٣٥٧ ھ) ۔ شیخ بدر عالم میرٹھی نے فیض الباری کے حاشیہ میں علامہ عینی کے مذکور صدر کلام کا خلاصہ لکھا ہے۔ (حاشیہ فیض الباری ج ١ ص ١٠٨) ۔ شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی ١٣٦٩ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : امام احمد، امام شافعی، امام مالک کے نزدیک اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ تارک صلوٰۃ اگر توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کر دے اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اسے خوب زدو کو ب کرے اور قید میں رکھے حتیٰ کہ مرجائے یا توبہ کرے، بہرحال تخلیہ سبیل (تارک نماز کا راستہ چھوڑ دینا) کسی کے نزدیک نہیں، رہے مانعین زکوٰۃ ان کے اموال میں سے حکومت جبراً زکوٰۃ وصول کرے اور اگر وہ لوگ مل کر حکومت سے آمادہ پیکار ہوں تو راہ راست پر لانے کے لیے جنگ کی جائے، حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے مانعین زکوٰۃ سے جو جہاد کیا تھا اس کا واقعہ کتب حدیث و تاریخ میں مشہور و معروف ہے۔ (حاشیہ شبیر احمد عثمانی ص ٢٤٩، مطبوعہ المملکتہ العربیہ السعودیہ) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 5