أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ اَنۡ يَّعۡمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ بِالـكُفۡرِ‌ؕ اُولٰۤئِكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ ۖۚ وَ فِى النَّارِ هُمۡ خٰلِدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

مشرکین کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کی مساجد تعمیر کریں درآں حالیکہ وہ خود اپنے خلاف کفر کی گواہی دینے والے ہوں، ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مشرکین کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کی مساجد تعمیر کریں۔ درآنحالیکہ وہ خود اپنے خلاف کفر کی گواہی دینے والے ہوں، ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں (التوبہ : ١٧)

تعمیر کا معنی : عمرالدار کا معنی ہے مکان تعمیر کرنا اور عمرالمنزل کا معنی ہے گھر بسانا اور آباد کرنا۔ (المنجد ص ٥٢٩ بیروت) انما یعمر مساجد اللہ (التوبہ : ١٨) میں اس کا معنی ہے تعمیر کرنا یا زیارت کرنا۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٥١) عمارت کا جو حصہ ٹوٹ پھوٹ جائے اس کی مرمت کرنا اور اس کی حفاظت کرنا، اس کی صفائی اور آرائش و زیبائش کرنا، اس میں روشنی کا انتظام کرنا۔ اور مسجد کی تعمیر میں یہ بھی داخل ہے کہ اس کو دنیاوی باتوں سے محفوظ رکھا جائے اور اس میں اللہ کے ذکر اور علم دین کی تدریس میں مشغول رہا جائے۔ (مجمع بحارالانوار ج ٢ ص ٦٧٨، مطبوعہ المدینہ المنورہ) ۔

علامہ ابوبکر احمد بن علی جصاص حنفی رازی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : مسجد کی تعمیر کے دو معنی ہیں : ایک معنی ہے مسجد کی زیارت کرنا اور اس میں رہنا اور دوسرا معنی ہے مسجد کو بنانا اور اس کا جو حصہ بوسیدہ ہوگیا ہو اس کو نیا بنانا۔ کیونکہ اعتمر اس شخص کے لیے کہا جاتا ہے جس نے مسجد کی زیارت کی اور اس سے لفظ عمرہ ماخوذ ہے کیونکہ عمرہ بیت اللہ کی زیارت کرنے کو کہتے ہیں اور جو شخص مسجد میں بکثرت آتا جاتا ہو اور مسجد میں ہی رہتا ہو اس کو عمار کہتے ہیں، پس اس آیت کا یہ تقاضا ہے کہ کفار کو مسجد میں داخل ہونے اور مسجد کو بنانے اور مسجد کی دیکھ بھال کا انتظام کرنے اور مسجد میں قیام کرنے سے منع کیا جائے کیونکہ یہ لفظ دونوں معنوں کو شامل ہے۔ (احکام القرآن ج ٣ ص ٨٧، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور، ١٤٠٠ ھ) ۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : یعمر، عمارۃ سے بنا ہے اور مسجد کی عمارۃ کی دو قسمیں ہیں : (١) مسجد میں بکثرت آنا جانا اور مسجد کو لازم پکڑ لینا (٢) مسجد کو بنانا اور اس کی تعمیر کرنا۔ اگر دوسرا معنی مراد ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ کافر کے لیے مسجد کی مرمت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ مسجد عبادت کی جگہ ہے اس لیے اس کا معظم ہونا واجب ہے اور کافر مسجد کی اہانت کرتا ہے اور اس کی تعظیم نہیں کرتا، نیز کافر حکماً نجس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : مشرکین محض نجس ہیں۔ (التوبہ : ٢٨) اور مسجد کی تطہیر واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک کرو۔ (البقرہ : ١٢٥) نیز کافر نجاسات سے احتراز نہیں کرتا اور اس کا مسجد میں داخل ہونا مسجد کو نجاست سے متلوث کرنے کا موجب ہے نیز کافر کا مسجد میں داخل ہونا بعض اوقات مسلمانوں کی عبادت میں خلل اور فساد کا موجب ہوگا۔ نیز کافر کا مسجد کی مرمت کرنا مسلمانوں پر کافر کے احسان کا موجب ہوگا اور کافر کو مسلمان پر احسان کرنے کا موقع دینا جائز نہیں ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٩، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤٠٥ ھ)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : درآنحالیکہ وہ خود اپنے خلاف کفر کی گواہی دینے والے ہوں، کیونکہ جب تم کسی عیسائی سے پوچھو تمہارا کیا مذہب ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں عیسائی ہوں اور یہودی سے پوچھو تو وہ کہتا ہے کہ میں یہودی ہوں۔ ستارہ پرست یا آتش پرست سے پوچھو تو وہ کہے گا میں ستارہ پرست ہوں یا آتش پرست ہوں اور بت پرست سے پوچھو تو وہ کہے گا میں بت پرست ہوں۔

کافروں سے مسجد کے لیے چندہ لینے میں مذاہب فقہاء :

فقہاء حنبلیہ کے نزدیک کافر کا کسی جگہ کو عبادت کے لیے وقف کرنا جائز ہے۔ مثلاً کسی جگہ کو مسجد بنانا جائز ہے۔

علامہ ابو عبداللہ شمس الدین مقدسی متوفی ٧٦٣ ھ لکھتے ہیں : مسلمان یا ذمی کی جانب سے کسی جگہ کو نیک کام کے سوا وقف کرنا جائز نہیں ہے۔ مثلاً مسجد وغیرہ بنانے کے لیے، کیونکہ اس کا نفع مسلمانوں کو پہنچے گا۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ مباح ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ مکروہ ہے، البتہ کسی جگہ کو یہودیوں یا عیسائیوں کی عبادت گاہ کے لیے وقف کرنا جائز نہیں ہے۔ (کتاب الفروع ج ٤ ص ٥٨٧۔ ٥٨٦، مطبوعہ عالم الکتب بیروت، ١٤٠٥ ھ) ۔

علامہ ابوالحسین علی بن سلیمان مرادوی حنبلی متوفی ٨٨٥ ھ لکھتے ہیں : دوسری شرط یہ ہے کہ کسی جگہ کو نیک کام کے لیے وقف کرنا چاہیے خواہ وقف کرنے والا مسلمان ہو یا ذمی، اس کی امام احمد (رح) تعالیٰ نے تصریح کی ہے۔ مثلاً مسکینوں کے لیے وقف کرنا، مسجدوں کے لیے، پلوں کے لیے اور رشتہ داروں کے لیے، یہی مذہب ہے اور اسی پر جمہور اصحاب حنبلیہ کا اتفاق ہے۔ (الانصاف ج ٧ ص ١٣، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٣٧٦ ھ) ۔

فقہاء شافعیہ کے نزدیک کفار کا مسجد بنانا جائز نہیں ہے۔ اس سے پہلے ہم امام رازی شافعی کی عبارت نقل کرچکے ہیں، اور علامہ ابوالحسن علی بن محمد بن حبیب الماوردی الشافعی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں : سورة توبہ کی اس آیت کے دو معنی ہیں : ایک یہ کہ کفار کے لیے مسجدوں کی تعمیر جائز نہیں ہے، کیونکہ مساجد صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور ان کو صرف ایمان کے ساتھ تعمیر کیا جاسکتا ہے، دوسرا معنی یہ ہے کہ کفار کے لیے مسجدوں میں داخل ہونا اور زیارت کے لیے مسجدوں میں آنا جائز نہیں ہے۔ (لانکت والعیون ج ٢ ص ٣٤٦، مطبوعہ مئوستہ الکتب الشافعیہ بیروت) ۔

فقہاء مالکیہ کے نزدیک بھی کفار کا مسجد بنانا جائز نہیں ہے، علامہ دسوقی مالکی متوفی ١٢١٩ ھ لکھتے ہیں : کافر ذمی کا مسجد بنانا جائز نہیں ہے۔ (حاشیہ الدسوقی علی الشرح الکبیر ج ٤ ص ٧٩۔ ٧٨، مطبوعہ دارالفکر بیروت) ۔

فقہاء احناف کے نزدیک بھی کافر کا مسجد بنانا جائز نہیں ہے، اس سے پہلے ہم علامہ ابوبکر جصاص حنفی کی عبارت لکھ چکے ہیں اور

علامہ شامی حنفی لکھتے ہیں : ذمی کا اس چیز کے لیے وقف کرنا صحیح ہے جو اس کے اور ہمارے دونوں کے نزدیک عبادت ہو لہٰذا ذمی کا حج اور مسجد کے لیے وقف کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ صرف ہمارے لیے عبادت ہیں ذمی کے لیے نہیں ہیں، اور نہ ذمی کا گرجا کے لیے وقف کرنا صحیح ہے کیونکہ وہ صرف اس کے نزدیک عبادت ہے، البتہ مسجد قدس کے لیے ذمی کا وقف کرنا صحیح ہے کیونکہ مسجد قدس اس کے نزدیک بھی عبادت ہے اور ہمارے نزدیک بی۔ (منحتہ الخالق البحرالرائق ج ٥ ص ١٨٩، مطبوعہ کوئٹہ، تنقسیح الفتاویٰ الحامدیہ ج ١ ص ١١٩، مطبوعہ مطبع حبیبیہ کوئٹہ) ۔

غیر مقلدین کے نزدیک بھی کافر کا مسجد بنانا جائز نہیں ہے۔ نواب صدقی حسن خاں بھوپالی متوفی ١٣٠٧ ھ لکھتے ہیں : کہا گیا ہے کہ اگر کافر نے مسجد بنانے کی وصیت کی تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ (فتح البیان ج ٥ ص ٢٥٢، مطبوعہ المکتبہ العصریہ بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : کافر نے مسجد کے لیے وقف کیا نہ ہوگا کہ یہ اس کے خیال میں کار ثواب نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ج ٦ ص ٣٣٨، مطبوعہ دارالعلوم امجدیہ کراچی) ۔

صدر الشریعہ مولانا امجد علی متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں : وہ کام جس کے لیے وقت کرتا ہے فی مفسہ ثواب کا کام ہو، یعنی واقف کے نزدیک بھی وہ ثواب کا کام ہو اور واقع میں بھی ثواب کا کام ہو۔ اگر ثواب کا کام نہیں تو وقف صحیح نہیں (الی قولہ) اگر نصرانی نے حج وعمرہ کے لیے وقف کیا جب بھی وقف صحیح نہیں کیا کہ اگرچہ یہ کارثواب ہے مگر اس کے اعتقاد میں ثواب کا کام نہیں۔ (الی قولہ) ذمی نے اپنے گھر کو مسجد بنایا اور اس کی شکل صورت بالکل مسجد کی سی کردی اور اس میں نماز پڑھنے کی مسلمانوں کو اجازت بھی دے دی اور مسلمانوں نے اس میں نماز پڑھی بھی جب بھی مسجد نہیں ہوگی اور اس کے مرنے کے بعد میراث جاری ہوگی، یونہی اگر گھر کو گرجا وغیرہ بنادیا جب بھی اس میں میراث جاری ہوگی۔ (بہار شریعت جز ١٠ ص ٣٠۔ ٢٩، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور) ۔

کافروں سے مسجد کے لیے چندہ لینے میں علماء دیوبند کا نظریہ :

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں : اگر کوئی غیر مسلم ثواب سمجھ کر مسجد بنا دے یا مسجد بنانے کے لیے مسلمانوں کو چندہ دے دے تو اس کا قبول کرنا بھی اس شرط سے جائز ہے کہ اس سے کسی دینی یا دنیوی نقصان یا الزام کا یا آئندہ اس پر قبضہ کرلینے کا یا احسان جتلانے کا خطرہ نہ ہو۔ (درالمختار، شامی، مراغی) (معارف القرآن ج ٤ ص ٣٣١، مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی، ١٤١٤ ھ) ۔ علامہ احمد مصطفیٰ المراغی نے اسی طرح لکھا ہے (تفسیر المراغی ج ١٠ ص ٧٤، مطبوعہ بیروت) لیکن علامہ المراغی کوئی مسلم فقیہ نہیں ہیں اور درالمختار میں اس طرح لکھا ہوا نہیں ہے، رہے علامہ شامی تو انہوں نے اس کے خلاف لکھا ہے جیسا کہ ہم اس سے پہلے منحتہ الخلالق اور تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ کے حوالوں سے لکھ چکے ہیں اور اب ایک مزید حوالہ پیش کر رہے ہیں : علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ تحریر فرماتے ہیں : در مختار میں صحت وقف کی ایک یہ شرط بھی بیان کی ہے کہ اس کافی مفسہ عبادت ہونا معروف ہو، علامہ شامی فرماتے ہیں یہ صرف مسلمان کے وقف کرنے کی شرط ہے ورنہ البحرالرائق میں مذکور ہے کہ ذمی کے وقف کی صحت کی شرط یہ ہے کہ وہ اس کے نزدیک اور ہمارے نزدیک عبادت ہو جیسے فقراء پر وقف کرنا یا مسجد بیت المقدس پر وقف کرنا برخلاف اس کے کہ ذمی کسی گرجا پر وقف کرے کیونکہ وہ صرف اس کے نزدیک عبادت ہے، یا وہ حج اور عمرہ پر وقف کرے کیونکہ وہ صرف ہمارے نزدیک عبادت ہے، اس سے معلوم ہوا کہ دونوں کے نزدیک عبادت ہونا صرف ذمی کے وقف کے لیے شرط ہے کیونکہ مسلمان کے وقف کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ وہ ان کے نزدیک بھی عبادت ہو بلکہ وہ صرف ہمارے نزدیک عبادت ہو جیسے حج اور عمرہ۔ (ردالمحتار ج ٣ ص ٣٩٤، مطبوعہ کوئٹہ، ردالمحتارج ٣ ص ٣٦٠، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤٠٧ ھ، ردالمحتار ج ٦ ص ٤١٠، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٩ ھ طبع جدید) ۔ اور چونکہ کافروں کے مذہب میں مسجد بنانا یا مسجد کے لیے چندہ دینا عبادت نہیں ہے اس لیے ان امور میں ان سے چندہ لینا فقہاء مالکیہ، فقہاء شافعیہ اور فقہاء احناف کے نزدیک جائز نہیں ہے اور دینی حمیت کا بھی یہ تقاضا ہے کہ اپنی عبادات میں کافروں سے مدد نہ لی جائے اور اپنے دین میں ان کا احسان نہ اٹھایا جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 17