أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَـرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰذَا‌ ۚ وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةً فَسَوۡفَ يُغۡنِيۡكُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖۤ اِنۡ شَآءَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو تمام مشرک محض نجس ہیں، سو وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں، اور اگر تم فقر کا خوف کرو تو اگر اللہ نے چاہا تو وہ تم کو عنقریب اپنے فضل سے غنی کر دے گا، بیشک اللہ بےحد جاننے والا بہت حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! تمام مشرک محض نجس ہیں، سو وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں اور اگر تم فقر کا خوف کرو تو اگر اللہ نے چاہا تو وہ تم کو عنقریب اپنے فضل سے غنی کر دے گا، بیشک اللہ بےحد جاننے والا، بہت حکمت والا ہے (التوبہ : ٢٨ )

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ٩ ہجری کے بعد کافروں اور مشرکوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے منع فرما دیا ہے، اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ یہ ممانعت صرف مسجد حرام کے ساتھ مختص ہے یا کسی مسجد میں بھی مشرکوں کا داخل ہونا جائز نہیں ہے اور یہ کہ مشرکین کسی صورت میں مسجد میں داخل نہیں ہوسکتے یا یہ ممانعت کسی قید کے ساتھ مقید ہے، اس میں فقہاء کے حسب ذیل مسالک ہیں :

مسجد میں کافر کے دخول کے متعلق فقہاء شافعیہ کا نظریہ :

امام فخر الدین رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : امام شافعی (رض) نے کہا ہے کہ کفار کو صرف مسجد حرام میں دخول سے منع کیا جائے گا، اور امام مالک کے نزدیک ان کو تمام مساجد میں دخول سے منع کیا جائے گا اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک مسجد حرام میں دخول سے منع کیا جائے گا نہ کسی اور مسجد سے، اس آیت کے صریح الفاظ سے امام ابوحنیفہ کا مذہب باطل ہے اور اس آیت کے مفہوم مخالف سے امام مالک کا قول باطل ہے : ہم یہ کہتے ہیں کہ اصل یہ ہے کہ کفار کو مسجد میں دخول سے نہ منع کیا جائے لیکن اس صریح نص قطعی کی وجہ سے ہم نے اس اصل کی مخالفت کی اور کفار کو مسجد میں دخول کی اجازت دی اور مسجد حرام کے علاوہ باقی مساجد میں ہم نے اصل پر عمل کیا اور ان مساجد میں کفار کو داخل ہونے کی اجازت دی۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٢٢، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤٠٥ ھ)

مسجد میں کافر کے دخول کے متعلق فقہاء مالکیہ کا نظریہ :

علامہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : اہل مدینہ (مالکیہ) نے کہا کہ یہ آیت تمام مشرکین اور تمام مساجد کے حق میں عام ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے اعمال کو یہی حکم لکھوایا تھا اور اس حکم کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے : فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ۔ (النور : ٣٦) اللہ کے ان گھروں میں، جنہیں اللہ نے بلند کرنے کا حکم دیا ہے، ان میں اللہ کا نام لیا جائے۔ اور کفار کا مساجد میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کی مساجد کے بلند کرنے کے منافی ہے اور صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں مذکور ہے : ” ان مساجد میں پیشاب کرنا یا کسی قسم کی کوئی اور نجاست ڈالنا جائز نہیں ہے “۔ اور کافر ان نجاستوں سے خالی نہیں ہے (یعنی وہ استنجا کرتا ہے نہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مسجد کو حائض اور جنبی کے لیے حلال نہیں کرتا، اور کافر جنبی ہے۔ اور 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انما المشرکون نجس (التوبہ : ٢٨) مشرکین نجس ہیں، اب یا تو یہ نجس العین ہیں یا حکماً نجس ہیں اور ہر صورت میں ان کو مساجد سے منع کرنا واجب ہے کیونکہ منع کرنے کی علت ” نجاست “ ان میں موجود ہے اور مساجد میں حرمت موجود ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٨ ص ٤٠، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

مسجد میں کافر کے دخول کے متعلق فقہاء حنبلیہ کا نظریہ :

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : حرم میں ذمیوں کا داخل ہونا کسی صورت میں جائز نہیں ہے، کیونکہ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ہذا۔ (التوبہ : ٢٨) مشرکین نجس ہیں تو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ جائیں۔

غیر حرم کی مساجد کے متعلق دو روایتیں ہیں : ایک روایت یہ ہے کہ مسلمانوں کی اجازت کے بغیر ان کا مساجد میں داخل ہونا جائز نہیں ہے، کیونکہ حضرت علی (رض) نے دیکھا کہ ایک مجوسی مسجد میں داخل ہو کر منبر پر بیٹھ گیا تو حضرت علی (رض) نے اس کو منبر سے اتار کر مارا اور مسجد کے دروازوں سے نکال دیا اور مسلمانوں کی اجازت سے ان کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے اور یہی صحیح مذہب ہے، کیونکہ اسلام لانے سے پہلے اہل طائف کا وفد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیات تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا اور سعید بن مسیب نے کہا کہ ابو سفیان حالت شرک میں مدینہ کی مسجد میں آتے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے عمیر بن وہب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کے ارادہ سے مسجد نبوی میں داخل ہوئے (اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بتادیا کہ تم کس ارادہ سے آئے ہو) تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دولت اسلام سے سرفراز کردیا۔ اور دوسری روایت ہے کہ کافروں کا کسی صورت میں بھی مسجد میں دخول جائز نہیں ہے کیونکہ حضرت ابو موسیٰ (رض) ، حضرت عمر (رض) کے پاس گئے۔ ان کے پاس ایک مکتوب تھا جس میں عمال کا حساب لکھا ہوا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے کہا اس کے لکھنے والے کو لائو تاکہ وہ اس کو پڑھ کر سنائے۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے کہا وہ مسجد میں داخل نہیں ہوسکتا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیوں ؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا وہ نصرانی ہے، اس اثر میں دلیل ہے کہ کافروں کا مسجد میں داخل نہ ہونا صحابہ کرام (رض) کے درمیان مشہور و معروف اور مقرر ہے، نیز جنابت، حیض اور نفاس کا حدث مسجد میں دخول سے مانع ہے تو شرک کا حدث بطریق اولیٰ مانع ہوگا۔ (المغنی ج ٩ ص ٢٨٧۔ ٢٨٦، دارالفکر بیروت، ١٤٠٥ ھ)

مسجد میں کافر کے دخول کے متعلق فقہاء احناف کا نظریہ :

علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : اس آیت کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے، امام مالک اور امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ مشرک مسجد حرام میں داخل نہیں ہوگا اور امام مالک یہ کہتے ہیں کہ وہ کسی اور مسجد میں بھی داخل نہیں ہوسکتا، البتہ ذمی کسی ضرورت کی بناء پر مسجد میں جاسکتا ہے، مثلاً کسی مقدمہ کی پیروی کے لیے حاکم کے پاس مسجد میں جاسکتا ہے، اور ہمارے اصحاب (فقہاء احناف) نے یہ کہا ہے کہ ذمی کے لیے تمام مساجد میں داخل ہونا جائز ہے، اور اس آیت کے دو محمل ہیں : اول یہ کہ یہ آیت غیر ذمی مشرکین کے لیے ہے جو مشرکین عرب ہیں، ان کو مکہ مکرمہ اور تمام مساجد میں دخول سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ یہ ذمی نہیں ہوسکتے ان کے لیے صرف دو راستے ہیں : اسلام یا تلوار ! دوسرا محمل یہ ہے کہ اس آیت میں مشرکین کو حج کے لیے مکہ میں داخل ہونے سے منع کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس سال حضرت ابوبکر (رض) نے حج کیا تو اس سال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کے ساتھ حضرت علی (رض) کو یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، پھر اس کے اگلے سال جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا تو کسی مشرک نے حج نہیں کیا اور اس معنی پر دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں اس کے متصل بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” تو اگر تم کو تنگ دستی کا خوف ہو تو اگر اللہ نے چاہا تو وہ اپنے فضل سے تمہیں غنی کر دے گا “۔ اور تنگ دستی کا خوف اس وجہ سے ہوسکتا تھا کہ حج کے موسم میں بکثرت لوگ حج کے لیے آتے تھے اور اہل مکہ ان سے تجارت اور خریدوفروخت کے ذریعہ نفع اٹھاتے تھے اور جب کہ مشرکین کو حج پر آنے سے روک دیا گیا تو اہل مکہ کی تجارت میں کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا، سو اللہ تعالیٰ نے اس کا ازالہ فرمایا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اس معنی کی مزید تائید اس بات سے ہے کہ تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ مشرکین کو عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کرنے اور حج کے تمام افعال سے منع کیا جائے گا خواہ وہ افعال مسجد میں نہ کیے جاتے ہوں، اور ذمیوں کا ان جگہوں میں جانا منع نہیں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں مشرکین کو حج کرنے سے منع کیا گیا ہے اور حج کے بغیر مسجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا گیا، نیز اس آیت میں مسجد حرام کے قریب جانے کی ممانعت ہے مسجد حرام میں جانے کی ممانعت نہیں ہے اور مسجد حرام کے قریب جانا حج کے لیے جانے سے متحقق ہوسکتا ہے۔ حماد بن سلمہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عثمان بن ابی العاص سے روایت کیا ہے کہ جب ثقیف کا وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا۔ صحابہ (رض) نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تو نجس لوگ ہیں ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کی نجاست زمین پر نہیں لگتی ان کی نجاست ان میں ہی رہتی ہے اور زہری نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے کہ ابو سفیان زمانہ کفر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں داخل ہوتا تھا البتہ ان کا مسجد حرام میں داخل ہونا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” وہ (غیر ذمی مشرک) مسجد حرام کے قریب نہ ہوں “۔ علامہ ابوبکر رازی کہتے ہیں کہ ثقیف کا وفد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس (آٹھ ہجری میں) فتح مکہ کے بعد آیا تھا اور یہ آیت نو ہجری میں نازل ہوئی ہے جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) امیر حج بن کر گئے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا اور یہ خبر دی کہ کفار کی نجاست ان کو مسجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتی اور ابوسفیان فتح مکہ سے پہلے صلح کی تجدید کے لیے آئے تھے وہ اس وقت مشرک تھے اور یہ آیت اس کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس آیت کا تقاضا صرف مسجد حرام کے قریب جانے سے ممانعت ہے اور یہ آیت کفار کو باقی مساجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتی۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ زید بن یشیع حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے یہ ندا کی کہ حرم میں کوئی مشرک داخل نہیں ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ان الفاظ کے ساتھ روایت صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حرم میں کوئی مشرک حج کے لیے داخل نہیں ہوگا کیونکہ حضرت علی (رض) سے احادیث میں یہ روایت ہے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، اسی طرح حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس حدیث میں حج کے لیے حرام میں دخول سے ممانعت ہے اور شریک نے حضرت جابر بن عبدالللہ (رض) سے روایت کیا ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس سال کے بعد مشرکین مسجد حرام کے قریب نہ جائیں، البتہ کسی ضرورت کی وجہ سے غلام یا باندی مسجد حرام میں داخل ہوسکتی ہے “۔ اس حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ضرورت کی وجہ سے غلام یا باندی کا مسجد حرام میں دخول جائز قرار دیا ہے اور حج کے لیے اجازت نہیں دی اور یہ اس پر دلیل ہے کہ آزاد ذمی بھی ضرورت کی وجہ سے مسجد حرام میں داخل ہوسکتا ہے، کیونکہ اس مسئلہ میں کسی بھی آزاد اور غلام میں فرق نہیں کیا اور حدیث میں غلام اور باندی کا بالخصوص اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ عام طور پر حج کے لیے نہیں جاتے اور امام عبدالرزاق نے سورة توبہ کی اس آیت کی تفسیر میں یہ روایت ذکر کی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) اس آیت کی تفسیر میں کہتے تھے البتہ غلام یا کوئی ذمی شخص ہو تو وہ جاسکتا ہے۔ (تفسیر عبدالرزاق، رقم الحدیث : ١٠٦٩ ) ، (احکام القرآن ج ٣ ص ٨٩۔ ٨٨، مبطوعہ سہیل اکیڈمی لاہور، ١٤٠٠ ھ)

علامہ محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس آیت میں مشرکین کو حج اور عمرہ کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ممانعت کو اس سال (یعنی نوہجری) کے بعد سے مقید کیا ہے اور جو کام سال بہ سال کیا جاتا ہے وہ حج یا عمرہ ہے۔ اگر مشرکین کو مسجد میں مطلقاً داخل ہونے سے منع کرنا مقصود ہوتا تو اس سال کے بعد کی قید لگانے کی ضرورت نہ تھی اور دوسری دلیل یہ ہے کہ مشرکین کو اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب جانے سے ممانعت کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے فرماتا ہے ” اور اگر تم کو تنگ دستی کا خوف ہو تو اگر اللہ نے چاہا تو وہ عنقریب تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا “ اور تن دستی کا خوف اسی صورت میں ہوسکتا تھا کہ مشرکین کو حج کے لیے آنے سے روک دیا جائے، کیونکہ حج کے موقع پر مشرکین کے آنے سے مسلمانوں کو تجارت میں بہت فائدہ ہوتا تھا اور ان کے نہ آنے سے اس تجارت کے منقطع ہونے کا خدشہ تھا، اس لیے امام اعظم کے نزدیک مشرکین اہل ذمہ کا مسجد حرام اور دیگر مساجد میں دخول جائز ہے۔ (روح المعانی جز ١٠ ص ٧٧، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت) ۔

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : امام شافعی وغیرہ نے قرآن مجدی کی آیت کریمہ لا یقربوا المسجد الحرام ” مشرکین مسجد حرام کے قریب نہ جائیں “ سے استدلال کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نہی تکوینی ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان میں مسجد حرام کے قریب جانے کا فعل پیدا نہیں کرے گا، اور یہ منقول نہیں ہے کہ اس ممانعت کے بعد مشرکین میں سے کسی نے برہنہ ہو کر حج یا عمرہ کیا ہو، اور اس نہی تکوینی اس لیے قرار دیا ہے کہ فقہاء احناف کے نزدیک کفار احکام فرعیہ کے مکلف نہیں ہیں۔ (رد المحتار ج ٥ ص ٣٤١۔ ٣٤٠، مطبوعہ استنبول، ج ٥ ص ٢٤٨، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤٠٧ ھ) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 28