أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا‌ ۚ فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلَيۡهِ وَاَ يَّدَهٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا السُّفۡلٰى‌ ؕ وَكَلِمَةُ اللّٰهِ هِىَ الۡعُلۡيَا ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اگر تم نے رسول کی مدد نہیں کی تو بیشک اللہ ان کی مدد کرچکا ہے۔ جب کافروں نے ان کو بےوطن کردیا تھا۔ درآں حالیکہ وہ دو میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے جب وہ اپنے صاحب سے فرما رہے تھے، غم نہ کرو، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، سو اللہ نے ان پر طمانیت قلب نازل کی اور ان کی ایسے لشکروں سے مدد فرمائی جن کو تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کی بات کو نیچا کردیا اور اللہ کا دین ہی بلند وبالا ہے، اور اللہ بہت غلبہ والا بڑی حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تم نے رسول کی مدد نہیں کی تو بیشک اللہ ان کی مدد کرچکا ہے۔ جب کافروں نے ان کو بےوطن کردیا تھا۔ درآں حالیکہ وہ دو میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے جب وہ اپنے صاحب سے فرما رہے تھے، غم نہ کرو، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، سو اللہ نے ان پر طمانیت قلب نازل کی اور ان کی ایسے لشکروں سے مدد فرمائی جن کو تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کی بات کو نیچا کردیا اور اللہ کا دین ہی بلند وبالا ہے، اور اللہ بہت غلبہ والا بڑی حکمت والا ہے (التوبہ : ٤٠ )

اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی ہے، اور یہ بتایا ہے کہ اگر مسلمانوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں جا کر ان کی مدد نہیں کی تو اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی کمی نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد فرمائی تھی جب قریش مکہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بےوطن کردیا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور غار ثور میں تین راتیں گزاریں، اس سفر میں اور غار میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رفیق تھے، ان کا ذکر بھی اس آیت میں ہے اور غار ثور میں حضرت ابوبکر (رض) کی رفاقت کی تفصیل اس طرح ہے :

غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رفاقت :

امام عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٨ ھ لکھتے ہیں : امام ابن اسحاق نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا تو کسی کو اس کا علم نہیں تھا، ماسوا حضرت علی بن ابی طالب (رض) ، حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور آلِ ابوبکر کے، حضرت علی (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ میں چھوڑ دیا تھا اور ان کو یہ حکم دیا تھا کہ لوگوں کی جو امانتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہیں وہ ان کو ادا کردیں، اس کے بعد مدینہ آجائیں اور مکہ میں جس شخص کے پاس بھی کوئی اہم چیز ہوتی تھی وہ اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رکھوا دیتا تھا کیونکہ سب لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت اور امانت پر یقین رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس گئے اور ان کے مکان کے پیچھے سے غارثور کی طرف نکلے جو مکہ کے نشیب میں ایک پہاڑ ہے، وہ دونوں اس پہاڑ میں داخل ہوگئے، حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ وہ بغور سنیں کہ لوگ ان کے متعلق کیا باتیں کرتے ہیں پھر شام کو آ کر ہمیں خبر دیں اور اپنے غلام عامر بن فہیرہ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ دن میں بکریاں چرائیں اور شام کو ان کے پاس آجائیں اور حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) شام کو ان کے پاس کھانا لے کر آتی تھیں۔

امام ابن ہشام فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) رات کو غار میں پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے حضرت ابوبکر (رض) غار میں داخل ہوئے اور غار کو ٹٹول کر دیکھا کہ اس میں کہیں سانپ یا بچھو تو نہیں ہے، تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے اثر سے محفوظ رکھیں۔ (سیرت ابن ہشام ج ٢ ص ٩٩، دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات اور ایک دن، عمر کی تمام عمر سے افضل اور بہتر ہے، کیا میں تمہیں ان کی ایک رات اور ایک دن کے متعلق بتائوں ؟ راوی نے کہا ہاں ! اے امیرالمومنین ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : رات تو وہ ہے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کے ساتھ ہجرت فرمائی، حضرت ابوبکر صدیق (رض) کبھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے چلتے، کبھی آگے چلتے، کبھی دائیں چلتے، کبھی بائیں چلتے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے ابوبکر ! ایسا کیوں کر رہے ہو ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چاروں طرف اس لیے چل رہا ہوں کہ اگر کوئی اچانک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ آور ہو تو اس کا پہلا نشانہ میں بنوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس رات چلتے رہے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک پائوں گھس گئے، یہ دیکھ کر حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھا کر دوڑنا شروع کیا حتیٰ کہ غار ثور کے دہانہ پر پہنچ گئے، وہاں انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اتارا اور کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس ذات کی قسم جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار میں پہلے داخل نہ ہوں، پہلے میں داخل ہوں گا، تاکہ اگر اس میں کوئی مضر چیز ہے تو پہلے مجھے اس کا ضرر پہنچے۔ حضرت ابوبکر (رض) غار میں گئے اور کوئی مضر چیز نہیں پائی، غار میں بہت سوراخ تھے جن میں مختلف اقسام کے سانپ تھے۔ ابوبکر (رض) کو یہ خوف ہوا کہ کہیں ان سوراخوں سے کوئی سانپ نکل کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذاء نہ پہنچائے، انہوں نے سوراخ میں اپنا قدم رکھ دیا، سانپ ان کے پیر پر ڈنک مارنے لگے اور ڈسنے لگے اور تکلیف کی شدت سے حضرت ابوبکر (رض) کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ حضرت ابوبکر (رض) کی رات ہے، الحدیث۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٤٧٧، البدایہ والنہایہ ج ٢ ص ٥٦٣، طبع جدید، الریاض النضرۃ للمحب الطبری ج ١ ص ١٠٦، الدرالمنثور ج ٤ ص ١٩٨، مختصر تاریخ دمشق ج ١٣ ص ٥٥ ) ۔

امام ابو الفرج عبدالرحمن بن علی جوزی المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ ہم غار میں ہیں، اگر کسی نے اپنے قدموں کے نشان کو دیکھا تو وہ ہمارے قدموں کے نشانوں کو بھی دیکھ لے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! تمہارا ان دونوں کے متعلق کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہے ! (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٥٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٨١، مسند احمد ج ١ ص ٤)

نیز حضرت انس (رض) روایت کرتے ہیں کہ غار کی شب حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے پہلے غار میں داخل ہونے دیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم داخل ہو، حضرت ابوبکر (رض) داخل ہو کر اپنے ہاتھ سے ٹٹول ٹٹول کر غار کے سوراخوں کو دیکھتے رہے، پھر انہوں نے اپنے کپڑے کو پھاڑ کر غار کے تمام سوراخ بند کر دئیے، ایک سوراخ باقی رہ گیا تو اس میں اپنی ایڑی رکھ دی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھآ اے ابوبکر تمہارا کپڑا (قمیص) کہاں ہے، تو حضرت ابوبکر (رض) نے یہ واقعہ بیان کیا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ اٹھا کر یہ دعا فرمائی : اے اللہ ! ابوبکر کو جنت میں میرے ساتھ میرے درجہ میں رکھنا۔ (المنتظم ج ٢ ص ١٧٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ، سبل الہدیٰ والرشاد، ج ٣ ص ٢٤٠، دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ) ۔

امام ابن جوزی نے الوفاء میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے سوراخ پر اپنی ایڑی رکھ دی تو سانپ ان کی ایڑی میں ڈنک مارنے لگے، اور حضرت ابوبکر (رض) کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : اے ابوبکر غم نہ کرو، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ تعالیٰ نے ابوبکر (رض) کے دل میں سکون نازل فرمایا۔ (الوفا ج ١ ص ٢٣٨، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ لائل پور) ۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٥٠٢ ھ نے بھی اتنا ہی لکھا ہے۔ (مدارج النبوت ج ٢ ص ٥٨، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر، ١٣٩٧ ھ) ۔ امام ابو جعفر احمد، المحب الطبری المتوفی ٦٩٤ ھ لکھتے ہیں : ابن السمان نے کتاب الموافقہ میں بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) غار میں داخل ہوئے اور اس میں جو سوراخ بھی دیکھا اس میں اپنی انگلی داخل کردی حتیٰ کہ ایک بڑا سوراخ دیکھا اس میں ران تک اپنی ٹانگ داخل کردی پھر کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار میں آجائیے، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جگہ تیار کردی ہے۔ (الی ان قال) رات بھر سانپ حضرت ابوبکر (رض) کی ٹانگ میں ڈنک مارتے رہے اور حضرت ابوبکر (رض) نے بڑی تکلیف میں رات گزاری، صبح کو انہیں دیکھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! کیا ہوا ؟ ان کی پوری ٹانگ سوجی ہوئی تھی، حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ سانپ کے ڈنک مارنے کا اثر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیند کو خراب کرنا ناپسند کیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) پر اپنا ہاتھ پھیرا تو ان کے جسم کا سارا درد جاتا رہا اور وہ بالکل ٹھیک ہوگئے۔ (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ج ١ ص ١٠٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) ۔

اس سلسلہ میں دوسری روایت المحب الطبری نے اس طرح بیان کی ہے : حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی ایک رات کی عظمت اور خصوصیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غار ثور میں پہنچے تو انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے غار میں داخل نہ ہوں۔ پہلے میں داخل ہوتا ہوں تاکہ اگر اس میں کوئی مضر چیز ہو تو اس کا ضرر مجھے لاحق ہو، نہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو۔ جب حضرت ابوبکر (رض) غار میں داخل ہوئے تو اس میں بہت سوراخ تھے، انہوں نے اپنی چادر پھاڑ کر وہ تمام سوراخ بھر دئیے۔ دو سوراخ باقی رہ گئے تو انہوں نے ان پر اپنا پیر رکھ دیا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور حضرت ابوبکر (رض) کی گود میں سر رکھ کر سو گئے، سانپ نے حضرت ابوبکر (رض) کے پیر میں ڈنک مارنے شروع کر دئیے اور حضرت ابوبکر (رض) نے اپنی جگہ سے جنبش بھی نہیں کی کہ کہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار نہ ہوجائیں۔ ان کے آنسو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر گرے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے ابوبکر ! کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر میرے ماں باپ فدا ہوں مجھے سانپ نے ڈس لیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پیر پر لعاب دہن لگایا تو ان کی تمام تکلیف دور ہوگئی۔ (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ج ١ ص ١٠٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) ۔

علامہ احمد قسطلانی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : نیز روایت کیا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے غار میں داخل ہوئے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ضرر سے محفوظ رکھیں، انہوں نے ایک سوراخ دیکھا تو اس میں اپنی ایذی رکھ دی تاکہ اس میں سے کوئی سانپ نکل کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ضرر نہ پہنچائے، پھر سانپ حضرت ابوبکر (رض) کی ایڑی پر ڈنک مارنے لگے اور حضرت ابوبکر (رض) کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر حضرت ابوبکر (رض) کی گود میں تھا، جب سانپ نے حضرت ابوبکر (رض) کی ایڑی پر دنک مارا تو حضرت ابوبکر (رض) کے آنسو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر گرے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے ابوبکر ! کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر میرے ماں باپ فدا ہوں مجھے سانپ نے کاٹ لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جگہ اپنا لعاب دہن لگا دیا اس سے حضرت ابوبکر (رض) کی تکلیف جاتی رہی۔ اس حدیث کو زین بن معاویہ متوفی ٥٣٠ ھ نے روایت کیا ہے۔ (المواہب اللدنیہ ج ١ ص ١٤٩، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٦ ھ، شرح الزرقانی علی المواہب ج ١ ص ١٣٥، دارالمعرفہ بیروت) ۔ علامہ علی بن برہان الدین حلبی متوفی ١٠٤٤ ھ نے بھی اس روایت کو درج کیا ہے۔ (انسان العیون ج ٢ ص ٢٠٥، مطبوعہ مصر، ١٣٨٤ ھ) ۔

امام ابن اسحاق نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ساتھ تین دن غار میں رہے اور قریش نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واپس لانے والے کے لیے ایک سو اونٹ کا انعام مقرر کردیا تھا اور حضرت ابوبکر (رض) کے بیٹے عبداللہ بن ابی بکرون میں قریش کی باتیں سنتے جو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض) کے متعلق کرتے تھے اور شام کو آ کر ان کی خبر پہنچاتے تھے۔ عبداللہ بن ابی بکر کے جانے کے بعد حضرت ابوبکر (رض) کے غلام عامر بن فہیرہ اس جگہ بکریوں کو لے جاتے اور بکریوں کے چلنے کی وجہ سے عبداللہ بن ابی بکر کے غار کے پاس چلنے کے نشان مٹ جاتے اور حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) تین دن تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض) کے لیے کھانا پہنچاتی رہیں، پھر تین دن کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ (سیرت ابن ہشام ج ٢ ص ١٠٠۔ ٩٩، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

قریش جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھونڈنے میں ناکام ہوگئے تو وہ کھوجی کو لائے جو قدموں کے نشان سے اپنے ہدف تک پہنچتا تھا۔ حتیٰ کہ وہ شخص غار پر جا کر ٹھہر گیا۔ اس نے کہا یہاں آ کر نشانات ختم ہوگئے ہیں۔ مکڑی نے اسی وقت غار کے منہ پر جالا تن دیا تھا، اسی لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکڑی کو مارنے سے منع فرمایا ہے، جب انہوں نے مکڑی کے جالے کو دیکھا تو ان کو یقین ہوگیا کہ اس غار میں کوئی نہیں ہے اور وہ واپس چلے گئے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٨ ص ٧٥)

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی افضلیت کی وجوہ :

(١) کفار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کے در پے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے چھپ کر غار ثور میں داخل ہوئے تھے۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت ابوبکر (رض) کے ایمان اور ان کی جانثاری پر مکمل اعتماد نہ ہوتا تو ان کو اپنے ساتھ لے کر کبھی غار میں داخل نہ ہوتے۔

(٢) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہجرت کرنا اللہ کے حکم سے تھا، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نسبی قرابت دار بہت تھے، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سفر میں رفاقت کے لیے صرف حضرت ابوبکر (رض) کو ساتھ لیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر ہجرت میں حضرت ابوبکر (رض) کو ساتھ لینا اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا اور حضرت ابوبکر (رض) کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفاقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر (رض) کو چن لیا۔

(٣) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو ثانی اثنین (دو میں سے دوسرا) اور دین کے اکثر مناصب میں حضرت ابوبکر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ثانی تھے۔ پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کو اسلام کی دعوت دی اور وہ مسلمان ہوگئے، پھر حضرت ابوبکر نے حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عثمان بن عفان کو اسلام کی دعوت دی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ اس طرح اسلام کی دعوت دینے میں اوّل سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ثانی حضرت ابوبکر تھے۔ اسی طرح ہر غزوہ میں حضرت ابوبکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر رہے، اس طرح وہ غزوات میں بھی ثانی اثنین ہیں اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کو امام مقرر فرمایا، پس امامت میں بھی حضرت ابوبکر ثانی اثنین ہیں، اور جب حضرت ابوبکر فوت ہوئے تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں دفن ہوئے اس طرح وہ قبر میں بھی ثانی اثنین ہیں، اور حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے قبر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر اٹھیں گے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٩٢) اور جنت میں سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوں گے اور امت میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر داخل ہوں گے۔ (سنن ابودائود : ٤٦٥٢) خلاصہ یہ ہے کہ تبلیغ دین میں ہجرت کرنے میں، مغازی میں، امامت میں، امارت میں، قبر میں، حشر میں، دخول جنت میں، تمام اہم دینی مناصب میں اوّل سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور ثانی حضرت ابوبکر (رض) ہیں۔

(٤) اس آیت میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابوبکر غمگین ہوئے تو ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تسلی دی اور فرمایا : غم نہ کرو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے اور یہ حضرت ابوبکر کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو تسلی دینے والے ہوں۔

(٥) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصریح کی ہے حضرت ابوبکر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحب ہیں اور یہ نص قطعی ہے جس کا انکار کفر ہے اور تمام صحابہ میں صرف ابوبکر کی صحابیت منصوص ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہونے کا انکار کفر ہے۔

(٦) اس آیت میں فرمایا ہے : اللہ ہمارے مع (ساتھ) ہے، اور اس معیت سے حفاظت اور نصرت کی معیت مراد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو حفاظت اور نصرت فرمائے گا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں حضرت ابوبکر کو بھی شامل فرما لیا اور یہ حضرت ابوبکر کی بہت بڑی فضیلت ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ متقین اور محسنین کے مع (ساتھ) ہوتا ہے۔ اس سے حضرت ابوبکر کا متقی اور محسن ہونا بھی منصوص ہوا۔

(٧) احادیث اور کتب سیر سے ثابت ہے کہ غار ثور میں قیام کے دوران حضرت ابوبکر کے بیٹے، عبداللہ بن ابی بکر اور ان کی بیٹی حضرت اسماء، ان کا غلام عامر بن فہیرہ آپ تک مکہ کی خبریں پہنچانے اور آپ کے لیے طعام پیش کرنے میں لگے رہے اور یہ بھی حضرت ابوبکر کی فضیلت ہے کہ ان کی اولاد اور ان کے خدام اس خطرے کے موقع پر جان کی بازی لگا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مشغول رہے۔

(٨) حضرت ابوبکر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ مدینے پہنچے تو سب لوگوں نے جان لیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس شخص کو سفر و حضر میں ساتھ رکھتے ہیں وہ حضرت ابوبکر (رض) ہیں۔

(٩) اس آیت میں حضرت ابوبکر کی خلافت کی دلیل ہے کیونکہ حاکمیت میں اوّل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور ثانی حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں۔ سالم بن عبیدبیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو انصار نے کہا : ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے ہوگا، تو حضرت عمر نے کہا : ایسا کون شخص ہے جس کے متعلق یہ تین آیتیں ہوں : اذھما فی الغار (جب وہ دونوں غار میں تھے) وہ دونوں کون تھے ؟ اذ یقول لصاحبہ (جب وہ اپنے صاحب سے کہہ رہے تھے) وہ صاحب کون ہیں ؟ لا تحزن ان اللہ (غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے) یہ دونوں کون ہیں ؟ پھر حضرت ابوبکر نے ہاتھ بڑھایا اور سب لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کرنی شروع کردی۔ اور یہ بہت عمدہ بیعت تھی۔ (السنن الکبریٰ ج ٦ ص ٣٥٥، رقم الحدیث : ١١٢١٩، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١١ ھ)

(١٠) غار ثور کی ان تین راتوں میں حضرت ابوبکر میں انوار رسالت اس طرح جذب ہوگئے تھے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر مدینہ پہنچے تو استقبال کے لیے آئے ہوئے مسلمانوں نے حضرت ابوبکر کو سمجھا کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور وہ سب آگے بڑھ کر حضرت ابوبکر (رض) سے ملنے لگے، تب حضرت ابوبکر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر پر چادر کا سایہ کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، میں تو ان کا ایک غلام اور امتی ہوں۔ امام بخاری حدیث ہجرت کے اخیر میں عروہ بن الزبیر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسلمانوں کی ایک جماعت میں حضرت زبیر سے ملاقات ہوئی جو شام سے تجارت کرکے لوٹ رہے تھے، پھر حضرت زبیر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کو سفید کپڑے پہنائے اور مدینہ کے مسلمانوں نے سن لیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے تشریف لا رہے ہیں، وہ ہر روز صبح مدینہ کی پتھریلی زمین پر جاتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انتظار کرتے اور دوپہر کو لوٹ آتے، حتیٰ کہ ایک روز جب ان کا انتظار بہت طویل ہوگیا اور وہ اپنے گھروں کو لوٹ گئے، ایک یہودی کسی ٹیلہ پر کھڑا ہوا کسی کا انتظار کر رہا تھا تو اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو سفید لباس میں آتے ہوئے دیکھ لیا۔ وہ یہودی بےاختیار بلندآواز سے چلا کر بولا : اے معاشرالعرب ! یہ ہیں وہ تمہارے بزرگ جن کا تم انتظار کر رہے تھے۔ مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف دوڑے اور انہوں نے اس پتھریلی زمین پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائیں جانب مڑ گئے اور بنو عمرو بن عوف کے محلہ میں ٹھہرے۔ یہ ماہ ربیع الاوّل کا پہلا دن تھا۔ حضرت ابوبکر لوگوں کے سامنے کھڑے رہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش بیٹھے رہے۔ پھر انصار کے جن لوگوں نے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا تھا وہ حضرت ابوبکر کو تعظیم دینے لگے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دھوپ آگئی۔ تب حضرت ابوبکر نے اپنی چادر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سایہ کیا، اس وقت لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچانا …… الحدیث۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٩٠٥، مطبوعہ دار ارقم، بیروت) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ ظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنہوں نے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا تھا انہوں نے حضرت ابوبکر کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گمان کیا اسی لیے انہوں نے ابتدائً حضرت ابوبکر کو سلام کیا اور جب دھوپ آگئی اور حضرت ابوبکر نے چادر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سایہ کیا تب انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچانا۔ (فتح الباری ج ٧ ص ٢٤٤، طبع لاہور) ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر میں انوار رسالت اس طرح جذب ہوگئے تھے کہ دیکھنے والے حضرت ابوبکر پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گمان کرتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 40