أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡعٰمِلِيۡنَ عَلَيۡهَا وَالۡمُؤَلَّـفَةِ قُلُوۡبُهُمۡ وَفِى الرِّقَابِ وَالۡغٰرِمِيۡنَ وَفِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

زکوٰۃ کے مصارف صرف فقراء اور مساکین ہیں اور زکوٰۃ کی وصولیابی پر مامور لوگ، اور جن کے دلوں کو اسلام کی طرف راغب کرنا مقصود ہو اور جن غلاموں کو آزاد کرنا ہو، اور مقروض لوگ اور اللہ کی راہ میں اور مسافرین، یہ اللہ کی جانب سے ایک فریضہ ہے اور اللہ بہت علم والا بےحد حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : زکوٰۃ کے مصارف صرف فقراء اور مساکین ہیں اور زکوٰۃ کی وصولیابی پر مامور لوگ، اور جن کے دلوں کو اسلام کی طرف راغب کرنا مقصود ہو اور جن غلاموں کو آزاد کرنا ہو، اور مقروض لوگ اور اللہ کی راہ میں اور مسافرین، یہ اللہ کی جانب سے ایک فریضہ ہے اور اللہ بہت علم والا بےحد حکمت والا ہے (التوبہ : ٦٠ )

آیاتِ سابقہ کے ساتھ ارتباط اس سے پہلی آیتوں میں یہ بتایا تھا کہ منافقین زکوٰۃ اور صدقات کی تقسیم میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض کرتے تھے تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف کا بیان فرمایا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زکوٰۃ کو اس کے مصارف میں تقسیم فرماتے ہیں اور زکوٰۃ اور صدقات میں سے اپنے نفس کے لیے کوئی چیز نہیں رکھتے، اس لیے زکوٰۃ کی تقسیم میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طعن اور اعتراض کا کوئی جواز نہیں ہے۔ زکوٰۃ کا لغوی اور شرعی معنی، زکوٰۃ کا نصاب اور وجوبِ زکوٰۃ کی شرائط ہم البقرہ : ٤٣ میں بیان کرچکے ہیں۔ اس مقام پر ہم زکوٰۃ کی حکمتیں، زکوٰۃ کی مصلحتیں اور زکوٰۃ کے فوائد بیان کر رہے ہیں، ان میں سے بعض حکمتوں کا تعلق زکوٰۃ دینے والے کے ساتھ ہے اور بعض حکمتوں کا تعلق زکوٰۃ لینے والے کے ساتھ ہے۔ 

زکوٰۃ دینے والے کے حق میں زکوٰۃ کی حکمتیں اور مصلحتیں

امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی متوفی ٥٠٥ ھ نے زکوٰۃ کے حسب ذیل اسرار اور فوائد بیان فرمائے ہیں :

(١) انسان جب کلمہ شہادت پڑھ لیتا ہے تو گویا وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : والذین اٰمنوْآ اشد حبا للہ۔ (البقرہ : ١٦٥) اور جو لوگ ایمان لائے وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ یعنی مومن اپنی جان اور اپنے مال سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے۔ تو مسلمانوں پر جہاد فرض کرکے ان کی جان سے زیادہ محبت کو آزمایا گیا اور زکوٰۃ کو فرض کرکے ان کی مال سے زیادہ اللہ سے محبت کو آزمایا گیا، اور اللہ کی محبت میں مال خرچ کرنے والے مسلمانوں کے تین درجات ہیں : (الف) وہ لوگ جو اللہ کی محبت میں سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے ہیں اور اپنے پاس ایک درہم اور ایک دینار بھی نہیں رکھتے۔ اس لیے جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ دو سو درہم پر کتنی زکوٰۃ تو وہ کہتے ہیں کہ عوام پر تو پانچ درہم زکوٰۃ ہے اور ہم پر تمام مال کو خرچ کرنا واجب ہے۔ حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ اس دن اتفاق سے میرے پاس مال تھا۔ میں نے دل میں کہا اگر میں کسی دن حضرت ابوبکر (رض) پر سبقت کرسکتا ہوں تو وہ آج کا دن ہے۔ میں اپنا آدھا مال لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ میں نے عرض کیا، اتنا ہی مال ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا پھر حضرت ابوبکر (رض) اپنے گھر کا تمام مال و متاع لے کر آپہنچے۔ ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ؟ حضرت ابوبکر نے کہا : میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑا ہے۔ تب میں نے دل میں کہا میں حضر ابوبکر پر کبھی سبقت نہیں کرسکتا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٦٧٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٧٥، المستدرک ج ١ ص ٤١٤، سنن بیہقی ج ٤ ص ١٨١، کنز العمال رقم الحدیث : ٣٥٦١١، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٦٠٢١) حضرت ابوبکر صدیق (رض) مکمل صدق کے مقام پر فائز تھے۔ انہوں نے اپنے پاس صرف اسی چیز کو رکھا جو انہیں سب سے زیادہ محبوب تھی اور وہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (ب) دوسرا درجہ اس پہلے درجہ والوں سے کم ہے۔ یہ اپنے پاس مال کو بچا کر رکھتے ہیں تاکہ ان کی ضروریات کے موقع پر کام آئے اور جب نیک کاموں پر خرچ کرنے کے مواقع آئیں تو وہ مال کو خرچ کرسکیں۔ پس وہ مال کو اس لیے جمع کرکے رکھتے ہیں تاکہ ضرورت کے مواقع پر خرچ کرسکیں نہ کہ عیش و عشرت پر خرچ کرنے کے لیے اور یہ ضرورت ہے زائد مال کو نیکی کے راستوں پر خرچ کرتے ہیں۔ اور یہ لوگ صرف زکوٰۃ کی مقدار پر اقتصار نہیں کرتے، اور تابعین میں سے نخعی، شعبی، عطا اور مجاہد کا یہ نظریہ ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ اور حقوق بھی ہیں۔ ان کا استدلال قرآن مجید کی درج ذیل آیتوں سے ہے : واٰتَی المال علی حبہٖ ذوی القربیٰ والیتٰمٰی والمسٰکین وابن السبیل والسآئلین وفی الرقاب واقام الصلوٰۃ واٰتَی الزکوٰۃ۔ (البقرہ : ١٧٧) ترجمہ : اور مال سے (طبعی) محبت کے باوجود (اللہ کی محبت میں) اپنا مال رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سوال کرنے والوں اور غلام آزاد کرانے کے لیے دے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ وانفقوا مما رزقنٰکم۔ (المنافقوں : ١٠) اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے تم (ہماری راہ میں) خرچ کرو۔ ومما رزقنٰھم ینفقون۔ (الانفال : ٣) اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے وہ اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ (ج) اور تیسرا درجہ ان لوگوں کا ہے جو صرف مقدار واجب ادا کرنے پر اقتصار کرتے ہیں۔ ان پر جتنی زکوٰۃ فرض ہے وہ صرف اتنی ہی ادا کرتے ہیں، اس سے زیادہ نہ اس سے کم۔ اور یہ سب سے کم مرتبہ ہے اور تمام عام لوگوں کا یہی طریقہ ہے۔ کیونکہ وہ مال کی طرف مائل ہوتے ہیں اور مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں اور آخرت کے ساتھ ان کی محبت کمزور ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اضغانکم ھٰٓانتم ھٰٓئولآء تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ فمنکم من یبخل ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہٖ ۔ (محمد : ٣٨۔ ٣٧) ترجمہ : اگر اللہ تم سے تمہارا مال طلب کرے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے دلوں کے زنگ کو ظاہر کر دے گا ہاں تم ہی وہ لوگ ہو جن کو اللہ کی راہ میں خرچ کے لیے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرتا ہے وہ صرف اپنی جان سے ہی بخل کرتا ہے۔

(٢) زکوٰۃ ادا کرنے کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے سے انسان سے بخل کی صفت زائل ہوجاتی ہے اور بخل سے نجات کی اللہ تعالیٰ نے مدح فرمائی ہے : ومن یوق شح نفسہٖ فاولٰٓئک ھم المفلحون۔ (الحشر : ٩) ترجمہ : اور جو لوگ اپنے نفس کے بخل سے بچائے گئے سو وہی لوگ کامیاب ہیں۔ نیز حدیث صحیح میں بھی بخل کی مذمت کی گئی ہے۔ حضرت ابو ثعلبہ خشنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم یہ دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جارہی ہے اور خواہش نفس کی اتباع کی جارہی ہے اور دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر شخص اپنی رائے کو اچھا سمجھ رہا ہے، تو تم عام لوگوں سے الگ ہو کر عزلت نشین ہو جائو۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٤١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٠٥٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠١٤) ۔

(٣) زکوٰۃ ادا کرنے کا تیسرا فائدہ یہ ہے زکوٰۃ ادا کرکے انسان اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے بدن اور مال کی نعمت عطا فرمائی، عباداتِ بدنیہ انجام دے کر وہ نعمت بدن کا شکر ادا کرتا ہے اور زکوٰۃ ادا کرکے وہ نعمت مال کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ وہ ایک فقیر کو دیکھے جس پر رزق کی تنگی ہو اور وہ اس سے سوال کرنے کا محتاج ہو۔ پھر اس کے دل میں رحم نہ آئے اور وہ اس بات پر اللہ کا شکر ادا نہ کرے کہ اللہ نے اس کو سوال کرنے سے اور دوسرے کی طرف محتاج ہونے سے مستغنی کردیا ہے اور وہ اس ضرورت مند فقیر کو زکوٰۃ، عشر اور صدقہ و خیرات دے کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کرے۔ (احیاء علوم الدین ج ١ ص ٢٠٣۔ ٢٠٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ) ۔ اور امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦ ا ٦٠ ھ لکھتے ہیں :

(٤) جب انسان کے پاس مال اس کی ضروریات سے بہت زیادہ ہوگا تو وہ اس مال سے اپنے عیش و عشرت کے ذرائع اور وسائل مہیا کرے گا اور یوں اس کا دل دنیا کی رنگینیوں میں اور دنیا کی مرغوب چیزوں اور لذتوں میں لگا رہے گا اور آخرت کی طرف بالکل متوبہ نہیں ہوگا یا کم متوجہ ہوگا۔ اور وہ سوچے گا کہ عبادات اور نیک کاموں اور زکوٰۃ، عشر اور صدقہ و خیرات ادا کرنے سے اس کے مال میں کمی ہوگی اور اس وجہ سے وہ نیک کاموں میں اپنے مال کو بالکل خرج نہیں کرے گا یا کم کرے گا۔

(٥) مال کی کثرت سے انسان میں غرور اور تکبر پیدا ہوگا اور سرکشی اور بغاوت پیدا ہوگی اور زکوٰۃ اور صدقات ادا کرنے سے اس کے تکبر اور سرکشی میں کمی ہوگی اور اس کا دل اللہ سے مغفرت طلب کرنے اور اس کی رضا جوئی کی طرف متوجہ ہوگا۔

(٦) جب انسان زکوٰۃ اور عشر ادا کرے گا اور صدقہ و خیرات کرے گا تو ضرورت مند لوگ اس کے لیے دعائیں کریں گے اور اس کی دعائوں سے اس کا مال نقصان اور بربادی سے محفوظ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض۔ (الرعد : ١٧) ترجمہ : اور رہی وہ چیز جو لوگوں کو نفع پہنچاتی ہے تو وہ زمین میں برقرار رہتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زکوٰۃ سے اپنے اموال کی حفاظت کرو، اور صدقات سے اپنے بیماروں کی دوا کرو اور مصائب کے لیے دعا کو تیار رکھو۔ (١ المعجم الکبیر ج ١٠ رقم الحدیث : ١٠١٩٦، حلتہ الاولیاء ج ٢ ص ١٠٤، ج ٤ ص ٢٣٧، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١١٧، تاریخِ بغداد ج ٦ ص ٣٣٤، حافظ الہیشمی نے کہا اس حدیث کا ایک راوی متروک الحدیث ہے، مجمع الزوائد ج ٣ ص ٦٤، حافظ سیوطی نے کہا یہ حدیث ضعیف ہے، الجامع الصغیر ج ١ رقم الحدیث : ٣٧٢٨ ) ۔

(٧) مال بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن جب انسان اس مال کو نیکی کی راہ میں خرچ کرے گا تو وہ نیکیاں باقی رہیں گی۔ دینا میں ان کی تعریف کی جائے گی اور آخرت میں اجر ملے گا۔ ایک شخص نے کہا : کاش ! میں اپنے تمام مال کو قبر میں لے جاسکتا ! میں نے کہا : یہ ممکن ہے، تم اپنے تمام مال کو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا میں خرچ کردو، تم کو یہ مال قبر میں ملے گا اور آخرت میں بھی۔

(٨) مال داروں کے پاس بہت زیادہ مال ان کی ضروریات سے زائد ان کی تجوریوں اور بینکوں میں معطل پڑا رہتا ہے اور فقراء اور ضرورت مندوں کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی مال نہیں ہوتا، تو اللہ تعالیٰ کی حکمت اس کی متقاضی ہوئی کہ زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعہ مال داروں کے زائد مال میں سے بقدر ضرورت زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعہ ضرورت مندوں تک پہنچایا جائے۔

(٩) اگر مال دار ضرورت مندوں اور فقیروں کی مالی امداد نہ کریں تو ہوسکتا ہے کہ ضرورت مند فقراء اپنی تنگی اور فقر سے تنگ آ کر بغاوت پر اتر آئیں اور چوریاں، ڈاکے اور لوٹ مار اور بھتہ خوری شروع کردیں اور زکوٰۃ اور صدقات کی ادائیگی کے ذریعہ اس بغاوت کا سدباب ہوسکتا ہے۔

(١٠) زکوٰۃ اور صدقات کی ادائیگی کرکے انسان اللہ کی مخلوق پر شفقت کرتا ہے اور ان کی پرورش کرتا ہے۔ ان کے لیے رزق فراہم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت سے متصف ہوتا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کے اخلاق سے متخلق ہوتا ہے۔

زکوٰۃ لینے والے کے حق میں زکوٰۃ کی حکمتیں اور مصلحتیں :

(١) مغیرہ بن عامر نے کہا : شکر نصف ایمان ہے اور صبر نصف ایمان ہے اور یقین مکمل ایمان ہے۔ (موسوعہ رسائل ابن ابی الدنیا ج ٣ ص ٣٠، موستہ الثقافیہ بیروت ١٤١٤ ھ، شعب الایمان ج ٤ ص ١٠٩، رقم الحدیث : ٤٤٤٨ ) ۔ زکوٰۃ دینے والا اپنے مال کے کم ہونے پر صبر کرتا ہے اور ضرورت مند فقیر زکوٰۃ کی صورت میں مال لے کر شکر ادا کرتا ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ مال دار نے پہلے مال ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا، پھر زکوٰۃ کی ادائیگی سے جو مال میں کمی ہوئی اس پر صبر کیا تو زکوٰۃ کی وجہ سے اس کا ایمان مکمل ہوگیا۔ اسی طرح حاجب مند فقیر نے پہلے مال نہ ہونے پر صبر کیا اور زکوٰۃ کی شکل میں مال ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا تو زکوٰۃ کی وجہ سے اس کا ایمان بھی مکمل ہوگیا۔ نیز حضرت سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص مصیبت میں مبتلا ہو تو اس نے صبر کیا اور اس کو نعمت دی گئی تو اس نے شکر ادا کیا۔ اس پر ظلم کیا گیا تو اس نے معاف کردیا اور اس نے خود ظلم کیا تو اس پر استغفار کیا۔ پوچھا گیا اس کے لیے کیا اجر ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی لوگ عذاب سے مامون ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

(٢) ہرچند کہ اللہ تعالیٰ نے غنی کو بہت مال دیا ہے اور فقیر کو مال نہیں دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے غنی کو اس بات کا مکلف کیا ہے کہ وہ فقیر کو زکوٰۃ ادا کرے اور فقیر کا غنی پر احسان ہے کہ وہ اس سے زکوٰۃ قبول کرکے اس کو دوزخ کے عذاب سے چھڑاتا ہے۔ غنی کا فقیر کو زکوٰۃ دینے کی وجہ سے اس کی دنیا پر احسان ہے اور فقیر کا غنی کی آخرت پر احسان ہے اور اخروی احسان دنیاوی احسان سے زیادہ بڑا ہے۔

(٣) اللہ تعالیٰ نے فقیر کو اس بات کا مکلف نہیں کیا کہ وہ غنی کے پاس جا کر اس سے زکوٰۃ مانگے۔ بلکہ غنی کو اس بات کا مکلف کیا ہے کہ وہ فقیر کے پاس جا کر زکوٰۃ ادا کرے۔ فقیر اپنی دنیا میں غنی کا محتاج ہے تو غنی اپنی آخرت میں فقیر کا محتاج ہے۔

فقیر کا معنی فقیر کا لفظ چار معانی میں استعمال ہوتا ہے :

(١) حاجتِ ضروریہ کا وجود مثلاً جن کو غذا، لباس اور مکان کی حاجب ہو اور اس معنی میں ہر شخص فقیر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یٰٓایھا الناس انتم الفقرآء ُ الی اللہ۔ (فاطر : ١٥) ترجمہ : اے لوگو ! تم سب اللہ کی طرف محتاج ہو۔ (٢) جس شخص کے پاس مال جمع نہ ہو۔ فقہی اصطلاح میں جو شخص دو سو درہم (باون اعشاریہ ٥ تولہ چاندی) کا مالک نہ ہو یا اس کے پاس اس کی حاجت اصلیہ سے زائد دو سو درہم کے مساوی رقم نہ ہو اور وہ مستحق زکوٰۃ ہو، فقہاء احناف کے نزدیک فقیر کا یہی معنی ہے اور سورة توبہ : ٦٠ میں یہی معنی مراد ہے۔ اسی طرح یہ آیت بھی ہے : للفقرآئِ الذین احصرو فی سبیل اللہ لا یستطیعون ضرباً فی الارض یحسبھم الجاہل اغنیآء من التعفف۔ (البقرہ : ٢٧٣) ترجمہ : (یہ خیرات) ان فقراء کا حق ہے جو خود کو اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے ہیں جو (اس میں شدت اشغال کی وجہ سے) زمین میں سفر کی طاقت نہیں رکھتے، ناواقفِ حال ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے ان کو غنی سمجھتا ہے۔ (٣) نفس کا بہت زیادہ حریص ہونا، اس حدیث میں فقراء اسی معنی میں ہے۔ یزید بن ابان رقاضی حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریب ہے کہ فقر (زیادہ حرص) کفر ہوجائے اور قریب ہے کہ حسد تقدیر پر غالب ہوجائے۔ (حلیتہ الاولیاء ج ٣ ص ٥٣، طبع قدیم، ج ٣ ص ٦٢۔ ٦١، رقم : ٣١٦٩، طبع جدید، تاریخ اصفہان ج ١ ص ٩٠، الضعفاء للعقیلی ج ٤ ص ٢٠٦، کنزالعمال رقم الحدیث : ١٦٦٨٢، مشکوٰۃ المصابیح رقم الحدیث : ٥٠٥١، العلل المنتاہیہ ج ٢ ص ٣٢٠) اور اس فقر کے مقابل غنی کا یہ معنی ہے : ” غنی وہ شخص ہے جس کا دل غنی ہو “۔ (٤) اللہ تعالیٰ کی طرف محتاج ہونا، قرآن مجید میں ہے : فقال رب انی لمآ انزلت الی من خیرٍ فقیرٌ۔ (القصص : ٢٤) ترجمہ : موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! میں اس خیرو برکت کا محتاج ہوں جو تو نے میری طرف نازل کی ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی ہے : اے اللہ ! مجھے اپنی طرف محتاج کرکے (دنیا سے) مستغنی کر دے اور اپنے آپ سے (یعنی اللہ سے) مستغنی کرکے مجھے (دنیا کا) محتاج نہ کر۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٩٦۔ ٤٩٥، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، ١٤١٨ ھ) مسکین کا معنی : مسکین کا معنی ہے جس کے پاس کوئی چیز نہ ہو اور یہ فقیر کی بہ نسبت زیادہ تنگ دست ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : اما السفینۃ فکانت لمساکین۔ (الکہف : ٧٩) ترجمہ : رہی کشتی تو وہ مسکینوں کے لیے تھی۔ اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسکین کے پاس کوئی چیز ہوتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کشتی چھن جانے کے بعد ان کو مسکین فرمایا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ان پر اس قدر زیادہ غربت اور مسکینی تھی کہ اس کے مقابلہ میں اس کشتی کا ہونا لائق شمار نہ تھا۔ (المفردات ج ١ ص ٣١٢) اور علامہ طاہر پٹنی متوفی ٩٨٦ ھ نے لکھا ہے کہ مسکین کا معنی ہے جس کے پاس کوئی چیز نہ ہو اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے پاس تھوڑی سی چیز ہو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی ہے کہ اے اللہ ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مجھے مسکینی کی حالت میں موت عطا فرما۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٥٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٢٦، سنن بیہقی ج ٧ ص ١٢، المستدرک ج ٤ ص ٣٢٢) آپ نے اس سے تواضع کا ارادہ فرمایا اور یہ کہ آپ جبارین اور متکبرین میں سے نہ ہوں۔ (مجمع بحارالانوار ج ٣ ص ٩٦، مطبوعہ مدینہ منورہ، ١٤١٥ ھ)

فقیر اور مسکین کے معنی میں مذاہبِ ائمہ اور تحقیق

حسن بصری نے کہا : فقیر وہ ہے جو اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور مسکین وہ ہے جو سعی کرتا رہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مساکین گھومنے پھرنے والے ہیں اور فقراء مسلمین ہیں۔ جابر بن زید نے کہا : فقیر اپاہج ہے اور مسکین وہ ہے جو تندرست اور محتاج ہو۔ اور عکرمہ نے کہا کہ فقراء کا اطلاق فقراء مسلمین پر ہوتا ہے اور مساکین کا اطلاق، اہلِ کتاب کے مساکین پر ہوتا ہے۔ امام ابو جعفر طبری کا مختار یہ ہے کہ جو سوال نہیں کرتے وہ فقراء ہیں اور جو سوال کرتے ہیں وہ مساکین ہیں۔ (جامع البیان جز ١٠ ص ٢٠٥۔ ٢٠٢، ملخصاً ، مطبوعہ بیرورت) ۔

امام ابوحنیفہ کے نزدیک فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ مال ہو لیکن وہ نصاب زکوٰۃ سے کم ہو۔ اور مسکین وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ اور امام شافعی کا قول اس کے برعکس ہے اور امام مالک کے نزدیک فقیر اور مسکین مساوی ہیں۔ اور امام احمد کا مذہب بھی امام شافعی کی مثل ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٨ ص ٩٨۔ ٩٦، عنایت القاضی ج ٤ ص ٥٨٦۔ ٥٨٥، زادالمسیر ج ٣ ص ٤٥٦ ) ۔

امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ مسکین کے متعلق قرآن مجید میں ہے : رہی کتنی تو وہ مسکینوں کے لیے تھی۔ (الکہف : ٧٩) اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسکین کے پاس کچھ مال ہوتا ہے۔ امام ابوحنیفہ کی طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ وہ کشتی ان کی ملکیت نہیں تھی۔ وہ اس کو کرائے پر چلاتے تھے یا انہوں نے اس کشتی کو عاریتاً لیا ہوا تھا۔ یا دراصل وہ فقیر تھے۔ ان کو ازراہِ ترحم مجازاً مسکین فرمایا : امام شافعی کا دوسرا استدلال اس حدیث سے ہے : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! مجھے بحالت مسکین زندہ رکھ اور بحالت مسکین مجھے موت عطا فرما۔ اور قیامت کے دن مساکین کی جماعت میں میرا حشر فرما۔ حضرت عائشہ (رض) نے پوچھا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا کیوں کی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مساکین اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اے عائشہ ! مسکین کو رد نہ کرو۔ خواہ کھجور کا ایک ٹکرا ہی دو ۔ اے عائشہ ! مساکین سے محبت رکھو اور ان کو قریب رکھو۔ قیامت کے دن اللہ تمہیں قریب رکھے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٥٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٢٦، المستدرک ج ٤ ص ٣٢٢، سنن بیہقی ج ٧ ص ١٢)

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکین کے حال میں رہنے کی دعا کی ہے اور ایک اور حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فقر سے پناہ مانگی ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میں فقر، قلت اور ذلت سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ ! میں ظلم کرنے یا ظلم سہنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٥٤٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٤٧٥، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٣٦٨ ) ۔

امام شافعی کی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ اگر مسکین مالی طور پر فقیر سے کم ہو تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فقر سے پناہ مانگیں اور مسکین ہونے کی دعا فرمائیں جو کہ فقیر سے زیادہ ابتر حال ہے اور یہ تناقص کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فقر سے پناہ مانگی ہے اس حدیث میں فقر سے مراد قلت مال نہیں ہے بلکہ اس سے مراد فقرالنفس ہے۔ یعنی وہ شخص جو مال پر بہت حریص ہو۔ اور اس فقر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پناہ مانگی ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا بھی فرماتے تھے : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ ، سوال سے بچنے اور غناء کا سوال کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٢١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٤٣٨٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٣٢، الادب المفرور رقم الحدیث : ٦٧٤، مسند احمد ج ١ ص ٤١١) اور اس حدیث میں غنیٰ سے مراد کثرت مال نہیں ہے بلکہ اس سے غنی النفس مراد ہے۔ یعنی نفس کا مستغنی ہونا۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکین کے حلا میں رہنے کی جو دعا کی ہے اس سے مراد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تواضع اور انکسار ہے۔ امام شافعی کی طرف سے یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ سورة توبہ کی اس آیت میں فقیر کو مسکین پر مقدم کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فقیر کا حال مسکین سے زیادہ برا ہوتا ہے اور فقیر وہ ہے جس کے پاس بالکل مال نہ ہو اور مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ کچھ مال ہو۔ اس کا یہ جواب ہے کہ تقدم کے کئی اعتبار ہوتے ہیں اور یہاں تقدم ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی کے طور پر ہے۔ پہلے فقیر کا ذکر کیا جس کے پاس کچھ مالیت ہوتی ہے۔ اس کے بعد مسکین کا ذکر کیا جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا اور مسکین کے اس معنی پر امام ابوحنیفہ کی طرف سے یہ دلیل دی جاتی ہے : مسکینا ذامتربۃ : (البلد : ١٦) یعنی مسکین وہ شخص ہے جس نے بھوک کی شدت سے اپنا پیٹ زمین سے چمٹایا ہوا ہے۔

والعاملین علیھا کا معنی اور اس کے شرعی احکام

یعنی جو لوگ زکوٰۃ اور صدقات کو وصول کرکے لاتے ہیں۔ ان کو ان کی محنت اور مشقت کے مطابق مال زکوٰۃ سے اجرت دی جائے لیکن یہ اجرت اتنی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ زکوٰۃ کی وصول کردہ تمام رقم یا اس کے نصف پر محیط ہو۔ (عنایت القاضی ج ٤ ص ٥٨٧) اگر عامل کو اس مہم کے دوران کوئی شخص ذاتی طور پر کچھ ہدیہ اور تحفہ دے تو وہ اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ وہ اس کو بھی وصول شدہ زکوٰۃ کی مد میں شامل کر دے۔ حضرت ابوحمید الساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن اللتبیہ کو بنو سلیم کے صدقات وصول کرنے کا عامل بنایا۔ جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے حساب لیا تو اس نے کہا : یہ وہ مال ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے دیا گیا ہے اور یہ وہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے باپ اور اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھے رہے حتیٰ کہ تمہارے پاس ہدیے آتے اگر تم سچے ہو۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کے بعد فرمایا : میں تم میں سے کسی شخص کو کسی کام پر عامل بناتا ہوں جس کام کا اللہ نے مجھے ولی بنایا ہے۔ پھر تم میں سے کوئی شخص میرے پاس آ کر کہتا ہے یہ حصہ تمہارے لیے ہے اور یہ حصہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے۔ پس وہ شخص کیوں نہ اپنے اپ کے گھر میں یا اپنی ماں کے گھر میں جا کر بیٹھا۔ حتیٰ کہ اس کے پاس ہدیہ آتا۔ اگر وہ سچا ہے۔ اللہ کی قسم ! تم اس مال میں سے جو چیز بھی ناحق لو گے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس چیز کو اس کے اوپر لاد دے گا۔ سنو ! میں اس شخص کو قیامت کے دن ضرور پہچان لوں گا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ بلند کیے حتیٰ کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بغلوں کی سفیدی (کی جگہ) دیکھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے ! (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧١٩٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٣٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٩٤٦، سنن دارمی رقم الحدیث : ١٦٦٩ ) ۔ حضرت عدی بن عمیر کندی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! تم میں سے جس شخص نے ہمارے لیے کوئی عمل کیا پھر اس میں سے کوئی چیز چھپالی خواہ وہ سوئی ہو یا اس سے بھی کمتر چیز تو وہ خیانت ہے اور وہ قیامت کے دن اس چیز کو لے کر آئے گا۔ تب ایک سیاہ فام انصاری اٹھا اور کہنے لگا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنا عمل مجھ سے لے لیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیوں ؟ اس نے کہا : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس اس طرح فرماتے سنا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے یہ کہا ہے کہ جس کو ہم کوئی کام سونپیں تو وہ قلیل اور کثیر ہر چیزلے کر آئے۔ پھر اس کو جو دے دیا جائے، وہ لے لے۔ اور جو نہ دیا جائے وہ نہ لے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٣٣، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٥٨١)

مولفتہ القلوب کی تعریف اور ان کو زکوٰۃ میں سے دینے کے متعلق مذاہب فقہاء

ادائیگی زکوٰۃ کا چوتھا مصرف مولفتہ القلوب ہیں۔ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں کو اسلام کی طرف راغب کرنا مقصود ہو۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ وہ آزاد اور معزز لوگ ہیں جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ حنین میں عطا فرمایا تھا۔ یہ پندرہ آدمی تھے : ابوسفنیا، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن، حویطب عب عبدالعزیٰ ، سہل بن عمرو، حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو الجہنی، ابوالسنابل، حکیم بن حزام، مالک بن عوف، صفوان بن امیہ، عبدالرحمن بن یربوع، جد بن قیس، عمرو بن مرداس اور العلاء بن الحارث۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے ہر شخص کو سو اونٹ دیئے اور ان کو اسلام کی ترغیب دی۔ ماسوا عبدالرحمن بن بربوع کے۔ اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچاس اونٹ دیئے اور حکیم بن حزام کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ستر اونٹ دیئے۔ انہوں نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے خیال میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عطاء کا مجھ سے زیادہ کوئی اور مستحق نہیں ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بھی سو اونٹ پورے کردیئے۔ مولفتہ القلوب کی دو قسمیں ہیں : مسلمان اور کفار۔ مسلمانوں کو صدقات میں سے اس لیے دیا جاتا ہے کہ ان کا ایمان قوی رہے۔ یا ان کے مماثل لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے اور کفار کو اسلام کی ترغیب دینے کے لیے یا ان کے شر سے بچنے کے لیے ان کو زکوٰۃ اور صدقات سے دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفوان بن امیہ کو عطا فرمایا ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا اسلام کی طرف میلان دیکھا۔ علامہ واحدی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مشرکین کے قلوب کی تالیف سے مستغنی کردیا ہے۔ اگر مسلمانوں کا سربراہ یہ دیکھے کہ اس میں مسلمانوں کا کوئی فائدہ ہے اور ان کے مسلمان ہوجانے سے مسلمانوں کو نفع پہنچے گا تو ان کو مال فئے سے عطا کرے، زکوٰۃ نہ دے۔ حضرت عمر (رض) سے یہ مروی ہے کہ مولفتہ القلوب کا مصرف، مصارفِ زکویۃ سے اب ساقط ہوچکا ہے اور یہی شعبی کا قول ہے۔ امام مالک، ثوری، امام ابوحنیفہ اور اسحاق بن راہویہ کا یہی مذہب ہے اور حسن بصری سے یہ مروی ہے کہ ان کا حصہ اب بھی ثابت ہے۔ زہری، ابو جعفر محمد بن علی اور ابو ثور کا یہی مذہب ہے اور امام احمد نے یہ کہا ہے کہ اگر مسلمانوں کو ان کی ضرورت ہو تو ان کو زکوٰۃ سے دیا جائے گا ورنہ نہیں۔ (اللباب فی علوم الکتبا ج ١٠ ص ١٢٦۔ ١٢٥، دارالکتاب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ) ۔ قاضی بیضاوی شافعی نے کہا : مولفتہ القلوب وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرلیا اور اسلام قبول کرنے میں ان کی نیت ضعیف تھی۔ تو ان کے قلوب کو اسلام پر قائم اور برقرار رکھنے کے لیے ان کو عطا کیا جاتا ہے۔ یا ایسے معزز لوگ کہ اگر ان کو عطا کیا جائے تو ان کو دیکھ کر ان جیسے دوسرے معزز لوگ اسلام لے آئیں۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عیینہ بن حصین، اقراع بن حابس اور عباس بن مرداس کو اسی وجہ سے عطا فرمایا تھا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ معزز لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے ان کو خمس کے اس پانچویں حصہ سے عطا فرماتے تھے جو خالص آپ کا حصہ تھا، اور کفار اور مانعین زکوٰۃ سے قتال کرنے کی طرف مائل کرنے کے لیے جن کو عطا کیا جائے وہ بھی اس میں داخل ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مولفتہ القلوب کو اس لیے دیا جاتا تھا کہ مسلمانوں کی تعداد میں کثرت ہو اور اب جبکہ اللہ نے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما دیا ہے اور مسلمانوں کی کثرت ہوگئی ہے تو ان کا حصہ ساقط ہوگیا۔ (انوار التنزیل مع عنایت القاضی ج ٤ ص ٥٨٧، مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ بیروت، ١٤١٧ ھ) ۔ علامہ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی المتوفی ٥٩٣ ھ لکھتے ہیں : مصارفِ زکوٰۃ میں سے مولفتہ القلوب کا حصہ اب ساقط ہوچکا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبی عطا فرما دیا ہے اور ان سے مستغنی کردیا ہے اور اس پر اجماع منعقد ہوچکا ہے۔ (ہدایہ اولین ص ٢٠٤، مطبوعہ مکتبہ شرکت علمیہ ملتان) ۔ علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام الحنفی المتوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : اس پر حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خلافت میں صحابہ کرام (رض) کا اجماع منعقد ہوچکا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو رد کیا تھا۔ عیینیہ اور قراع نے حضرت ابوبکر سے ایک زمین کو طلب کیا۔ حضرت ابوبکر نے ان کو خط لکھ دیا۔ حضرت عمر نے اس خط کو پھاڑ دیا اور کہا : یہ وہ چیز ہے جو تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عطا کرتے تھے، تاکہ تم کو اسلام پر راغب کریں لیکن اب اللہ نے اسلام کو غلبی عطا کردیا ہے اور تم سے مستغنی کردیا ہے۔ اب اگر تم اسلام پر ثابت قدم رہتے ہو تو فبہا ورنہ اب ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہے۔ پھر وہ حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور کہا : خلیفہ آپ ہیں یا عمر ؟ حضرت ابوبکر کی رائے حضرت عمر کے موافق ہوگئی اور صحابہ میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا۔ اگر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی رائے برحق نہ ہوتی تو صحابہ اس پر ضرور انکار کرتے اور یقینا ان کے پاس کوئی ایسی دلیل ہوگی جس سے ان کو علم ہوگا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی وفات سے پہلے اس حکم کو منسوخ کردیا تھا۔ یا یہ حکم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات کے ساتھ مقید تھا۔ یا یہ حکم کسی علت کے ساتھ معلل تھا اور اب وہ علت نہیں تھی، اور حضرت عمر نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی تھی : وقل الحق من ربکم فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر۔ (١ لکہف : ٢٩) ترجمہ : آپ کہیے کہ حق تمہارے رب کی جانب سے ہے سو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ (فتح القدیر ج ٢ ص ٢٦٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) علامہ محمد بن محمود بابرتی حنفی متوفی ٧٨٦ ھ لکھتے ہیں : علامہ علاء الدین عبدالعزیز نے کہا : ان کی تالیف قلوب سے مقصود دین کا اعزاز او غلبہ تھا۔ کیونکہ غلبہ کفر کے زمانہ میں اسلام کمزور تھا۔ اس وقت تالیف قلوب کے لیے عطا کرنے میں دین کا اعزاز تھا اور جب حال بدل گیا اور اللہ نے اسلام کو غلبہ عطا فرما دیا تو اب دین کا اعزاز ان کو نہ دینے میں ہے او اصل مقصود دین کا اعزاز ہے۔ وہ اپنے حال پر باقی ہے اور منسوخ نہیں ہوا۔ اس کی مثال یہ ہے جب پانی نہ ہو تو طہارت کے حصول کے لیے مٹی سے تیمم کرنا ضروری ہے۔ اور جب حال بدل جائے اور پانی مل جائے تو اب مٹی سے تیمم کرنے کا حکم ساقط ہوجائے گا اور پانی کا استعمال کرنا ضروری ہوگا۔ کیونکہ اب طہارت کے حصول کے لیے پانی کا استعمال کرنا متعین ہے۔ اسی طرح دین کا اعزاز پہلے مولفتہ القلوب کو دینے میں تھا اب نہ دینے میں ہے اور اصل حکم دین کا اعزاز ہے۔ وہ منسوخ نہیں ہوا۔ (العنایۃ ج ٢ ص ٢٦٦۔ ٢٦٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے زکوٰۃ میں حصہ

جس غلام کے متعلق اس کے مالک نے یہ کہا ہو کہ اگر اس نے اتنے روپے مجھے ادا کردیئے تو یہ آزاد ہے۔ اس غلام کو مکاتب کہتے ہیں اور اس کی آزادی میں تعاون کرنے کے لیے زکوٰۃ میں سے اس کو حصہ دینا مشروع کیا گیا ہے۔ حسین بیان کرتے ہیں کہ ایک مکاتب حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پاس گیا، وہ اس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ اس نے حضرت ابو موسیٰ سے کہا : اے امیر ! لوگوں کو میرے لیے برانگیختہ کیجئے۔ تو حضرت ابوموسیٰ نے مسلمانوں کو برانگیختہ کیا۔ پس لوگوں نے اس کو کپڑے اور انگوٹھیاں دیں۔ حتیٰ کہ بہت مال جمع ہوگیا۔ حضرت ابوموسیٰ نے اس مال کو جمع کرکے فروخت کیا اور اس کی مکاتبت ادا کردی اور باقی مال بھی غلاموں کو آزاد کرانے میں صرف کردیا۔ اور لوگوں کو یہ رقم واپس نہیں کی اور یہ کہا کہ لوگوں نے یہ رقم غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے دی ہے۔ (جامع البیان جز ١٠ ص ٢١٠، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔ علامہ ابو حفص عمر بن علی الدمشقی الحنبلی المتوفی ٨٨٠ ھ لکھتے ہیں : الرقاب (غلاموں کو آزاد کرانے) کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں : (١) اس سے مراد مکاتب ہیں تاکہ ان کو زکوٰۃ کے مال سے آزاد کرایا جائے۔ (٢) امام مالک وغیرہ نے یہ کہا کہ مال زکوٰۃ سے غلام خرید کر ان کو آزاد کرایا جائے۔ (٣) امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ مال زکوٰۃ سے مکمل غلام آزاد نہ کرایا جائے بلکہ مال زکوٰۃ سے کچھ رقم غلام کے لیے دی جائے اور اس سے مکاتب کی گردن آزاد کرانے میں مدد کی جائے۔ کیونکہ وفی الرقاب فرمانے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا مال زکوٰۃ میں کچھ دخل ہونا چاہیے۔ اور یہ اس کے منافی ہے کہ مال زکوٰۃ سے مکمل غلام آزاد کیا جائے۔

غلاموں، مقروضوں، اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے کے لیے تملیک ضروری نہیں بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ احتیاط اس میں ہے کہ مکاتب کی اجازت سے زکوٰۃ میں اس کا حصہ اس کے مالک کو دے دیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے چار مصارف کا ذکر لام تملیک کے ساتھ کیا ہے۔ اور جب رقاب کا ذکر کیا تو لام کے بجائے ” فی “ کا ذکر کیا اور فرمایا وفی الرقاب اور اس فرق کا کوئی فائدہ ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے چار مصارف میں زکوٰۃ میں سے ان کا حصہ ان کو دے کر ان کو ان حصص کا مالک بنادیا جائے اور باقی مصارف میں زکوٰۃ میں ان کا حصہ ان کے مصالح اور ان کی بہتری اور ان کے فوائد میں خرچ کیا جائے اور ان کو ان کا مالک نہ بنایا جائے۔ زمحشری نے کہا ہے کہ آخری چار مصارف میں لام کی بجائے ” فی “ کا ذکر کیا ہے اور اس میں یہ بتانا ہے کہ آخری چار مصارف پہلے چار مصارف سے صدقہ اور زکوٰۃ دیئے جانے کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ ” فی “ ظرفیت کے لیے آتا ہے اور اس میں تنبیہہ ہے کہ وہ صدقات کا ظرف اور محل ہیں اور فی سبیل اللہ وابن السبیل میں جو ” فی “ کا تکرار کیا ہے اس میں اس میں یہ تنبیہہ ہے کہ ان دو مصرفوں کو یعنی فی سبیل اللہ اور ابن السبیل کو پہلے دو مصرفوں پر زیادہ ترجیح ہے اور غلام آزاد کرانے اور مقروض کا قرض ادا کرنے کی بہ نسبت مال زکوٰۃ کو اللہ کے راستہ میں اور مسافروں پر خرچ کرنا زیادہ راجح ہے۔ (اللباب فی علوم الکتاب ج ١٠ ص ١٢٦، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ) ۔ قاضی شہاب الدین احمد بن محمد بن عمر خفاجی حنفی متوفی ١٠٦٩ ھ لکھتے ہیں : پہلے چار مصارف کے ساتھ لام اور آخری چار مصارف کے ساتھ ” فی “ ذکر کرنے میں نکتہ یہ ہے کہ پہلے چار مصارف میں ان کو زکوٰۃ سے ان کا حصہ ادا کرکے ان کو ان حصوں کا مالک بنادیا جائے اور آخری چار مصارف میں ان کو زکوٰۃ میں سے ان کے حصہ کا مالک نہیں بنایا جائے گا بلکہ ان کا حصہ ان کی فلاح اور ان کے مصالح میں خرچ کیا جائے گا۔ مکاتب کا مال اس کے مالک کو دیا جائے گا اور مقروض کا مال (اس کے حصہ کی زکوٰۃ) اس کے قرض خواہ کو دیا جائے گا اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا بالکل واضح ہے۔ اور مسافر بھی اللہ کے راستے میں داخل ہے۔ اس کو علیحدہ اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ اس کی خصوصیت پر تنبیہہ ہو۔ (عنایت القاضی ج ٤ ص ٥٨٨، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٧ ھ) ۔ امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ پہلے چار مصارف میں لام اور آخری چار مصارف میں ” فی “ کو ذکر کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : پہلے چار مصارف میں ان کو زکوٰۃ سے ان کا حصہ دے کر ان کو مالک بنادیا جائے گا کہ وہ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں اور غلاموں کو آزاد کرنے کے لیے ان کا حصہ ان کو نہیں دیا جائے گا اور نہ ان کو اس پر تصرف کی قدرت دی جائے گی کہ وہ اس میں جس طرح چاہیں تصرف کریں بلکہ ان کی طرف سے ان کی قیمت ادا کردی جائے گی۔ اسی طرح مقروضوں کی زکوٰۃ کا حصہ ان کے قرض خواہوں کو دے دیا جائے گا۔ اسی طرح مجاہدین کی زکوٰۃ کا حصہ ان کی ضرورت اسلحہ خریدینے میں خرچ کیا جائے گا اور اسی طرح مسافروں کی ضرورت کی چیزوں میں ان کا حصہ خرچ کیا جائے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ پہلے چار مصارف میں ان کے حصص ان کو دے دیئے جائیں گے کہ وہ جس طرح چاہیں خرچ کریں اور آخری چار مصارف میں ان کو ان کے حصص نہیں دیئے جائیں گے بلکہ جس جہت سے وہ زکوٰۃ کے مستحق ہیں اس جہت میں ان کے حصہ کی زکوٰۃ کو خرچ کیا جائے گا۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٨٧۔ ٨٦، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔ مفسرینِ حنبلیہ میں سے علامہ عمر بن علی الدمشقی حنبلی نے اور مفسرینِ شافعیہ میں سے امام رازی کے علاوہ، علامہ خازن شافعی متوفی ٧٢٥ ھ نے یہی لکھا ہے کہ زکوٰۃ کے پہلے چار مصارف میں تملیک ضروری ہے اور آخری چار مصارف میں تملیک کے بجائے ان کی ضروریات اور مصالح میں زکوٰۃ خرچ کی جائے۔ (تفسیرِ خازن ج ٢ ص ٢٥٣) اور مفسرینِ احناف میں سے علامہ خفاجی کے علاوہ علامہ محی الدین شیخ زادہ حنفی متوفی ٩٥١ ھ اور علامہ ابوالسعود محمد بن عمادی حنفی متوفی ٩٨٢ ھ اور علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی یہی لکھا ہے۔ (حاشیہ محی الدین شیخ زادہ ج ٤ ص ٤٧٨، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ، تفسیر ابوالسعود ج ٣ ص ١٦٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ، تفسیر روح المعانی ج ١٠ ص ١٢٤، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) غیر مقلدین میں سے نواب صدیق حسن خاں بھوپالی متوفی ١٣٠٧ ھ نے بھی یہی لکھا ہے۔ (فتح البیان ج ٥ ص ٣٣٢) ۔ جن مفسرین نے ژرف نگاہی سے کام لیا اور اس پر غور کیا کہ پہلی چار اصناف کے لیے اللہ تعالیٰ نے لام کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور باقی چار اصناف کے لیے ” فی “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ انہوں نے اس سے یہ مستنبط کیا کہ پہلی چار قسموں میں سے جس کو زکوٰۃ ادا کی جائے اس کو اس مال زکوٰۃ کا مالک بنانا ضروری ہے اور دوسری چار قسموں کے شروع میں چونکہ لام تملیک نہیں ہے بلکہ ” فی “ کا ذکر ہے اس لیے ان میں ان کو مال زکوٰۃ کا مالک نہیں بنایا جائے گا بلکہ ان کے حصہ کی زکوٰۃ کو ان کی ضروریات اور ان کے مصالح میں خرچ کیا جائے گا۔ حنبلی، شافعی اور حنفی مفسرین کی تصریحات اس مسئلہ میں گزر چکی ہیں اور فقہاء کالکیہ کا بھی یہی موقف ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ غلام کو زکوٰۃ کا حصہ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کے حصہ سے غلام کو خرید کر آزاد کردیا جائے۔ علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : امام مالک نے فرمایا کہ غلام کو آزاد کردیا جائے اور اس کی ولاء مسلمانوں کے لیے ہوگی، (الی قولہ) اس میں اختلاف ہے کہ آیا مکاتب کو آزاد کرانے میں اس کی معاونت کی جائے یا نہیں۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ رقبہ (غلام) کا ذکر فرماتا ہے تو اس سے مکمل غلام آزاد کرنے کا ارادہ فرماتا ہے اور رہا مکاتب تو وہ غارمین (مقروضوں) کے کلمہ میں داخل ہے کیونکہ اس کے اوپر مکاتبت کا قرض ہوتا ہے اس لیے وہ رقاب میں داخل نہیں ہوگا۔ (الجامع لاحکام القرآن : جز ٨ ص ١٠٩)

زکوٰۃ کے تمام مصارف میں تملیک ضروری ہونے پر فقہاء احناف کے دلائل :

ہرچند کہ علامہ خفاجی، علامہ ابو سعود حنفی، علامہ شیخ زادہ حنفی اور علامہ آلوسی حنفی نے یہ تصریح کی ہے کہ ادائیگی زکوٰۃ میں مالک بنانے کا تعلق اصنافِ زکوٰۃ میں سے صرف پہلی چار اصناف کے ساتھ ہے اور باقی چار اقسام میں تملیک نہیں کی جائے گی بلکہ مال زکوٰۃ کو ان کی ضروریات اور مصالح میں خرچ کیا جائے گا لیکن جمہور فقہاء احناف تملیک کو ادائیگی زکوٰۃ کا رکن قرار دیتے ہیں اور یہ زکوٰۃ کی تمام اصناف کے لیے رکن ہے۔ علامہ ابوبکر بن مسعود کا سانی حنفی متوفی ٥٨٧ ھ لکھتے ہیں : زکوٰۃ کا رکن یہ ہے کہ نصاب میں سے ایک جز کو اللہ کی طرف نکالا جائے اور اس کو اللہ کے سپرد کردیا جائے اور فقیر کو مالک بنا کر اس کے سپرد وہ مال کرکے مالک کا قبضہ اس جز سے منقطع ہوجائے۔ یا فقیر کے نائب کے سپرد کر دے جو زکوٰۃ وصول کرنے والا ہے اور ملک فقیر کے لیے اللہ کی طرف سے ثابت ہوگی اور صاحب مال فقیر کو مالک بنانے اور اس کے سپرد کرنے میں اللہ کی طرف سے نائب ہوگا۔ اس پر دلیل یہ آیت ہے۔ الم یعلموآ ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہٖ ویاخدا لصدقات۔ (التوبہ : ١٠٤) ترجمہ : کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ بیشک اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات لیتا ہے۔

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : فقیر کی ہتھیلی پر آنے سے پہلے صدقہ رحمن کے ہاتھ میں آتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فقیر کو مالک بنانے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اتوا الزکوۃ۔ (البقرہ : ٤٣) زکوٰۃ دو ، اور الایتاء (دینا) تملیک ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نے زکوٰۃ کو صدقہ فرمایا ہے۔ انما الصدقات للفقراء۔ (التوبہ : ٦٠) اور تصدق کا معنی تملیک ہے۔ پس نصاب کا مالک زکوٰۃ کی مقدار کو اللہ کی طرف نکالنے والا ہوتا ہے۔ ہم نے یہ کہا ہے کہ فقیر کو زکوٰۃ سپرد کرتے وقت اس سے زکوٰۃ کی نسبت منقطع ہوجائے گی اور یہ خالص اللہ کے لیے ہوجائے گی۔ اور اللہ کی طرف زکوٰۃ نکالنے کا معنی عبادت اس وقت بنے گا جب فقیر کو مالک بنا کر وہ اس سے اپنی ملک کو باطل کر دے۔ بلکہ حقیقت میں مالک اللہ بناتا ہے اور صاحب مال تو اللہ کی طرف سے نائب ہے۔ اس قاعدہ کے مطابق مساجد، سرائے اور پانی کی سبیلیں بنانے، پلوں کی مرمت کرنے، مردوں کو دفن کرنے اور دیگر نیکی کے کاموں میں زکوٰۃ کو صرف کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں تملیک (کسی کو مالک بنانا) بالکل نہیں پائی جاتی (کیونکہ یہ چیزیں وقف ہوتی ہیں اور وقف کا کوئی مالک نہیں ہوتا) ۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے مال زکوٰۃ سے طعام خریدا اور فقراء کو صبح اور شام کھانا کھلایا اور ان کو بعینہ طعام نہیں دیا تو یہ بھی جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں تملیک نہیں ہوئی۔ اور اگر اس نے مال زکوٰۃ سے کسی زندہ فقیر کا قرض اس کے حکم کے بغیر ادا کردیا تو یہ بھی جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں بھی فقیر کو مالک نہیں بنایا گیا اور اگر فقیر کے حکم سے اس کا قرض ادا کیا گیا ہے تو جائز ہے۔ کیونکہ اب فقیر کے لیے تملیک پائی گئی۔ گویا کہ فقیر نے مال زکوٰۃ پر قبضہ کیا اور اس کو قرض کی ادائیگی کے لیے وکیل بنادیا۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے مال زکوٰۃ سے غلام خرید کر آزاد کردیا تو یہ جائز نہیں ہے اور امام مالک کے نزدیک یہ جائز ہے اور قرآن مجید میں جو ہے : وفی الرقاب۔ (التوبہ : ٦٠) ان کے نزدیک اس کا یہی معنی ہے کہ مال زکوٰۃ سے غلام خرید کر آزاد کردیا جائے۔ اور ہمارے نزدیک تملیک واجب ہے اور آزاد کرنا ملک کو زائل کرنا ہے اور ہمارے نزدیک وفی الرقاب کا معنی یہ ہے کہ مال زکوٰۃ سے مکاتبین کی امداد کی جائے۔ (بدائع الصنائع ج ٢ ص ٤٥٧۔ ٤٥٦، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ) ۔ اسی طرح علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن ہمام حنفی متوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : مالِ زکوٰۃ سے مسجد بنائی جائے گی اور نہ میت کو کفن دیا جائے گا کیونکہ اس صورت میں تملیک نہیں ہے اور وہ رکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو صدقہ فرمایا ہے اور صدقہ کی حقیقت یہ ہے کہ فقیر کو مال کا مالک بنادیا جائے۔ (فتح القدیر ج ٢ ص ٢٧٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

تملیک کی رکنیت کے دلائل کا تجزیہ :

علامہ کا سانی نے تملیک پر یہ دلیل دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : واتوا الزکوٰۃ اور الایتاء کا معنی ہے کسی کو کسی چیز کا مالک بنانا۔ ہم اب کتب لغت میں الایتاء کا معنی دیکھتے ہیں۔ علامہ مجد الدین فیروز آبادی متوفی ٨١٧ ھ لکھتے ہیں : الایتاء کا معنی ہے کسی کو کوئی چیز عطا کرنا۔ (قاموس ج ٤ ص ٤٣٠) علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے : الایتاء کا معنی ہے : الاعطاء۔ (المفردات ج ١ ص ١٠) علامہ زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ نے لکھا ہے کہ کشاف میں ہے : الایتاء کا معنی الاعطاء میں مشہور ہوگیا۔ اس کا اصل معنی ہے کسی چیز کو حاضر کرنا۔ (تاج العروس ج ١٠ ص ٨، مطبوعہ المطبعتہ المیمنہ مصر، ١٣٠٦ ھ) کتب لغت سے یہ ثابت نہیں ہے کہ الایتاء کا معنی تمیک ہے، اور قرآن مجید کی متعدد آیات میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے اور وہاں اس کا معنی مالک بنانا متصور نہیں ہوسکتا۔

قال یٰقوم ارئیتم ان کنت علیٰ بینۃٍ من ربی واٰتٰنی رحمۃً من عندہٖ فعمیت علیکم۔ (ھود : ٢٨ )

ترجمہ : (نوح نے) کہا : اے میری قوم ! یہ بتائو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت دی ہو سو وہ تم پر مخفی کردی گئی۔

فلما اثقلت دعواللہ ربھما لئن اٰتیتنا صالحاً لنکونن من الشٰکرین۔ (الاعراف : ١٨٩)

ترجمہ : پھر جب وہ حاملہ ہوگئی تو ان دونوں نے اپنے رب سے دعا کی اگر تو نے ہمیں نیک بیٹا دیا تو ہم ضرور تیرے شکر گزار ہوجائیں گے۔

فلمآ اٰتَھما صالحاً ۔ (الاعراج : ١٩٠)

ترجمہ : پس اللہ نے جب انہیں بہترین بچہ دیا۔

فاٰتت اکلھا ضعفین۔ (البقرہ : ٢٦٥ )

ترجمہ : تو اس باغ نے دگنا پھل دیا۔

اٰتونی زبرالحدید۔ (الکہف : ٩٦)

ترجمہ : مجھے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا کردو۔

اس لفظ کے تمام صیغوں اور قرآن مجید اور احادیث میں اس کے اطلاقات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ الایتاء کا معنی حاضر کرنا اور کسی چیز کو دینا اور مہیان کرنا ہے اور اس کے مفہوم میں تملیک داخل نہیں ہے۔ علامہ کا سانی اور علامہ ابن ہمام نے یہ بھی لکھا ہے کہ صدقہ کا معنی تملیک ہے۔ علامہ فیروز آبادی نے لکھا ہے : صدقہ وہ چیز ہے جس کو تم اللہ عزوجل کی ذات کے لیے دو ۔ (قاموس ج ٣ ص ٣٦٨ ) ۔ علامہ زبیدی نے لکھا ہے کہ صحاح میں مذکور ہے : جس چیز کو تم فقراء پر صدقہ کرو اور مفردات میں مذکور ہے : جس چیز کو انسان اپنے مال سے بطور عبادت نکالتا ہے جیسے زکوٰۃ، لیکن صدقہ اصل میں نفلی خیرات کو کہتے ہیں اور زکوٰۃ خیراتِ واجبہ کو۔ (المفردات ج ٢ ص ٣٦٥، تاج العروس ج ٦ ص ٤٠٥) ۔ ان تصریحات سے واضح ہوگیا کہ صدقہ کے لغوی معنی میں تملیک کا مفہوم داخل نہیں ہے۔

ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ادائیگی زکوٰۃ میں تملیک کا رکن نہ ہونا :

ائمہ ثلاثہ نے زکوٰۃ کی جو تعریف بیان کی ہے اس میں تملیک کا ذکر نہیں کیا۔ ان کے نزدیک تملیک زکوٰۃ کا رکن ہے نہ شرط۔ علامہ ابوالحسن علی بن محمد بن حبیب الماوردی الشافعی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں : کسی مخصوص چیز کو مخصوص مال سے اوصافِ مخصوصہ کے ساتھ جماعتِ مخصوصہ کے لیے لینا شرعاً زکوٰۃ ہے۔ (الحاوی الکبیر ج ٤ ص ٣، مطبوعہ دارالفکر بیروت) ۔ علامہ محمد بن عبدالباقی بن یوسف الزرقانی المالکی المتوفی ١١٢٢ ھ لکھتے ہیں : علامہ ابن العربی نے کہا ہے کہ زکوٰۃ کا اطلاق صدقہ واجبہ پر، صدقہ مستحبہ پر، نفقہ پر، عفو پر اور حق پر کیا جاتا ہے اور اس کی شرعی تعریف یہ ہے : سال گزرنے کے بعد نصاب کے ایک جز کو فقیر اور اس کی مثل کو دینا وہ فقیر غیر ہاشمی اور غیر مطلبی ہو، اس کا رکن اخلاص ہے۔ اس کا سبب ایک سال تک نصاب کا مالک ہونا ہے۔ اس کی شرط عقل، بلوغ اور حریت ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ دنیا میں واجب ساقط ہوجاتا ہے اور آخرت میں ثواب ملتا ہے اور اس کی حکمت مال کو میل کچیل سے پاک کرنا ہے۔ (شرح الزرقانی علی الموطا امام مالک ج ٤ ص ١٣٥۔ ١٣٤، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٧ ھ) ۔ حافظ احمد بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ٨٥٢ ھ نے بھی ابن عربی مالکی کی اس تعریف کو ذکر کرکے لکھا ہے۔ یہ بہت عمدہ تعریف ہے لیکن وجوب کی شرط میں اختلاف ہے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٢٦٤، مطبوعہ دار نشرالکتب الاسلامیہ لاہور، ١٤٠١ ھ) ۔ علامہ منصور بن یونس بہوتی متوفی ١٠٤٦ ھ لکھتے ہیں : زکوٰۃ کا شرعی معنی یہ ہے کہ یہ وہ حق ہے جو مال مخصوص میں جماعتِ مخصوصہ (فقراء وغیرہ) کے لیے وقت مخصوص میں واجب ہے۔ یعنی نصاب پر سال گزرنے کے بعد، اور مال مخصوص سے مراد مویشی، سونا چاندی، (درہم، دینار) اور مال تجارت ہے۔ (کشاف القناع ج ٢ ص ٦۔ ٥، مطبوعہ عالم الکتب بیروت، ١٤١٧ ھ)

آخری چار مصارف میں تملیک کا اعتبار نہ کرنے کا ثمرہ :

فقہاء احناف نے تملیک کے ثبوت میں جو دلیل دی ہے کہ آتوا اور صدقہ کرنے کا معنی فقیر کو مالک بنانا ہے وہ کتب لغت اور قرآن مجید کی آیات سے ثابت نہیں ہے، اور ائمہ ثلاثہ نے زکوٰۃ میں تملیک کو رکن یا شرط قرار نہیں دیا۔ البتہ سورة توبہ کی اس آیت میں مذاہبِ اربعہ کے مفسرین نے للفقراء والمساکین والعملین علیھا والمؤلفۃ ولبھم میں لام کو تملیک کے لیے قرار دیا ہے اور وفی الرقاب والغرمین وفی سبیل اللہ وابن السبیل میں لام کی جگہ ” فی “ لانے کی وجہ ان مفسرین نے یہ بیان کی ہے کہ غلام آزاد کرنے اور مقروضوں کے قرض ادا کرنے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر خرچ کرنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم کا ان کو مالک بنانا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ زکوٰۃ کی رقم کو ان کی ضروریات اور مصلحتوں میں بھی خرچ کیا جاسکتا ہے۔ خصوصاً حنفی مفسرین میں سے علامہ خفاجی، علامہ شیخ زادہ، علامہ ابو سعود اور علامہ آلوسی کا یہی مختار ہے۔ سو اگر ہمارے علماء احناف اس نظریہ سے اتفاق کرلیں تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ دینی مدارس، مساجد، ہسپتالوں اور دیگر فلاحی کاموں پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکے گی اور حیلہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہمارے اہل علم اور اہل فتویٰ حضرات کو اس پر غور کرنا چاہیے۔

زکوٰۃ میں مقروضوں کا حصہ :

مقروض سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنی جائز ضروریات میں مقروض ہوں، نہ کہ وہ لوگ جنہوں نے کسی گناہ کے ارتکاب کے لیے قرض لیا ہو۔ مثلاً کسی نے سینما ہائو، وڈیو شاپ یا شراب کی دکان کھولنے کے لیے قرض لیا ہو یا مثلاً کسی نے بےجا خچ اور اسراف کے لیے قرض لیا ہو۔ مثلاً کسی نے اپنے بچوں کی شادی کے سلسلہ میں مروجہ رسومات بڑے پیمانہ پر منعقد کی ہوں اور مقروض ہوگیا ہو اور اس قرض کو ادا کرنے کے لیے اس کے پاس رقم نہ ہو تو اس کو زکوٰۃ کی رقم نہیں دینی چاہیے۔ البتہ علامہ نووی شافعی نے ” الروضہ “ میں یہ لکھا ہے کہ اگر وہ توبہ کرلے تو پھر اس کو بھی زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔ مقروض خواہ غنی ہو لیکن اگر اس کے پاس قرض اتارنے کے لیے رقم نہیں ہے تو اس کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ حدیث میں ہے : عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی غنی کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے، مگر پانچ کے لیے : جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہو، یا وہ صدقہ وصول کرنے والا عامل ہو، یا مقروض ہو یا جس شخص نے صدقہ کو اپنے مال سے خرید لیا ہو، یا جس شخص کا کوئی مسکین پڑوسی ہو اور اس پر کوئی چیز صدقہ کی گئی اور وہ مسکین غنی کو وہ چیز ہدیہ کر دے۔ (یہ روایت مرسل ہے) ۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٦٣٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٤١، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٣٠٧) ۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی غنی کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے۔ مگر اس غنی کے لیے جو اللہ کی راہ میں ہو، یا مسافر ہو، یا وہ کسی فقیر کا پڑوسی ہو اس فقیر پر صدقہ کیا جائے اور وہ غنی کو ہدیہ دے یا اس کی دعوت کرے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٦٣٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٤١، فردوس بما ثور الخطاب رقم الحدیث : ٧٦٤٦، مسند احمد ج ٣ ص ٥٦، المستدرک ج ١ ص ٤٠٧۔ اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس کے راوی ثقہ اور مشہور ہیں) ۔

زکوٰۃ میں فی سبیل اللہ کا حصہ :

اس سے مراد یہ ہے کہ جہاد کرنے والوں پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جائے اور ان کے لیے اسلحہ، گھوڑے اور کھانے پینے کی چیزیں خریدی جائیں۔ امام شافعی اور امام ابو یوسف کا یہی مذہب ہے اور امام محمد کے نزدیک جو مسلمان حج کے لیے جائیں وہ بھی اللہ کی راہ میں ہیں اور ان کو بھی زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہے۔ اس پر یہ اشکال ہے کہ اگر مجاہد یا حاجی کے پاس اس کے وطن میں نصاب کے برابر مال ہے اور سفر میں نہیں ہے تو وہ مسافر میں داخل ہے اور اگر سفر اور حضر دونوں میں وہ صاحب نصاب نہیں ہے تو پھر وہ فقیر میں داخل ہے۔ تو پھر فی سبیل اللہ ایک مستقل اور الگ مصرف نہ ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ شخص اپنے وطن میں مال دار ہے لیکن جب وہ جہاد کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس کو اسلحہ اور سواری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف مسافر کو اسلحہ اور سواری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک غازی اور مجاہد کو اسی وقت زکوٰۃ دی جاسکتی ہے جب وہ محتاج ہو۔ باقی ائمہ کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے۔ امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : فی سبیل اللہ کے الفاظ صرف غازیوں اور مجاہدین میں منحصر نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے قفال نے اپنی تفسیر میں بعض فقہاء سے یہ نقل کیا ہے کہ فقہاء نے زکوٰۃ کو نیکی کے تمام راستوں میں خرچ کرنے کی اجازت دی ہے۔ مثلاً مردوں کو کفن دیا جائے، قلعے بنائے جائیں اور مساجد بنائی جائیں۔ ان تمام امور میں زکوٰۃ کو خرچ کرنا جائز ہے۔ کیونکہ فی سبیل اللہ کا لفظ ان سب کو شامل ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٨٧، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

زکوٰۃ میں مسافروں کا حصہ :

اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس سفر میں مال اور اسباب نہ ہوں اور اس کو مدد کی ضرورت ہو۔ اس کو زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔ علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : مسافر سے مراد وہ مسافر ہے جس کے پاس مال نہ ہو۔ وہ زکوٰۃ قبول کرنے کے بجائے قرض مانگ لے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ ” فتح القدیر “ میں مذکور ہے کہ مسافر کے لیے اپنی ضرورت سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے اور مسافر کے ساتھ ہر وہ شخص لاحق ہے جس کے پاس مال نہ ہو۔ خواہ اس کے شہر میں اس کے پاس مال ہو اور ” محیط “ میں مذکور ہے کہ اگر تاجر کی رقوم لوگوں کے پاس قرض ہوں اور وہ ان سے قرض وصول کرنے پر قادر نہ ہو اور اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔ کیونکہ وہ مسافر کی طرح اس حال میں فقیر ہے۔ اور ” خانیہ “ میں اس کی تفصیل ہے۔ اس میں مذکور ہے کہ اگر تاجر کا لوگوں پر میعادی قرض ہو اور وہ کھانے پینے میں محتاج ہو تو اس کے لیے قرض وصول ہونے کی مدت تک زکوٰۃ وصول کرنا جائز ہے۔ اور اگر قرض غیر میعادی ہو لیکن مقروض تنگ دست ہو تب بھی اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔ کیونکہ وہ مسافر کی طرح ہے اور اگر مقروض امیر ہو تو پھر اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہے۔ اور اگر گواہ عادل نہیں ہیں پھر بھی زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔ الایہ کہ مقروض قاضی کے سامنے حلف اٹھالے کہ اس نے اس تاجرکو قرض نہیں دینا۔ پھر وہ زکوٰۃ لے سکتا ہے۔ اس مسئلہ میں قرض کی رقم نصاب سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ (روح المعانی ج ١٠ ص ١٢٤، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

کسی ایک صنف کے ایک فرد پر زکوٰۃ کرنے کا جواز :

مشہور یہ ہے کہ شافعیہ کے نزدیک لام تملیک کے لیے ہے اور یہی ان کے مذہب کا متقضٰی ہے کیونکہ انہوں نے کہا کہ جب یہ تمام اصناف موجود ہوں تو ان تمام اصناف پر زکوٰۃ کو تقسیم کرنا واجب ہے اور چونکہ اس آیت میں ہر صنف کو جمع کے صیغہ کے ساتھ ذکر کیا ہے اس لیے ہر صنف کے تین افراد پر تقسیم کرنا واجب ہے اور ہمارے اور مالکیہ اور حنبلیہ کے نزدیک یہ جائز ہے کہ زکوٰۃ دینے والا ہر صنف پر زکوٰۃ تقسیم کرے یا کسی ایک صنف پر زکوٰۃ کی رقم صرف کرے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر صنف کے تین افراد پر زکوٰۃ کو تقسیم کرے۔ وہ کسی ایک فرد کو بھی پوری زکوٰۃ کی رقم دے سکتا ہے۔ کیونکہ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ کن لوگوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ اور یہ نہیں فرمایا کہ ان سب کو زکوٰۃ دینا ضروری ہے۔ اور اس کی دلیل یہ آیت ہے :

وان تخفوھا وتوتوھا الفقرآء فھو خیرٌلکم۔ (البقرہ : ٢٧١)

ترجمہ : اگر تم صدقات خفیہ طریقہ سے دو اور وہ صدقات فقراء کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔

اس آیت میں فقراء کو زکوٰۃ دینے کو زیادہ بہتر فرمایا ہے اور فقراء ایک صنف ہیں۔ اور ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صدقہ کا مال آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف ایک صنف میں دیا اور وہ مولفتہ القلوب تھے۔ پھر دوسری مرتبہ مال آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف مقروضوں کو دیا۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ صرف ایک صنف پر اقتصار کرنا جائز ہے۔ اور اس آیت میں جمع کے صیغوں پر الف لام جنس کا ہے۔ کیونکہ عہد اور استغراق کا الف لام متصور نہیں ہے۔ اور جنس صدقہ کو کسی صنف کی جنس پر خرچ کرنے کو بیان فرمایا ہے۔ اس لیے کسی صنف کے ایک فرد پر بھی زکوٰۃ کی پوری رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔ (روح المعانی جز ١٠، ص ١٢٥۔ ١٢٤، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، الجامع لاحکام القرآن جز ٨ ص ٩٥، زاد المسیر ج ٣ ص ٤٥٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 60