أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ اشۡتَرٰى مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَــنَّةَ‌ ؕ يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيَقۡتُلُوۡنَ وَ يُقۡتَلُوۡنَ‌وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا فِى التَّوۡرٰٮةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ وَالۡقُرۡاٰنِ‌ ؕ وَمَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسۡتَـبۡشِرُوۡا بِبَيۡعِكُمُ الَّذِىۡ بَايَعۡتُمۡ بِهٖ‌ ؕ وَذٰ لِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں۔ اس پر اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا اور کون ہے پس تم اپنی اس بیع کے ساتھ خوش ہو جائو جو تم نے بیع کی ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں اس پر اللہ کا سچا وعدہ ہے تو رات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا اور کون ہے پس تم اپنی اس بیع کے ساتھ خوش ہو جائو جو تم نے بیع کی ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ (التوبہ : ١١١) 

اللہ تعالیٰ کا مومنین کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ خریدنا

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی ان برائیوں اور خرابیوں اور سازشوں کا ذکر فرمایا تھا جو غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونے کی بنا پر انہوں نے کی تھیں اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب کو بیان فرمایا تاکہ ظاہر ہو کہ منافقین نے جہاد کو ترک کر کے کتنے بڑے نفع کو ضائع کردیا۔ مجاہدین اپنی جانوں اور مالوں کو جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کے اجر میں اللہ تعالیٰ نے جو ان کو جنت عطا فرمائی اس کو اللہ تعالیٰ نے شراء (خریدنے) سے تشبیہ دی ہے۔ عرف میں خریدنے کا معنی یہ ہے کہ ایک شخص ایک چیز کو اپنی ملک سے نکال کر دوسرے کو کسی اور چیز کے عوض دیتا ہے جو نفع میں اس چیز کے برابر ہوتی ہے یا کم یا زیادہ، پس مجاہدین نے اپنی جانوں اور مالوں کو اللہ کے ہاتھ اس جنت کے بدلے میں فروخت کردیا جو اللہ نے مومنین کے لیے تیار کی ہے بائیں طور کہ وہ اہل جنت میں سے ہوجائیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور اس کو اپنے گھر سے نکالنے کا محرک صرف اس کی راہ میں جہاد کرنے کا جذبہ ہوتا ہے اور اس کے کلام کی تصدیق کرنا ہوتا ہے، اللہ اس شخص کے لیے اس بات کا ضامن ہوگیا ہے کہ اس کو جنت میں داخل کر دے یا اس کو اس کے گھر اجر اور مال غنیمت کے ساتھ لوٹا دے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٤٦٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٧٦، سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٠٢٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٥٣، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٤٤٣، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٩ ص ١٥٧، سنن سعید بن منصور رقم الحدیث : ٢٣١١)

یہ آیت آخری بیعت عقبہ کے موقع پر بعثت نبوی کے تیرہویں سال میں نازل ہوئی تھی اس موقع پر مدینہ سے آئے ہوئے ستر آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : محمد بن کعب قرظی وغیرہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : آپ اپنے رب کے لیے اور اپنی ذات کے لیے جو چاہیں شرط لگالیں۔ آپ نے فرمایا : میں اپنے رب کے لیے شرط لگاتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائو اور میں اپنے لیے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم میری حفاظت اس طرح کرو گے جس طرح تم اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرتے ہو۔ انہوں نے کہا جب ہم یہ کرلیں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : جنت ! انہوں نے کہا یہ نفع والی بیع ہے، ہم اس کو خود فسخ کریں گے نہ اس کے فسخ کرنے کو پسند کریں گے۔ (جامع البیان جز ١١ ص ٤٩، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) حسن بصری نے کہا روئے زمین پر جو مومن بھی ہے وہ اس بیع میں داخل ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦ ص ١٨٨٦، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ) 

تورات اور انجیل میں اللہ کے عہد کا ذکر

اس آیت میں مذکور ہے کہ یہ وعدہ برحق ہے تورات، انجیل اور قرآن میں۔ موجودہ تورات اور انجیل میں اس وعدہ کی تصریح نہیں ہے، مفتی محمد عبدہ نے لکھا ہے اس وعدہ کی صحت موجود تورات اور انجیل پر نہیں ہے کیونکہ تورات اور انجیل کا کافی حصہ ضائع ہوچکا ہے اور اس میں تحریفات بھی ہوچکی ہیں بلکہ اس کے اثبات کے لیے قرآن مجید کی تصریح کافی ہے۔ (المنار ج ١١ ص ٤٩، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت)

تاہم تورات کی بعض آیات میں اس عہد کی طرف اشارے ملتے ہیں : اس لیے جو فرمان اور آئین اور احکام میں آج کے دن تجھ کو بتاتا ہوں تو ان کو ماننا اور ان پر عمل کرنا اور تمہارے ان حکموں کو سننے اور ماننے پر ان پر عمل کرنے کے سبب سے خداوند تیرا خدا بھی تیرے ساتھ اس عہد اور رحمت کو قائم رکھے گا جن کی قسم اس نے تیرے باپ دادا سے کھائی اور تجھ سے محبت رکھے گا اور تجھ کو برکت دے گا اور بڑھائے گا، الخ۔ (تورات : استثناء باب : ٧، آیت ١٣۔ ١١، ص ١٧٣، مطبوعہ بائبل سوسائٹی لاہور)

اسی طرح انجیل کی بعض آیات میں بھی اس عہد کی طرف اشارے ملتے ہیں : اور جس کسی نے گھروں یا بھائیوں یا بہنوں یا باپ یا ماں یا بچوں یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اس کو سو گنا ملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہوگا۔ (متی کی انجیل : باب ١٩، آیت ٢٩، ص ٢٣، مطبوعہ بائبل سوسائٹی لاہور)

مبارک ہیں وہ جو راست بازی کے سبب ستائے گئے کیونکہ آسمان کی بادشاہت ان ہی کی ہے۔ (متی کی انجیل : باب : ٥، آیت : ١٠، ص ٧، مطبوعہ بائبل سوسائٹی لاہور) قرآن مجید کی اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جہاد کا حکم تمام شریعتوں میں موجود ہے اور ہر امت سے اس پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ 

جنت کے بدلہ میں جان و مال کی بیع کی تاکیدات

اس کے بعد فرمایا : اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا اور کون ہے ! آیت کے اس جز میں مجاہدین کو جہاد کی ترغیب دی ہے تاکہ وہ خوشی سے اللہ کی راہ میں اپنی جانوں اور مالوں کو خرچ کریں، پہلے اس نے یہ خبر دی کہ اس نے مومنین کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا ہے اور جنت ان کی ملکیت ہوچکی ہے پھر فرمایا : اس کا یہ وعدہ آسمانی کتابوں میں مذکور ہے پھر تیسری بار فرمایا : اس سے بڑھ کر کون سچا وعدہ کرنے والا ہے کیونکہ کریم کے اخلاق سے یہ ہے کہ وہ وعدہ کر کے اس کو ضرور پورا کرتا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی کریم نہیں ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مزید خوش کرنے کے لیے فرمایا : پس تم اپنی اس بیع کے ساتھ خوش ہو جائو کیونکہ تم نے اس بیع سے ایسا نفع حاصل کیا ہے جو کسی شخص کے ساتھ بیع کرکے نہیں حاصل کرسکتے پھر فرمایا : یہی بہت بڑی کامیابی ہے یعنی اللہ کا تمہارے ساتھ یہ بیع کرنا تمہاری بہت بڑی کامیابی ہے یا یہ جنت بہت بڑی کامیابی ہے۔ 

اس بیع کے بعد معصیت کا بہت سنگین ہونا اس بیع کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے جانوں اور مالوں کو اللہ کے ہاتھ فروخت کردیا، اللہ تعالیٰ کا اس کو بیع اور شراء قرار دینا بھی مجاز ہے اور اس کا بہت کرم اور احسان ہے کیونکہ ہماری جانوں اور ہمارے مالوں کا تو وہی مالک ہے اور جنت کا بھی وہی مالک ہے تو پھر حقیقت میں وہی مشتری ہے اور وہی بائع ہے یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے ہماری جانوں اور ہمارے مالوں کو ہماری ملکیت قرار دیا پھر اس جان و مال کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا۔ بایں طور کہ ہم اس جان و مال کو اللہ کے احکام کے مطابق اور اس کی راہ میں خرچ کریں، اگر وہ ہماری جان و مال کو نہ خریدتا پھر بھی ہم کلیتاً اس کے مملوک تھے اور ہم پر لازم تھا کہ ہم اس کی اطاعت کرتے، اس کی راہ میں قتال اور جہاد کرتے اور نہ صرف جہاد بلکہ ہم زندگ میں ہر کام اس کے حکم کے مطابق کرتے اور پھر جب اس نے انتہائی کرم یہ کیا کہ اس نے ہماری جان و مال کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا تو اب کسی طور پر بھی یہ جائز نہیں کہ ہم اس کے حکم کے خلاف کوئی عمل کریں اور اگر اس بیع کے بعد ہم اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل نہ کریں اور اس کی کھلی کھلی نافرمانی کریں تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم نے اس بیع کو قبول نہیں کیا بلکہ ہم نے اس بیع کو عملاً مسترد کردیا ہے !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 111