أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ وَ لَوۡ كَانُوۡۤا اُولِىۡ قُرۡبٰى مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُمۡ اَصۡحٰبُ الۡجَحِيۡمِ ۞

ترجمہ:

نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں خواہ وہ ان کے قرابت دار ہوں جب کہ ان پر یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ (مشرکین) دوزخی ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں خواہ وہ ان کے قرابت دار ہوں جبکہ ان پر یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ (مشرکین) دوزخی ہیں۔ (التوبہ : ١١٣) 

ابوطالب کا مرتے وقت کلمہ نہ پڑھنا

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے زندہ کافروں اور منافقوں سے ترک تعلق اور محبت نہ رکھنے کا حکم دیا تھا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردہ کافروں سے بھی اظہار برأت کرنے کا حکم دیا ہے، اس آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے، صحیہ یہ ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے متعلق نازل ہوئی ہے جیسا کہ اس صحیح حدیث سے واضح ہوتا ہے :

سعید بن مسیب اپنے والد مسیب بن حزن سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب پر موت کا وقت آیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت اس کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے چچا لا الہ الا اللہ کہیے، میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی سفارش کروں گا، تو ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا اے ابو طالب ! کیا تم عبدالمطلب کی ملت سے اعراض کرتے ہو ؟ پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک مجھے منع نہ کیا جائے میں تمہارے لیے استغفار کرتا رہوں گا، تب یہ آیت نازل ہوئی ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفر و اللمشرکین۔ الایہ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٦٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٠٣٥، مسند احمد ج ٥ ص ٤٣٣، اسباب النزول للواحدی رقم الحدیث : ٥٣٠، سیرت ابن اسحاق ج ١ ص ٢٣٨۔ ٢٣٧)

اس حدیث پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ ابو طالب کی موت ہجرت سے تین سال پہلے ہوئی ہے اور سورة التوبہ ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ میں آخر میں نازل ہوئیں، امام واحدی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت سے استغفار کرتے رہے ہوں حتیٰ کہ مدینہ میں اس سورت کے نازل ہونے تک استغفار کرتے رہے ہوں اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے استغفار ترک کردیا۔ اس جواب کو اکثر اجلہ علماء نے پسند کیا ہے امام رازی اور علامہ آلوسی اور علامہ ابو حفص دمشقی وغیرہم ان میں شامل ہیں۔ علامہ آلوسی نے ایک اور جواب یہ ذکر کیا ہے کہ سورة توبہ کے مدنی ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کی اکثر اور غالب آیات مدنی ہیں، اس لیے اگر یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی ہو تو وہ سورة توبہ کے مدنی ہونے کے منافی نہیں ہے۔ اس حدیث میں تصریح ہے کہ ابوطالب نے تادم مرگ کلمہ نہیں پڑھا اور اسلام کو قبول نہیں کیا۔ 

ابوطالب کے ایمان کے متعلق ایک روایت کا جواب

امام ابن اسحاق نے اپنی سند کے ساتھ حسب ذیل روایت بیان کی ہے، اس سے شیعہ ابوطالب کا ایمان ثابت کرتے ہیں : از عباس بن عبداللہ بن معبد از بعض اہل خود از ابن اسحق، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوطالب کی بیماری کے ایام میں اس کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا : اے چچا ! لا الہ الا اللہ پڑھئے، میں اس کی وجہ سے قیامت کے دن آپ کی شفاعت کروں گا۔ ابوطالب نے کہا اے بھتیجے ! اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میرے بعد تمہیں اور تمہارے اہل بیت کو یہ طعنہ دیا جائے گا کہ میں نے موت کی تکلیف سے گھبرا کر یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھا لیتا اور میں صرف تمہاری خوشنودی کے لیے یہ کلمہ پڑھتا، جب ابوطالب کی طبیعت زیادہ بگڑی تو اس کے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھے گئے، عباس نے ان کا کلام سننے کے لیے اپنے کان ان کے ہونٹوں سے لگائے، پھر عباس نے اپنا سر اوپر اٹھا کر کہا یا رسول اللہ ! بیشک اللہ کی قسم ! اس نے وہ کلمہ وہ پڑھ لیا ہے جس کا آپ نے ان سے سوال کیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے نہیں سنا۔ (سیرت ابن اسحاق ج ١ ص ٢٣٨، مطبوعہ دارالفکر) یہ روایت صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر احادیث صحیحہ کے خلاف ہے، نیز یہ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ امام ابن اسحاق نے اس کو ایک مجہول شخص سے روایت کیا ہے، ثانیاً جس وقت کی یہ روایت ہے اس وقت حضرت عباس اسلام نہیں لائے تھے، پھر ان کا یا رسول کہنا کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے ؟ ثالثاً یہ کہ اس روایت میں خود تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے نہیں سنا، رابعاً یہ روایت حضرت عباس (رض) کی صحیح روایت کے خلاف ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے۔ امام بیہقی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اس روایت کی سند منقطع ہے اور حضرت عباس جو اس حدیث کے راوی ہیں اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے اور مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ابوطالب کی عاقبت کے متعلق سوال کیا کہ آپ نے ابوطالب کو کیا نفع پہنچایا، وہ آپ کی موافقت کرتا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! وہ ٹخنوں تک آگ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے آخری طبقہ میں ہوتا، اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٨٨٣، ٦٢٠٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٩) اور یہ ضعیف روایت اس صحیح حدیث سے تصادم کی قوت نہیں رکھتی۔ (دلائل النبوۃ ج ٢ ص ٣٤٦) 

سیدہ آمنہ (رض) کے ایمان پر اعتراض کا جواب

ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت کے شان نزول میں امام واحدی متوفی ٤٦٨ ھ نے اپنی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبرستان میں گئے، ہم بھی آپ کے ساتھ گئے۔ آپ نے ہمیں بیٹھنے کا حکم دیا، ہم بیٹھ گئے۔ پھر آپ چند قبروں سے گزر کر ایک قبر کے پاس گئے اور بڑی دیر تک مناجات کرتے رہے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رونے لگے اور آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے، پھر آپ ہماری طرف آئے، حضرت عمر بن الخطاب نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کو کس چیز نے رلایا تھا، ہم بھی گھبرا کر رونے لگے تھے۔ پھر آپ ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے اور فرمایا : میرے رونے کی وجہ سے تم گھبرا گئے تھے ؟ ہم نے عرض کیا ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : تم نے جس قبر کے پاس مجھے مناجات کرتے دیکھا تھا وہ (حضرت) آمنہ بنت و ہب کی قبر تھی، میں نے اپنے رب سے ان کی (قبر کی) زیارت کی اجازت نہیں دی اور یہ آیت نازل ہوئی : نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں خواہ وہ ان کے قرابت دار ہوں الآیہ۔ (التوبہ : ١١٣) پس بیٹے کے دل میں اپنی ماں کی وجہ سے جو رقت ہوتی ہے وہ میرے دل میں اپنی ماں کی وجہ سے طاری ہوئی اس وجہ سے میں رونے لگا۔ (اسباب النزول للواحدی رقم الحدیث : ٥٣٢، المستدرک ج ٢ ص ٣٣٦) اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت آمنہ معاذ اللہ مشرکہ تھیں، اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کے شان نزول کے متعلق صحیح حدیث وہی ہے جس کو ہم نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالے سے پہلے ذکر کیا ہے اور رہی یہ روایت تو اس کی سند ضعیف ہے، اس کی سند میں ابن جریج مدلس ہے اور ایوب بن ہانی ضعیف۔ امام ذہبی نے بھی اس پر تعقب کیا ہے اور کہا ہے کہ ایوب بن ہانی ضعیف ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی لکھا ہے کہ ابن معین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ١ ص ٣٧٧) حصرت سید تنا آمنہ (رض) کی قبر کی زیارت کرنے کے متعلق صحیح حدیث یہ ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی پھر آپ روئے اور جو لوگ آپ کے گرد تھے وہ بھی روئے، پھر آپ نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی تو میرے رب نے مجھے اجازت دے دی، پھر میں نے اپنی والدہ کے لیے استغفار کرنے کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہیں دی پس تم قبروں کی زیارت کیا کرو، یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٧٦، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٢٣٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٥٧٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣١٦٩، مسند احمد ج ٢ ص ٤٤١، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٣٤٣، مطبوعہ کراچی، المستدرک ج ١ ص ٣٧٥) اس صحیح حدیث میں آپ کو حضرت سیدہ آمنہ کی قبر پر کھڑے ہونے کی اجازت دی ہے، اگر حضرت آمنہ مشرکہ ہوتیں تو یہ اجازت نہ دی جاتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ولا تقم علی قبرہ۔ (التوبہ : ٨٤) آپ ان کی قبر پر کھڑے نہ ہوں رہا یہ کہ آپ کو حضرت آمنہ کے لیے استغفار کی اجازت نہیں دی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر معصوم کے لیے استغفار کرنا موہم معصیت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا تھا کہ آپ کی والدہ کے لیے استغفار کیا جائے جس کی وجہ سے لوگوں کو یہ وہم ہو کہ آپ کی والدہ نے غلط اور ناجائز کام کیے تھے جس کی وجہ سے آپ کے لیے مغفرت طلب کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ 

مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کی توجیہات

ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ کافر زندہ ہوں یا مردہ، ان سے محبت اور دوستی نہیں رکھنی چاہیے اور نہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے حالانکہ حدیث صحیح میں ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے لیے دعائے مغفرت فرمائی : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سامنے کا نچلا دانت شہید ہوگیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چہرے سے خون کو پونچھتے ہوئے فرما رہے تھے : اے اللہ ! میری قوم کی مغفرت فرما ١ کیونکہ وہ نہیں جانتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٢٩، مسند احمد ج ١ ص ٤٤١، مجمع الزوائد ج ١ ص ١١٧، الترغیب و الترہیب ج ٣ ص ٤١٩، کنز العمال رقم الحدیث : ٢٩٨٨٣)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ امام طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ غزوہ احد کے دن جب مشرکین چلے گئے تو خواتین مردوں کی معاونت کے لیے گئیں، ان میں حضرت سید تنا فاطمہ (رض) بھی تھیں، انہوں نے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو آپ سے لپٹ گئیں اور پانی سے آپ کے زخم دھونے لگیں، لیکن خود مسلسل بہہ رہا تھا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا اور اس کی راکھ زخم پر رکھی تو خون رک گیا، اس حدیث کے آخر میں ہے اس دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس قوم پر اللہ کا بہت زیادہ غضب ہوگا جس نے اپنے نبی کا چہرہ خون سے رنگین کردیا، پھر تھوڑی دیر بعد آپ نے فرمایا : اے اللہ ! میری قوم کی مغفرت فرما کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (فتح الباری ج ٧ ص ٣٧٣)

حضرت سہل بن سعد الساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! میری قوم کی مغفرت فرما کیونکہ وہ نہیں جانتے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٥٦٩٤، حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے تمام راوی صحیح ہیں، مجمع الزوائد ج ٦ ص ١١٧، مسند احمد ج ١، ص ٤٥٣، شیخ احمد محمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، مسند احمد رقم الحدیث : ٤٣٣١، مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ) اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ازخود یہ دعا نہیں کی، بلکہ انبیاء سابقین میں سے ایک نبی (حضرت نوح علیہ السلام) کی دعا کی حکایت کی ہے، اس پر دلیل یہ حدیث ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ گویا اس وقت میں رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا، آپ انبیاء سابقین میں سے اس نبی کی حکایت کر رہے تھے جس کو اس کی قوم نے ضرب لگائی تھی، آپ اپنے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے فرما رہے تھے : اے میرے رب ! میری قوم کی مغفرت فرما کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٧٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٩٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٢٥، مسند احمد ج ١ ص ٤٣٢، مسند احمد رقم الحدیث : ٤٠١٧، مطبوعہ قاہرہ) اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ مردہ مرشکین کے لیے استغفار کرنا ممنوع ہے اور زندہ مشرکین کے لیے استغفار کرنا جائز ہے کیونکہ ان کا ایمان لانا متوقع ہے، اس لیے ان کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے اور ان کی تالیف قلب کے لیے ان سے اچھے اور نیک کلمات اور دعائیہ الفاظ کہنا جائز ہے۔ 

زندہ کافروں کے لیے مغفرت اور ہدایت کی دعا کا جواز

علامہ قرطبی مالکی نے لکھا ہے کہ اگر انسان اپنے کافر ماں باپ کے لیے دعا کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جب توہ زندہ ہوں ان کے لیے استغفار کرتا رہے۔ البتہ جو شخص مرگیا تو اس کے اسلام لانے کی امید نہیں رہی سو اس کے لیے دعا نہیں کی جائے گی۔ حضرت ابن عباس رضیا للہ عنہما نے فرمایا کہ مسلمان اپنے مردوں کے لیے استغفار کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے مردوں کے لیے استغفار کرنا چھوڑ دیا اور ان کو زندہ مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے نہیں منع کیا گیا حتیٰ کہ وہ مرجائیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٣٤٧٤) (الجامع لاحکام القرآن جز ٨ ص ٩٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) زندہ مشرکین کے لیے دعا کرنے کے جواز میں حسب ذیل احادیث ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ طفیل اور ان کے اصحاب نے آکر کہا : یا رسول اللہ ! روس نے کفر کیا اور اسلام لانے سے انکار کیا ان کے خلاف اللہ سے دعا کیجیے۔ پس کہا گیا اب دوس ہلاک ہوگئے، آپ نے فرمایا : اے اللہ ! دوس کو ہدایت دے اور ان کو (یہاں) لے آ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٤٤، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٣٩٢، مسند احمد ج ٢ ص ٢٤٣، دلائل النبوۃ ج ١ ص ٧٩، الطبقات الکبریٰ ج ٤ ص ١، تہذیب تاریخ دمشق ج ٧ ص ٦٥، مسند حمیدی رقم الحدیث : ١٠٥) حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ مسلمان نے کہا : یا رسول اللہ ! ثقیف کے تیروں نے ہمیں جلا ڈالا ہے، ان کے خلاف اللہ سے دعا کیجیے۔ آپ نے فرمایا : اے اللہ ! ثقیف کو ہدایت دے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٩٤٢، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٢ ص ٢٠١، مسند احمد ج ٣ ص ٣٤٣، الکاہل لابن عدی ج ١ ص ٣١٢، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٥٩٨٦، الطبقات الکبریٰ ج ٢ ص ١١٥، کنز العمال رقم الحدیث : ٣٤٠٠٧) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! اسلام کو عزت دے ابوجہل بن ہشام سے یا معر بن الخطاب سے، پھر اگلی صبح کو حضرت عمر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرلیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٨٣، مسند احمد ج ٢ ص ٩٥، الکامل لابن عدی ج ٧ ص ٢٤٨٧، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٨٨٥، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٦٠٤٥، المستدرک ج ٣ ص ٥٠٢، حلیتہ الاولیاء ج ٥ ص ٣٦١، الطبقات الکبریٰ ج ٣ ص ١) ان دلائل کی بناء پر اگر کسی غیر مسلم کو کسی موقع پر سلام کرنا پڑے یا اس کے سلام کا جواب دینا پڑے تو اس کے لیے طلب ہدایت کی نیت سے سلام کیا جاسکتا ہے یا سلام کا جواب دیا جاسکتا ہے، اس غیر مسلم کے دائیں بائیں جو فرشتے ہوتے ہیں ان فرشتوں کی نیت کر کے بھی اس کو سلام کیا جاسکتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 113