أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا مَسۡجِدًا ضِرَارًا وَّكُفۡرًا وَّتَفۡرِيۡقًۢا بَيۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاِرۡصَادًا لِّمَنۡ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ وَلَيَحۡلِفُنَّ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّا الۡحُسۡنٰى‌ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَـكٰذِبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور وہ لوگ جنہوں نے ضرر پہنچانے کے لیے مسجد بنائی اور کفر کے لیے اور مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے اور اس شخص کی کمین گاہ بنانے کے لیے جو پہلے سے ہی اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کر رہا ہے اور وہ ضرور یہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے صرف بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ لوگ جنہوں نے ضرر پہنچانے کے لیے مسجد بنائی اور کفر کرنے کے لیے اور مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے اور اس شخص کی کمین گاہ بنانے کے لیے جو پہلے سے ہی اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کر رہا ہے اور وہ ضرور یہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے صرف بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں۔ (التوبہ : ١٠٧) 

مسجد ضرار کا پس منظر و پیش منظر

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے، مدینہ میں قبیلہ خزرج کا ایک شخص رہتا تھا جس کا نام ابو عامر راہب تھا یہ شخص ایام جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا اور اہل کتاب کا علم حاصل کرچکا تھا۔ ایام جاہلیت میں یہ ایک عبادت گزار شخص تھا اور اس کو اپنے قبیلہ میں بہت فضیلت حاصل تھی۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے اور مسلمان آپ کے گرد جمع ہونے لگے اور اسلام کی مقبولیت ہونے لگی اور غزوہ بدر میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا تو ابو عامر پر یہ تمام امور بہت شاق گزرے اور وہ برملا مسلمانوں سے عداوت ظاہر کرنے لگا اور مدینہ سے بھاگ کر کفار مکہ اور مشرکین سے جاملا یہ ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جنگ پر مائل کرتا تھا، سو عرب کے سارے قبیلے اکٹھے ہوگئے اور جنگ احد کے لیے پیش قدمی کی۔ اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آزمائش میں مبتلا کیا اور مسلمانوں کو اس جنگ میں نقصان ہوا۔ اس فاسق نے دونوں طرف کی صفوں کے درمیان کئی گڑھے کھود رکھے تھے، ان میں سے ایک میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گرپڑے اور آپ کو چوٹ لگی، آپ کا چہرہ زخمی ہوگیا نیچے کی طرف سے سامنے کے چار دانتوں میں سے دائیں جانب کا ایک دانت شہید ہوگیا اور اس کا ایک کنارہ جھڑ گیا تھا) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر بھی زخمی ہوگیا تھا۔ ابوعامر نے جنگ شروع ہونے سے پہلے اپنی قوم انصار کی طرف بڑھ کر انہیں مخاطب کیا اور ان کو اپنی موافقت کی دعوت دی، جب انصار نے ابوعامر کی یہ حرکت دیکھی تو انہوں نے کہا : اے فاسق ! اے دشمن خدا ! اللہ تجھ کو برباد کرے اور اس کو بہت برا کہا اور اس کی مذمت کی۔ ابوعامر یہ کہتا ہوا واپس گیا کہ میرے بعد میری قوم بہت بگڑ گئی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بھاگنے سے پہلے اس کو اسلام کی دعوت دی تھی اور اس کو قرآن پڑھ کر سنایا تھا لیکن اس نے سرکشی کی اور انکار کیا، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دعاء ضرر فرمائی کہ وہ جلاوطنی کی حالت میں مرے۔ اس دعاء ضرر کا اثر اس طرح ہوا کہ جب ابوعامر نے دیکھا کہ جنگ احد میں مسلمانوں کے نقصان اٹھانے کے باوجود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی تو وہ روم کے بادشاہ ہرقل کے پاس گیا اور اپنی قوم میں سے منافقین کو مکہ بھیجا کہ میں لشکر لے کر آرہا ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خوب جنگ ہوگی اور میں ان پر غالب آجائوں گا اور منافقین کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ اس کے لیے ایک پناہ کی جگہ بنائیں اور جو لوگ میرا پیغام اور اور احکام لے کر آئیں ان کے لیے امن کی ایک پناہ گاہ بنائو تاکہ جب وہ خود مدینہ آئے تو وہ جگہ اس کے لیے کمین گاہ کا کام دے، چناچہ ان منافقین نے مسجد قبا کے قریب ہی ایک اور مسجد بنا ڈالی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبوک روانگی سے پہلے وہ اس کام سے فارغ بھی ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہ درخواست لے کر آئے کہ آپ ہمارے پاس آئیے اور ہماری مسجد میں نماز پڑھئے تاکہ مسلمانوں کے نزدیک یہ مسجد مستند ہوجائے۔ انہوں نے آپ سے کہا کہ ہم نے کمزوروں اور بیماروں کی خاطر یہ مسجد بنائی ہے اور جو ضعیف لوگ سردیوں کی راتوں میں دور کی مساجد میں نہیں جاسکتے ان کے لیے آسانی ہو لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے بچانا چاہتا تھا، اس لیے آپ نے فرمایا : ہمیں تو اس وقت غزوہ تبوک کا سفر درپیش ہے، جب ہم واپس ہوں گے تو انشاء اللہ دیکھ اجائے گا اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف واپس ہوئے اور ایک دن یا اس سے کچھ کم مدینہ کی مسافت رہ گئی تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لے کر آئے اور بتایا کہ منافقوں نے یہ مسجد ضرار بنائی ہے اور مسجد قبا کے قریب ایک اور مسجد بنانے سے ان کا مقصد مسلمانوں کی جماعت میں تفریق پیدا کرنا ہے اور اس سے ان کا مقصود ابو عامر راہب کی کمین گاہ بنانا ہے۔ اس وحی کے نازل ہونے کے بعد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی چند مسلمانوں کو اس مسجد ضرار کی طرف بھیج دیا تاکہ وہ اس کو منہدم کردیں اور اس کو جلا ڈالیں۔ آپ نے بنو سالم کے بھائی مالک بن دخشم اور معن بن عدی یا اس کے بھائی عامر بن عدی کو بلایا اور فرمایا : تم دونوں ان ظالموں کی مسجد کی طرف جائو اور اس کو منہدم کردو اور جلا ڈالو۔ ان دونوں نے اس مسجد کو گرایا اور جلا ڈالا۔ اس وقت اس مسجد میں یہ کفار موجود تھے اور مسجد کے جلنے سے یہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسجد ضرار کو بنانے والے یہ بارہ افراد تھے : خذام بن خالد، ثعلبہ بن حاطب (یہ وہ نہیں جو بدری صحابی ہیں) معتب بن قشیر، ابو حبیبہ بن الازعر، عباد بن حنیف، حارثہ بن عامر اور اس کے دو بیٹے مجمع اور زید، نبتل الحارث، مخرج، بجاد بن عمران اور ودیعہ بن ثابت۔۔۔ یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو نیک ارادے سے یہ مسجد بنائی تھی، ہمارے پیش نظر صرف مسلمانوں کی خیرخواہی تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ شہادت دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹ بولتے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٣٥۔ ٤٣٢ ملخصًا، مطبوعہ بیروت ١٤١٩ ھ، البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٦١٩۔ ٦١٨، مطبوعہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 107