أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِمَّنۡ حَوۡلَــكُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ‌‌ ۛؕ وَمِنۡ اَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ‌ ‌ ‌ؔۛ مَرَدُوۡا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعۡلَمُهُمۡ ‌ؕ نَحۡنُ نَـعۡلَمُهُمۡ‌ ؕ سَنُعَذِّبُهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ثُمَّ يُرَدُّوۡنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيۡمٍ‌ ۞

ترجمہ:

: اور تمہارے گرد بعض اعرابی (دیہاتی، بدوی) منافق ہیں اور بعض اہل مدینہ (بھی منافق ہیں) وہ نفاق پر ڈٹ چکے ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے انہیں ہم جانتے ہیں، عنقریب ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے، پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تمارے گرد بعض اعرابی (دیہاتی، بدوی) منافق ہیں اور بعض اہل مدینہ (بھی منافق ہیں) وہ نفاق پر ڈٹ چکے ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے انہیں ہم جانتے ہیں، عنقریب ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے، پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے (التوبہ : ١٠١)

مدینہ سے باہر کے منافقین اور ان سے متعلق اعتراضات کے جوابات :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے احوال بیان فرمائے۔ اس کے بعد اعرابیوں اور بدویوں میں سے منافقین کا حال بیان فرمایا : پھر اعرابیوں میں سے خالص مومنوں کا ذکر فرمایا : پھر بیان کیا کہ اکابر مومنین وہ ہیں جو مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین ہیں۔ اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ مدینہ کے اندر اور باہر دونوں جگہ منافقین ہیں۔ مردواعلیٰ النفاق کا معنی ہے انہیں نفاق کی خوب مشق ہوچکی ہے۔ وہ نفاق میں خوگر اور نفاق کے ماہر ہیں۔

امام ابن جوزی لکھتے ہیں : ان میں سے بعض عبداللہ بن ابی، جد بن قیس، الجلاس، معتب، وحوح اور ابوعامر راہب ہیں۔ (زادالمسیر ج ٣ ص ٤٩١۔ ٤٩٢)

اور مدینہ کے گرد کو منافقین تھے ان کے متعلق امام رازی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ جہینہ، اسلم، اشجع اور غفار تھے۔ یہ لوگ مدینہ کے گرد رہتے تھے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٣٠)

امام بغوی، امام واحدی، امام ابن الجوزی، خازن اور سیوطی وغیرہم نے بھی حضرت ابن عباس (رض) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ انہیں نہیں جانتے انہیں ہم جانتے ہیں۔ امام رازی نے فرمایا : یہ نفاق میں اس قدر ماہر اور مشاق ہوچکے ہیں کہ باوجود اس کے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت ذہین ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عقل اور فراست بہت کامل اور روشن ہے۔ پھر بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں نہیں جانتے۔ انہیں ہم جانتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٣١) ۔

اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق اس آیت میں جہینہ، اسلم، اشجع اور غفار کو ماہر منافق فرمایا ہے اور احادیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے حق میں دعا فرمائی ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم اشجع اور غفار میرے دوست ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ان کا کوئی دوست نہیں ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٥٠٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٢٠ ) ۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر فرمایا : غفار کی اللہ مغفرت فرمائے اور اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٥١٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥١٨) ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ احادیث جہینہ، اسلم اور غفار وغیرہ کے غالب اور اکثر افراد پر محمول ہیں۔ اور ان قبیلوں کے بعض افراد منافق تھے جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اس جگہ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :

ولو نشآئُ لآرینٰکھم فلعرفتھم بسیمٰھم التعرفنھم فی لحن القول۔ (محمد : ٣٠)

ترجمہ : اور اگر ہم چاہتے تو ہم ضرور آپ کو منافقین دکھا دیتے، اور ان کی صورت سے تو آپ ان کو پہچان چکے ہیں اور ان کی باتوں کے لہجہ سے بھی آپ ان کو ضرور پہچان لیں گے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ سورة توبہ میں منافقین کے جس علم کی نفی ہے وہ قطعی ہے یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعیت کے ساتھ منافقوں کو نہیں جانتے اور سورة محمد میں جس علم کا ثبوت ہے وہ ظنی ہے۔ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علامتوں اور قرینوں سے منافقوں کو پہچان لیتے ہیں۔ واضح رہے کہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعیت کے ساتھ منافقین کی شاخت کرا دی تھی اور ان کا علم دے دیا تھا۔

دو مرتبہ عذاب دینے کی تفصیل :

(امام ابن منذر اور امام ابن ابی حاتم نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ ان کو بھوک کا عذاب دیا جائے گا اور دوسری مرتبہ ان کو قتل کرنے کا عذاب دیا جائے گا۔

(٢) امام ابن منذر اور امام ابن حاتم نے مجاہد سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ ان کو عذاب قبر دیا جائے گا اور دوسری بار عذاب نار دیا جائے گا۔ قتادہ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔

(٣) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ربیع سے منقول ہے : ایک بار ان کو دنیا میں آزمائش میں ڈالا جائے گا اور ایک بار عذاب قبر دیا جائے گا۔

(٤) امام ابوالشیخ نے ابن زید سے نقل کیا ہے کہ ایک بار ان کو مال اور اولاد کی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا اور دوسری بار ان کو مصائب میں مبتلا کیا جائے گا۔

(٥) امام ابن جریر، امام ابن ابی حاتم، امام طبرانی اور امام ابوالشیخ نے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ ان کو دنیا میں رسوائی کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور دوسری مرتبہ عذاب قبر میں مبتلا کیا جائے گا۔ (الدر المثور ج ٥ ص ٢٧٤۔ ٢٧٣، مطبوعہ دارالفکر بیروت) ۔ منافقین کی رسوائی یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر منافق کا نام لے کر اس کو مسجد سے نکال دیا۔ اس کو ہم بکثرت حوالہ جات کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام بنام منافقین کو مسجد سے نکالنا :

حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت (التوبہ : ١٠١) کی تفسیر میں کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فلاں ! تو نکل جا تو منافق ہے۔ اے فلاں ! تو نکل جا تو منافق ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منافقوں کا نام لے لے کر ان کو مسجد سے نکال دیا اور ان کو رسوا کردیا۔ اس دن کسی کام کی وجہ سے اس وقت تک حضرت عمر (رض) مسجد میں نہیں پہنچے تھے۔ جس وقت حضرت عمر آئے تو وہ مسجد سے نکل رہے تھے۔ وہ حضرت عمر سے چھپ رہے تھے۔ ان کا گمان تھا کہ حضت عمر کو حقیقتِ واقعہ کا پتا چل گیا ہے۔ ایک شخص نے حضرت عمر سے کہا : آپ کو خوشخبری ہو۔ اللہ تعالیٰ نے آج منافقین کو رسوا کردیا۔ یہ ان پر عذاب اول تھا اور عذاب ثانی عذاب قبر ہے۔ (المعجم الاوسط ج ١ ص ٤٤٢، رقم الحدیث : ٧٩٦، حافظ الہیشمی نے کہا اس حدیث کا ایک راوی الحسین بن عمرو بن محمد العنقرری ضعیف ہے۔ مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٣، حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث پر سکوت کیا ہے۔ الکافی الشاف فی تخریج احادیث الکشاف ج ٢ ص ٣٠٦) ۔ حسبِ ذیل مفسرین نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے بعض نے اس کو اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے : (١) امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ (جامع البیان جز ١١ ص ١٥) ۔ (٢) امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ، (تفسیر القرآن ج ٦ ص ١٨٧٠) ۔ (٣) امام ابواللیث سمر قندی متوفی ٣٧٥ ھ، (تفسیر سمرقندی ج ٢ ص ٧١) ۔ (٤) علامہ ابوالحسن الواحدی المتوفی ٤٦٨ ھ، (الوسیط ج ٢ ص ٥٢١ ) ۔ (٥) امام حسین بن مسعود بغوی متوفی ٥٣٨ ھ، (معالم التنزیل ج ٢ ص ٢٧٢) ۔ (٦) علامہ محمود بن عمر زمحشری متوفی ٥٣٨ ھ، (الکشاف ج ٢ ص ٢٩١) ۔ (٧) قاضی ابن عطیہ اندلسی متوفی ٥٤٦ ھ، (المحرر الوجیز ج ٨ ص ٢٦٢ ) ۔ (٨) امام عبدالرحمن جوزی متوفی ٥٩٧ ھ، (زادالمسیر ج ٣ ص ٤٩٢) ۔ (٩) امام فخر الدین رازیمتوفی ٦٠٦ ھ، ( تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٣١) ۔ (١٠) علامہ علاء الدین خازن متوفی ٧٢٥ ھ، (لباب التاویل ج ٢ ص ٢٩١) ۔ (١١) علامہ نظام الدین نیشاپوری متوفی ٧٢٨ ھ، (غرائب القرآن ج ٣ ص ٥٢٤ ) ۔ (١٢) علامہ ابوالحیان اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ، (البحر المحیط ج ٥ ص ٤٩٧) ۔ (١٣) حافظ ابن کثیر دمشقی متوفی ٧٧٤ ھ (تفسیر القرآن ج ٢ ص ٤٩٧) ۔ (١٤) علامہ ابو حجص عمر دمشقی متوفی ٨٨٠ ھ، (اللباب فی علوم الکتاب ج ١٠ ص ١٩٠) ۔ (١٥) حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ، (الدرالمنثور ج ٤ ص ٢٧٣) ۔ (١٦) قاضی ابوالسعود متوفی ٩٨٢ ھ، (تفسیر ابوالسعود ج ٣ ص ١٨٦) ۔ (١٧) قاضی محمد شوکانی متوفی ١٢٥٠ ھ، (فتح القدیر ج ٢ ص ٥٦٧ ) ۔ (١٨) علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ، (روح المعانی ج ١١ ص ١١) ۔ (١٩) نواب صدیق حسن خان بھوپالی متوفی ١٣٠٧ ھ، (فتح البیان ج ٥ ص ٢٨٦) ۔ (٢٠) صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ، (خزائن العرفان ص ٣٢٥ ) ۔ (٢١) شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی ١٣٦٩ ھ، (تفسیرِ عثامنی برحاشیہ قرآن ص ٢٦٢ ) ۔

بعض علماء دیوبند اس حدیث کا انکار کرتے ہیں۔ اس لیے ہم نے متعدد حوالہ جات ذکر کیے ہیں جنہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے بھی منافقین کے علم کے متعلق دو حدیثیں ذکر کی ہیں :

امام احمد کی سند کے ساتھ ذکر کرتے ہیں کہ حضرت جبیر بن مطعم (رض) نے کہا : میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہمیں مکہ کی عبادت کا کوئی اجر نہیں ملے گا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کو تمہاری عبادتوں کے اجور ملیں گے خواہ تم لومڑی کے سوراخ میں ہو۔ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب اپنا سر کرکے کان لگا کر سنا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے اصحاب میں منافقین بھی ہیں۔ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بعض منافقین منکشف ہوگئے تھے اور وہ لوگ جو بےپر کی افواہیں اڑاتے تھے۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حذیفہ (رض) کو چودہ، پندرہ معین منافقوں کا علم عطا فرمایا تھا اور یہ تخصیص اس کا تقاضا نہیں کرتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام منافقوں کے اسماء پر شخصی طور پر مطلع نہ ہوں۔ اور

امام ابن عساکر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص جس کا نام حرملہ تھا وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا : ایمان یہاں ہے اور اس نے اپنے ہاتھ سے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا۔ اور نفاق یہاں ہے۔ یہ کہہ کر اس نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا اور اس نے اللہ کا ذکر بہت کم کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دعا کی : اے اللہ ! اس کی زبان کو ذکر کرنے والا بنا دے۔ اور دل کو شکر کرنے والا بنا دے اور اس کو میری محبت عطا فرما اور جو مجھ سے محبت کرتے ہیں ان کی محبت عطا فرما، اور اس کا معاملہ خیر کی طرف کر دے۔ اس نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں منافقوں کا سردار تھا۔ کیا میں ان کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ہمارے پاس آئے گا ہم اس کے حق میں استغفار کریں گے اور جو اصرار کرے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اور تم کسی کا پردہ فاش نہ کرنا۔ ( تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٤٣٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 101