( ) اِس نشان کو قَوسَین کہتے ہیں
sulemansubhani نے Sunday، 5 April 2020 کو شائع کیا.
( )
اِس نشان کو قَوسَین کہتے ہیں ۔
یہ اُردو تحریر میں تقریباً آٹھ جگہوں پر استعمال ہوتا ہے ۔
ہمارے ہاں عام طور پر اس کا استعمال یہ ہے کہ:
جب ہم کسی فرد ، یا کتاب کی عبارت نقل کرتے ہیں اور وضاحت کے طور پر کچھ اپنی طرف سے بھی کہنا چاہتے ہیں ، تو قوسَین میں اپنی بات کہتے ہیں ؛ تاکہ پڑھنے والے کو معلوم ہوجائے کہ یہ ہماری طرف سے اضافہ ہے ۔
اِسے مثال سے یوں سمجھیے:
سیدنا و مولانا امام محمد غزالی نوراللہ مرقدہ لکھتے ہیں:
” حضرت ابراہیم تِیمی رحمہاللہ سےجب کوئی مسئلہ پوچھتا تو رو پڑتے اور کہتے:
تجھے میرے علاوہ کوئی نہیں ملا ، جو میری ضرورت پیش آگئی !! “
( احیاء علوم الدین ، ربع العبادات ، کتاب العلم ، 91 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ، س1429ھ )
اب ہم اس عبارت کو واضح کرنے کے لیے ، قوسین سے اس طرح مدد لیں گے:
” حضرت ابراہیم تِیمی رحمہاللہ سے جب کوئی مسئلہ پوچھتا تو ( خوفِ خُدا سے ) رو پڑتے ، اور ( بہ طورِ عاجزی ) کہتے:
تجھے میرے عِلاوہ کوئی ( دوسرا عالِم ) نہیں ملا ، جو میری ضرورت پیش آگئی !! “
یہاں قوسین کے ذریعے ہم نے بات واضح کردی ، اور اصل عبارت کا مفہوم بھی نہیں بدلنے دیا ؛ بلکہ اِس میں مزید حُسن پیدا کردیا ۔
یہاں ایک بات اچھی طرح یاد رہنی چاہیے کہ:
عبارت کے دوران قوسین کا برمحل استعمال کرنا ہے ، اور اس طرح کرنا ہے کہ:
” اگر قوسین کو ہٹادیا جائے تو عبارت کی روانی میں فرق نہ آئے ، اور قوسین کو لگا دیا جائے تو بھی عبارت کی روانی برقرار رہے ۔ “
مثلاً: حضرت ابراہیم تِیمی رحمہاللہ سےجب کوئی مسئلہ پوچھتا تو ( خوفِ خدا سے ) رو پڑتے ۔
غور فرمائیں ، کہ یہ عبارت لفظی و معنوی اعتبار سے بالکل رواں ہے ۔
لیکن اگر اسی عبارت کو یوں کردیا جائے:
حضرت ابراہیم تِیمی رحمہاللہ سےجب کوئی مسئلہ پوچھتا ( تو خوفِ خدا کرتے ) رو پڑتے ۔
اب اگر قوسین کو ہٹا دیا جائے تو عبارت کی وہ روانی نہیں رہتی ، جو ” تَو ” سے ہے ۔
اسی طرح قوسین کو لگادیا جائے پھر بھی فصاحت ختم ہوجاتی ہے ، کیوں کہ:
” سے ” کی جگہ ” کرتے ” لانا ، غیر فصیح ہے ۔
اگر طوالت کا اندیشہ نہہوتا تو مزید مثالیں دے کر بات واضح کرتا ، لیکن امید ہے اسی ایک مثال سے بہت سارے احباب پر بات واضح ہوگئی ہو گی ۔
اللہکریم ہمیں خلوصِ نیت کے ساتھ اِملا و انشا کی دُرُستی کی بھی توفیق بخشے اور ہمارے کلام کو موثر بنائے ۔
✍️لقمان شاہد
ٹیگز:-
لقمان شاہد