آستانہ عالیہ حضرت امیر السالکین بھیرہ شریف (سرگودھا)

ازقلم:

(فقیر محمد اسلم رضوی چشتی خلیفہ مجاز آستانہ عالیہ بھیرہ شریف)

آستان عظمت نشان بھیرہ شریف اخلاص،للہیت،محبت و شوق الہی،عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم،فروغ علم،تزکیہ نفس اور خدمت انسانیت کی تقریبا150سالہ روشن تاریخ کا حامل آستانہ ہے۔

👈یہ وہ تربیت گاہ ہے جہاں سے ہمیشہ آفاق گیر اسلامی نظریات کا پرخلوص پرچار کیا گیا ہے۔

👈یہ وہ ادارہ ہے جہاں لوگوں کو انا یعنی میں کے خطرناک خول میں بند ہونے سے پچانے کی سعی جمیل کی جاتی ہے۔

👈یہ وہ مرکز فیض ہے جہاں سے لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ کا حسن بانٹا جاتا ہے۔

👈یہ وہ کارخانہ کردار ہے جہاں پہ کوزہ گری نہیں انسان سازی کا کام کیا جاتا ہے۔

👈یہ وہ معسکر ہے جہاں پہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے دین کے سچے مجاہد تیار کیے جاتے ہیں۔

👈یہ وہ خانقاہ تصوف ہے جہاں پر صبغۃاللہ کا نہ اترنے والا رنگ چڑھایا جاتا ہے۔

👈یہ وہ زاویہ ہے جہاں پر اللہ ھو کی ضربوں سے دلوں کا زنگ اتارا جاتا ہے اور آئینہ دلِ مجلی کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

👈یہ وہ مدرسہ ہے جہاں ژرف نگاہ عالم اور حق آگاہ فاضل تیار کیے جاتے ہیں جن کی دین و دنیا کی دونوں آنکھیں روشن ہوتی ہیں۔

👈یہ وہ تجربہ گاہ ہے جہاں اسلامی طرز زندگی کے خوبصورت اصولوں کا پریکٹیکل کروایا جاتا ہے۔

اس عظیم خانقاہ کے موسس وبانی حضرت پیر امیر شاہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔جو سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ کی عظیم روحانی درگاہ سیال شریف کے اعاظم و اکابر خلفاءمیں سے ہیں۔آپ کی حیات مبارکہ کا بیشتر حصہ عبادت الہی اور خدمت انسانیت میں گزرا۔اس خانقاہ کے دوسرے سجادہ نشین غازی اسلام حضرت پیر محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو حضرت امیر السالکین رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند ہیں۔موصوف کمال کے دیدہ ور اور تحریکی وتنظیمی شخصیت تھے۔انگریز کے دور غلامی میں مسلمانوں کی ذلت و پستی پر بہت بے قرار رہتے اور ہر لمحہ ان کے عروج و بقا کے خواب دیکھتے اور صرف خواب ہی نہیں دیکھتے تھے بلکہ انہیں اس دلدل سے نکالنے کے لیے جہدِ مسلسل بھی فرماتے لوگوں کے دروازں پہ دستک دے کر انہیں ارشاد فرماتے ان کی فیس میں دے دوں گا خدارا تم اپنے بچوں کو پڑھاؤ اس لیے کہ علم کے بغیر مسلمانوں کے وقار کی بحالی ممکن نہیں پھر آپ نے اس وقت دو تعلیمی ادارے شروع فرمائے۔

ایک محمدیہ غوثیہ پرائمری سکول اور دوسرا دارالعلوم محمدیہ غوثیہ جن کے ثمرات اس وقت سے لیکر آج تک زمانہ سمیٹ رہا ہے۔

آپ نے تحریک قیام پاکستان میں مسلم لیگ کا بھرپورساتھ دیا بلکہ فرمایا اس وقت قیام پاکستان کی تحریک یہ فقط چند دنوں کی جذباتی تحریک نہیں بلکہ کفر و اسلام کی جنگ ہے جس نے مسلم لیگ کو ووٹ نہ دیے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

اپنے علاقے میں گاندھی کا زور آپ نے ہی توڑا تھا

آپ کا شمار پاکستان کے بانیان میں ہوتا ہے

قیام پاکستان کے وقت انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے ان مسلمانوں کو جو بھیرہ اور گردنواح میں آئے تھے ان کی آبادکاری کے لئے سر توڑ کوشش کی۔

1948 میں محاذ کشمیر پر جب پہلی جنگ انڈیا کے ساتھ لڑی گئی تو آپ نے اپنی تنظیم جُنداللہ کے رضاکاروں کے ساتھ جنگ میں عملا شرکت کی اور انڈیا کا ایک جہازبھی مار گرایا اور غازی بن کر واپس لوٹے

جنگ کے بعد پاک آرمی کی طرف سے آپ کی خدمت میں حسن کارکردگی کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا گیا۔

آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے کمال حسن تربیت سے ایک عالم ربانی،ایک عاشق رسول،ایک عبقری زماں،ایک اسلاف کا خوبصورت نمونہ،ایک صوفی با صفا،ایک زاہد بے ریا،ایک پیکر عجزوانکسار ایک مرقع زیبائی و دلبری،ایک قدر شناس وقت مومن،ایک قدر افزائے عمر مسلم،ایک غوث زماں،ایک مجدد دوران،ایک فقیہ عصر ،ایک شیخ الحدیث،ایک پڑھا لکھا پیر،ایک تصوف کے اسرارورموز کا عارف عالم دین،

ایک معلم خیر مدرس،ایک مفکر اسلام،ایک مفسر قرآن،ایک عظیم سیرت نگار،ایک دلوں کو موہ لینے والی شخصیت حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ جیسا عظیم تحفہ امت مسلمہ کو تیار کر کے دیا۔

اس خانقاہ کے تیسرے سجادہ نشین حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ہی ہیں۔جنہوں نے اپنی مساعی جمیلہ سے کئی جہاں آباد کیے اور عظمتوں کے کئی مینار قائم کیے ہیں چند چیزیں مشت نمونہ از خروارے کے طور پر پیش خدمت ہیں۔

دارالعلوم محمدیہ غوثیہ اور اس کی برانچز کی صورت میں عظیم تعلیمی نیٹ ورک غوثیہ گرلز کالج اور اس کی شاخوں پر مشتمل قابل قدر علمی کاوش

👈پانچ جلدوں میں تفسیرضیاءالقرآن

👈سات جلدوں میں سیرت ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم

👈فقر غیور,عشق خود آگاہ کا نقیب مجلہ ماہنامہ ضیائے حرم

👈دو جلدوں میں مقالات ضیاء الامت

👈 سنت خیر الانام زمانہ طالب علمی کی حسین کاوش جو حجیت حدیث کے موضوع پر بے مثال کتاب ہے۔

ہزاروں علماء و عالمات اس وقت زندگی کے تمام شعبہ جات میں مصروف عمل ہیں حضرت الامت رحمۃ اللہ علیہ کی تمام کاوشیں ہی قابل قدر ہیں بلکہ یہ ساری چیزیں آپ کی حسنات جمیلہ ہیں اور ان سب کی حفاظت کے لیے اور ان کے بھرپور اور شایان شان فروغ کے لیے جو شخصیت امت مسلمہ کو بخشی ہے وہ اس آستانِ عظمت نشان کے چوتھے سجادہ نشیں ہیں۔حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ علیہ جیسی ہمہ جہت شخصیت کا سجادہ نشین ہونا یقینا عظمت کی بات ہے۔لیکن اتنی بڑی ہستی کا سجادہ نشیں بن کر اس کی عظمت کا گراف نیچے نہ آنے دینا آسان نہیں ہے سچی بات یہ ہے کہ ہمارے مرشد گرامی امین حسن کرم،عکس جمال ضیاءالامت،عظیم ماہر تعلیم،پاکیزہ دامن سیاستدان، قافلہ علم و عرفاں کے حدی خوان، پیر طریقت،رہبر شریعت ،حضرت قبلہ پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب مدظلہ العالی نے حضور ضیاءالامت کی جانشینی کا حق ادا کردیا ہے۔

آپ کے حسن عمل کے چند پہلو پیش خدمت ہیں

👈 وصال ضیاء الامت رحمۃ اللہ علیہ کے وقت اداروں کی تعداد 35 تھی جبکہ اس وقت 350 سے زیادہ ادارے فروغ علم کے لئے مصروف عمل ہیں

👈 اہلسنت کی علمی کاوشوں کی طباعت و اشاعت کے لیے ادارہ ضیاء المصنفین کا قیام جس کی کارکردگی اہل علم کے سامنے اظہر من الشمس ہے

👈 مجلہ ضیائے حرم کے علمی و تحقیقی معیار کو بہتر سے بہتر کرنے کے لیے کوشاں رہنا

👈 طلبہ ویلفیئر فنڈ کا قیام جس کے منافع بھرپورانداز سے مستحقین تک پہنچ رہے ہیں

👈 پانچ سالہ دور وزارت جس میں پاکستان کی تاریخ میں مثالی حج کروایا اور اللہ کے فضل سے اپنا دامن کسی قسم کی کرپشن کی غلاظت سے آلودہ نہیں ہونے دیا

👈 دارالعلوم محمدیہ غوثیہ سے الکرم انٹرنیشنل یونیورسٹی تک کا سفر جوکہ کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات پر آپ کی گہری نظر کا عکاس ہے

👈 الکرم انٹرنیشنل میں بی ایس کلاسز کا آغاز

👈 ضیا الامت فاونڈیشن کا قیام جس کے پلیٹ فارم سے 2005 میں کشمیر کے زلزلہ متاثرین کی بھرپور امداد

👈 زلزلہ متاثرین کےلئے الکرم سٹی کا قیام جس میں لوگوں کو گھر بنا کر دیے گئے

👈 جنوبی پنجاب کے سیلاب زدگان کی بھرپور امداد اور ایک پوری بستی کو گھر پیش کرنے کی کاوش

👈 مسلم چیرٹی کا قیام اس کی مدد سے سادات آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی خاندانوں کی خدمت میں گھر بنا کر بطور نذرانہ پیش کرنا

👈 روحانی اقدار کے احیاء کے لئےشب کرم یعنی ماہانہ شب بیداری کا سلسلہ شروع کرنا

👈 حسنات ٹی وی کا قیام

👈 ڈائریکشن اور اخلاص سکول سسٹم کا اجراء وقیام

👈 الکرم فرینڈز کی صورت میں مضبوط تنظیمی نیٹ ورک کا قیام

👈 عالمگیر خطرناک وبا کرونا کے پھیلاؤ کے وقت 350 ادارے قرنطینہ سنٹر کے قیام کے لیے حکومت کو پیش کرنے کی پرخلوص آفر،پاکستان کا سب سے بڑا قرنطینہ سنٹر اس وقت آپ کے ادارے ضیاالاسلام ایجوکیشنل کمپلیکس وزیرآباد میں قائم کیا گیا ہے

👈 40ہزار طلباءوطالبات کی بطور رضاکار حکومت کو آفر کرنا

انسانی خدمت کا دنیا کا تقریبا سب سے بڑا چیرٹی ادارہ مسلم ہینڈز انٹرنیشنل بھی آپ کی سرپرستی میں انسانی خدمت کا کام کر رہا ہے۔جس کے چیئرمین دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف کے فاضل اور دربار حضرت امیر سالکین کے خلیفہ مجاز حضرت پیر سید لخت حسنین شاہ صاحب ہیں۔ اس چیرٹی کا کام پچپن سے زیادہ ممالک میں ہے۔ پچھلے سال یعنی 2019 میں آزاد کشمیر میں زلزلہ متاثرین کی اس چیرٹی نے مدد کی اور لوگوں کو گھر تعمیر کر کے دیئے۔ یہ وہ فلاحی ادارہ ہے جو غرباومساکین کی پوری دنیا میں کفالت کررہا ہے۔پانی،صحت تعلیم اور دیگر بہت سے زندگی شعبہ جات میں اس کی کارکردگی آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ابھی حالیہ مصیبت جو کرونا کی صورت میں انسانیت پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑی ہے اس میں بھی اس کا کام پاکستان یورپ اور دیگر کئی ممالک تک پھیلا ہوا ہے انسانی خدمت کے حوالے سے آستانہ عالیہ بھیرہ شریف کبھی پیچھے نہیں رہا میں نے اجمالی طور پر حضرت قبلہ پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب مدظلہ العالی سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھیرہ شریف کی چند خدمات کا ذکر کیا ہے تفصیل کے لئے تو کئی دفتر درکار ہیں۔ اللہ کریم اس آستان عظمت نشان کی بہاریں سلامت رکھے اور ہمارے مرشد گرامی کو صحت کے ساتھ عمر خضری عطا فرمائے آمین بجاہ طہ و یسین و صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم۔♥️