أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ ۖ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌ ؕ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ۞

ترجمہ:

اب اگر یہ لوگ آپ سے منہ پھیرتے ہیں تو آپ کہہ دیں مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، میں نے اسی پر توکل کیا ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اب اگر یہ لوگ آپ سے منہ پھیرتے ہیں تو آپ کہہ دیں کہ مجھے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، میں نے اسی پر توکل کیا ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوب : ١٢٩ )

اللہ تعالیٰ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا

اس آیت میں روئے سخن مشرکین اور منافقین کی طرف ہے، یعنی اگر یہ مشرکین اور منافقین آپ سے اعراض کریں یا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اعراض کریں یا یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق سے اعراض کریں یا یہ لوگ مشکل اور سخت احکام کو قبول کرنے سے اعراض کریں یا یہ منافق لوگ جہاد میں آپ کیساتھ جانے اور آپ کی نصرت سے انکار کریں تو آپ کہہ دیں کہ مجھے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، میں نے اسی پر توکل کیا ہے۔ اس آیت سے یہ مقصود ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جائے اگر یہ مشرکین اور منافقین آپ کی تصدیق نہیں کرتے تو آپ غم نہ کریں، کیونکہ اسلام کی نشرواشاعت اور دشمنوں کے خلاف آپ کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہے۔ 

عرش کا معنی

عرش کا لغوی معنی ہے : کسی شے کا رکن، گھر کی چھت، خیمہ، وہ گھر جس سے سایہ طلب کیا جائے، اور بادشاہ کا تخت، اللہ تعالیٰ کے عرش کی تعریف نہیں کی جاسکتی، وہ سرخ یاقوت جو اللہ کے نور سے چمک رہا ہے۔ (قاموس ج ٢ ص ٤٠٥، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) عزت، سلطان اور مملکت کا کنایہ عرش سے کیا جاتا ہے، ثل عرشہ کا معنی ہے اس کی عزت جاتی رہی، روایت ہے کہ کسی شخص نے حضرت عمر (رض) کو خواب میں دیکھا، ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے رب نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا، تو آپ نے کہا اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت میرا تدارک نہ کرتی تو لئل عرشئی (میری عزت جاتی رہتی) اللہ کے عرش کی حقیقت کو کوئی نہیں جانتا، ہمیں صرف یہ معلوم ہے کہ اس کو عرش کہتے ہیں، اور عرش اس طرح نہیں ہے جس طرح عام لوگوں کا وہم ہے، ایک قوم نے یہ کہا کہ عرش فلک اعلیٰ ہے اور کرسی فلک الکواکب ہے اور انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے : حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو ذر ! سات آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے کسی جنگل میں انگوٹھی کا ایک چھلا پڑا ہوا ہو، اور عرش کی فضیلت کرسی پر ایسے ہے جیسے جنگل کی فضیلت چھلے پر ہے۔ (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص ٤٠٥، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) (امفردات ج ٢ ص ٤٢٩۔ ٤٢٨، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

عرش کے متعلق احادیث اور آثار

وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عرش کو اپنے نور سے پیدا کیا اور کرسی عرش سے ملی ہوئی ہے اور پانی کرسی کے نیچے اور ہوا کے اوپر ہے اور فرشتوں نے اپنے کندھوں کے اوپر عرش کو اٹھایا ہوا ہے اور عرش کے گرد چار دریا ہیں، اور ان دریائوں میں فرشتے کھڑے ہوئے اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں، اور عرش بھی اللہ عزو جل کی تسبیح کرتا ہے۔ (کتاب العظمہ رقم الحدیث : ١٩٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٤ ھ) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : وہ کرسی جو آسمانوں اور زمینوں کو محیط ہے قدموں کی جگہ ہے اور عرش کی مقدار کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا، سوا اس کے جس نے اس کو پیدا کیا ہے اور تمام آسمان گنبد کی طرح ہیں۔ (کتاب العظمہ رقم الحدیث : ١٩٨، المستدرک ج ٢ ص ٢٨٢، یہ حدیث صحیح ہے) حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں : ایک اعرابی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا : یا رسول اللہ ! لوگ مشکل میں پڑگئے، بال بچے ضائع ہوگئے، اور مویشی ہلاک ہوگئے، آپ ہمارے لیے اللہ سے بارش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو اللہ کی بارگاہ میں شفیع بناتے ہیں اور اللہ کو آپ کی بارگاہ میں شفیع بناتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کئی بار سبحان اللہ فرمایا، پھر فرمایا : تم پر افسوس ہے اللہ کو کسی کے حضور سفارشی نہیں بنایا جاتا، اللہ سبحانہ کی شان اس سے بلند ہے، تم پر افسوس ہے تم اللہ کو نہیں جانتے، اس کا عرش تمام آسمانوں اور زمینوں کو گنبد کی طرح محیط ہے اور وہ اس طرح چرچراتا ہے جس طرح پالان سواری کی وجہ سے چرچراتا ہے۔ (کتاب العظمہ رقم الحدیث : ٢٠٠، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٢٦، کتاب السنہ رقم الحدیث : ٥٧٥، الشریعہ ص ٢٩٣)

عرش کی تفسیر میں اقاویل علمائ

امام ابوبکر احمد بن حسن بیہقی متوفی ٤٥٨ لکھتے ہیں : اہل تفسیر نے کہا ہے کہ عرش ایک تخت ہے اور وہ جسم مجسم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا اور اس کو اٹھانے کا حکم دیا اور اس کی تعظیم کے لیے طواف کرنے کا حکم دیا جیسے زمین میں ایک بیت پیدا کیا اور بنو آدم کو اس کا طواف کرنے اور اس کی طرف منہ کر کے نما زپڑھنے کا حکم دیا اور اکثر آیات، احادیث اور آثار میں اس نظریہ کی صحت پر دلائل ہیں۔ (کتاب الاسماء والصفات ص ٣٩٢، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) ابوالحسن علی بن محمد الطبری نے کہا کہ رحمن کے عرش پر مستوی ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ عرش پر بلند ہے۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ سورج ہمارے سر پر بلند ہے، اللہ سبحانہ عرش پر بلند ہے نہ وہ عرش پر بیٹھا ہوا ہے نہ وہ اس پر کھڑا ہوا ہے نہ وہ عرش کے ساتھ مم اس ہے نہ اس سے مبائن، بمعنی متباعد ہے کیونکہ مس کرنا اور بعید ہونا اور کھڑا ہونا اور بیٹھنا اجسام کی صفات ہیں اور اللہ عزوجل احد اور صمد ہے، وہ نہ مولود ہے نہ والد اور نہ اس کا کوئی مثل ہے اور جسم کے عوارض اور احوال اس کے لیے ممکن نہیں ہیں۔ (کتاب الاسماء والصفات ص ٤١١، مطبوعہ بیروت) علامہ عبدالوہاب احمد بن علی الشعرانی المتوفی ٩٧٣ ھ لکھتے ہیں : رحمن کے عرش پر استواء کا معنی یہ ہے کہ اللہ کا خلق کرنا عرش پر مکمل ہوگیا اور اس نے عرش کے ماوراء کسی چیز کو پیدا نہیں کیا، اور اس نے دنیا اور آخرت میں جو کچھ بھی پیدا کیا ہے وہ دائرہ عرش سے خارج نہیں ہے کیونکہ وہ تمام کائنات کو حاوی ہے، استوی کا معنی ہم نے تمام ہونا کیا ہے اور یہ اس آیت سے مستفاد ہے : وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہُ وَاسْتَوٰی۔ (القصص : ١٤) اور جب وہ اپنے شباب کو پہنچا اور تام اور مکمل ہوگیا۔ اللہ نے قرآن مجید میں چھ جگہ ١ ؎ عرش پر استواء کا ذکر کیا ہے۔ اور ہر جگہ آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے کے بعد عرش پر استواء کا ذکر کیا ہے۔ مثلا پہلی بار سورة الاعراف میں ذکر فرمایا ہے : اِنَّ رَبَّکُم اللّٰہُ الَّذِی خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامَ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ۔ (الاعراف : ٥٤) بیشک تمہارا را اللہ ہے جس نے چھ دنوں میں آسمان اور زمینوں کو پیدا کیا پھر اس کا پیدا کرنا عرش پر تام اور مکمل ہوگیا۔ یعنی اس کے پیدا کرنے کا سلسلہ عرش پر تمام ہوگیا اور اس نے عرش کے بعد کسی چیز کو پیدا نہیں کیا۔ یعنی عرش تمام ممالک میں سب سے اعظم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس پر بہ اعتبار رتبہ کے بلند ہے، مثلاً جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمارے اوپر ہوا ہے، پھر اس کے اوپر آسمان ہے اور جب ہمارا وہم سات آسمانوں سے ترقی کرتا ہے تو اس کے اوپر کرسی ہے اور جب ہم کرسی سے ترقی کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے اوپر عرش ہے جو مخلوقات کی انتہاء ہے، اس کے آگے ہماری فکر کی کوئی سیڑھی نہیں ہوتی اور عرش پر جا کر ہماری فکر کی پرواز ٹھہر جاتی ہے اور عرش کے اوپر اور اس سے بہ اعتبار رتبہ کے بلند اللہ تعالیٰ ہے، خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے کا سلسلہ عرش پر جا کر ٹھہر گیا اور یہی عرش پر استواء کا معنی ہے۔ (الیوقیت وا لجواہر ج ١ ص ١٨٥۔ ١٩٨٦، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٨ ھ) علامہ شعرانی کی مراد یہ ہے کہ کائنات کے عناصر اور اجسام اور اس کی وضع کو پیدا کرنے کا سلسلہ عرش پر جا کر ٹھہر گیا، اس کا یہ معنی نہیں کہ مطلقاً خلق اور پیدائش کا سلسلہ عرش کو پیدا کرنے کے بعد موقوف ہوگیا۔ 

آیا سورة توبہ کی آخری آیت قرآن مجید کی آخری آیت ہے یا نہیں

امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت ابی بن کعب (رض) سے روایت کیا ہے کہ قرآن مجید کی جو آخری آیتیں نازل ہوئیں وہ یہ ہیں۔ : لقد جاء کم رسول من انفسکم۔ الایہ (التوبہ۔ ١٢٩۔ ١٢٨) (جامع البیان : جز ١١ ص ١٠٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت) اس کے معارض یہ حدیث ہے : حضرت البراء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت البراء ۃ (التوبہ) اور سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت : یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ۔ الایۃ (النساء : ١٧٦) ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٦٠٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦١٨) نیز امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ آخری آیت یہ ہے : واتقو یوما ترجعون فیہ الی اللہ۔ (البقرۃ : ٢٨١) (جامع البیان جز ٣ ص ١٥٦، رقم الحدیث : ٤٩٤١) ١ ؎ وہ چھ جگہیں یہ ہیں : (١) الاعراف : ٥٤ (٢) یونس : ٣ (٣) طہٰ : ٥ (٤) الفرقان ٥٩ (٥) السجدہ : ٤ (٦) الحدید : ٤ امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نو راتیں زندہ رہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٢ ص ٥٥٤، رقم الحدیث ٢٩٤٤) نیز حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو آخری آیت نازل ہوئی وہ آیت الربوٰ ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٥٤٤، مطبوعہ دارارقم، بیروت) واضح رہے کہ البقرۃ : ٢٨٠۔ ٢٧٨ تک آیات الربو ہیں اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ البقرہ : ٢٨١ کا بھی پہلی آیتوں پر عطف ہے، قاس لیے ان میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٢٠٥، طبع لاہور) ابن جریج نے کہا یہ آیت (البقرہ : ٢٨١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال سے نو گھنٹے پہلے نازل ہوئی اور اس کے بعد کوئی چیز نازل نہیں ہوئی۔ اور ابن جبیر نے کہا یہ آیت آپ کی وفات سے تین گھنٹے پہلے نازل ہوئی، سورة توبہ کی آخری آیت کو بھی قرآن مجید کی نازل ہونے والی آخری آیت کہا گیا ہے۔ لیکن البقرۃ کی آیت : ٢٨١ کا آخری آیت ہونا زیادہ صحیح، زیادہ معروف اور زیادہ علماء کا مختار ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ٣ ص ٣٤١، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ سورة نساء کی آخری آیت قرآن مجید کی آخری آیت ہے۔ اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ واتقو ایو ما ترجعون فیہ الی اللہ۔ (ابقرہ : ٢٨١) قرآن مجید کی آخری آیت ہے۔ اور اس کی تائید صحیح بخاری میں بھی ہے کہ آخری آیت، آیت الربوٰ ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں قرآن مجید کی آخری آیتیں ہوں اور دونوں قرآن مجید کے آخر میں ایک ساتھ نازل ہوئی ہوں اور ہر آیت دوسری آیت کے اعتبار سے آخری آیت ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واتقو یوما ترجعون فیہ الی اللہ، حقیقی آخری آیت ہو اور یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ کے آخری آیت ہونے کا یہ معنی ہو کہ وراثت کے احکام کی آخری آیت ہے۔ اور اس کے برعکس ہونا اس لیے راجح نہیں ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی طرف اشارہ ہے جو نزول قرآن مجید کے خاتمہ کو مستلزم ہے، پوری آیت اس طرح ہے : وَاتَّقُوْایَومًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَھُمْ لَا یُظْلِمُوْنَ ۔ (البقرۃ : ٢٨١) اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جائو گے، پھر ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کاموں کی پوری جزا دی جائے گی اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٢٠٥، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ) سورة النساء کے آخر میں ہم نے قرآن مجید کی آخری آیت کے سلسلے میں مختلف روایتوں میں باہم تطبیق بیان کی ہے۔ 

حضرت خزیمہ بن ثابت کی گواہی سے لقد جاء کم رسول من انفسکم۔ الایۃ۔ کا سورة توبہ میں درج ہونا۔ جب صحابہ کرام قرآن مجید کو جمع کر رہے تھے تو ان کو سورة توبہ کی یہ آخری دو آیتیں نہیں ملیں پھر حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری (رض) سے یہ آیتیں ملیں اور ان کی شہادت پر انہوں نے اس کو قرآن مجید میں شامل کیا، امام بخاری روایت کرتے ہیں : حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے پیغام بھیجا تو میں قرآن مجید کو جمع کرنا شروع کیا حتیٰ کہ میں سورة توبہ کے آخر پر پہنچا تو لقد جاء کم رسول من انفسکم مجھے حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس ملی اور ان کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں ملی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٤٢٥، ٢٨٠٧، مطبوعہ دارا ارقم بیروت) اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ قرآن مجید تو تواتر سے ثابت ہے۔ صرف ایک صحابی کے کہنے سے یہ آیت قرآن مجید کا جز کیسے بن گئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کرام کو تواتر سے معلوم تھا کہ یہ آیت سورة توبہ کی آخری آیت ہے، لیکن مصحف میں ہر آیت کو درج کرنے کے لیے انہوں نے یہ ضابطہ بنایا تھا کہ دو صحابہ اس پر گواہی دیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کو لکھوایا تھا یا دو صحابی اس پر گواہی دیں کہ جس سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی اس سال آپ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تھی۔ حضرت خزیمہ بن ثابت کے علاوہ اور کسی صحابی کے پاس اس کی شہادت نہیں تھی لیکن چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خزیمہ کی شہادت کو دو شہادتوں کے قائم مقام قرار دیا تھا اس لیے اس آیت کو سورة توبہ میں درج کرلیا گیا۔ حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : امام ابن ابی دائود نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر اور حضرت زید سے کہا کہ آپ دونوں مسجد کے دراوزہ پر بیٹھجائیں اور جب دو گواہ اس پر گواہی دیں کہ یہ آیت کتاب اللہ کی ہے تو اس کو لکھ لیں۔ اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت زید کسی آیت کے صرف اپنے پاس لکھے ہونے پر اکتفا نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ دو گواہ اس پر گواہی دیں اور یہ چیز ان کی غایت احتیاط پر دلالت کرتی ہے۔ علامہ سخاوی نے کہا مراد یہ ہے کہ دو گواہ اس پر گواہی دیں کہ یہ آیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لکھی گئی ہے یا دو گواہ اس پر گواہی دیں کہ یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی تھی اور لیث بن سعد نے کہا کہ سب سے پہلے حضرت ابوبکر نے قرآن جمع کیا اور اس کو حضرت زید بن ثابت نے لکھا اور جب تک دو عادل (نیک) گواہ گواہی نہ دیتے حضرت زید اس آیت کو مصحف میں درج نہیں کرتے تھے اور سورة توبہ کی آخری آیت صرف حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس پائی گئی تو مسلمانوں نے کہا اس کو لکھ لو کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خزیمہ کی گواہی کو دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا ہے۔ (الاتقان ج ١ ص ٥٨، ملحضًا، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور، ١٤٠٠ ھ)

حضرت خزیمہ بن ثابت کی گواہی کا دو گواہوں کے برابر ہوناعمارہ بن خزیمہ کے چچا (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے مہلت طلب کی تاکہ گھوڑے کی قیمت لے کر آئیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلدی جلدی گھوڑے کی قیمت لینے گئے، اس اعرابی نے اس کو تاخیر سمجھا، پھر دوسرے اعرابی سے اس گھوڑے کی قیمت لگانے لگے اور ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس گھوڑے کو خرید چکے ہیں، پھر اس اعرابی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکارا اگر آپ اس گھوڑے کو خرید رہے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں اس گھوڑے کو بیچ رہا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس گھوڑے کو خرید رہے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں اس گھوڑے کو بیچ رہا ہوں۔ آپ نے اس اعرابی کی بات سن کر فرمایا : کیا میں تم سے یہ گھوڑا خرید نہیں چکا ؟ اس اعرابی نے کہا نہیں خدا کی قسم ! میں نے آپ کو یہ نہیں فروخت کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں نہیں، میں تم سے یہ گھوڑا خرید چکا ہوں۔ اس اعرابی نے کہا اچھا پھر آپ گواہ لائیں۔ حضرت خزیمہ بن ثابت نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے یہ گھوڑا آپ کو فروخت کردیا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خزیمہ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا : تم کس وجہ سے گواہی دے رہے ہو ؟ حضرت خزیمہ نے کہا : یا رسول اللہ ! کیونکہ میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں، تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خزیمہ کی گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٦٠، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٦٦١، الطبقات الکبریٰ رقم الحدیث : ٥٨٤، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٧٣٠، مجمع الزوائد ج ٩ ص ٣٢٠، المستدرک ج ٢ ص ١٨، سنن کبریٰ ج ١٠ ص ١٤٦، تہذیب تاریخ دمشق ج ٥ ص ١٣٦، کنرالعمال رقم الحدیث : ٣٧٠٣٨، الاصابہ رقم : ٢٢٥٦، اسد الغابہ رقم : ١٤٤٦) صحیح بخاری میں بھی اس کی تائید ہے : حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں مصحف میں آیات درج کر رہا تھا، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سورة الاحزاب کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا تھا، وہ مجھے حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری کے سوا اور کسی کے پاس نہیں ملی جن کی شہادت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو گواہوں کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی : من المئومنین رجال صدقو ما عاھد واللہ علیہ۔ (الاحزاب : ٢٣) (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٨٠٧) اس سے معلوم ہوا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خزیمہ کی گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا تھا، اسی وقت نگاہ نبوت میں یہ تھا کہ ایک وقت آئے گا جب جمع قرآن کے وقت سورة توبہ کی آخری آیت اور الاحزاب کی آیت : ٢٣ پر حضرت خزیمہ کے سوا کوئی گواہ نہیں ہوگا۔ اور اگر ان کی گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرار نہ دیا جائے تو سورة توبہ اور سورة احزاب میں یہ آیتیں درج ہونے سے رہ جائیں گی۔

لقد جاء کم رسول من انفسکم۔ الایۃ کے وظیفہ سے رسول اللہ صلی اللہ کی زیارت :

علامہ شمس الدین محمد بن ابی بکر ابن قیم الجوزیہ المتوفی ٧٥١ ھ اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں : ابوبکر محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں ابوبکر بن مجاہد کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ شبلی آگئے، ابوبکر بن مجاہد ان کے لیے کھڑے ہوئے اور ان سے معانقہ کیا اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ میں نے کہا اے سیدی ! آپ شبلی کی اس قدر تعظیم کر رہے ہیں حالانکہ آپ کا اور تمام اہل بغداد کا خیال ہے کہ یہ دیوانہ ہے ! انہوں نے کہا : میں نے اس کے ساتھ اسی طرح کیا ہے۔ جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے ساتھ کرتے ہوئے دیکھا ہے، کیونکہ میں نے خواب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کی، پھر دیکھا کہ شبلی آ رہا تھا۔ آپ اس کے لیے کھڑے ہوئے اور اس کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ شبلی کی اس قدر تعظیم کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ یہ نماز کے بعد یہ پڑھتا ہے۔ لقد جاء کم رسول من انفسکم۔ الایۃ (التوبہ : ١٢٩۔ ١٢٨) اور اس کے بعد مجھ پر درود پڑھتا ہے اور تین مرتبہ اس طرح پڑھتا ہے اور ایک روایت میں ہے یہ فرض کے بعد یہ دو آیتیں پڑھتا ہے، اس کے بعد مجھ پر درود پڑھتا ہے اور تین مرتبہ اس طرح پڑ تھا ہے۔ صلی اللہ علیک یا محمد، انہوں نے کہا پھر جب شبلی آئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نماز کے بعد کیا ذکر کرتے ہیں تو انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔ (جلاء الافہام ص ٢٥٨، مکتبہ نوریہ رضویہ، لائل پور، پاکستان) حافظ شمس الدین محمد بن عبدالرحمن المخاوی متوفی ٩٠٢ ھ نے القول البدیع میں ٢٥٢، ٢٥١ میں اور علامہ احمد بن محمد حجر ہیتمی متوفی ٩٧٣ ھ نے الدرالمنشور ص ١٥٢۔ ١٥١ میں اور شیخ محمد ذکریا نے فضائل درود ص ١١٦ میں اس روایت کا ذکر کیا ہے اور شیخ ذکریا نے علامہ سخاوی کے حوالے سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شبلی کا اسی (٨٠) سال سے یہ معمول ہے۔ 

حسبی اللہ لا الہ الا ھو پڑھنے کی فضیلت حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے ہر صبح اور ہر شام کو سات مرتبہ یہ پڑھا، حسبی اللہ لا الہ علیہ توکلت و ھو رب العرش العظیم، اس کے دنیا اور آخرت کے اہم کاموں میں اللہ کافی ہوگا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٠٨١، عمل الیوم و اللیلۃ لا بن السنی رقم الحدیث : ٧١، الاذکار للنودی رقم الحدیث : ٢١٩) سنن ابو دائود میں یہ حدیث موقوف ہے اور باقی کتابوں میں مرفوع ہے۔ 

کلمات تشکر الحمد للہ علی احسانہ آج بروز جمعہ ١٢ ربیع الثانی ١٤٢٠ ھ/٣٠ جولائی ١٩٩٩ ء کو سورة توبہ کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ الٰہ العالمین ! جس طرح آپ نے کرم فرمایا اور سورة توبہ تک یہ تفسیر کرادی ہے باقی قرآن مجید کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں۔ میں ذیابیطن اور بلند فشاردم کا عرصہ ١٤ سال سے مریض ہوں اور سولہ سال سے لمباگو (کمر کے درد) کا مریض ہوں اور اب تین سال سے سیدھے ہاتھ کے جوڑ میں بازو کے درد میں مبتلا ہوں اور شوگر کی وجہ سے دیگر امراض لا حق ہیں اس کے باوجود چار مہینوں میں سورة توبہ کی یہ تفسیر مکمل ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ ان حالات میں یہ انسانی طاقت کی کاوش نہیں ہے، یہ محض اللہ کا کرم ہے اور اس کا فضل ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ گندی اور بدبو دار کھاد سے مہکتے ہوئے خوشبودار اور پاکیزہ پھول پیدا کردیتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس گنہ گار اور سیاہ کار بندے کے ہاتھوں یہ پاکیزہ اور نورانی تفسیر لکھوا دی۔ سورة توبہ کی تفسیر ختم کرتے ہوئے میں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے حسن خاتمہ اور نیک عاقبت کی دعا کرتا ہوں۔ الٰہ العالمین ! مجھے تمام امراض سے شفا عطا فرما اور اس تفسیر کو مکمل کر ادے۔ اس کو اپنی اور اپنے حبیب اکرم کی بارگاہ میں قبول فرما اور قیامت تک تمام مسلمانوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا فرما اور اس میں مذکور عقائد اور اعمال کو قبول کرنے اور ان پر عمل کرنے توفیق پیدا فرما، موافقین کے لیے اس تفسیر کو موجب استقامت اور مخالفین کے لیے موجب ہدایت بنا دے۔ شرح صحیح مسلم اور اس تفسیر کو مخالفین کے بغض اور عناد سے محفوظ رکھ۔ اس تفسیر کے مصنف، اس کے والدین اور اقرباء اس کے کمپوزر اس کے مصح اور اس کے ناشر اور قارئین کی مغفرت فرما، ان کو دنیا اور آخرت کی ہر آزمائش اور مصیبت اور عذاب سے محفوظ رکھ اور دنیا اور آخرت کی نعمتیں، راحتیں اور سعادتین ان کے لیے مقدر فرما دے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ حبیبک سیدنا محمد افضل الانبیاء والمرسلین خاتم النبین صلوات اللہ علیہ و علی الہ و اصحابہ وازواجہ و امتہ اجمعین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 129