أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک عظیم رسول آگئے ہیں تمہارا مشقت میں پڑنا ان پر بہت شاق ہے۔ تمہاری فلاح پر وہ بہت حریص ہیں مومنوں پر بہت شفیق اور نہایت مہربان ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک عظیم رسول آگئے ہیں تمہارا مشقت میں پڑنا ان پر بہت شاق ہے تمہاری فلاح پر وہ بہت حریص ہیں مومنوں پر بہت شفیق اور نہایت مہربان ہیں۔ (التوبہ : ١٢٨) 

سابقہ آیات سے ارتباط اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو سخت اور مشکل احکام کی تبلیغ کریں جن کا برداشت کرنا بہت دشوار تھا ماسوا ان مسلمانوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی توفیق اور کرامت سے نوازا تھا اور اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایسی آیت نازل فرمائی جس سے ان مشکل احکام کا برداشت کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ رسول تمہاری جنس سے ہیں اور اس رسول کو دنیا میں جو عزت اور شرف حاصل ہوگا وہ تمہارے لیے باعث فضیلت ہے، نیز اس رسول کی یہ صفت ہے کہ جو چیز تمہارے لیے باعث ضرر ہو وہ ان پر سخت دشوار ہوتی ہے اور ان کی یہ خواہش ہے کہ دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیاں تمہیں مل جائیں اور وہ تمہارے لیے ایک مشفق طبیب اور رحم دل باپ کے مرتبہ میں ہیں کیونکہ حاذق طبیب اور شفیق باپ کبھی اولاد کی بہتری کے لیے ان پر سختی کرتا ہے سو اسی طرح یہ مشکل اور سخت احکام بھی تمہاری دنیا اور آخرت کی سعادتوں کے لیے ہیں۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پانچ صفات اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں : (١) من انفسکم (٢) عزیز علیہ ما عنتم (٣) حریص علیکم (٤) رء وف (٥) رحیم۔ من انفسکم کی دو قراتیں ہیں : من انفسکم ” ف “ پر پیش کے ساتھ، اس کا معنی ہے تمہارے نفسوں میں سے یعنی تمہاری جنس اور تمہاری نوع میں سے اور من انفسکم ” ف “ پر زبر کے ساتھ، اس کا معنی ہے وہ تم میں سب سے زیادہ نفیس ہیں۔ 

من انفسکم کا معنی

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری مثل بشر ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اکان للناس عجبا ان او حینا الی رجل منھم۔ (یونس : ٢) کیا لوگوں کو اس پر تعجب ہے کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد پر وحی نازل کی۔ قل انما انا بشر میلکم یوحی الی انما الھکم الیہ واحد۔ (الکہف : ١١٠) آپ کہیے کہ میں محض تمہاری مثل بشر ہوں مجھ پر یہ وحی کی جاتی ہے کہ میرا اور تمہارا معبود واحد ہے۔ اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرشتوں کی جنس سے ہوتے تو لوگوں پر آپ کی اتباع کرنا بہت دشوار ہوجاتا جیسا کہ سورة الانعام میں اس کی تقریر گزر چکی ہے : ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا وللبسنا علیھم ما یلبسون۔ (الانعام : ٩) اور اگر ہم اس رسول کو فرشتہ بناتے تو اس کو مرد ہی (کی صورت میں) بناتے اور ان پر وہی شبہ ڈال دیتے جس شبہ میں وہ اب مبتلا ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٥ ص ١٧٨، البحر المحیط ج ٥ ص ٥٣٢، عنایت القاضی ج ٤ ص ٦٦٥، اللباب فی علوم الکتاب ج ١٠ ص ٢٤٧)

من انفسکم (تمہاری جنس سے رسول آیا) کا دوسرا محمل یہ ہے کہ تمہارے پاس ایسا رسول آیا جو تمہاری قوم سے تھا تمہاری زبان بولتا تھا اور تم اس کے حسب اور نسب کو پہچانتے تھے : حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) نے نجاشی کے دربار میں کہا : اے بادشاہ ! ہم جاہل لوگ تھے، بتوں کی عبادت کرتے تھے اور مردار کھاتے تھے، بےحیائی کے کام کرتے تھے، رشتے منقطع کرتے تھے، پڑوسیوں سے بدسلوکی کرتے تھے، ہمارا قوی، ضعیف کا مال کھا جاتا تھا، ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہماری طرف ایک رسول بھیج دیا جس کے نسب، اس کے صدق، اس کی امانت اور اس کی پاک دامنی کو ہم پہچانتے تھے، اس نے ہم کو دعوت دی کہ ہم اللہ وحدہ کو مانیں اور اسی کی عبادت کریں اور ہم اور ہمارے باپ دادا جن پتھروں اور بتوں کی عبادت کرتے تھے ان کو ترک کردیں اور ہم کو سچ بولنے، امانت داری اور پاکیزگی اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کرنے، پڑوسیوں سے حسن معاملہ کرنے، حرام کاموں اور خوں ریزی کرنے کو ترک کرنے کا حکم دیا اور ہم کو بےحیائی کے کاموں، جھوٹ بولنے، یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورت پر بدچلنی کی تہمت لگانے سے منع کیا اور ہم کو حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور ہم کو نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا پھر ہم نے ان کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لے آئے، الحدیث۔ (مسند احمد ج ١ ص ٢٠٢، شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، مسند احمد ج ٢ رقم الحدیث : ١٧٤٠، مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ، الروض الانف ج ٢ ص ١١١، المعجم الکبیر ج ٢٥ ص ٢٩، مجمع الزوائد ج ٦ ص ٢٤) 

من انفسکم کا معنی (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نفیس ترین ہونا) امام رازی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت فاطمہ اور حضرت عائشہ (رض) کی قرأت من انفسکم ہے، یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے پاس آئے در آنحالیکہ وہ تم میں سب سے اشرف اور افضل ہیں۔ (المستدرک ج ٢ ص ٢٤٠) (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٧٨، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انسانوں میں نفیس ترین، افضل اور اشرف ہیں اور اس مطلوب پر حسب ذیل احادیث دلالت کرتی ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ہر قرن میں بنو آدم کے بہترین لوگوں میں سے مبعوث کیا گیا ہوں حتیٰ کہ جس قرن میں، میں ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٥٥٧، مسند احمد ج ٢ ص ٣٧٣، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٥٥٣٩)

حضرت واثلہ بن الاسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے ابراہیم کی اولاد میں سے اسمعیل کو فضیلت دی اور اسمعیل کی اولاد سے بنو کنانہ کو فضیلت دی اور بنو کنانہ میں سے قریش کو فضیلت دی اور قریش سے بنوہاشم کو فضیلت دی اور بنو ہاشم کو فضیلت دی اور بنو ہاشم میں سے مجھے فضیلت دی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٧٦، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٠٥، مسند احمد ج ٤ ص ١٠٧)

حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے سب سے بہتر مخلوق میں رکھا پھر جب ان کو گروہوں میں تقسیم کیا تو مجھے سب سے بہتر گروہ میں رکھا پھر جب قبائل پیدا کیے تو مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا اور جب جانیں پیدا کیں تو مجھے سب سے بہتر جان میں رکھا پھر جب گھر پیدا کیے تو مجھے سب سے بہتر گھر میں رکھا پس میرا گھر بھی سب سے بہتر ہے اور میری جان بھی سب سے بہتر ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٠٧، مسند احمد ج ١ ص ٢١٠، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ١ ص ١٦٧، دلائل النبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث : ١٦)

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نکاح سے پیدا ہوا ہوں آدم سے لے کر حتیٰ کہ میں اپنی ماں سے پیدا ہوا، زنا سے پیدا نہیں ہوا۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٤٧٢٥، دلائل النبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث : ١٤، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٧ ص ١٩٠، مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢١٧، جامع البیان جز ١١ ص ١٠١، تفسیر امام ابی حاتم رقم الحدیث : ١٠١٥٨)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے ماں باپ کبھی زنا سے نہیں ملے، اللہ عزوجل مجھے ہمیشہ پاکیزہ پشتوں سے پاکیزہ رحموں کی طرف منتقل فرماتا رہا درآں حالیکہ وہ صاف اور مہذب تے اور جب بھی دو شاخیں نکلیں میں ان میں سے سب سے بہتر شاخ میں تھا۔ (دلائل النبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث : ١٥، تہذیب تاریخ دمشق ج ١ ص ٣٤٩، الخصائص الکبریٰ ج ١ ص ٦٤)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ نے ہمارے پاس دوپہر کو آرام فرمایا۔ آپ کو پسینہ آرہا تھا میری والدہ ایک شیشی لے کر آئیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسم پر ہاتھ پھیر کر پسینہ کو ایک شیشی میں جمع کر رہی تھیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو آپ نے فرمایا : اے ام سلیم ! یہ تم کیا کر رہی ہو ؟ انہوں نے کہا یہ آپ کا پسینہ ہے ہم اس کو اپنی خوشبو کے لیے جمع کر رہے ہیں اور یہ ہماری سب سے اچھی خوشبو ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٣١، الخصائص الکبریٰ ج ١ ص ١١٤)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گندمی رنگ کے تھے اور جیسی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خوشبو تھی ایسی خوشبو کسی مشک اور عنبر میں نہیں تھی۔ (الطبقات الکبریٰ ج ١ ص ٣١٧، مسند احمد ج ٣ ص ٢٥٩، البدایہ والنہایہ ج ٦ ص ١٦) حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی راستے پر جاتے، پھر آپ کے بعد کوئی اس راستہ پر جاتا تو وہ اس راستہ میں آپ کی پھیلی ہوئی خوشبو سے یہ پہچان لیتا تھا کہ آپ اس راستے سے گزر کر گئے ہیں۔ (سنن الدارمی رقم الحدیث : ٦٦ الخصائص الکبریٰ ج ١ ص ١١٤) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستہ پر گزرتے تو وہاں مشک کی خوشبو پھیلی ہوئی ہوتی تھی اور لوگ کہتے تھے کہ آج اس راستے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزرے ہیں۔ (مسند ابو یعلٰی رقم الحدیث : ٣١٢٥، مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٨٢، خصائص الکبریٰ ج ١ ص ١١٥)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : یا رسول اللہ ! میں نے اپنی بیٹی کا نکاح کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کسی چیز سے میری مدد کریں، آپ نے فرمایا : اس وقت میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے لیکن تم کل آنا اور ایک کھلے منہ کی شیشی اور ایک لکڑی لے کر آنا، پھر آپ نے اس شیشی میں اپنا پسینہ ڈال دیا حتیٰ کہ وہ شیشی بھر گئی۔ پھر آپ نے فرمایا اپنی بیٹی سے کہنا کہ وہ اس لکڑی کو اس شیشی ڈبو کر اس سے خوشبو لگائے، پھر جب وہ لڑکی خوشبو لگاتی تو تمام مدینہ میں اس کی خوشبو پھیل جاتی اور ان کے مکان کا نام خوشبو والوں کا گھر پڑگیا۔ (الکامل لابن عدی ج ٢ ص ٨٦٣، مسند ابو یعلٰی رقم الحدیث : ٢٦٩٥، مجمع الزوائد، رقم الحدیث : ١٤٠٥٦، طبع جدید) اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبریل (علیہ السلام) نے کہا میں نے زمین کے مشارق اور مغارب پلٹ ڈالے میں نے کسی شخص کو (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل نہیں پایا اور نہ بنو ہاشم سے افضل کوئی گھر دیکھا۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٦٢٨١، مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢١٧، طبع قدیم)

امت پر سخت احکام کا آپ پر دشوار ہونا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمہارا مشقت میں پڑنا ان پر بہت شاق ہے اور تمہاری فلاح پر وہ بہت حریص ہیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی، جب آگ نے اس کے اردگرد کو روشن کردیا تو یہ پروانے اور کیڑے مکوڑے اس آگ میں گرنے لگے اور وہ شخص ان کو اس آگ میں گرنے سے روک رہا تھا۔ اور وہ اس پر غالب آکر اس آگ میں کر رہے تھے، پس میں تم کو کمر سے پکڑ کر آگ سے کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں کر رہے ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٨٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٨٤، مشکوۃ رقم الحدیث :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا یا فرمایا : اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسکواک کرنے کا حکم دیتا۔ ّ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٢، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٩٠)

حضرت زید بن خالد جہنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز کو تہائی رات تک موخر کردیتا۔ (سنن الترمذیرقم الحدیث : ٢٣، سنن ابو دائود، رقم الحدیث : ٤٣، مسند احمد ج ٤ ص ١٢ شرح السنہ رقم الحدیث : ١٩٨)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، لوگوں نے بھی آپ کی اقتداء میں نماز پرھی، پھر دوسری رات کو بھی آپ نے نامز پڑھی تو بہت زیادہ لوگوں نے آپ کی اقتداء کی، پھر تیسری یا چوتھی رات کو بھی لوگ جمع ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف نہیں لائے، پھر صبح کو آپ نے فرمایا : مجھے معلوم ہے تم نے جو کچھ کیا تھا، لیکن میں صرف اس وجہ سے باہر نہیں آیا کہ مجھے یہ خوف تھا کہ تم پر یہ نماز فرض کردی جائے گی، پھر تم اس کو پڑھ نہیں سکو گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٩٠١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٨، ١٧٧، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٢٠٦)

حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ شب معراج (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک دن رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بار بار اللہ کی بارگاہ میں درخواست کی کہ میری امت ان کی طاقت نہیں رکھتی کچھ تخفیف فرمائیے، حتیٰ کہ پانچ نماز فرض ہوگئیں اور فرمایا کہ یہ تعداد میں پانچ نمازیں اور اجر میں پچاس نمازیں ہیں۔ (ملحضاً ) (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٣، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٣١٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٤٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٤٦)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وصال کے روزے نہ رکھو (یعنی بغیر سحر وافطار کے روزے پر روزے نہ رکھو) مسلمانوں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ بھی تو وصال کے روزے رکھے ہیں ! آپ نے فرمایا : میں تم سے کسی کی مثل نہیں ہوں، بیشک مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٩٦٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٣٦١، مسند احمد ج ٣ ص ١٧٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٧٧٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٥٧٤، مسند ابو یعلٰی رقم الحدیث : ٢٨٧٤)

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : لوگوں میں سے جو شخص حج کو جانے کی استطاعت رکھے، اس پر حج کرنا فرض ہے۔ مسلمانوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا ہر سال ؟ آپ نے فرمایا : اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا۔ (سنن الترمذی ٨١٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٨٨٤، مسند ابو یعلٰی رقم الحدیث : ٥١٧، مسند احمد ج ١ ص ١١٣، مسند البزار رقم الحدیث : ٩١٣، المستدرک ج ٢ ص ٢٩٣)

دنیا اور آخرت میں امت کی فلاح پر آپ کا حریص ہونا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر امت کے سخت اور مشکل احکام دشوار تھے۔ اور آپ ان کی آسانی پر بہت حریص تھے، اس سلسلہ میں بہت احادیث ہیں مگر ہم نے جو احادیث ذکر کردی ہیں وہ کافی ہیں، اسی طرح امت کی دنیاوی اور اخروی فلاح پر جو آپ حریص تھے اس سلسلے میں ہم چند احادیث ذکر کر رہے ہیں :

حضرت خباب بن ارت (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت لمبی نماز پڑھی، صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ نے اتنی لمبی نماز پڑھی ہے جتنی آپ عام طور پر نہیں پڑھا کرتے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! یہ اللہ کی طرف رغبت کرتے ہوئے اور اس سے ڈرتے ہوئے نماز پڑھی تھی، میں نے اس نماز میں اللہ سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا، اللہ نے دو چیزیں مجھے عطا کردیں اور ایک چیز کے سوال سے مجھے روک دیا۔ میں نے اللہ سے سوال کیا کہ میری امت کو (عام) قحط سے ہلاک نہ کرے تو اللہ نے مجھے یہ چیز عطا کردی اور میں نے اللہ سے یہ سوال کیا کہ میری (پوری) امت پر کسی ایسے دشمن کو مسلط نہ کرے جو ان کا غیر ہو، تو اللہ نے مجھے یہ چیز بھی عطا کردی اور میں نے اللہ سے یہ سوال کیا کہ میری امت کے لوگ ایک دوسرے سے جنگ نہ کریں تو اللہ نے مجھے اس سوال سے روک (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٧٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ١٦٣٧، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٢٤١، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٢٣٦، مسند احمد ج ٥ ص ١٠٨، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٤۔ ٣٦٢١)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کی ایک (خصوصی) مقبول دعا ہوتی ہے، سو ہر نبی نے دنیا میں وہ دعا کرلی، اور میں نے اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا کر رکھا ہے اور یہ انشاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کو حاصل ہوگی جس نے شرک نہ کیا ہو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٩، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٠٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٠٧، مسند احمد ج ٢ ص ٤٢٦، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١٧٤٨، شعب الایمان رقم الحدیث : ٣١٣، السنن الکبریٰ ج ٨ ص ١٧) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے۔ (یہ حدیث حضرت انس سے بھی مروی ہے) (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٦۔ ٢٤٣٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣١٠، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٣٩، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٤٦٨، مسند احمد ج ٣ ص ٢١٣، المعجم الاوسط رقم الحدیث ٨٥١٣، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٣٢٨٤، المستدرک ج ١ ص ٦٩، الشریعہ للآجری ص ٣٣٨، حلیۃ الاولیاء ج ٣ ص ٢٠٠)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 128