أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور (ہمیشہ) سچوں کے ساتھ رہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہمیشہ سچوں کے ساتھ رہو۔ (التوبہ : ١١٩) 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ اس نے تین مسلمانوں کی توبہ قبول فرمائی اور ان کی توبہ ان کے سچ بولنے کی وجہ سے قبول فرمائی تھی اس لیے اس آیت میں سچوں کے ساتھ رہنے کا ذکر فرمایا نیز ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر عمل نہیں کیا تھا اور آپ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نہیں گئے تھے اس لیے اس آیت میں پہلے یہ حکم دیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ عزوجل اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی نہ کرو۔ سچوں سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب ہیں، ضحاک نے کہا حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور ان کے اصحاب مراد ہیں، حسن بصری نے کہا اگر تم دنیا میں سچوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو دنیا میں بےرغبتی رکھو اور دوسرے ادیان سے بچو۔ 

صدق کے متعلق احادیث حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدق کو لازم رکھو، کیونکہ صدق نیکی کی ہدایت دیتا ہے اور نیکی جنت کی ہدایت دیتی ہے، ایک انسان ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کا قصد کرتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے اور تم جھوٹ سے بچو اور جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ کی طرف لے جاتے ہیں، ایک بندہ ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٩٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٠٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٩٨٩، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٧١، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٥٥٠، مسند احمد ج ٣ ص ٣٤٤، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٠٤٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٣٧٩، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٩٠١١، المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٦٧٣، المستدرک ج ٢ ص ٥٠)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ ایک میل دور چلا جاتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٧٢، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٧٣٩٤، حلیتہ الاولیاء ج ٨ ص ١٩٧، الکامل لا بن عدی ج ١ ص ٢٥)

حضرت سمرہ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے خواب دیکھا کہ میرے پاس دو شخص آئے اور انہوں نے کہا آپ نے جس شخص کو دیکھا تھا کہ اس کا جبڑا چیرا جارہا تھا یہ وہ شخص تھا جو جھوٹ بولتا تھا، پھر وہ جھوٹ اس سے نقل ہو کر دنیا میں پھیل جاتا تھا، اس کے ساتھ قیامت تک یہی کیا جاتا رہے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٩٦، مطبوعہ دار ارقم بیروت)

حضرت نواس بن سمعان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں تم کو جھوٹ پر اس طرح گرتے ہوئے دیکھتا ہوں جس طرح پروانے آگ پر کرتے ہیں۔ ہر جھوٹ لامحالہ لکھا جاتا ہے سوا اس کے کہ کوئی شخص جنگ میں جھوٹ بولے، کیونکہ جنگ ایک دھوکا ہے، یا کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوت بولے، یا کوئی شخص اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولے۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٧٩٨، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : سنجیدگی سے جھوٹ بولنا جائز ہے نہ مذاق ہے۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٧٩٠)

علامہ شامی نے امام غزالی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر کسی مسلمان کی جان یا اس کی امانت کو بچانا جھوٹ بولنے پر موقوف ہو تو جھوٹ بولنا واجب ہے، نیز اگر اس نے تنہائی میں کوئی بےحیائی کا کام ہو تو اس کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے کیونکہ بےحیائی کا اظہار کرنا بھی بےحیائی ہے اور مبالغہ میں جھوٹ جائز ہے جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا رہا ابوجہم وہ تو اپنے کندھے سے لاٹھی اتارتا ہی نہیں اور توریہ کرنے میں جھوٹ سے بچنے کی وسیع گنجائش ہے۔ (رد المحتار ج ٥ ص ٢٧٤، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٠٧ ھ)

ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں آپ پر ایمان لانا چاہتا ہوں مگر میں شراب نوشی، زنا کرنے، چوری کرنے اور جھوٹ بولنے سے محبت رکھتا ہوں اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ ان چیزوں کو حرام کہتے ہیں اور مجھ میں ان تمام چیزوں کے ترک کرنے کی طاقت نہیں ہے، اگر آپ اس قناعت کرلیں کہ میں ان میں سے کسی ایک چیز کو ترک کر دوں تو میں آپ پر ایمان لے آتا ہوں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم جھوٹ بولنا چھوڑ دو ، اس نے اس کو قبول کرلیا اور مسلمان ہوگیا۔ جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گیا تو اس کو شراب پیش کی گئی، اس نے سوچا اگر میں نے شراب پی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے شراب پینے کے متعلق سوال کیا اور میں نے جھوٹ بولا تو عہد شکنی ہوگی اور اگر میں نے سچ بولا تو آپ مجھ پر حد قائم کردیں گے پھر اس نے شراب کو ترک کردیا پھر اس کو زنا کرنے کی پیشکش ہوئی اس کے دل میں پھر یہی خیال آیا، اس نے پھر اس کو بھی ترک کردیا اسی طرح چوری کا معاملہ ہوا پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا آپ نے بہت اچھا کیا کہ مجھے جھوٹ بولنے سے روک دیا اور اس نے مجھ پر تمام گناہوں کے دروازے بند کردیئے اور پھر وہ تمام گناہوں سے تائب ہوگیا۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٦٨، اللباب ج ١٠ ص ٢٣٥) 

صدق کی عقلی فضیلت اللہ تعالیٰ نے شیطان کا یہ قول نقل فرمایا ہے : فبعزنک لا غوینھم اجمعین۔ الا عبادک منھم المخلصین۔ (ص : ٨٣۔ ٨٢) تیری عزت کی قسم میں ضرور ان سب کو بہکا دوں گا ماسوا تیرے ان بندوں کے جو برگزیدہ ہیں۔ اگر شیطان صرف اتنا کہتا کہ میں تیرے سب بندوں کو گمراہ کر دوں گا تو یہ جھوٹ ہوتا، اس نے جھوٹ سے بچنے کے لیے کہا ماسوا تیرے ان بندوں کے جو برگزیدہ ہیں تو غور کرنا چاہیے کہ جھوٹ اتنی بری چیز ہے کہ شیطان بھی اس سے احتراز کرتا ہے تو مسلمانوں کو اس سے کتنا زیادہ بچنا چاہیے۔ صدق کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ ایمان قول صادق ہے اور ایمان سب سے بڑی عبادت ہے اور جھوٹ کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کفر (یعنی خدا کے شریک ہیں) قول کاذب ہے اور کفر اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 119