أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۡۢبِهٖۤ اَوۡ قَاعِدًا اَوۡ قَآئِمًا ۚ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنۡ لَّمۡ يَدۡعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ‌ؕ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ پہلو کے بل یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے ہم سے دعا کرتا ہے۔ پس جب ہم اس سے اس مصیبت کو دور کردیتے ہیں تو وہ اس طرح گذر جاتا ہے گویا جب اس کو وہ مصیبت پہنچی تھی تو اس نے ہم کو پکارا ہی نہ تھا، اسی طرح حد سے تجاوز کرنے والوں کے کرتوت ان کے لیے خوش نما بنا دیئے گئے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ پہلو کے بل یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے ہم سے دعا کرتا ہے، پس جب ہم اس سے اس مصیبت کو دور کردیتے ہیں تو وہ اس طرح گزر جاتا ہے گویا جب اس کو وہ مصیبت پہنچی تھی تو اس نے ہم کو پکارا ہی نہ تھا، اسی طرح حد سے تجاوز کرنے والوں کے کرتوت ان کے لیے خوش نما بنا دیئے گئے ہیں (یونس : ١٢)

کافر کے مسرف ہونے کی وجوہ :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ اگر کفار کے مطالبہ پر دنیا میں جلد عذاب نازل کردیا جاتا تو اب تک وہ سب مرچکے ہوتے اور اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ وہ بہت کمزور اور نہایت عاجز ہیں، ان پر اگر تھوڑی سی مصیبت بھی آئے تو وہ گھبرا کر اس مصیبت کو دور کرنے کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ آیت مومن اور کافر دونوں کے احوال کو عام ہے، کیونکہ اکثر مسلمانوں کا بھی یہ حال ہے کہ وہ مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعائین کرتے ہیں اور جب اللہ اپنے فضل سے اس مصیبت کو دور کردیتا ہے تو وہ اس کو اس طرح بھول جاتے ہیں جیسے کسی مصیبت کے وقت میں انہوں نے اللہ کو پکارا ہی نہ تھا !

نزول مصیبت کے وقت مسلمانوں کی فکر اور عمل کیا ہونا چاہیے :

مسلمانوں پر جب کوئی مصیبت نازل ہو تو ان پر حسب ذیل امور کی رعایت کرنا لازم ہے۔

(١) مسلمانوں کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ان پر جو مصیبت نازل ہوئی وہ ان کی تقدیر میں لکھی ہوئی تھی اور ان سے ٹل نہیں سکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مآاصاب من مصیبۃٍ فی الارض ولا فیٓ انفسکم الا فی کتابٍ من قبل ان نبر اھا ط ان ذلک علی اللہ یسیر ’‘ لکیلا تاسوا علی م ا فاتکم و لا تفرحوا بمآاتکم (الحدید : ٢٣۔ ٢٢) ہر مصیبت جو زمین میں اور تمہاری جانوں میں پہنچتی ہے وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے، اس سے پہلے کہ ہم اس مصیبت کو پیدا کریں، بیشک یہ اللہ پر بہت ہی آسان ہے یہ اس لیے ہے کہ جو چیز تمہارے پاس سے جاتی رہے تم اس پر غم نہ کرو ور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس پر تم اترایا نہ کرو۔ سو، مسلمان کو اللہ کی تقدیر پر راضی اور مطمئن رہنا چاہیے، وہ زبان سے اللہ تعالیٰ کا شکوہ نہ کرے نہ دل میں اللہ عزو جل سے کوئی شکایت کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ مالک علی الاطلاق ہے اور وہ اپنے ملک میں جو چاہیے کرے کسی کو اس پر اعتراض یا شکایت کا کوئی حق نہیں ہے، اور وہ حکیم مطلق ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں اور اس کا کوئی فعل عبث اور باطل نہیں۔ اگر وہ اس کو اس مصیبت، تکلیف یا مرض پر باقی رکھے تو یہ اس کا عدل ہے اور اگر وہ اس سے اس مصیبت یا آفت کو زائل کر دے تو یہ اسکا فضل ہے اور بندے پر لازم ہے کہ وہ اس مصیبت پر صب کرے اور رنج اور قلق کے اظہار کو ترک کر دے۔

(٢) بندہ کو اس مصیبت پر صبر کرنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بہت اجر عطا فرماتا ہے : ولنبلونکم بشئیٍ من الخوف والجوع و نقصٍ من الاموال والانفس والثمرات ط وبشر الصبرین الذین اذآ اصابتھم مصیبۃ ’‘ قالوآ انا للہ وانآ الیہ رجعون اولئک علیھم صلوات ’‘ من ربھم ورحمۃ ’‘ والٓئک ھم المہتدون۔ (البقرہ : ١٥٧۔ ١٥٥) اور ہم تم کو ضرور کچھ ڈر اور بھوک اور مال اور جان کے نقصان اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو بشارت دیجئے کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی جانب سے صلوات (ثنا اور تحسین) اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حسابٍ ۔ (الزمر : ١٠) اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ صبر کرنے والوں کو ان کا پورا اجر بےحساب دیا جائے گا۔

(٣) نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے دل میں یہ سوچے کہ اس پر جو مصیبت آئی ہے وہ اس کے کسی گناہ کا نتیجہ ہے۔ سو اسے اس گناہ پر توبہ کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مآاصبابکم من مصیبۃٍ فیما کسبت ایدیکم ویعفو عن کثیرٍ ۔ (الشوری : ٣٠) اور تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھ کی کمائی کی وجہ سے پہنچتی ہے اور (تمہاری) بہت سی خطائوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے۔ مآ اصابک من حسنۃٍ فمن اللہ ط ومآ اصابک من سیئۃٍ فمن نفسک۔ ( النساء : ٧٩) (اے مخاطب ! ) تجھ کو جو بھلائی پہنچی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے اور تجھ کو جو برائی پہنچی ہے وہ تیرے نفس کی شامت اعمال کی وجہ سے ہے۔

(٤) جب کسی مسلمان بندے پر مصیبت آئے تو اس کو اس مصیبت سے گھبرانا چاہیے۔ بلکہ یہ سوچ کر خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس مرض، آفت یا مصیبت کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا۔ 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمانوں کو کوئی کانٹا چبھے یا اس سے زیادہ تکلیف ہو تو اللہ اس تکلیف کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٦٤٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٧٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٩٦٥، موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٩٧٧، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٣١٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٩٢٥، سنن کبری للنسائی رقم الحدیث : ١٥٩٩٤)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچے خواہ وہ تھکاوٹ ہو، غم ہو یا قرض یا بیماری ہو حتی کہ کوئی فکر ہو جس کی وجہ سے وہ پریشان ہو رہا ہو، تو اللہ اس مصیبت کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٦٤١، صحیح مسلم راقم الحدیث : ٢٥٧٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٩٦٦، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ١٢٥٦)

(٥) جب مسلمان پر کوئی مصیبت آئے تو اس کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ بندہ اس سے دعا کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ادء واربکم تضرعًا و خفیۃً ۔ (الاعراف : ٥٥) اپنے رب سے گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے دعا کرو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ سے اس کے فضل سے سوال کرو کیونکہ اللہ عز و جل اس کو پسند کرتا ہے کہ اس سے سوال کیا جائے، اور افضل عبادت کشادگی کا انتظار کرنا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٥٧١، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠٠٨٨، الکامل لابن عدی ج ٢ ص ٦٦٥)

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : روئے زمین پر جو مسلمان بھی اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی وہ دعا پوری کردیتا ہے، یا اس دعا کی مقدار کے برابر اس سے کوئی مصیبت دور کردیتا ہے بشرطیکہ وہ اللہ سے کسی گناہ کا سوال نہ کرے یا قطع رحم کا سوال نہ کرے، مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا : پھر تو ہم بہت زیادہ دعا کریں گے، آپ نے فرمایا : اللہ بہت زیادہ دعا قبول فرمانے والا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٥٧٣، مسند احمد ج ٥ ص ٣٢٩، العجم الاوسط رقم الحدیث : ١٤٧، کتاب الدعا للطبرانی رقم الحدیث : ٧٦، شرح السنہ رقم الحدیث : ١٣٨٧)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب ہم میں سے کوئی شخص بیمار ہوجاتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر دایاں ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا فرماتے : اے لوگوں کے رب ! اس مصیبت کو دور کر دے، اور شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سواء کوئی شفاء دینے والا نہیں ہے، ایسی شفاء دے جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٩١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦١٩)

(٦)جب کسی مسلمان پر کوئی افتاد پڑے اور وہ اپنی مصیبت کو دور کرنے کی بجائے قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے مضامین کے مطالعہ اور استنباط مسائل میں مصروف رہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دعا کرنے والوں سے زیادہ عطا فرماتا ہے : حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رب عزو جل ارشاد فرماتا ہے : جس شخص کو میری یاد اور مجھ سے سوال کرنے کو قرآن نے مشغول رکھا تو میں اس کو سوال کرنے والوں سے زیادہ عطا فرماتا ہوں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٩٢٦، مسند احمد ج ٣ ص ٣٩٠، مصنف ابن ابی شیبہ، ج ١٤، ص ٣١٠، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٣٣٥٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٣٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠١)

(٧) اللہ سبحانہ جب مسلمان سے مصیبت کو دور کر دے تو اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ شکرادا کرے اور خلوت اور جلوت اور تنگی اور آسانی میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہے، کیونکہ شکر کرتے رہنے سے نعمت میں اضافہ ہوتا اور نا شکری کرنے سے زوال نعمت کا خطرہ ہے۔ امام فخری الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : محققین نے بیان کیا ہے کہ جو شخص حصول نعمت کے وقت نعمت میں مشغول رہتا ہے نہ کہ منعم کی طرف، وہ نزول مصیبت کے وقت مصیبت میں مبتلا رہتا ہے نہ کہ مصیبت نازل کرنے والے کی طرف، اور ایسا شخص مستقل طور پر خوف میں مبتلا رہتا ہے کیونکہ حصول نعمت کے وقت بھی اس کو نعمت کے زوال کا دھڑکا لگا رہتا ہے، اور جو شخص حصول نعمت کے وقت اس نعمت سے لذت حاسل کرنے کی بجائے نعمت دینے والے کی طرف متوجہ رہتا ہے اور اس کو یاد کرتا ہے اور اس کی رضا کا طلبگار رہتا ہے تو وہ مصیبت نازل ہونے کے وقت بھی مصیبت سے گھبراتا نہیں بلکہ مصیبت نازل کرنے والے کی طرف متوجہ رہتا ہے اور اس کو یاد کرتا ہے اور اس کی رضا کا طالب رہتا ہے، سو نعمت کا حصول ہو یا مصیبت کا نزول، اس کا مطلوب واحد ہوتا ہے اور یہ بہت اعلیٰ اور ارفع مرتبہ ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٢٢٠، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

کافر کو مسرف فرمانے کی وجوہ : اس آیت میں کافر کو مسرف فرمایا ہے، کیونکہ کافر اپنی جان اور اپنے مال کو ضائع کردیتا ہے، جان کو اس طرح ضائع کرتا ہے کہ وہ بتوں کی پرستش کرکے خود کو جہنم کا مستحق بنا لیتا ہے اور مال کو اس لیے ضائع کرتا ہے کہ وہ بتوں کی زیب وزینت کرتا ہے اور جانور خرید کر بتوں کی بھینٹ چڑھاتا ہے اور یہ مال کو ضائع کرنا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس شخص کی یہ عادت ہو کہ وہ مصیبت نازل ہونے کے وقت بکثرت دعا اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرے، اور جب مصیبت زائل ہوجائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کا شکرانہ ادا کرنے سے اعراض کرے تو ایسا شخص اپنی جان کو اور اپنے دین کو ضائع کرنے والا ہے۔ مسرف وہ شخص ہے جو اپنے کثیر مال کو کسی خسیس اور گھٹیا مقصد کے حصول میں خرچ کرے، اور یہ معلوم ہے کہ دنیا کی رنگینیاں اور دنیا کی لذتیں اخروی نعمتوں کے مقابلہ میں خسیس اور گھٹیا ہیں، اللہ تعالیٰ نے انسان کو حواس، عقل اور تصرف کی قوتیں اس لیے عطاء کی ہیں کہ وہ ان سے اخروی نعمتوں کے حصول کی کوشش کرے، سو جس شخص نے اپنی ان قوتوں کو ان گھٹیا چیزوں کے حصول کی جدوجہد میں خرچ کیا تو اس نے اپنی ان قوتوں کو ضائع کردیا اور ایسے شخص کے مسرف ہونے میں کیا شک ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 12