أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَـفۡرَحُوۡا ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّمَّا يَجۡمَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہئے (یہ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، سو اس کی وجہ سے مسلمان خوشی منائیں یہ اس (مال) سے کہیں بہتر ہے جس کو وہ (کفار) جمع کرتے ہیں

تفسیر:

جاری۔۔۔۔

روایت حدیث میں امام محمد بن اسحاق کا مقام کیپٹن مسعود صاحب نے اس حدیث کی چوتھی علت یہ بیان کی ہے :

(٤) چوتھی علت اس روایت میں یہ ہے کہ اس کے دو راوی محمد بن اسحاق اور عمرو بن شعیب ایسے راوی ہیں جن پر آئمہ حدیث نے شدید جرح کی ہے۔ محمد بن اسحاق بن یسار۔ امام مالک فرماتے ہیں ” دجال من الدجا جلۃ “ دجالوں میں سے ایک دجال ہے۔ (تہذیب جلد ٩ ص ٤١، میزان جلد ٣ ص ٢١) سلیمان تیمی کہتے ہیں کہ وہ کذاب ہے۔ ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ وہ کذاب ہے۔ یحییٰ قطان کہتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ کذاب (بہت بڑا جھوٹا) ہے۔ (میزان الاعتدال جلد ٣ ص ٢١) وہیب بن خالد اس کو کاذب کہتے ہیں۔ (تہذیب ج ٩ ص ٤٥) جریر بن عبدالحمید کا بیان ہے کہ میرا یہ خیال نہ تھا کہ میں اس زمانہ تک زندہ رہوں گا جب لوگ محمد بن اسحاق سے حدیث کی سماعت کریں گے۔ (تہذیب التہذیب جلد ٢ ص ٣٠٦) اب ذرا ایسے کاذب راوی کے بارے میں آئمہ حدیث کا نظریہ بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔ واذا قالو متروک الحدیث او واھیا او کذاب فھو ساقط لا یکتب حدیثہ (تقریب النواوی ص ٢٣٣) جب محدثین کسی راوی کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ متروک ہے یا واہی ہے یا کذاب ہے تو وہ راوی ساقط الاعتبار ہوتا ہے اس کی روایت لکھی بھی نہیں جاسکتی۔ (تقریب النواوی ص ٢٣٣) اس جرح کے جواب میں گزارش ہے کہ پہلے ہم امام محمد بن اسحاق کا ترجمہ ۃ (تعارف) پیش کریں گے اور روایت حدیث میں ماہرین اور ناقدین کے نزدیک جو ان کا مقام ہے وہ بیان کریں گے اور اس کے بعد کیپٹن مسعود کی نقل کردہ جرح کا جواب ذکر کریں گے۔ امام محمد بن اسحاق بن یسار کے متعلق حافظ جمال الدین یوسف المزی المتوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں : محمد بن اسحاق نے صحابہ میں سے حضرت انس بن مالک (رض) کی زیارت کی اور تابعین میں سے سالم بن عبداللہ بن عمر اور سعید بن المسیب کی زیارت کی، امام بخاری نے اپنی صحیح میں ان سے تعلیقًا روایت کی ہے اور امام ابو دائود، امام نسائی، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے ان سے اصالتًا روایت کی ہے۔ زہری کہتے تھے کہ جب تک مدینہ میں محمد بن اسحاق موجود ہیں ان کے علم کا خزانہ قائم رہے گا۔ امام شافعی فرماتے تھے کہ جو شخص مغازی میں تبحر حاصل کرنے کا ارادہ کرے گا وہ محمد بن اسحاق کا پروردہ ہوگا۔ ابو معاویہ کہتے تھے کہ محمد بن اسحاق کا حافظہ لوگوں میں سب سے زیادہ ہے۔ امام بخاری نے کہا علی بن عبداللہ، محمد بن اسحاق کی احادیث سے استدلال کرتے تھے اور ابن عیینہ نے کہا میں نے کسی شخص کو محمد بن اسحاق پر تہمت لگاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ابو زرعہ دمشقی نے کہا کہ محمد بن اسحاق وہ شخص تھے کہ بڑے بڑے علماء ان سے علم حاصل کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے، ان میں سفیان، شعبہ، ابن عیینہ، حماد بن زید، حماد بن سلمہ، ابن المبارک، ابراہیم بن سعد تھے اور اکابر محدثین ان سے روایت کرتے تھے۔ محمد بن عبداللہ بن نمیر کہتے ہیں کہ محمد بن اسحاق پر قدری ہونے کی تہمت لگائی جاتی تھی حالانکہ وہ قدریہ کے عقائد سے بہت دور تھے۔ یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی سے سوال کیا، کیا آپ کے نزدیک محمد بن اسحاق کی حدیث صحیح ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میرے نزدیک محمد بن اسحاق کی حدیث صحیح ہے۔ میں نے کہا پھر امام مالک نے جو ان پر اعتراض کیا ہے اس کی کیا توجیہ ہے ؟ انہوں نے کہا امام مالک ان کے پاس بیٹھے نہ انہوں نے انکو پہچانا۔ میں نے کہا کہ ہشام بن عروہ نے ان پر اعتراض کیا ہے (کہ محمد بن اسحاق ہشام کی بیوی سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اس کو نہیں دیکھا) علی بن مدینی نے کہا کہ ہشام حجت نہیں ہے اور ہوسکتا ہے کہ محمد بن اسحاق نے بچپن میں ان کی بیوی سے حدیث کا سماع کیا ہو۔ ابوبکر مروزی کہتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک موسیٰ بن عبیدہ اور محمد بن اسحاق میں سے کون پسندیدہ ہے ؟ انہوں نے کہا محمد بن اسحق۔ محمد بن عثمان بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ علی بن مدینی نے کہا کہ محمد بن اسحاق صالح وسط ہیں۔ یعقوب بن شیبہ السدوسی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا کیا آپ کو محمد بن اسحاق کے صدق کے متعلق کوئی تردد ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں، وہ صدق (بہت زیادہ سچے) ہیں۔ عجلی نے کہا وہ ثقہ ہیں۔ شعبہ کہتے تھے کہ محمد بن اسحاق حدیث میں امیر المومنین ہیں۔ محمد بن سعد نے کہا کہ محمد بن اسحاق ثقہ ہیں۔ بعض لوگوں نے ان پر اعتراض کیا ہے، ایک اور مقام پر کہا جس شخص نے سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مغازی کو جمع کیا وہ محمد بن اسحاق ہیں (واضح رہے کہ سیرت اور مغازی کی تمام روایات کی اصل محمد بن اسحاق ہیں) ابو احمد بن عدی نے کہا کہ محمد بن اسحاق کی فضیلت کے لیے یہ کافی ہے کہ انہوں نے سلاطین کو فضول کتابوں کے مطالعہ سے ہٹا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مغازی کی طرف متوجہ کردیا اور بعد کے تمام سیرت نگاروں نے ان ہی سے استفادہ کیا ہے۔ احمد بن خالد نے کہا کہ ١٥١ ہجری میں محمد بن اسحاق کی وفات ہوئی۔ (تہذیب الکمال رقم : ٤٦٤٤، ج ١٦ ص ٨٣۔ ٧٠، ملحضًا، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ، تہذیب التہذیب رقم : ٤٩٦٠، ج ٩ ص ٣٨، ٣٣، ملحضًا مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام محمد بن اسحاق کو کاذب کہنے کا جواب امام محمد بن اسحاق کو جس وجہ سے کذاب اور مدلس کہا گیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے : ابو احمد عبداللہ بن عدی الجرجانی المتوفی ٣٦٥ ھ لکھتے ہیں : سلیمان بن دائود کہتے ہیں کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ وہ کذاب ہے۔ انہوں نے کہا میں نے وہیب سے پوچھا، آپ کو کیسے معلوم ہوا انہوں نے کہا مجھ سے مالک بن انس نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ کذاب ہے۔ میں نے مالک سے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟ انہوں نے کہا مجھ سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ کذاب ہے، میں نے ہشام سے پوچھا تمہیں کیسے معلوم ہوا ؟ انہوں نے کہا وہ میری بیوی فاطمہ بنت المنذر سے ایک حدیث روایت کرتا ہے، حالانکہ وہ نو سال کی عمر میں میرے پاس رخصتی کے بعد آئی تھی، اور اس کو تا حیات کسی مرد نے نہیں دیکھا۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ج ٦ ص ٢١١٧، الضعفا الکبیر ج ٤ ص ٢٥، المنتظم ج ٥ ص ٢٠٩، تہذیب الکمال ج ١٦ ص ٧٥، تہذیب التہذیب ج ٩ ص ٣٤، میزان الاعتدال ج ٦ ص ٥٨۔ ٥٧، کتاب الجرح و التعدیل ج ٧ ص ١٩٣۔ ١٩٢) ان ہی کتابوں میں اس اعتراض کا جواب بھی مذکور ہے، امام ابن عدی لکھتے ہیں : امام احمد نے فرمایا : امام محمد بن اسحاق کے لیے یہ ممکن تھا کہ جس وقت ہشام کی بیوی فاطمہ مسجد میں جا رہی ہو، اس وقت انہوں نے اس حدیث کو سن لیا ہو یا کسی وقت وہ گھر جا رہی ہو تو ان سے سن لیا ہو۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ج ٦ ص ٢١٢٠) علامہ ذہبی نے کہا کہ امام احمد نے فرمایا ممکن ہے کہ محمد بن اسحاق نے ان سے مسجد میں یہ حدیث سنی ہو، یا انہوں نے بچپن میں ان سے یہ حدیث سنی ہو یا انہوں نے پردہ کی اوٹ سے یہ حدیث بیان کی ہو، اور اس میں کیا چیز مانع ہے حالانکہ وہ بوڑھی اور عمر رسیدہ ہوچکی تھیں۔ (میزان الاعتدال ج ٦ ص ٥٨) علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ امام احمد نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ امام محمد بن اسحاق ہشام کی بیوی کے پاس گئے ہوں اور ہشام کو اس کی خبر نہ ہوئی ہو۔ (المنتظم ج ٥ ص ٢٠٩) حافظ مزی لکھتے ہیں کہ عبدالل بن احمد نے کہا میں نے اپنے والد کے سامنے ابن اسحاق کی ایک حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا ہشام نے اس کا انکار نہیں کیا، ہوسکتا ہے کہ محمد بن اسحاق ہشام کی بیوی سے اجازت لے کر گئے ہوں اور انہوں نے اجازت دے دی ہو اور ہشام کو اس کا علم نہ ہوا ہو۔ (تہذیب الکمال ج ١٦ ص ٧٥، ایضًا تہذیب التہذیب ج ٩ ص ٣٥) نیز حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : امام محمد بن اسحاق کو سلیمان التیمی، یحییٰ قطان اور وہیب بن خالد نے کاذب کہا ہے رہے وہیب اور قطان تو انہوں نے اس تکذیب میں ہشام بن عروہ اور مالک کی تقلید کی ہے اور رہے سلیمان التیمی تو مجھے نہیں معلوم انہوں نے کسی وجہ سے محمد بن اسحاق پر اعتراض کیا ہے، اور ظاہر یہ ہے کہ روایت حدیث کے علاوہ اس کا کوئی اور سبب ہے، کیونکہ سلیمان جرح اور تعدیل کے اہل نہیں ہیں، امام ابن حبان نے محمد بن اسحاق کا ثقات میں ذکر کیا ہے ہشام اور مالک نے ان پر جرح کی ہے، رہے ہشام تو ان کا قول لائق جرح نہیں ہے کیونکہ تابعین حضرت عائشہ (رض) کو دیکھے بغیر ان سے حدیث روایت کرتے تھے، اسی طرح محمد بن اسحاق نے فاطمہ کو دیکھے بغیر ان سے حدیث روایت کی اور ان کے درمیان پردہ لٹکا ہوا تھا اور رہے مالک تو انہوں نے ایک مرتبہ یہ کہا اور پھر وہ ان کی طرف پلٹ گئے۔ وہ روایت حدیث کی وجہ سے ان پر اعتراض نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہودیوں کی جو اولاد مسلمان ہوگئی تھی اور ان کو غزوہ ٗ خیبر وغیرہ کے واقعات یاد تھے، محمد بن اسحاق ان کو بھی تلاش کرتے تھے ہرچند کہ ان سے وہ استدلال نہیں کرتے تھے اور امام مالک کے نزدیک ان ہی سے روایت حدیث جائز تھی جو بہت ثقہ ہوں، اور جب امام ابن المبارک سے ان کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے تین مرتبہ کہا وہ بہت سچے ہیں اور امام ابن حبان نے کہا مدینہ میں محمد بن اسحاق کے پائے کا کوئی عالم نہیں تھا اور نہ روایات کو جمع کرنے میں کوئی شخص ان کی ٹکر کا تھا (الی قولہ) امام ذہبی نے ہشام کی تکذیب کا رد کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ہشام کا یہ کہنا بداہتاً غلط ہے کہ فاطمہ نو سال کی عمر میں اس کے نکاح میں آئی کیونکہ فاطمہ، ہشام سے تیرہ سال بڑی تھی، اور امام ابن اسحاق نے فاطمہ سے اس وقت حدیث کی روایت کی ہے جب ان کی عمر پچاس سال سے زیادہ تھی اور فاطمہ سے امام محمد بن اسحاق کے علاوہ دوسروں نے بھی حدیث روایت کی ہے، ان میں سے محمد بن سوقہ ہیں۔ (تہذیب التہذیب ج ٩ ص ٣٨۔ ٣٧)

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ پر جرح کا جواب حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث کے ایک اور راوی پر جرح کرتے ہوئے کیپٹن مسعود لکھتے ہیں : دوسرے راوی عمر و بن شعیب جو محمد بن اسحاق کے استاد ہیں ان کا معاملہ بھی اپنے شاگرد سے مختلف نہیں، ابو دائود کہتے ہیں کہ عمرو بن شعیب، عن ابیہ عن جدہ لیس بحجۃ عمرو بن شعیب کی روایت اپنے باپ سے اور ان کی اپنے دادا سے حجت نہیں ہے اور اس روایت میں ایسا ہی ہے اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ وہ آدھی حجت بھی نہیں ہے۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ عمرو بن شعیب ہمارے نزدیک واہی ہے۔ امام احمد کہتے ہیں کہ عمرو بن شعیب کی روایت حجت نہیں ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٨ ص ٥٠۔ ٤٩) ابوزرعہ کہتے ہیں کہ عمرو نے اپنے باپ سے صرف چند روایتیں سنی ہیں لیکن وہ باپ اور داد سے منسوب کر کے تمام غیر مسموع روایتیں بےتحاشا بیان کرتے ہیں۔ (میزان الاعتدال جلد ٢ ص ٢٨٩) ابن حجر کہتے ہیں کہ انہوں نے عن ابیہ عن جدہ کے طریقہ سے کچھ بھی نہیں سنا وہ کتاب سے نقل کر کے محض تدلیس سے کام لیتے ہیں۔ (طبقات المدلسین ص ١١) یہ دست ہے کہ بعض لوگوں نے عمرو بن شعیب پر جرح کی ہے لیکن ماہرین حدیث نے عمرو بن شعیب کی تعدیل کی ہے۔ حافظ جمال الدین ابن الحجاج یوسف المزی المتوفی ٧٤٢ ھ لکھتے ہیں : عمرو بن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص القرشی، ان سے امام بخاری نے قرائت خلف الامام میں احادیث روایت کی ہیں اور امام ابو دائود، امام ترمذی، امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں ان سے احادیث روایت کی ہیں۔ امام بخاری نے کہا امام احمد بن حنبل، علی بن المدینی، اسحاق بن راہویہ، ابو عبید اور ہمارے عام اصحاب کو میں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے احادیث روایت کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مسلمانوں میں سے کسی شخص نے بھی ان سے روایت حدیث کو ترک نہیں کیا۔ امام بخاری نے فرمایا ان کے بعد اور کون رہ جاتا ہے ؟ اسحاق بن منصور نے یحییٰ بن معین سے روایت کیا کہ ان کی احادیث لکھی جاتی ہیں۔ عبدالرحمن بن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد سے سوال کیا گیا کہ آپ کے نزدیک کون بہتر ہے، عمرو بن شعیب، عن ابیہ، عن جدہ یا ابو بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ ؟ تو انہوں نے کہا میرے نزدیک عمرو زیادہ بہتر ہیں، احمد بن عبداللہ العجلی اور امام نسائی نے کہا وہ ثقہ ہیں، امام اوزاعی نے کہا میں نے عمرو بن شعیب سے افضل اور کامل کوئی شخص نہیں دیکھا، امام دارقطنی نے کہا میں نے ابوبکر النقاش سے یہ سنا ہے کہ عمرو بن شعیب سے افضل اور کامل کوئی شخص نہیں دیکھا، امام دارقطنی نے کہا میں نے ابوبکر النقاش سے یہ سنا ہے کہ عمرو بن شعیب تابعین میں سے نہیں ہیں، اور وہ بیس تابعین سے احادیث روایت کرتے ہیں۔ امام دار قطنی نے کہا جب میں نے تحقیق کی تو ان کی تعداد بیس سے زیادہ ہے۔ (حافظ مزی کہتے ہیں کہ :) امام دار قطنی کا بھی یہ گمان ہے کہ عمرو بن شعیب تابع نہیں ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہے کیونکہ انہوں نے زینت بنت ابی سلمہ اور الربیع بنت معوذ بن عفراء حدیث کا سماع کیا ہے اور وہ صحابیہ ہیں۔ ان کی وفات ١١٨ ھ میں ہوئی تھی۔ (تہذیب الکمال رقم : ٤٩٦٩، ج ١٤ ص ٢٤٩۔ ٢٤٤ ملحضًا وملتنقطًا، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ) حافظ شہاب الدین بن احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٦ ھ لکھتے ہیں : ابن شاہین نے کہا عمرو بن شعیب ثقات میں سے ہیں۔ احمد بن صالح نے کہا عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند ثابت ہے۔ یعقوبہ بن ابی شیبہ نے کہا ہمارے اصحاب میں سے کوئی شخص عمرو بن شعیب کی احادیث پر تنقید نہیں کرتا، ان کے نزدیک عمرو بن شعیب ثقہ ہیں اور ان کی احادیث ثابت ہیں، اور عمرو بن شعیب کی جن احادیث کا لوگوں نے انکار کیا ہے اس کی وجہ ان کی احادیث کی اسانید میں بعد کے ضعیف راوی ہیں اور جن ثقہ راویوں نے ان سے احادیث کو روایت کیا ہے وہ احادیث صحیح ہیں۔ علی بن مدینی نے کہا شعیب کے والد نے انکے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماع کیا ہے اور علی بن مدینی نے کہا ہمارے نزدیک عمرو بن شعیب ثقہ ہیں اور ان کی کتاب صحیح ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٨ ص ٤٥، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ) حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ عمرو بن شعیب کے متعلق اپنی رائے میں لکھتے ہیں کہ وہ صدق ہیں یعنی بہت زیادہ سچے ہیں۔ (تقریب التہذیب ج ١ ص ٧٣٧، دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٣ ھ) حافظ شمس الدین محمد بن احمد الذہبی المتوفی ٧٤٨ ھ نے عمرو بن شعیب کی تعدیل کے متعلق بہت اقوال لکھے ہیں ہم ان میں سے چند نقل کر رہے ہیں۔ ابو حاتم بیان کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے عمرو بن شعیب کے متعلق سوال کیا تو وہ بہت ناراض ہوئے اور کہا میں ان کے خلاف کچھ کہہ سکتا ہوں جن سے آئمہ نے حدیث کو روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے امام بخاری کی تاریخ کبیر (ج ٦ ص ٣٤٢) یہ نقل کیا ہے کہ امام احمد، علی بن مدینی، اسحق، اور حمیدی میں نے ان سب کو عمرو بن شعیب سے احادیث روایت کرتے ہوئے دیکھا، پھر ان کے بعد کے لوگوں کی کیا حیثیت ہے۔ امام ابو زرعہ نے کہا ان کی روایات میں وہ احادیث منکر ہیں جو مثنی بن الصباح اور ابن لہیعہ سے مروی ہیں اور فی نفسہ ثقہ ہیں۔ ابو حاتم بن حبان نے کہا کہ عمرو بن شعیب کے متعلق صحیح یہ ہے کہ ان کو تاریخ ثقات کی طرف راجع کیا جائے، کیونکہ ان کی عدالت ( نیکی اور پرہیز گاری) کا بیان ہوچکا ہے، اور ان کی احادیث میں جو منکر روایات ہیں تو ان میں جو روایات عن ابیہ عن جدہ ہیں ان کا حکم ثقات کا ہے، جب وہ مقاطیع اور مراسیل روایات کریں تو ان کی احادیث میں سے مقطوع اور مرسل کو چھوڑ دیا جائے اور حدیث صحیح سے استدلال کیا جائے، (حافظ ذہبی فرماتے ہیں :) میں کہتا ہوں کہ عمرو بن شعیب کی اپنے باپ اور دادا سے جو روایات ہیں ان میں کوئی روایت مرسل ہے نہ منقطع، رہا یہ کہ وہ بعض احادیث کتاب سے بیان کرتے ہیں اور بعض سن کر تو یہ محل نظر ہے اور ہم یہ نہیں کہتے کہ ان کی احادیث، حدیث صحیح کی اعلیٰ اقسام میں سے ہیں بلکہ ان کی حدیث حسن کے قبیل سے ہے۔ (میزان الاعتدال ج ٥ ص ٣٢٣۔ ٣٢٠ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)

عمرو بن شعیب کی اس روایت سے استدلال کرنے والے علماء عمرو بن شعیب کی اس روایت سے حسب ذیل علماء نے استدلال کیا ہے : حافظ ابن قیم جوزی اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اس بیماری (خواب میں ڈرنے) کے لیے اس تعویذ کے علاج کی مناسبت خفی نہیں ہے۔ (زاد المعاد ج ٤ ص ١٦٨۔ ١٦٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے بھی اس حدیث سے استدلال کیا ہے (تفسیر کبیر ج ١ ص ٧٨، بیروت، ج ١ ص ٧٥، مصر) حافظ ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ نے بھی اس حدیث سے تعویذ لٹکانے پر استدلال کیا ہے۔ (الطب النبوی ص ٢٨١، مطبوعہ بیروت، ١٤٠٦ ھ) حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ، علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ، شیخ شوکانی متوفی ١٢٥٠ ھ اور نواب بھوپالی متوفی ١٣٠٧ ھ نے بھی اس حدیث سے شیطان سے پناہ مانگنے پر استدلال کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٨٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ، فتح القدیر ج ٣ ص ٦٧٧۔ ٦٧٦، مطبوعہ دارالوفا بیروت، ١٤١٨ ھ، فتح البیان ج ٩ ص ١٤٨، مالمکتبہ العصریہ بیروت، ١٤١٥ ھ) ان کے علاوہ اور بھی مفسرین نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جن کو ہم نے اختصار کی وجہ سے ترک کردیا۔ محدثین میں سے ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : جن تعویذات میں اللہ تعالیٰ کے اسماء ہوں ان کو لٹکانے کے لیے یہ حدیث اصل ہے۔ (مرقات : ج ٥ ص ٢٣٦، مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان، ١٣٩٠) شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : حدیث میں مذکور کلمات کو ایک کاغذ پر لکھ کر گردن میں لٹکا لیاجائے اس حدیث سے گردن میں تعویذات لٹکانے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے، مختار یہ ہے کہ سیپیوں اور اس کی مثل چیزوں کا لٹکانا حرام یا مکروہ ہے، لیکن اگر تعویذات میں قرآن مجید یا اللہ تعالیٰ کے اسماء لکھے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (اشعتہ اللمعات ج ٢ ص ٢٩٠، مطبوعہ مطبع تیج کمار لکھنؤ) شیخ عبدالرحمن مبارک پوری متوفی ١٣٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : شیخ عبدالحق دہلوی نے لمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث میں بچوں کے گلوں میں تعویذات لٹکانے کی دلیل ہے، لیکن رسوم جاہلیت کے مطابق حرز اور کوڑیوں کو لٹکانا بالاتفاق حرام ہے۔ (تحفۃ الاحوذی ج ٤ ص ٤٧٥، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ) ان تمام دلائل سے واضح ہوگیا کہ از محمد بن اسحاق از عمرو بن شعیب از والد از جدیہ روایت صحیح یا حسن ہے اور اس سے اہل علم نے استدلال کیا ہے تاہم اس سند سے اس روایت کو پھر بھی کوئی تسلیم نہ کرے تو ہم اس روایت کو ایک اور سند سے پیش کر رہے ہیں، جس میں امام محمد بن اسحاق نہیں ہیں۔ امام ابو عبداللہ محمد بن اسمعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : احمد بن خالد از محمد بن اسمعیل از عمرو بن شعیب از والد از جد خود وہ کہتے ہیں کہ ولید بن ولید ایسے شخص تھے جو خواب میں ڈر جاتے تھے، تو ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم سونے لگو تو یہ پڑھو : بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضیہ و عقابہ و من شر عبادہ و من ھمزات الشیطان و ان یحضرون۔ جب انہوں نے یہ کلمات پڑھے تو ان کا ڈر جاتا رہا، اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) اپنے بالغ بچوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے اور نابالغ بچوں کے گلوں میں یہ تعویذ لکھ کر لٹکا دیتے تھے۔ (خلق افعال العباد ص ٨٩، مطبوعہ مؤسۃ الرسالۃ، بیروت ١٤١١ ھ)

بعض تابعین سے اقوال کی توجیہ نیز کیپٹن مسعود لکھتے ہیں : پانچویں علت یہ ہے کہ کسی صحابی، کسی تابعی نے تمیمہ کو جائز قرار نہیں دیا، یہ جو کہا جاتا ہے کہ بعض صحابہ بھی ان تعویزوں کو جائز سمجھتے تھے جن میں قرآن یا اسماء اللہ تعالیٰ یا اللہ کی صفات لکھی ہوئی ہوتی تھیں صحیح نہیں ہے۔ (الی قولہ) و کیع، سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص نے کسی انسان کی گردن سے تمیمہ کاٹ دیا اس کو ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ (تعویذ گنڈا شرک ہے ص ٧) سعید بن جبیر کے اس قول میں تمیمہ سے مراد رسم جاہلیت کے مطابق کوڑیاں ہیں یا وہ تعویذات جن میں قرآن مجید اور اسماء الہیہ کے علاوہ کچھ لکھا ہو یا غیر عربی میں لکھا ہو، باقی اسی صفحہ پر ابراہیم نخعی کا جو یہ قول نقل کیا ہے کہ ہر قسم کے تمائم مکروہ ہیں خواہ قرآن سے لکھے جائیں یا غیر قرآن سے، یہ بلا حوالہ لکھا ہے، سو یہ ہم پر حجت نہیں ہے خصوصاً جب کہ یہ احادیث صحیحہ اور بکثرت آثار تابعین اور متعدد مفسرین کی عبارات اور فقہاء کی تصریحات کے خلاف ہے۔ 

تعویذ لٹکانے کے جواز کے متعلق فقہاء تابعین کے فتاوی

ابو عصمۃ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب سے تعویذ کے متعلق پوچھا انہوں نے کہا جب اس کو گردن میں لٹکا لیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٣٣) عطا سے اس حائض عورت کے متعلق سوال کیا گیا جس پر تعویذ ہو، انہوں نے کہا اگر وہ چمڑے میں ہو تو وہ اس کو اتار لے اور اگر وہ چاندی کی نلکی (یا ڈبیا) میں ہو تو اگر چاہے تو وہ اس کو رکھ دے اور چاہے تو نہ رکھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٣٤) یونس بن خباب بیان کرتے ہیں کہ بچوں کے گلوں میں جو تعویذ لٹکائے اور غسل کے وقت اور بیت الخلاء کے وقت اس کو اتار دے تو تعویذ لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٣٣) (اگر تعویذ چمڑے میں منڈھا ہوا ہو یا چاندی کی ڈبیا میں ہو تو پھر ان احوال اور اوقات میں اتارنا ضروری نہیں ہے) (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٥ ص ٤٣۔ ٤٢، دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)

دم اور تعویذ کے جواز کے متعلق

علماہ شامی حنفی کی تصریح علامہ سید محمد امین بن ابن عابدین حنفی متوفی ١٢٧٢ ھ لکھتے ہیں : علامہ حصکفی نے کہا کہ مجتبی میں یہ مذکور ہے کہ وہ تمیمہ مکروہ ہے جو غیر عربی میں ہو، میں کہتا ہوں کہ میں نے مجتبی میں یہ لکھا ہوا دیکھا ہے کہ وہ تمیمہ مکروہ ہے جو غیر قرآن ہو، اور ایک قول یہ ہے کہ تمیمہ وہ کوڑیاں ہیں جن کو زمانہ جاہلیت میں گلے میں لٹکاتے تھے اور مغرب میں مذکور ہے کہ تعویذات ہی تمائم ہیں اس طرح نہیں ہے، تمیمہ صرف کوڑیاں ہیں اور تعویذات میں جب قرآن مجید یا اللہ تعالیٰ کے اسماء لکھے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے الی قولہ، شلبی میں ابن اثیر سے منقول ہے کہ تمائم تمیمہ کی جمع ہے اور یہ وہ سیپیاں یا کوڑیاں ہیں جن کو عرب اپنے بچوں کے گلے میں ڈال دیتے تھے اس سے وہ اپنے زعم میں ان کو نظر بد سے بچاتے تھے، اسلام نے اس کو باطل کردیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے : جس نے تمیمہ کو لٹکایا اللہ اس کے مقصود کو پورا نہ کرے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ یہی مکمل دوا اور شفا ہے، بلکہ انہوں نے اس کو اللہ کا شریک بنادیا، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر اس سے ٹل جاتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کے غیر مصائب کے دور کرنے کو طلب کرتے تھے حالانکہ اللہ کے سوا ان کا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ مجتبی میں مذکور ہے کہ قرآن مجید سے شفا حاصل کرنے میں اختلاف ہے بایں طور پر کہ مریض پر یا سانپ سے ڈسے ہوئے پر قرآن مجید یا سورة فاتحہ پڑھی جائے یا کسی کاغذ میں لکھ کر اس کے گلے میں لٹکا دیا جائے یا کسی طشت میں لکھ کر اس کو دھویا جائے اور اس کا غسالہ (دھو ون) مریض کو پلا دیا جائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے اور اس زمانہ میں مسلمانوں کا عمل اس کے جواز پر ہے، اسی کے احادیث اور آثار ہیں اور اگر جنبی یا حائض کے بازو پر تعویذ بندھا ہوا ہو اور وہ کسی چیز میں لپٹا ہوا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (رد المختار ج ٥ ص ٢٣٢، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٧ ھ، و رد المختار ج ٥ ص ٢٥٧۔ ٢٥٦، دارالکتب العربیہ مصر ١٣٢٧ ھ، مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ، رد المختار ج ٩ ص ٤٤٣، داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ، طبع جدید) شیخ محمد زکریا انصاری (دیوبندی) سہارنپوری نے بھی علامہ شامی کی اس عبارت کو نقل کر کے اس اسے استشہاد کیا ہے (اوجز المسالک ج ٦ ص ٣٠٣۔ ٣٠٢ مطبوعہ المکتبہ الیحیویہ، سہارنپور، یوپی۔ انڈیا)

دم اور تعویذ کے جواز کے متعلق مشہور دیو بندی عالم شیخ محمد ذکریا سہارنپوری کی تصریح :

مکتب فکر دیو بند کے مشہور عالم شیخ محمد ذکریا سہارنپوری لکھتے ہیں : حضرت ابن مسعود (رض) سے مرفوعاً روایت ہے کہ جھاڑ پھونک، تمائم اور تولہ شرک ہیں۔ تمائم کا معنی سیپیاں، گھونگے اور کوڑیاں ہیں یا ان کا ہار۔ (دوسرے علماء اور فقہا نے تعویذات کو بھی تمائم کا مصداق قرار دیا ہے، سعید غفرلہ) ان کو شرک اسلیے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین ان چیزوں کا اللہ تعالیٰ کی اعانت کے بغیر حصول نفع اور دفع ضرر کے سبب ہونے کے عقیدہ رکھتے تھے، اس حکم میں وہ دم اور تعویزات داخل نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کے کلام پر مشتمل ہوں۔ اور کسی بلا اور مصیبت کے نازل ہونے سے پہلے بھی ان کا استعمال کرنا جائز ہے، کیونکہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بستر پر لیٹتے تو تین مرتبہ معوذات (الاخلاص، الفلق، الناس) پڑھ کر اپنے اوپر دم فرماتے اور پھر اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرتے اور جسم پر جہاں تک آپ کے ہاتھ پہنچتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٤٨) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن اور حسین (رض) پر یہ کلمات پڑھ کر دم کرتے تھے۔ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان و ھامۃ و من کل عین لامۃ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٧١) (اوجز المسالک ج ٦ ص ٣٠٢، مطبوعہ المکتبہ الیحیویہ، سہارنپور، یوپی۔ انڈیا) امام بغوی اور امام بیہقی نے حضرت عائشہ (رض) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر مصیبت نازل ہونے کے بعد تعویذ لٹکایا جائے تو وہ تمیمہ نہیں ہے اور اگر بلا اور مصیبت نازل ہونے سے پہلے تعویذ لٹکایا جائے تو وہ تمیمہ ہے تاکہ اس تعویذ سے اللہ کی تقدیر کو دفع اور مسترد کیا جائے۔ (شرح السنہ ج ١٢ ص ١٥٨، سنن کبری ج ٩ ص ٣٥٠) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نزول بلا سے پہلے دم فرمایا اور آپ کا یہ دم فرمانا اللہ کی تقدیر کو حاصل کرنے کے لیے تھا نہ کہ اللہ کی تقدیر کو دفع کرنے کے لیے، اس لیے یہ احادیث حضرت عائشہ (رض) کے قول کے خلاف نہیں ہیں۔ 

دم اور تعویذ کے جواز کے متعلق مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خاں بھوپالی کی تصریح

مشہور غیر مقلد عالم شیخ محمد عبدالرحمن مبارک پوری متوفی ١٣٥٣ ھ لکھتے ہیں۔ نواب صدیق حسن خان بھوپالی اپنی کتاب “ الدین الخالص “ میں لکھا ہے کہ جن تعویذات میں قرآن مجید کی آیات یا اللہ تعالیٰ کے اسماء لکھے ہوں ان کو لٹکانے کے جواز میں صحابہ کرام، تابعین اور بعد کے علماء کا اختلاف رہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص اور حضرت عائشہ (رض) کی ظاہر روایت میں اس کا جواز ہے، امام ابو جعفر باق اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود کی اس روایت میں توجیہ کی ہے کہ جھاڑ پھونک، تمائم، (تعویذات) اور تولہ (خاوند کے دل میں بیوی کی محبت کا عمل) شرک ہیں، انہوں نے کہا یہ ان تعویذات پر محمول ہے جس میں شرکیہ کلمات ہوں، اور حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت حذیفہ، حضرت عقبہ بن عامر اور ابن عکیم کے ظاہر اقوام میں عدم جواز ہے۔ (میں کہتا ہوں کہ ان اقوال میں بھی حسب سابق توجیہ کی جائے گی اور ممانعت کو ان تعویزات پر محمول کیا جائے گا جن میں شرکیہ کلمات ہوں، سعیدی غفرلہ) بعض علماء نے ممانعت کو تین وجوہ سے ترجیح دی ہے اول اس لیے کہ ممانعت میں عموم ہے اور ممانعت کا کوئی مخصص نہیں ہے۔ (میں کہتا ہوں کہ جن احادیث میں شرکیہ کلمات کا تمائم میں لکھنا صرف زمانہ جاہلیت میں تھا، کیا شرک کے ذرائع کا سد باب کرنے کے لیے دم کرنے اور دوا دارو کرنے کی بھی ممانعت کی جائے گی کیونکہ حضرت ابن مسعود کی روایت میں دم کرنے کو بھی شرک فرمایا ہے، سعیدی غفرلہ) اور تیسری وجہ یہ ہے کہ جو شخص تعویذ لٹکاتا ہو ہوسکتا ہے، کہ وہ تعویذ کو قضاء حاجت اور استنجاء کرتے وقت نہ اتارے۔ نواب بھوپالی نے اس وجہ کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ وجہ بہت کمزور ہے کیونکہ اس سے کیا چیز مانع ہے کہ وہ شخص قضاء حاجت کے وقت تعویذ اتار لے اور فارغ ہو کر پھر پہن لے۔ پھر نواب بھوپالی نے لکھا ہے کہ اس باب میں راجح یہ ہے کہ تعویذ لٹکانا خلاف اولی ہے کیونکہ جس طرح تقوی کے کئی مراتب ہیں اسی طرح اخلاص کے بھی کئی مراتب ہیں۔ (یوں کہنا چاہیے کہ توکل کے بھی کئی مراتب ہیں، سعیدی غفرلہ) حدیث میں ہے : ستر ہزار مسلمان جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے، یہ وہ ہیں جو نہ خود دم کرتے ہوں گے نہ دم طلب کرتے ہوں گے۔ حالانکہ دم کرنا جائز ہے اور اس سلسلہ میں بہت احادیث اور آثار ہیں (لیکن یہ توکل کا اعلیٰ مرتبہ ہے، اسی طرح تعویذ لٹکانا بھی توکل کا اعلیٰ مرتبہ ہے، سعیدی غفرلہ) واللہ اعلم بالصواب، یہاں پر نواب بھوپالی کی عبارت ختم ہوگئی۔ (تحفۃ الاحوذی ج ٦ ص ٢٣٢۔ ٢٣١ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ) اس بحث کے اخیر میں ہم حافظ ذہبی اور حافظ ابن قیم کے ذکر کیے ہوئے چند تعویذات کا بیان کر رہے ہیں۔ 

تعویذ لٹکانے کے جواز کے متعلق علامہ ذہبی کی تصریح اور خواب میں ڈرنے کا تعویذ

حافظ ابو عبداللہ محمد بن احمد الذہبی المتوفی ٧٤٨ ھ لکھتے ہیں : تمائم (تعویذات) لٹکانے کے متعلق امام احمد نے یہ تصریح کی ہے کہ یہ مکروہ ہے اور کہا جس نے کسی چیز کو لٹکایا وہ اسی کے سپرد کردیا جائے گا۔ حرب نے کہا میں نے امام احمد سے پوچھا جن تعاویذ میں قرآن مجید لکھا ہوا ہو یا اس کا غیر لکھا ہوا ہو آیا وہ مکروہ ہیں ؟ انہوں نے کہا حضرت ابن مسعود اس کو مکروہ کہتے تھے، امام احمد نے حضرت عائشہ (رض) اور دیگر سے روایت کیا ہے کہ وہ اس میں نرمی کرتے تھے اور شدت نہیں کرتے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص خواب میں ڈر جائے تو وہ یہ پڑھے : اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ و شر عبادہ ومن ھمزات الشیطن و ان یحضرون۔ میں اللہ کے غضب سے اس کے عقاب سے اس کے بندوں کے شر اور شیطان کے وسوسوں اور ان کے حاضر ہونے سے اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ تو پھر شیاطین اس کو ضرر نہیں پہنچا سکیں گے اور حضرت عبداللہ بن عمرو اپنے بالغ بچوں کو ان کلمات کی تعلیم دیتے تھے اور نابالغ بچوں کے گلے میں ایک کاغذ پر یہ کلمات لکھ کر لٹکا دیتے تھے، اس حدیث کو امام ابو دائود اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے اور امام النسائی نے اس حدیث کو عمل الیوم واللیلۃ میں روایت کیا ہے، اور اس کے مکروہ یا غیر مکروہ ہونے کا حکم اس وقت ہے جب کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ تعویذ بنفسہ نفع یا ضرر پہنچاتا ہے، یا اس میں ایسے کلمات ہوں جن کا معنی معلوم نہ ہو۔ (الطب النبوی ص ٢٨١، داراحیاء العلوم، بیروت، ١٤٠٦ ھ) 

تعویذ لٹکانے کے متعلق علامہ ابن قیم جوزی کی تصریحات اور بخار کا تعویذ

علامہ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر المعروف بابن القیم جوزی المتوفی ٧٩١ ھ لکھتے ہیں : ابو عبداللہ کو یہ خبر پہنچی کہ مجھے بخار چڑھ گیا تو انہوں نے مجھے بخار کے لیے ایک کاغذ لکھ کر بھیجا جس میں یہ لکھا ہو اتھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم بسم اللہ و بالل، محمد رسول اللہ قلنا یا نار کوئی برداوسلاما علی ابراھیم وارادوابہ کیدا فجعلنا ھم الاخسرین (الانبیاء : ٧٠۔ ٦٩) اللھم رب جبرائیل و میکائل، و اسرافیل، اشف صاحب ھذا الکتاب بحولک و قوتک و جبروتک الہ الحق و امن۔ مروزی نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا کہ یونس بن حبان نے ابو جعفر محمد بن علی سے پوچھا کہ آیا میں تعویذ لٹکائوں ؟ انہوں نے کہا اگر وہ تعویذ اللہ کی کتاب ہو یا اللہ کے نبی کے کلام سے ہو تو اس کو لٹکا لو، اور حسب استطاعت اس سے شفاء طلب کرو، میں نے کہا بخار کا تعویذ اس طرح لکھتا ہوں باسم اللہ وباللہ و محمد رسول اللہ الخ، انہوں نے کہا درست ہے۔ امام احمد نے حضرت عائشہ (رض) اور دیگرے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں نرمی کی ہے۔ حرب نے کہا امام احمد بن حنبل نے اس معاملہ میں سختی نہیں کی، امام احمد نے کہا حضرت ابن مسعود (رض) اس معاملہ میں بہت سختی کرتے تھے، اور ان سے ان تعویذات کے متعلق وال کیا گیا جو مصائب نازل ہونے کے بعد لٹکائے جاتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا مجھے امید ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ خلال نے کہا ہم سے عبداللہ بن (امام) احمد نے بیان کیا ہے کہ میں نے اپنے والد (امام احمد) کو مصائب نازل ہونے کے بعد ان لوگوں کے لیے تعویذ لکھتے ہوئے دیکھا ہے جو ڈر جاتے تھے اور جن کو بخار چڑھ جاتا تھا۔ (زاوالمعاوج ج ٤ ص ٢٩١، دارالفکر بیروت)

وضع حمل میں تنگی اور مشکل کے متعلق تعویذ

شیخ ابن قیم جوزی متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں : خلال بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن (امام) احمد نے بیان کیا ہے کہ میں نے اپنے والد (امام احمد) کو اس عورت کے لیے تعویذ لکھتے ہوئے دیکھا جس کو وضع حمل میں تنگی اور مشکل پیش آرہی ہو، وہ یہ تعویذ سفید پیالے میں یا کسی صاف چیز پر لکھتے تھے، وہ حضرت ابن عباس (رض) کی یہ حدیث لکھتے ہیں : لا الہ الا للہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب العرش العظیم، الحمد لہ رب العلمین (کانھم یوم یرون ما یوعدون لم یلبثو الاساعۃ من نھار بلاغ) (الاحقاف : ٣٥) (کانھم یوم یرونھا لم یلبثو الاعژیۃ او ضحاھا) (النازعات : ٤٦) خلال نے کہا ہم سے ابوبکر المروزی نے بیان کیا کہ ابو عبداللہ (امام احمد) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا اے ابو عبداللہ ! کیا آپ اس عورت کے لیے تعویذ لکھ دیں گے جس کو دو روز سے وضع حمل میں مشکل پیش آرہی ہے۔ فرمایا : اس سے کہو کہ وہ ایک بڑا پیالہ اور زعفران لے کر آئے اور میں نے دیکھا کہ وہ متعدد لوگوں کے لیے تعویذ لکھتے تھے۔ عکرمہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ صلی اللہ علی نبینا وعلیہ وسلم کا ایک گائے کے پاس گزر ہوا، اس کے پیٹ میں اس کا بچہ پھنسا ہوا تھا (وضع حمل میں مشکل ہو رہی تھی) اس گائے نے حضرت عیسیٰ سے کہا : اے کلمۃ اللہ ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے جس میں، میں مبتلا ہو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی : یا خالق النفس من النفس، یا مخلص النفس من النفس و یا مخرج النفس من النفس خلصھا، تو اس گائے نے بچہ جن دیا، اور وہ کھڑی ہوئی اس بچے کو سونگھ رہی تھی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا پس جب کسی عورت کو وضع حمل میں دشواری ہو تو اس کو یہ کلمات لکھ دو ۔ خلال نے کہا اسی طرح اس سے پہلے چند کلمات کا ذکر کیا گیا ہے ان کا لکھنا بھی فائدہ مند ہے۔ متقدمین کی ایک جماعت نے قرآن مجید کی آیات کو لکھنے اور ان کے غسالہ (دھو ون) کو پینے کی بھی اجازت دی ہے، اور اس کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شفا میں سے شمار کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اور لکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ صاف برتن میں لکھا جائے۔ اذا السماء انشقت واذنت لربھا وحقت واذا الارض مدت والقت ما فیھا و تخلت۔ (الانشقاق : ٤۔ ١) حاملہ عورت کو اس برتن سے پانی پلایا جائے اور پانی کو اس کے پیٹ پر چھڑکا جائے۔ (زاد المعادج ٤ ص ٢٩٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) اسی طرح حافظ ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ لکھتے ہیں : جب بعض کلام میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے اذن سے نفع دیتے ہیں تو تمہارا اللہ کے کلام کے متعلق کیا گمان ہے ! اور امام احمد نے یہ تصریح کی ہے کہ جب قرآن مجید کو کسی چیز پر لکھا جائے تو پھر اس کو دھو کر اس کا غسالہ پی لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ایک شخص کسی برتن میں قرآن مجید لکھے پھر اس کو دھو کر اس کا دھو ون مریض کو پلا دے، اسی طرح کسی چیز پر قرآن مجید لکھ کر اس کو پی لے تو ان میں سے کسی چیز میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح پانی پر قرآن مجید پڑھ کر اسے مریض پر چھڑکا جائے، اور اسی طرح جب عورت کو وضع حمل میں دشواری ہو تو قرآن مجید لکھ کر اس کا دھو ون اس حاملہ عورت کو پلا دیا جائے۔ حضرت ابن عباس سے یہ روایت ہے کہ جب کسی عورت کو وضع حمل میں دشواری ہو تو ایک صاف برتن لے کر اس میں یہ لکھا جائے۔ کا نھم یوم یرون ما یوعدون (الاحقاف : ٣٥) کا نھم یوم یرونھا لم یلبثو الاعشیۃ او ضحھا (النازعات : ٤٦) لقد کان فی قصصھم عبرۃ لا ولی الالباب (یوسف : ١١١) پھر اس کو دھو کر اس کا غسالہ عورت کو پلایا جائے اور اس کا پانی عورت کے پیٹ پر چھڑکا جائے۔ (الطب النبوی ص ٢٧٩، مطبوعہ داراحیاء العلوم بیروت، ١٤٠٦ ھ) 

نکسیر کے متعلق تعویذ

شیخ ابن قیم جوزی متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں : شیخ الاسلام ابن تیمیہ (متوفی ٧٦٨ ھ) اپنی پیشانی پر لکھتے تھے، و قیل یا ارض ایلعی ماءک ویاسماء اقلعی و غیض الماء و قضی الامر۔ (ھود : ٥٥) اور میں نے ابن تیمیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے میں نے متعدد لوگوں کو یہ آیت لکھ کردی اور وہ تندرست ہوگئے اور انہوں نے کہا اس آیت کو نکسیر کی خون سے لکھنا جائز نہیں ہے، جیسا کہ جہلاء کرتے ہیں کیونکہ خون نجس ہے پس اس سے اللہ کے کلام کو لکھنا جائز نہیں ہے۔ ان کا ایک اور تعویذ یہ ہے : یمحواللہ ما یشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب۔ (الرعد : ٣٩) (زاد المعاد ج ٤ ص ٢٩٢، مطبوعہ دارالفکر، ١٤١٩ ھ)

دل یا سینہ میں درد (انجائنا) کے لیے تعویذ

اس طرح لکھا جائے : فاصابھا اعصار فیہ نار فاحترقت (البقرہ : ٢٦٦) یحول اللہ و قوتہ دوسر تعویذ اس وقت لکھا جائے جب سورج زرد ہوجائے، اس میں یہ لکھا جائے : یا یھا الذین امنو اتقو اللہ و امنو ابرسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ و یجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفرلکم واللہ غفور رحیم (الحدید : ٢٨ )

میعادی بخار (ٹائیفائڈ) مثلا تین دن کے بخار کے لیے تعویذ

تین باریک کاغذوں پر لکھا جائے : بسم اللہ فرت، بسم اللہ مرت، بسم اللہ قلت، اور ہر روز ایک کاغذ منہ میں رکھ کر نگل لے۔ 

عرق النساء کے لیے تعویذ

بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللھم رب کل شئی و ملیک کل شئی و خالق کل شئی انت خلقتنی و انت خلقت النساء فلا تسلطہ علی باذی ولا تسلطنی علیہ بقطع واشفنی شفاء لا یغادر سقما ولا شافی الا انت۔

گٹھیا کے لیے تعویذ

امام ترمذی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بخار اور ہر قسم کے درد کے لیے یہ پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے : بسم اللہ الکبیر اعوذ باللہ العظیم من کل شر کل عرق نعار و من شر حر النار۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٢٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٢٦ )

ڈاڑھ کے درد کے لیے تعویذ

جس جگہ درد ہے اس کے بالمقابل رخسار پر لکھے : بسم اللہ الرحمن الرحیم، قل ھو الذی انشا کم و جعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون۔ (الملک : ٢٣) اور اگر چاہے تو یہ لکھے : ولہ ما سکن فی اللیل والنھار و ھو السمیع العلیم (الانعام : ١٣)

پھوڑے، پھنسیوں اور آبلوں اور ہر قسم کی انفیکشن کے لیے تعویذ

اس کے لیے یہ لکھا جائے گا : و یسئلونک عن الجبال فقل ینسفھا ربی نسفا فیذرھا قاعاصفصفا لا تری فیھا عوجا ولا ماتا (الانعام : ١٣) (زاد المعاد ج ٤ ص ٢٩٤۔ ٢٩٢ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) تعویذات اور دم کے جواز کے متعلق ہم نے یہاں پر مفسرین کی تصریحات اور مذاہب اربعہ کے فقہاء کی عبارات کو طوالت کے خوف سے ذکر نہیں کیا، ان کو ہم انشاء اللہ بنو اسرائیل : ٨٢ کی تفسیر میں ذکر کریں گے 

اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کا مصداق اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ کہئے کہ یہ اللہ کی رحمت اور اس کے فضل کے سبب سے ہے سو اسی کی وجہ سے مسلمان خوشی منائیں۔ ہلال بن یساف، حسن بصری اور مجاہد وغیرہ نے کہا : اللہ کے فضل سے مراد اسلام ہے اور اس کی رحمت سے مراد قرآن ہے۔ (جامع البیان جز ١١ ص ١٦٣۔ ١٦٢) اس آیت میں فبذلک سے دوبارہ اشارہ کیا ہے کہ خوشی منانے کا محرک اور باعث صرف اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ہونا چاہیے یعنی انسان صرف اللہ کی رحمت اور اسکے فضل کی وجہ سے مسرور ہو نہ کہ اور کسی مادی سبب کی وجہ سے، کیونکہ مادی لذتین فانی ہیں ان کے زوال کا خطرہ انسان کو لاحق رہتا ہے اور روحانی لذتین جب انسان کو حاصل ہوں تو وہ ان پر اس حیثیت سے خوش نہ ہو کہ یہ روحانی لذتیں ہیں بلکہ اس حیثیت سے خوش ہو کہ یہ اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں اور اس حیثیت سے اس کا خوش ہونا بہت بڑ کمال اور بہت بڑی سعادت ہے۔ اس کے بعد فرمایا : اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے اس لیے خوش ہونا کہ وہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے اس دنیاوی مال و دولت سے بہت بہتر ہے جس کو کفار جمع کرتے ہیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی، آپ کی آمد اور آپ کی بعثت پر فرحت اور مسرت کا اظہار اس آیت میں اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی مراد لیا گیا ہے۔ حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : خطیب اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ قل بفضل اللہ من فضل اللہ سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (الدر المنثور ج ٤ ص ٣٦٨، دارالفکر بیروت، روح المعانی ج ٧ ص ٢٠٥، دارالفکر، ١٤١٧ ھ) اور ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ وبرحمتہ میں رحمت سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : و ما ارسلنک الا رحمۃ العلمین۔ (الانبیاء : ١٠٧) (الدرالمنثور ج ٤ ص ٣٦٧، روح المعانی ج ٧ ص ٢٠٥) علامہ ابن جوزی متوفی ٥٩٧ ھ نے لکھا ہے کہ ضحاک نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رحمت سے مر اد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (زارد المسیر ج ٤ ص ٤٠، المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ) اس تفسیر کے مطابق اس آیت کا معنی یہ ہوا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی اور آپ کی ولادت اور بعثت پر مسلمانوں کو خوشی منانا چاہیے اور اس کی اصل اس آیت میں ہے : والذین اتینھم الکتب یفرحون بم آ انزل الیک ممن الاحزاب من ینکر بعضہ۔ (الرعد : ٣٦) اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور ان گروہوں میں بعض وہ ہیں جو اس کے بعض کا انکار کرتے ہیں۔ 

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : وہ اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جو اللہ کی کتاب اور اسکے رسول سے خوش ہوئے اور انہوں نے اس کی تصدیق کی اور یہود اور نصاری اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ قتادہ کا قول ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٥٥١٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤٢١ ھ) ابن زید نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : یہ وہ اہل کتاب ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے اور اس پر خوش ہوتے تھے، اور الاحزاب سے مراد یہود، نصاری اور مجوس کے گروہ ہیں، ان میں سے بعض آپ پر ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٥٥٢١) اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی اور آپ کی ولادت اور آپ کی بعثت پر فرحت اور مسرت کا اظہار کرنا مطلوب اور محمود ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : الذین بد لو نعمۃ اللہ کفرًا۔ (ابراہیم : ٢٨) جن لوگوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے تبدیل کردیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ کی قسم یہ لوگ کفار قریش ہیں اور عمرو نے کہا وہ قریش ہیں اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعمت ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٩٧٧، مطبوعہ دارارقم بیروت) اس صحیح حدیث کے مطابق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اللہ کی نعمت ہیں اور اللہ کی نعمت پر خوش ہونا اور فرحت اور مشرت کا اظہار کرنا مطلوب ہے۔ یستبشرون بنعمۃٍمن اللہ و فضلٍ ۔ (آل عمران : ١٧١) وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر خوشیاں مناتے ہیں۔ ان آیات، احادیث اور آثار سے واضح ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے فضل اور رحمت ہیں اور اللہ کے فضل اور رحمت پر خوشی منانے کا حکم ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب اور مومنین اہل کتاب آپ کی وجہ سے فرحت اور مسرت کا اظہار کرتے تھے، اور آپ اللہ کی نعمت ہیں اور مومنین کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر خوشی مناتے ہیں، سو جس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت ہوئی، اس دن آپ کی ولادت پر خوشی کرنا اور عید میلاد منانا اور جشن آمد رسول کا اظہار کرنا یہ ان آیات، احادیث کے مطابق ہے، اس کی مزید تفصیل اور تحقیق ہم نے شرح صحیح مسلم جلد ٣ ص ١٩٠۔ ١٦٩ میں کردی ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 58