أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ‌ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِىۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لیے عمدہ جگہ دی اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا سو انہوں نے اختلاف نہ کیا حتیٰ کہ ان کے پاس (بہ ذریعہ تورات) علم آگیا، بیشک آپ کا رب قیامت کے دن اس چیز میں فیصلہ فرمائے گا جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لیے عمدہ جگہ دی اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا سو انہوں نے اختلاف نہ کیا حتیٰ کہ ان کے پاس (بذریعہ تورات) علم آگیا، بیشک آپ کا رب قیامت کے دن اس چیز میں فیصلہ فرما دے گا جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں پس (اے مخاطب ! ) اگر تم اس چیز کے متعلق شک میں ہو جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو تم سے پہلے کتاب کو پڑھتے ہیں، بیشک تمہارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے پس تم شک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہوجانا اور ان لوگوں میں سے ہرگز نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کی آیتوں کی تکذیب کی، ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائو گے (اے رسول مکرم ! ) بیشک جن لوگوں پر آپ کے رب کا حکم صادر ہوچکا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے خواہ ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں حتیٰ کہ وہ دردناک عذاب کو (بھی) دیکھ لیں (یونس : ٩٧۔ ٩٣)

بظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف قرآن میں شک کرنے کی نسبت اور اس سے عام لوگوں کا مراد ہونا :

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل کو مضبوط کرنے اور آپ کو تسلی دینے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں جن سے قرآن مجید کی صداقت اور آپ کی نبوت کی حقانیت کا علم ہوتا ہے : اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ اس رکوع کی پہلی چار آیتوں میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے یا عام انسانوں سے خطاب ہے، اگر اس میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے تو یہ بظاہر آپ سے خطاب ہے اور اس سے مراد آپ کا غیر ہے یعنی عام انسان اور اس کی نظیریہ آیتیں ہیں : یایھا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین۔ (الاحزاب : ١) اے نبی اللہ سے ڈریئے اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجیے۔ لئن اشرکت لیحبطن عملک۔ (الزمر : ٦٥) اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا۔ اس خطاب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد نہیں ہیں بلکہ آپ کا غیرعام انسان مراد ہے، اس پر دلیل یہ ہے کہ اس رکوع کی آیت ١٠٤ میں فرمایا ہے : یایھا الناس ان کنتم فی شک من دینی۔ (یونس : ١٠٤) اے لوگو ! اگر تم میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو۔ اس آیت میں صراحتاً فرما دیا کہ شک کا تعلق لوگوں کے ساتھ ہے آپ کے ساتھ نہیں ہے، لہٰذا یہ آیت پہلی آیتوں کی تفسیر ہے کہ ان آیتوں میں شک کا تعلق لوگوں کے ساتھ ہے۔ پہلی آیتوں میں اشارتاً عام لوگ مراد ہیں اور اس آیت میں صراحت کے ساتھ عام لوگوں کا ذکر فرمایا۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی نبوت میں شک ہوگا تو دوسرے لوگوں کو بطریق اولیٰ آپ کی نبوت میں شک ہوگا اور اس سے شریعت بالکلیہ ساقط ہوجائے گی۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی نبوت میں شک ہو تو اہل کتاب کے خبر دینے سے یہ شک کس طرح زائل ہوگا، کیونکہ اکثر اہل کتاب تو کفار ہیں اور اگر اہل کتاب میں سے کوئی مومن بھی آپ کی نبوت کی خبر دے تب بھی اس کی خبر حجت نہیں ہوگی خصوصاً اس لیے کہ ان کے پاس تورات اور انجیل کے جو نسخے ہیں وہ سب محرف ہیں، پس واضح ہوگیا کہ ان پہلی تین آیتوں میں ہرچند کہ بظاہر آپ سے خطاب ہے لیکن حقیقت میں اس سے مراد آپ کی امت ہے یا عام لوگ مراد ہیں۔ حسن بصری نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن مجید میں شک کیا تھا نہ اہل کتاب سے سوال کیا تھا۔ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے ذکر کیا میں شک کرتا ہوں نہ میں نے سوال کیا۔ (جامع البیان جز ١١ ص ٢١٨، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

شک کی نسبت کا عام لوگوں کی طرف ہونا :

اور بعض مفسرین نے یہ کہا کہ ان آیتوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب نہیں ہے بلکہ عام انسان سے خطاب ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تین قسم کے لوگ تھے : ایک وہ جو آپ کی تصدیق کرتے تھے، دوسرے وہ جو آپ کی تکذیب کرتے تھے اور تیسرے وہ لوگ جن کو آپ کے نبی ہونے کے متعلق شک اور تردد تھا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان تین قسم کے لوگوں سے خطاب فرمایا اور جن اہل کتاب سے سوال کرنے کا حکم دیا ہے اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام، عبداللہ بن صوریا، حضرت تمیم داری اور کعب احبار وغیرہ ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسلمانوں کے نزدیک تو اس وقت کی آسمانی کتابیں محرف ہیں تو پھر ان محرف کتابوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی تصدیق کا ذریعہ کیسے بنایا، اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی تحریف یہ تھی کہ جو آیات سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلالت کرتی تھیں وہ ان آیات کو چھپاتے تھے تو اگر وہ خود ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی تصدیق کردیتے تو یہ مسلمانوں کے لیے بہت قوی دلیل ہوتی۔

شک کی نسبت کے متعلق بعض تراجم :

ہم نے شروع میں بیان کیا تھا کہ بعض مفسرین نے اس آیت میں شک کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کی ہے اور بعض مفسرین نے عام مخاطب کی طرف شک کی نسبت کی ہے، اسی اعتبار سے مترجمین نے اس کے ترجمے بھی دو طرح کے کیے ہیں، پہلے ہم ان مترجمین کا ذکر کر رہے ہیں جنہوں نے شک کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کی ہے : شیخ سعدی شیرازی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : پس بہ پرس آنان کہ مے خوانند کتاب از پیش تو بدرستی کہ آمد بتوبیان راست از پروردگار تو پس مباش ہرگز از شک آرندگان۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی متوفی ١١٧٦ ھ لکھتے ہیں : پس بہ پرس آنا نرا کہ مے خوانند کتاب از پیش تو ہر آئینہ آمدہ است پیش تو وحی درست از پروردگار تو پس مشو از شک آرندگان۔ شاہ رفیع الدین دہلوی متوفی ١٢٣٣ ھ لکھتے ہیں : پس سوال کر ان لوگوں سے کہ پڑھتے ہیں کتاب پہلے تجھ سے، تحقیق آیا ہے تیرے پاس حق، پروردگار تیرے سے، پس مت ہو شک لانے والوں سے۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی متوفی ١٢٣٠ ھ لکھتے ہیں : تو پوچھ ان سے جو پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے آگے بیشک آیا ہے تجھ کو حق تیرے رب سے سو تو مت ہو شبہ لانے والا۔ سید محمد محدث کچھوچھوی لکھتے ہیں : تو اگر تم شک میں ہوتے جسے اتارا ہم نے تمہاری طرف تو پوچھ لیتے ان سے جو پڑھتے ہیں کتاب تم سے پہلے۔ اور جن مترجمین نے شک کی نسبت عام لوگوں کی طرف کی ہے ان کے یہ تراجم ہیں : اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : اور اے سننے والے اگر تجھے کچھ شبہ ہو اس میں جو ہم نے تیری طرف اتارا تو ان سے پوچھ دیکھ جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھنے والے ہیں۔ اور ہمارے شیخ علامہ سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ متوفی ١٤٠٦ ھ لکھتے ہیں : تو (اے سننے والے) اگر تو شک میں ہو اس چیز سے جو ہم نے (اپے رسول کی وساطت سے) تیری طرف نازل فرمائی تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں۔ ہم نے بھی ان ہی تراجم کی اتباع کرتے ہوئے لکھا ہے : پس (اے مخاطب ! ) اگر تم اس چیز کے متعلق شک میں ہو جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو تم سے پہلے کتاب کو پڑھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے کلمات کا معنی :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ان لوگوں میں سے ہرگز نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کی آیتوں کیت کذیب کی ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائو گے۔ (یونس : ٩٥) ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تین قسم کے لوگ تھے : ایک وہ تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرتے تھے، دوسرے وہ تھے جو آپ کی تکذیب کرتے تھے اور تیسرے وہ تھے جن کو آپ کی نبوت میں شک تھا اور شک کرنے والوں کا معاملہ مکذبین سے کم ہے اس لیے پہلے فرمایا : تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا اور چونکہ تکذیب کرنے والوں کا معاملہ شک کرنے والوں سے زیادہ سخت ہے اس لیے ان کے بعد تکذیب کرنے والوں کا ذکر فرمای اور بتایا کہ وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہیں اور اس کے بعد فرمایا : بیشک جن لوگوں کے متعلق آپ کے رب کے کلمات صادر ہوچکے ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے، یعنی اللہ تعالیٰ کو ازل سے جن لوگوں کے متعلق علم تھا کہ ان کو ایمان لانے یا نہ لانے کا اختیار دیا جائے لیکن وہ ضدی اور ہٹ دھرم لوگ ہوں گے، وہ کثیر معجزات اور دلائل دیکھنے کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق شقاوت کا فیصلہ کردیا، سو جو لوگ اللہ کے علم میں ازل میں شقی تھے اور ان کے لیے ازل میں شقاوت لکھی جا چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اس آیت میں کلمات کا ذکر ہے اور کلمہ سے مراد اللہ کا حکم اور اس کی خبر ہے اور بندہ میں قدرت اور داعیہ (فعل کا محرک اور باعث) کا مجموعہ پیدا کرنا ہے جو اس اثر کا موجب ہے، حکم، خبر اور علم تو ظاہر ہے اور قدرت اور داعی کا مجموع بھی ظاہر ہے، اللہ تعالیٰ بندہ میں کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی قدرت پیدا کرتا ہے اور خیر اور شر میں سے کسی ایک چیز کو اختیار کرنے کی طاقت دیتا ہے پھر خیر اور شر میں سے جس چیز کو بندہ اختیار کرتا ہے اس میں وہی چیزپیدا فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ بندہ نے خیر اور شر میں کس کو اختیار کرنا ہے، سو جن کے متعلق اللہ کو ازل میں علم تھا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے ان کے متعلق فرمایا : بیشک جن لوگوں کے متعلق آپ کے رب کے کلمات صادر ہوچکے ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ امام رازی نے اس کی دوسری تقریر کی ہے کہ بندہ میں قدرت اور داعی (یعنی فعل کا محرک) دونوں اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے پس اللہ نے جس کو ازل میں شقی بنادیا وہ ایمان نہیں لائے گا لیکن یہ تقریر عام ذہنی سطح سے ماوراء ہے۔ امام رازی معتزلہ اور قدریہ کے رد میں شدت کرتے ہوئے جبر کی طرف چلے گئے ہیں اور اہل سنت کا مسلک جبر اور قدر کے درمیان ہے یعنی فعل کو اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے اور اس کو اختیار بندہ کرتا ہے اگر اختیار کی نفی کردی جائے اور کہا جائے کہ یہ اختیار اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے تو یہ جبریہ کا مذہب ہے اور اگر کہا جائے کہ فعل کو بندہ پیدا کرتا ہے تو پھر یہ قدریہ اور معتزلہ کا مذہب ہے۔

حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ وہ (عذاب کی نشانی دیکھ کر) ایمان لے آتی تو اس کا ایمان اس کو نفع دیتا سوا یونس کی قوم کے کہ جب وہ ایمان لے آئی تو ہم نے اس سے دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب دور کردیا اور ہم نے ان کو ایک وقت مقرر تک فائدہ پہنچایا۔ (یونس : ٩٨)

حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام و نسب :

امام ابوالقاسم علی بن الحسن المعروف بابن عساکر متوفی ٥٧١ ھ لکھتے ہیں : حضرت یونس (علیہ السلام) لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) کے نواسے ہیں، شام کے رہنے والے تھے اور بعلبک کے عمال میں سے تھے، ایک قول یہ ہے کہ یہ بچپن میں فوت ہوگئے تھے، ان کی والدہ نے اللہ کے نبی حضرت الیاس (علیہ السلام) سے سوال کیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا، ان کے سوا ان کی والدہ کی اور کوئی اولاد نہیں تھی، چالیس سال کی عمر میں حضرت یونس (علیہ السلام) نے اعلان نبوت کیا، وہ بنی اسرائیل کے بہت عبادت گزاروں میں سے تھے، وہ اپنے دین کو بچانے کے لیے شام چلے گئے اور دجلہ کے کنارے پہنچ گئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اہل نینوا کی طرف بھیجا۔ (دریا دجلہ کے مشرقی کنارے جہاں موصل نامی شہر ہے وہاں ایک قدیم شہر تھا) (مختصر تاریخ دمشق ج ٢٨ ص ١٠٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١١ ھ)

حضرت یونس (علیہ السلام) کی فضیلت میں قرآن مجید کی آیات :

وذا النون اذذھب مغاضبا فظن ان لن نقدر علیہ فنادی فی الظلمت ان لا الہ الا انت سبحانک ج انی کنت من الظلمین فاستجبنا لہ ونجینہ من الغم ط وکذلک ننجی المومنین (الانبیاء : ٨٨۔ ٨٧) اور ذوالنون کو یاد کیجیے جب وہ غضب ناک ہو کر نکلے سو انہوں نے یہ گمان کیا کہ ہم ہرگز ان پر تنگی نہیں کریں گے پھر تاریکیوں میں انہوں نے پکارا : (اے اللہ ! ) تیرے سوا عبادت کا کوئی مستحق نہیں، تو پاک ہے بیشک میں زیادتی کرنے والوں میں سے تھا تو ہم نے ان کی فریاد سن لی اور ان کو غم سے نجات دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں وان یونس لمن المرسلین اذ ابق ای الفلک المشحون فالتقمہ الحوت وھو ملیم فلو لا انہ کان من المسبحین للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون فنبذنہ بالعراء وھو سقیم وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین وارسلنہ الی مائۃ الف او یزیدون فامنوا فمنعنہم الی حین (الصفت : ١٤٨۔ ١٣٩) اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہیں جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگے پھر قرعہ اندازی کرائی تو وہ مغلوبین میں سے ہوگئے اور ان کو مچھلی نے نگل لیا درآنحالیکہ وہ خود کو ملامت کرنے والوں میں سے تھے پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو وہ ضرور یوم حشر تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے تو ہم نے ان کو کھلے میدان میں ڈال دیا درآنالی کہ وہ بیمار تھے اور ہم نے ان پر زمین پر پھیلنے والا کدو کا درخت لگا دیا اور ہم نے انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا فاصبر لحکم ربک ولا تکن کصاحب الحوت ادنادی و ھو مکظوم لولا ان تدرکہ نعمۃ من ربہ لنبذ بالعراء وھو مذموم فاجتبہ ربہ فجعلہ من الصلحین (القلم : ٥٠۔ ٤٨) تو آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجیے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیں جب انہوں نے غم کی کیفیت میں اپنے رب کو پکارا اگر ان کے رب کی نعمت ان کی مدد نہ فرماتی تو وہ ضرور میدان میں ڈال دیئے جاتے درآنحالیکہ وہ ملامت زدہ ہوتے پس ان کے رب نے انہیں عزت دی اور انہیں صالحین میں سے کرلیا۔

حضرت یونس (علیہ السلام) کی فضیلت میں احادیث :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی بندہ کو یہ کہنا نہیں چاہیے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ٣٧٠٣، دارالفکر بیروت) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ کسی بندہ کو یہ کہنا نہیں چاہیے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤١٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٧٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٦٩) حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی شخص یونس بن متی سے افضل ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤١٥)

حضرت یونس (علیہ السلام) کی سوانح :

امام ابوالقاسم علی بن الحسن المعروف بابن عساکر متوفی ٥٧١ ھ لکھتے ہیں : حسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت یونس بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ایک نبی کے ساتھ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ حضرت یونس کو اہل نینوا کی طرف بھیجیں اور ان کو میرے عذاب سے ڈرائیں، ان لوگوں میں تورات کے احکام پر عمل کرانے کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث کیا جاتا تھا، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تورات اور حضرت دائود کی زبور کے بعد اور کسی کتاب کو نازل نہیں کیا تھا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) بہت تیزمزاج اور سریع الغضب تھے، وہ اہل نینوا کے پاس گئے اور ان کو عذاب الٰہی سے ڈرایا۔ انہوں نے حضرت یونس کی تکذیب کی اور ان کی نصیحت کو مسترد کردیا اور ان پر پتھرائو کیا اور ان کو اپنی بستی سے نکال دیا۔ حضرت یونس وہاں سے لوٹ آئے، ان سے بنی اسرائیل کے نبی نے کہا : آپ وہاں پر پھرجائیں، حضرت یونس (علیہ السلام) پھر چلے گئے۔ اہل نینوا نے پھر وہی سلوک کیا، تین بار اسی طرح ہوا، حضرت یونس (علیہ السلام) ان کو عذاب سے ڈراتے اور وہ ان کی تکذیب کرتے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب حضرت یونس (علیہ السلام) ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے اپنے رب سے اپنی قوم کو ہلاک کرنے کی دعا کی اور ان لوگوں کو خبر دی کہ تین دن بعد ان پر عذاب آجائے گا اور اپنی اہلیہ اور چھوٹے بچوں کو لے کر وہاں سے چلے گئے۔ وہ ایک پہاڑ پر چڑھ کر اہل نینوا کو دیکھنے لگے اور ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے عذاب نازل ہونے کا جو وقت مقرر کیا تھا ان کی قوم بھی اس وقت کا انتظار کر رہی تھی جب انہیں عذاب کے نزول کا یقین ہوگیا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور ان کو یقین ہوگیا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے سچ فرمایا تھا پھر اس وقت جو بنی اسرائیل کے انبیاء تھے انہوں نے ان کی طرف رجوع کیا اور ان سے اس مصیبت کا حل دریافت کیا جس میں وہ مبتلا ہوچکے تھے، انہوں نے کہا حضرت یونس (علیہ السلام) کو بلائو وہ تمہارے لیے دعا کریں گے کیونکہ انہوں نے ہی تمہارے خلاف دعا کی تھی۔ انہوں نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو تلاش کیا لیکن وہ ناکام رہے تب انہوں نے کہا آئو ہم سب مل کر اللہ کے حضور توبہ کریں پھر وہ اپنے تمام مردوں اور عورتوں اور مویشیوں کو لے کر نکلے، انہوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہنے، اپنے سروں پر راکھ ڈالی، اپنے پیروں میں کانٹے بچھائے اور رو رو کر اور گڑگڑا گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق کو دیکھ کر ان کی توبہ قبول فرما لی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اہل نینوا نے یکم ذوالحجہ کو عذاب کی علامات دیکھی تھیں اور ھدس ذوالحجہ کو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ ان کی قوم سے عذاب ٹل گیا ہے تو اللہ کا دشمن ابلیس ان کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ اگر اب آپ اپنی قوم کے پاس گئے تو وہ آپ کی تکذیب کریں گے اور کہیں گے کہ آپ نے جس عذاب کا وعدہ کیا تھا وہ ہمارے اوپر نہیں آیا، پس حضرت یونس اپنی قوم پر ناراض ہو کر (وحی الٰہی کا انتظار کیے بغیر) دجلہ کے کنارے پہنچ گئے، ان کے ہمراہ ان کے بال بچے بھی تھے۔ ایک کشتی آئی تو حضرت یونس نے کہا ہمیں لے چلو، کشتی والوں نے کہا کشتی میں جگہ کم ہے، آپ اس کشتی میں اپنی اہلیہ کو سوار کرا دیں پھر حضرت یونس اور ان کے دو بیٹے رہ گئے پھر ایک اور کشتی آئی حضرت یونس اس کی طرف بڑھے، ان کا ایک بیٹا دجلہ کے کنارے آیا، اس کا پیر پھسل گیا اور وہ دریا میں ڈوب گیا اور بھیڑیا آیا وہ دوسرے بیٹے کو کھا گیا تب حضرت یونس (علیہ السلام) نے جان لیا کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، وہ اس دوسری کشتی میں سوار ہوگئے جب کشتی پانی کے درمیان میں پہنچے تو اللہ کے حکم سے کشتی چکر کھانے لگی، کشتی والوں نے آپس میں کہا اس کا کیا سبب ہے، لوگوں نے کہا ہمیں پتا نہیں۔ حضرت یونس نے فرمایا : مجھے معلوم ہے ایک بندہ اپنے رب سے بھاگ نکلا ہے، یہ کشتی اس وقت چلے گی جب تم اس کو دریا میں پھینک دو گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہے ؟ حضرت یونس نے فرمایا : وہ میں ہوں۔ لوگوں نے کہا اگر وہ آپ ہیں تو ہم آپ کو ہرگز نہ پھینکیں گے بخدا ہم کو یقین ہے کہ آپ ہی کے وسیلہ سے ہم کو اس مصیبت سے نجات ملے گی پھر انہوں نے قرعہ اندازی کی اور کہا جس کے نام کا قرعہ نکلے گا ہم اس کو دریا میں ڈال دیں گے۔ انہوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونس کا نام نکل آیا لیکن انہوں نے حضرت یونس کو دریا میں ڈالنے سے انکار کیا پھر دوبارہ قرعہ اندازی کی پھر حضرت یونس کا نام نکلا۔ حضرت یونس نے کہا : مجھ کو دریا میں ڈال دو اور اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو حکم دیا کہ وہ حضرت یونس کو نگل لے مگر حضرت یونس کو خراش آئے نہ ان کی ہڈی ٹوٹے، وہ میرے نبی اور میرے برگزیدہ بندے ہیں۔ وہ مچھلی چالیس دن تک دریا میں تیرتی رہی اور حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں جنات اور مچھلیوں کی تسبیح سنتے رہے، حضرت یونس تسبیح اور تہلیل کرتے رہے اور کہتے تھے : اے میرے مالک ! تو نے مجھے پہاڑوں سے اتارا، شہروں میں پھرایا اور تین اندھیروں میں مجھے مقید کردیا، رات کا اندھیرا، پانی کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا تو نے مجھے ایسی سزا دی ہے کہ مجھ سے پہلے کسی کو ایسی سزا نہیں دی تھی ! جب چالیس دن پورے ہوگئے تو : فنادی فی الظلمت ان لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ (الانبیاء : ٨٧) پھر تیکیوں میں انہوں نے پکارا : (اے اللہ ! ) تیرے سوا عبادت کا کوئی مستحق نہیں، تو پاک ہے، بیشک میں زیادتی کرنے والوں میں سے تھا۔ پھر فرشتوں نے ان کے رونے کی آواز سنی اور ان کو آواز سے پہچان لیا اور ان کے گریہ وزاری کی وجہ سے فرشتے بھی رونے لگے اور انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! یہ ایک غمزوہ شخص کی کمزور آواز ہے جو کسی اجنبی جگہ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ میرا بندہ یونس ہے، اس سے ایک (اجتہادی) خطا ہوگئی تو میں نے اس کو دریا میں مچھلی کے پیٹ میں قید کرلیا۔ فرشتوں نے کہا : اے رب ! یہ نیک بندہ ہے، صبح اور شام اس کے بکثرت نیک اعمال آسمانوں کے اوپر جاتے ہیں۔ فرمایا : ہاں ! حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب اللہ اپنے اولیاء پر اس طرح گرفت فرماتا ہے تو غور کرو وہ اپنے دشمنوں پر کیسی گرفت فرمائے گا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی فرشتوں نے شفاعت کی تب اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو اس مچھلی کے پاس بھیجا کہ جس جگہ سے اس نے حضرت یونس کو نکلا تھا وہیں ان کو اگل دے۔ وہ مچھلی دریا کے کنارے آئی اور حضرت جبرئیل مچھلی کے منہ کے قریب پہنچے اور کہا : السلام علیک یایونس ! رب العزت آپ پر سلام پڑھتا ہے ! حضرت یونس نے فرمایا : اس آواز کے لیے مرحبا ہو جس آواز کے متعلق میرا یہ گمان تھا کہ وہ اب مجھے کبھی سنائی نہیں دے گی۔ پھر مچھلی سے کہا : تم اللہ کا نام لے کر حضرت یونس کو اگل دو ، مچھلی نے حضرت یونس کو اگلا اور حضرت جبرئیل نے ان کو اپنی گود میں لے لیا۔ اس وقت حضرت یونس (علیہ السلام) کا جسم اس طرح ملائم تھا جیسے نوزائیدہ بچہ ہو۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں صرف تین دن اور تین راتیں رہے تھے۔ (حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ حضرت یونس کے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت میں اختلاف ہے، شعبی نے کہا ہے کہ چاشت کے وقت مچھلی نے ان کو نگلا تھا اور شام کے وقت اگل دیا، قتادہ نے کہا وہ اس میں تین دن رہے تھے، امام جعفر صادق نے کہا وہ اس میں سات دن رہے تھے اور سعید بن ابوالحسن اور ابومالک نے کہا وہ اس میں چالیس دن رہے تھے اور اللہ ہی کو علم ہے وہ اس میں کتنی مدت رہے تھے۔ البدایہ والنہایہ ج ١ ص ٣٢١، دارالفکر طبع جدید، ١٤١٨) ایک قول یہ ہے کہ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انہوں نے کہا : تیری عزت کی قسم ! میں تیرے لیے ایسی جگہ مسجد بنائوں گا جہاں کسی نے تیرے لیے مسجد نہیں بنائی ہوگی اور وہ مچھلی کے پیٹ میں ہی اللہ کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر وہ تسبیح کرنے والوں (نماز پڑھنے والوں) میں سے نہ ہوتے تو وہ ضرور یوم حشر تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے حسن نے کہا انہوں نے پہلے جو نمازیں پڑھی تھیں اللہ تعالیٰ نے ان کو قبول فرمایا اور ان کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی۔ میمون بن مہران نے کہا : تم اللہ تعالیٰ کو آسانی اور سہولت کے وقت یاد کیا کرو وہ تم کو شدت اور مصیبت کے وقت میں یاد رکھے گا۔ فرعون نے اپنی ساری زندگی سرکشی اور نافرمانی میں گزاری اور جب سمندر میں ڈوبنے لگا تو کہا میں ایمان لے آیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تو اب ایمان لایا ہے اور پہلے نافرمانی کرتا رہا تھا۔ (یونس : ٩١۔ ٩٠) اور حضرت یونس (علیہ السلام) ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے اور جب مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مصیبت سے نجات دی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں جو دعا مانگی تھی (لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ الانبیاء : ٨٧) جو مسلمان بھی کسی مصیبت کے وقت یہ دعا مانگے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔ (کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٤١٨) مجاہد نے کہا : جب مچھلی نے دریا دجلہ کے کنارے حضرت یونس کو اگلا تو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین پر پھیلنے والا کدو کا درخت اگا دیا اور ان کو ایک لاکھ یا اس سے زیادہ (ایک قول ہے ایک لاکھ ستر ہزار) لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ حسن نے کہا کدو کی بیل کا بہت گھنا سایہ تھا حضرت یونس اس کی شاخوں کو اس طرح چوستے تھے جس طرح بچہ دودھ چوستا ہے نیز حسن نے بیان کیا کہ ایک چرواہے نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے پاس جا کر یہ خبر دی کہ اس نے اللہ کے رسول حضر تیونس بن متی کو دیکھا ہے، لوگوں نے اس کو جھٹلا دیا تب اس نے کہا میرے پاس دلیل ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی بکری کو گویائی دی اور اس نے کہا ہاں انہوں نے میرا دودھ پیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں ان کے حق میں گواہی دوں پھر ان کی قوم اس وادی میں گئی تو دیکھا کہ حضر یونس (علیہ السلام) نماز پڑھ رہے تھے، وہ لوگ رونے لگے اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے لگے اور پھر ان کو اپنے ساتھ لے کر اپنے شہر میں آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسمان سے برکتیں نازل کیں اور ان پر زمین کے خزانے کھول دیئے، حضرت یونس (علیہ السلام) وہاں اللہ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ کرتے رہے اور ان کے لیے سنتیں اور شریعتیں قائم کیں پھر اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی کہ وہ زمین میں گھوم پھر کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی اور وہاں سے چلے گئے اور بادشاہ نے اس چرواہے کو بادشاہت دے دی جس نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو دیکھا تھا پھر بادشاہ بھی وہاں سے چلا گیا اور اس کے بعد پھر کسی نے حضرت یونس کو دیکھا نہ بادشاہ کو۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وادی ازرق پر تشریف لے گئے، آپ نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بلند آواز سے تلبیہ کہتے ہوئے پہاڑی سے اتر رہے ہیں پھر آپ ثنیہ پر آئے اور فرمایا : گویا کہ میں حضرت یونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں، ان پر دو سفید چادریں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے : لبیک یایونس ! میں تمہارے ساتھ ہوں۔ (کنز العمال : ٣٢٣٨٢) (مختصر تاریخ دمشق ج ٢٨ ص ١١٦۔ ١٠٧ ملخصاً ، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 93