أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنۡ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ وَيَتۡلُوۡهُ شَاهِدٌ مِّنۡهُ وَمِنۡ قَبۡلِهٖ كِتٰبُ مُوۡسٰٓى اِمَامًا وَّرَحۡمَةً‌  ؕ اُولٰٓئِكَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ‌ ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ فَالنَّارُ مَوۡعِدُهٗ‌ ۚ فَلَا تَكُ فِىۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡهُ‌ ۚ اِنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا جو شخص اللہ کی طرف سے دلیل پر ہو اور اس کے پاس اللہ کی طرف سے گواہ (بھی) ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب جو رہنما اور رحمت ہے (وہ بھی گواہ ہو) وہ ان منکروں کے برابر ہوسکتا ہے ؟ ) یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور تمام فرقوں میں سے جس نے (بھی) اس کے ساتھ کفر کیا اس کی وعید کی جگہ دوزخ ہے، سو اے مخاطب) تم اس کے متعلق شک میں نہ پڑنا بیشک وہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا جو شخص اللہ کی طرف سے دلیل پر ہو اور اس کے پاس اللہ کی طرف سے گواہ (بھی) ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب جو رہ نما اور حمت ہے (وہ بھی گواہ ہو) (وہ ان منکروں کے برابر ہوسکتا ہے ؟ ) یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور تمام فرقوں میں سے جس نے (بھی) اس کے ساتھ کفر کیا، اس کی وعید کی جگہ دوزخ ہے (سو اے مخاطب) تم اس کے متعلق شک میں نہ پڑنا بیشک وہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (ھود : ١٧) 

تمام اہل ملل پر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا وجوب

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی طرف سے دلیل پر ہو اور اس کے پاس اللہ کی طرف سے گواہ بھی ہو یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا مومنین اہل کتاب، کیا یہ لوگ ان لوگوں کی طرح ہوسکتے ہیں جو دنیا کی زندگی اور اس کی آسائش کو طلب کرتے ہیں ؟ علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ شاہد سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک ہے کیونکہ جس شخص میں ذرا بھی عقل ہو جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رخ انور کی طرف دیکھے گا تو فوراً یقین کرلے گا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ بینہ (دلیل) سے مراد اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے جس سے دل روشن ہیں شاھد سے مراد عقل اور فطرت سلیمہ ہے جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے جانور سے ایک مکمل جانور پیدا ہوتا ہے، کیا تم اس میں کوئی نقص دیکھتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٨٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٥٩)

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے حضرت موسیٰ کی کتاب یعنی تورات نازل ہوئی تھی جو رہ نما اور رحمت ہے اور جو لوگ اس نبی (سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھتے ہیں وہ لوگ ان لوگوں کی طرح نہیں ہوسکتے جو دنیا کی زندگی اور اس کی آسائش کو طلب کرتے ہیں

اور فرمایا : اور تمام فرقوں میں سے جس نے (بھی) اس نبی کے ساتھ کفر کیا اس کی سزا دوزخ ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے، اس امت میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے، جو میری نبوت (کی خبر) سنے خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی پھر وہ شخص اس حال میں مرے کہ وہ میرے لائے ہوئے دین پر ایمان نہ لایا ہو تو وہ شخص دوزخی ہی ہوگا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٥٣، مسند احمد ج ٢ ص ٣١٧، حلیتہ الاولیاء ج ٤ ص ٣٠٨، مسند ابو عوانہ ج ١ ص ١٠٤)

قرآن مجید کی اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام دین داروں پر واجب ہے کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لائیں، یہود اور نصاریٰ کا خصوصیت سے اس حدیث میں اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ وہ اہل کتاب ہیں اور جب اہل کتاب پر یہ واجب ہے کہ وہ آپ کی رسلات پر ایمان لائیں تو دوسروں پر بطریق اولیٰ واجب ہے کہ وہ آپ کی رسالت پر ایمان لائیں۔ 

غیر متمدن دنیا میں رہنے والوں کے لیے توحید پر ایمان لانا ضروری ہے نہ کہ رسالت پر

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں : اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ جو شخص زمین کے دور دراز علاقوں میں رہتا ہو یا سمندر کے جزیروں میں رہتا ہو جو آباد دنیا سے منقطع ہوں اور اس کو اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور اور آپ کی بعثت کی خبر نہ پہنچی ہو تو اگر وہ آپ پر ایمان نہ لائے تو اس سے گرفت نہیں ہوگی کیونکہ آپ نے فرمایا ہے : جس نے میری نبوت کی خبر سنی اور مجھ پر ایمان لائے بغیر مرگیا تو وہ دوزخی ہوگیا، لہٰذا آپ کی معرفت اور آپ پر ایمان لانا اس پر موقوف ہے کہ کوئی شخص آپ کے معجزہ کا مشاہدہ کرے اور آپ کے ایام حیات میں آپ کے صدق کو جانے اور جس نے مشاہدہ نہیں کیا اس تک آپ کے دعویٰ نبوت کی خبر پہنچی ہو، اس کے برخلاف اللہ پر ایمان اور اس کی توحید کو ماننا ہر شخص پر ضروری ہے خواہ متمدن دنیا میں نہ ہو اور غیرآباد علاقوں میں رہتا ہو کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل عطا کی ہے اور غور و فکر کر کے ہر شخص اللہ کی ذات اور اس کی توحید کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ١ ص ٤٦٨، مطبوعہ دارالوفاء ١٤١٩ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 17