أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخۡبَـتُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡۙ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ‌ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انہوں نے اپنے رب کی طرف عاجزی کی وہ لوگ جنتی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انہوں نے اپنے رب کی طرف عاجزی کی وہ لوگ جنتی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ (ھود : ٢٣) 

نیکیوں کے لازماً قبول ہونے کی توقع نہ رکھی جائے

اس آیت میں ہے واخبتوا الی ربھم۔ اخبت کا معنی ہے قوم کا پست اور فراخ زمین میں اترنا اور مطمئن ہونا اور اخبت الی اللہ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنا اور اخبت کا معنی خضوع اور خشوع کرنا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ مسلمانوں کے اطمینان اور خضوع اور خشوع کرنے کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ مسلمان جب اللہ کی عبادت کریں تو عبادت کے وقت ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ماسوا کی طرف ملتفت نہ ہوں اور ہر چیز سے خالی الذہن ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں یا اللہ تعالیٰ نے جو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے اور عذاب کی وعید فرمائی ہے اس پر ان کے دل مطمئن ہوں اور اگر ہم اخبات کو خشوع کے معنی میں لیں تو پھر اس میں یہ اشارہ ہے کہ جب مسلمان اعمال صالحہ کریں تو ان کو یہ ڈر اور خوف ہو کہ ان کی کسی کمی اور کوتاہی کی بناء پر ان کے نیک اعمال مسترد کردیئے جائیں گے اور اس کو اپنے نیک اعمال کے متعلق یہ اطمینان نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے یہ نیک اعمال لازماً قبول ہوجائیں گے۔

عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے پاس انصار کا ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! آپ کو اللہ کی بشارت ہو، آپ اسلام لانے والوں میں مقدم ہیں جیسا کہ آپ کو علم ہے پھر آپ خلیفہ بنے تو آپ نے عدل کیا پھر ان تمام (نیکیوں) کے بعد آپ کو شہادت حاصل ہوئی۔ حضرت عمر نے کہا : اے میرے بھتیجے ! کاش یہ سب برابر سرابر ہوجائے، ان کی وجہ سے مجھے کوئی عذاب ہو نہ ثواب ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٩٢، مطبوعہ دارارقم بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 23