أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا‌ ؕ اُولٰٓئِكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ وَ يَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ هٰٓؤُلَاۤءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ‌ ۚ اَلَا لَـعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان تراشے۔ یہ لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور تمام گواہ یہ کہیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا، سنو ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان تراشے، یہ لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور تمام گواہ یہ کہیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا، سنو ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں اور وہ آخرت کا کفر کرنے والے ہیں۔ (ھود : ١٩۔ ١٨) 

روز قیامت کفار کے خلاف گواہی دینے والوں کے مصادیق

کافروں میں متعدد بدعقیدگیاں اور بداعمالیاں تھیں، وہ دنیا اور اس کے عیش اور زیبائش پر بہت حریص تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ھود : ١٥میں رد فرمایا

اور وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے معجزات کے منکر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ھود : ١٣ میں رد فرمایا

اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی شفاعت کریں گے سو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بدعقیدگی کا رد فرمایا۔ اس آیت میں فرمایا ہے : یہ لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ اس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مکان اور جگہ سے پاک ہے،

پھر یہ کفار اللہ تعالیٰ کے سامنے کیسے پیش ہوں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو مقامات حساب اور سوال کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں ان کفار کو وہاں پیش کیا جائے گا، دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو نبیوں، فرشتوں اور مومنوں میں سے جن کے سامنے چاہے گا پیش فرمائے گا۔ نیز اس آیت میں فرمایا ہے : تمام گواہ یہ کہیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا۔

مجاہد، قتادہ، ابن جریج اور اعمشق سے روایت ہے کہ ان گواہوں سے مراد فرشتے (کراماً کاتبین) ہیں۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ٢٩۔ ٢٨)

ضحاک نے کہا : اس سے مراد انبیاء اور رسول ہیں۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ٢٩)

اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہے :

فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولاء شھیدا۔ (النساء : ٤١)

پس اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور ہم آپ کو ان سب پر گواہ (بنا کر) لائیں گے۔

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے مومنین بھی گواہی دیں گے۔

وکذلک جعلنکم امۃ وسلطا لتکونوا شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا۔ (البقرہ : ١٤٣)

(اور اے مسلمانو ! ) اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجائو اور یہ رسول تمہارے حق میں گواہ ہوجائیں۔ کفار کے خود اپنے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے،

قرآن مجید میں ہے :

یوم تشھد علیھم السنتھم وایدیھم وارجلھم بما کانوا یعملون۔ (النور : ٢٤)

جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں ان کے اعمال کی ان کے خلاف گواہی دیں گے۔

اور اس آیت میں فرمایا ہے : وہ گواہ یہ کہیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہے کفار اور منافقین تو تمام لوگوں کے سامنے یہ اعلان کیا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٦٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٣، ٤٣٠٠، مسند احمدج ٢ ص ٧٤)

اور فرمایا : جو لوگ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں یعنی لوگوں کو حق کی اتباع کرنے اور ہدایت کے راستہ پر چلنے سے روکتے ہیں، مسلمانوں کے دلوں میں دین اسلام کے خلاف شکوک اور شبہات پیدا کرتے ہیں اور مختلف حیلوں اور ہتھکنڈوں سے ان کو اسلام سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مشغول رہتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لا یعنی اور بےہودہ اعتراضات کرتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 18