أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهِىَ تَجۡرِىۡ بِهِمۡ فِىۡ مَوۡجٍ كَالۡجِبَالِ وَنَادٰى نُوۡحُ اۨبۡنَهٗ وَكَانَ فِىۡ مَعۡزِلٍ يّٰبُنَىَّ ارۡكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور وہ کشتی انہیں پہاڑ جیسی موجوں میں لے کر جارہی تھی۔ اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جب کہ وہ ان سے الگ تھا اے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہو جائو اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ کشتی انہیں پہاڑ جیسی موجوں میں لے کر جارہی تھی اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جب کہ وہ ان سے الگ تھا اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہو جائو اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔ اس نے کہا میں عنقریب کسی پہاڑ کی پناہ میں آجائوں گا جو مجھے بچا لے گا، نوح نے کہا : آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے سوا اس کے جس پر (خود) اللہ رحم فرمائے اور ان دونوں (باپ، بیٹے) کے درمیان موج حائل ہوگئی سو وہ ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا۔ (ھود : ٤٣۔ ٤٢) 

حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو کشتی پر کیوں بلایا جب کہ وہ کافر تھا ؟

اس جگہ یہ اعتراص ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے خود یہ دعا فرمائی تھی :

رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ (نوح : ٢٦) اے میرے رب ! کافروں میں سے کسی کو زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔

پھر انہوں نے اپنے بیٹے کو اس کے کفر کے باوجود کیوں پکارا ؟ اس کے جوابات حسب ذیل ہیں :

(١) ہوسکتا ہے ان کا بیٹا منافق ہو، حضرت نوح کے سامنے ایمان کا اظہار کرتا ہو اور درحقیقت کافر ہو۔

(٢) حضرت نوح (علیہ السلام) کو یہ علم تھا کہ وہ کافر ہے لیکن ان کو یہ گمان تھا کہ جب وہ طوفان کی ہولناکیوں اور اس میں غرق ہونے کے خطرہ کا مشاہدہ کرے گا تو ایمان لے آئے گا، لہٰذا انہوں نے جو کہا : اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہو جائو، ان کا یہ قول اس کو ایمان پر راغب کرنے کے لیے تھا۔ نیز فرمایا : جب کہ وہ ان سے الگ تھا، اس کا ایک محمل یہ ہے کہ وہ کشتی سے الگ تھا کیونکہ اس کا گمان یہ تھا کہ وہ پہاڑ کی پناہ کے سبب غرق ہونے سے بچ جائے گا، اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ وہ اپنے باپ، اپنے بھائیوں اور مسلمانوں سے الگ تھا اس کا تیسرا محمل یہ ہے کہ وہ کفار کی جماعت سے الگ کھرا ہوا تھا اس لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ ایمان لے آئے کیونکہ وہ ان سے الگ کھڑا ہوا ہے، اسی لیے انہوں نے اس کو ندا کی تھی اور فرمایا تھا : اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔ جب حضرت نوح کے بیٹے نے کہا : پہاڑ مجھے بچا لے گا، تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے متنبہ فرمایا : تم نے غلط کہا، آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے سوا اس کے جس پر اللہ رحم فرمائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 42