أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَـلِيۡمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيۡبٌ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک ابراہیم بردباد اللہ سے آہ وزاری کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ابراہیم بردبار، اللہ سے آہ وزاری کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ (ھود : ٧٥) 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مدح سرائی

حلیم کا معنی ہے : انہیں بہت دیر میں غصہ آتا ہے وہ کا معنی ہے : اللہ سے بہت زیادہ ڈرنے والا اور اس کے سامنے آہ وزاری کرنے والے ہیں اور منیب کا معنی ہے اس کی طرف رجوع کرنے والے اور اس کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بہت زیادہ مدح کی گئی ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب یہ پتا چلا کہ فرشتے قوم لوط کو عذاب دینے کے لیے جارہے ہیں تو ان کو بہت زیادہ رنج ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے بہت ڈرے اس لیے فرمایا : وہ حلیم اور اواہ ہیں اور ان کو منیب اس لیے فرماتا کہ جو شخص دوسروں پر عذاب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اپنے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے کتنا ڈرنے والا اور اس کی طرف کتنا زیادہ رجوع کرنے والا ہوگا۔ فرشتوں سے بحث کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مدح کرنے میں یہ نکتہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بحث کرنا، اللہ تعالیٰ کو ناگوار اور ناپسندیدہ نہ تھا اور اس بحث میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل اعتراض ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 75