أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے اس قرآن کو عربی (زبان) میں نازل کیا ہے تاکہ تم اس کو سمجھ سکو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے اس قرآن کو عربی (زبان) میں نازل کیا ہے تاکہ تم اس کو سمجھ سکو۔ ہم آپ کو اس قرآن کی وحی کے ذریعہ سب سے حسین قصہ سناتے ہیں اور بیشک آپ اس سے پہلے بیخبر تھے۔ (یوسف : ٣۔ ٢) 

اللہ کے لیے لعل کا معنی

کلام عرب میں لعل کا لفظ کسی چیز کی امید کے لیے آتا ہے اور بظاہر اس کا یہ معنی ہوگا کہ اللہ کو امید ہے کہ تم سمجھ لو گے اور یہ معنی اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں ہے اور اس کے حق میں محال ہے اس لیے مفسرین نے کہا ہے کہ امید کا یہ معنی قرآن پڑھنے والوں اور سننے والوں کی طرف راجع ہے یعنی جو لوگ قرآن مجید کو تدبر کے ساتھ پڑھیں ان کو یہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ اس قصہ کو سمجھ لیں گے، اسی طرح قرآن مجید میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے لعل کا لفظ وارد ہوا اس کا یہی معنی ہے۔ 

قصہ کا لغوی معنی

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں کوئی قصہ سنائیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” ہم آپ کو اس قرآن کی وحی کے ذریعہ سب سے حسین قصہ سناتے ہیں۔ “ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٤٣٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

قصص کا معنی

ہے کسی چیز کے نشانات کرنا اور ان کی پیروی کرنا، قرآن مجید میں ہے :

فارتدا علی اثارھما قصصا۔ (الکہف : ٦٤) سو وہ اپنے قدموں کے نشانات تلاش کرتے ہوئے لوٹے۔

وقالت لاختہ قصیہ (القصص : ١١) اور ان کی ماں نے ان کی بہن سے کہا تم موسیٰ کو تلاش کرو۔

اسی طرح جو خبریں تتبع اور تلاش سے حاصل کی گئی ہوں ان کو بھی قصص کہتے ہیں،

قرآن مجید میں ہے : لھو القصص الحق۔ (آل عمران : ٦٢) یہ برحق خبریں ہیں۔ (المفردات ج ٢ ص ٥٢٣۔ ٥٣٢، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ٤١٨ ھ)

سورة یوسف کو احسن القصص فرمانے کی وجوہات

سورة یوسف کو احسن القصص فرمانے کی متعدد وجوہات بیان کی گئی ہے۔

ایک وجہ یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ میں جس قدر حکمتیں ہیں اور جس قدر عبرت انگیز واقعات اور کسی سورت میں نہیں ہیں، قرآن مجید میں ہے : لقد کان فی قصصھم عبرۃ لاولی الالباب (یوسف : ١١١) بیشک ان کے قصوں میں عقل والوں کے لیے نصیحت ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ کو احسن القصص اس لیے فرمایا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے ساتھ نہایت احسن سلوک فرمایا ان کی دی ہوئی اذیتوں پر صبر کیا اور جب ان کو اقتدار ملا اور وہ ان سے بدلہ لینے پر ہر طرح قادر ہوئے تو ان کو معاف کردیا حتیٰ کہ فرمایا : لا تشریب علیکم الیوم (یوسف : ٩٢) آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سورت میں انبیاء، صالحین، ملائکہ، شیاطین، جن انسان، جانوروں اور پرندوں کا ذکر ہے اور اس میں بادشاہوں، تاجروں، علماء، جاہلوں اور مردوں اور عورتوں کی سیرت اور ان کی طرز زندگی کا بیان ہے اور عورتوں سے حیلوں اور ان کے مکر کا بیان ہے اور اس میں توحید، رسالت، فقہی احکام، خوابوں کی تعبیر، سیاست، معاشرت اور تدبیر معاش کا بیان ہے اور ان تمام فوائد کا بیان ہے جن سے دین اور دنیا کی اصطلاح ہوسکتی ہے اور اس میں حسن اور عشق کی داستان ہے اور محب اور محبوب کا ذکر ہے۔ اہل معافی نے کہا : اس سورت کو احسن القصص اس لیے فرمایا ہے کہ اس سورت میں جتنے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے ان سب کا مال سعادت ہے اور سب کا انجام نیک اور عاقبت بہ خیر ہے، دیکھئے حضرت یوسف (علیہ السلام) ، ان کے والدین، ان کے بھائی اور عزیز مصر کی بیوی سب کا مال نیک ہوا وہ بادشاہ بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا اور اس نے اسلام لا کر اچھے عمل کیے اسی طرح جس ساقی نے خواب کی تعبیر پوچھی تھی اور جو حضرت یوسف کے واقعہ میں شاہد تھا سب کا نیک انجام ہوا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ١٠٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 2