أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡهُمۡ لَا تَقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ وَاَلۡقُوۡهُ فِىۡ غَيٰبَتِ الۡجُـبِّ يَلۡتَقِطۡهُ بَعۡضُ السَّيَّارَةِ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو اور اس کو کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں ڈال دو اس اس کو کوئی قافلہ والا اٹھا لے گا اگر تم کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو (اس طرح کرو)

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو اور اس کو کسی اندھے کنوئیں کی گہرائی میں ڈال دو اس کو کوئی قافلہ والا اٹھا لے گا اگر تم کچھ کرنا ہی چاہتے ہو (تو اس طرح کرو) یوسف : ١٠) 

مشکل الفاظ کے معانی

غیابۃ : اس کا معنی ہے گہرا گرھا یہاں مراد ہے کنوئیں کی گہرائی۔ یہ گہرائی نظر سے غائب ہوتی ہے اس لیے اس کو غیابۃ فرمایا۔

الجب : جب کا معنی کاٹنا اور اس سے مراد ہے بہت گہرا کنواں جس کو اندھا کنواں کہتے ہیں کیونکہ اس میں جھانک کر دیکھو تو کچھ نظر نہیں آتا۔

ایک قول یہ ہے کہ یہ کنواں بیت المقدس میں تھا

وہب بن منبہ نے کہا : یہ کنواں اردن میں تھا

مقاتل نے کہا : یہ کنواں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے گھر سے تین فرسخ دور تھا۔

السیارۃ : جو لوگ راستہ میں سفر کرتے ہیں اس سے مراد ہے قافلہ انہوں نے یہ اس لیے کہا تھا کہ حضرت یوسف کو اٹھا کر خود انہیں کسی دور دراز علاقہ میں نہ لے جانا پڑے کیونکہ گر وہ خود کہیں جاتے تو ہوسکتا ہے ان کو حضرت یعقوب اجازت نہ دیتے اور اگر بغیر اجازت نہ دیتے اگر بغیر اجازت جاتے تو ہوسکتا ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پتا چل جاتا۔

یلتقط : التقاط کا معنی ہے راستہ سے کسی چیز کو اٹھانا جو بچہ راستہ میں پڑا مل جائے اس کو لقیط کہتے ہیں اور جو چیز راستہ میں گری پڑی مل جائے اس کو لقطہ کہتے ہیں اور اس کا غالب استعمال اس بچہ کے لیے ہوتا ہے جس کو پھینک دیا جائے۔ (الصحاح ج ٢ ص ٥٧١، المصباعح المنیر ج ٢ ص ٨٥٨، المغرب ج ٢ ص ٢٤٧)

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی المتوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : جس زندہ بچے کو اس کے گھر والے فقر و فاقہ کے خوف سے یا زنا کی تہمت سے بچنے کے لیے گھر سے باہر راستہ میں ڈال دیں اس کو لقبط کہتے ہیں اس بچہ کو ضائع کرنے والا گناہ گار ہوگا اگر کسی شخص کو یہ ظن غالب ہو کہ اگر اس بچہ کو نہ اٹھایا گیا تو یہ ہلاک ہوجائے گا تو پھر اس کا اٹھانا فرض کفایہ ہے اگر اس کے علاوہ کسی اور کو اس بچہ کا علم نہ ہو تو پھر اس کا اٹھانا فرض عین ہے اسی طرح اگر وہ دیکھے کہ کوئی نابینا کنوئیں میں گرنے والا ہے تو اس کا بجانا بھی فرض عین ہے۔ (درمختار مع رد المختارج ٦ ص ٣٢٦۔ ٣٢٥ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٩ ھ)

فقہاء شافعیہ کے نزدیک لقیط کی یہ تعریف ہے کہ جو بچہ عام راستہ پر پڑا ہوا ہو اور اس کا کوئی دعویدار نہ ہو عام طور پر یہ بچہ ہوتا ہے لیکن کبھی سمجھ دار لڑکا بھی ہوتا ہے۔ (مغنی المحتاج ج ٢ ص ٤١٨، نہایتہ المحتاج، ج ٥ ص ٤٢٢) اور فقہاء حنبیلہ کے نزدیک لقبط کی یہ تعریف ہے کہ جس بچہ کا نسب معلوم نہ ہو نہ اس کا غلام ہونا معلوم ہو یا وہ اپنی پیدائش سے لے کر سن شعور کے زمانہ تک اپنے گھر کا راستہ گم کرچکا ہو۔ (کشاف القناع ج ٤ ص ٢٢٦) فقہاء مالکیہ کے نزدیک لقیط کی یہ تعریف ہے کہ جس بچہ کا نسب معلوم نہ ہو نہ اس کا غلام ہونا معلوم ہو یا وہ اپنی پیدائش سے لے کر سن شعور کے زمانہ تک اپنے گھر کا راستہ گم کرچکا ہو۔ (کشاف القناع ج ٤ ص ٢٢٦) فقہاء مالکیہ کے نزدیک لقیط وہ چھوٹا بچہ ہے جو نابالغ ہو خواہ سمجھ دار ہو اور کافر، کافر کو اٹھائے مسلمان کو نہ اٹھائے کیونکہ کافر کی مسلمان پر ولایت نہیں ہے اور مسلمان کافر اور مسلمان دونوں کو اٹھا سکتا ہے۔ (ہدایۃ المجتہد ج ٢ ص ٢٣٢) 

لقیط کے شرعی احکام

ملک العلماء علامہ علاء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی الحنفی المتوفی ٥٨٧ ھ لکھتے ہیں : غلام اور آزاد ہونے کے اعتبار سے لقیط کا حکم یہ ہے کہ وہ آزاد ہے، کیونکہ حضرت عمر اور حضرت علی (رض) نے لقیط کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ وہ آزاد ہے اور اس لیے بھی کہ اولاد آدم میں اصل یہ ہے کہ وہ آزاد ہیں کیونکہ غلامی تو ان کو کافروں کی حمایت میں لڑنے اور پھر جنگی قیدی ہونے کی وجہ سے عارضی ہوتی ہے اس لیے اصل پر عمل کرنا واجب ہے اور اس پر وہ تمام احکام لاگو ہوں گے جو آزاد انسانوں پر لاگو ہوتے ہیں اور اسلام اور کفر کے اعتبار سے لقیط کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ مسلمانوں کے شہروں یا ان کے مضافات میں ملا ہے تو وہ مسلمان قرار دیا جائے گا حتیٰ کہ اگر وہ مرگیا تو اس کو غسل دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گیا اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا اور اگر اس کو ذمی نے یہودیوں یا عیسائیوں کی کسی عبادت گاہ میں پڑا ہوا پایا یا وہ ذمیوں کی کسی بستی میں ملا جس میں کوئی مسلمان نہیں تھا تو اس کو ظاہر حال کے اعتبار سے ذمی قرار دیا جائے گا اسی طرح اگر اس کو مسلمان نے کسی یہودیوں یا عیسائیوں کے معبد میں پایا یا اہل ذمہ کی بستی میں پایا تو اس کو ذمی قرار دیا جائے گا۔ اور اس کے نسب کے اعتبار سے حکم یہ ہے کہ وہ مجہول النسب ہے حتیٰ کہ اگر انسان نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کے نسب سے ہے تو اس کا دعویٰ صحیح قرار دیا جائے گا اور اس کا اس سے نسب ثابت ہوجائے گا۔ اس کو زمین سے اٹھانے کا حکم یہ ہے کہ اس کا اٹھانا مستحب ہے کیونکہ حضرت علی (رض) نے لقیط کے اٹھانے کو نیک کام قرار دیا بلکہ اس کو بہت افضل نیکی قرار دیا کیونکہ لقیط ایک نفس انسان ہے اور اس کا کوئی محافظ نہیں بلکہ وہ ضائع ہونے کے خطرہ میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس شخ صنے ایک انسان کی زندگی بچائی گویا اس نے تمام انسانوں کی زندگی بچائی۔ (المائدہ : ٣٢) لقیط کو رکھنے کے اعتبار سے حکم یہ ہے کہ جس شخص نے اس کو اٹھایا ہے وہ اس کو رکھنے کا زیادہ حق دار ہے اور کسی دوسرے کے لیے لقیط کو اس سے لینا جائز نہیں ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے جس شخص نے کسی مردہ زمین کو آباد کیا وہ اس کی ہے اور اس کے خرچے کے اعتبار سے حکم یہ ہے کہ اس کا خرچ بیت المال کے ذمہ ہے اور اگر لقیط کے ساتھ کچھ مال بندھا ہوا ملے تو وہ لقیط کا ہے جیسے اس کے جسم کے کپڑے اس کی ملکیت ہیں اور اگر وہ کسی سواری پر بندھا ہوا ملے تو سواری بھی اس کی ملکیت ہے اور پھر سواری کو بیچ کر اس کا خرچ پورا کیا جائے گا کیونکہ بیت المال سے ضرورت کی بناء پر خرچ لیا جاتا ہے اور اب ضرورت نہیں ہے اور اس کی جان اور اس کے مال میں اس کا ولی سلطان ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔ (بدائع الصنائع ج ٨ ص ٣٢٣۔ ٣١٨، ملخصاً ، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ) 

لقطہ کا لغوی معنی

علامہ سید محمد مرتضیٰ زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : لقطہ اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی شخص کو راستہ میں گری پڑی مل جائے اور معرف اس شخص کو کہتے ہیں جو گری پڑی چیز کو اٹھانے والا ہو اور اگر راستہ میں کوئی بچہ پڑا ہوا مل جائے تو اس کو لقیط کہتے ہیں۔ (تاج العروس ج ٥ ص ٢١٧۔ ٢١٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٠ ھ) 

لقطہ کے متعلق احادیث

حضرت زید بن خالد جہنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے لقطہ کے متعلق سوال کیا آپ نے فرمایا : اس (تھیلی) کے باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کو پہچان کردیا رکھو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو اگر اس کا مالک آجائے تو فبہا ورنہ اس کو تم رکھ لو۔ اس شخص نے پوچھا : اور گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ تمہاری یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی۔ اس نے پوچھا : اور گم شدہ اونٹ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : تمہیں اس سے کیا مطلب ؟ اس کے ساتھ اس کی مشک (پیٹ میں پانی) ہے اور اس کا جوتا بھی اس کے ساتھ ہے وہ پانی کے گھاٹ پر جائے گا اور درختوں کے پتے کھائے گا حتیٰ کہ اس کا مالک آکر اس کو پکڑ لے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٢٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٢٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٤٠٧، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٣٧٢، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٥٨١٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٠٤، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٢٩٧٥، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٨٦٠٢، مصنف ابن ابی شیبہ ج ص ٤٥٦، مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٨١٦، مسند احمد ج ٤ ص ١١٦، منسد ابو عوانہ ج ٤ ص ٣٩، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٨٩٣، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٥٢٥١، سنن الدار قطنی ج ٤ ص ٢٣٥، سنن بیہقی ج ٦ ص ١٨٥، شرح السنہ رقم الحدیث : ٢٢٠٧)

حضرت سوید بن غفلہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت زید بن صوحان اور حضرت سلمان بن ربیعہ جہاد کے لیے گئے۔ مجھے ایک چابک پڑا ہوا ملا میں نے اس کو اٹھا لیا، ان دونوں نے مجھ سے کہا : اس کو چھوڑ دو ، میں نے کہا نہیں میں اس کا اعلان کروں گا اگر اس کا مالک آگیا تو فہبا ورنہ میں خود اس سے فائدہ اٹھائوں گا اور میں نے ان دونوں کی بات نہیں مانی۔ جب ہم جہاد سے واپس لوٹے تو میں خوش قسمتی سے حج کے لیے چلا گیا اور پھر میں مدینہ آیا تو میری ملاقات حضرت ابی بن کعب (رض) سے ہوئی۔ میں نے ان کو چابک اٹھانے اور ان دونوں کے نع کرنے کا قصہ سنایا انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں مجھے ایک تھیلی ملی تھی جس میں سو دینار تھے میں اس کو لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا : اس کا ایک سال تک العان کرو انہوں نے کہا پھر میں نے اس کا اعلان کیا لیکن اس کی شناخت کے لیے کوئی نہیں آیا۔ میں دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا : اس کا ایک سال تک (اور) اعلان کرو انہوں نے کہا میں نے اس کا اعلان کیا اور کوئی اس کی شناخت کے لیے نہیں آیا پھر آپ نے فرمایا ان کے عدد، ان کی تھیلی اور اس کی ڈوری کی پہچان کو یاد رکھو اگر اس کا کوئی مالک آجائے تو فبہا ورنہ تم اس سے فائدہ اٹھا لینا پھر میں نے ان سے فائدہ اٹھایا۔ سوید بن غفلہ کہتے ہیں اس کے بعد میری حضرت ابی بن کعب سے مکہ میں ملاقات ہوئی انہوں نے کہا مجھے یاد نہیں تین سال تھے یا ایک سال۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٢٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٢٣، سنن ابودائو رقم الحدیث : ١٧٠١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٣٧٤، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٥٨٢٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٠٦، مصنف عبدالرزق رقم الحدیث : ١٨٦١٥، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٤ ص ٤٥٤، مسند احمد ج ٥ ص ١٦٢، مسند عبد بن حمید رقم الحدیث : ١٦٢، المنتقفیٰ رقم الحدیث : ٦٦٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٨٩٢، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٤٨٩٤، السنن الکبریٰ للبیہقی ج ٦ ص ١٩٧، ١٩٢) 

لقطہ کو اٹھانے کے حکم میں مذاہب فقہاء

علامہ موفق الدین ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : امام حمد بن حنبل (رح) نے فرمایا ہے کہ لقطہ کا نہ اٹھانا افضل ہے۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت جابر، ابن زید، ربیع بن خیشم اور عطاء کا بھی یہی نظریہ ہے۔ قاضی شریح نے ایک درہم گرا ہوا دیکھا اور اس سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ امام شافعی اور ابو الخطاب کا قول یہ ہے کہ اگر کوئی چیز ایسی جگہ پڑی ہے جہاں اس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو اور اس شخص کو اپنے اوپر یہ اطمینان حاصل ہو کہ وہ اس چیز میں خیانت نہیں کرے گا تو اس شخص کے لیے اس چیز کو اٹھانا افضل ہے۔ امام شافعی کا دوسرا قول یہ ہے کہ اس شخص پر اٹھانا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : والمومنون والمومنات بعضھم اولیاء بعض (توبہ : ٧١) مسلمان مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ تو ان پر ایک دوسرے کی چیزوں کی حفاظت واجب ہے۔ سعید بن مسیب، حسن بن صالح اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک بھی لقطہ کو اٹھانا واجب ہے۔ (امام ابو حنفیہ کے نزدیک لقطہ کو اٹھانا واجب نہیں، مستحب ہے… سعیدی غفرلہ) حضرت ابی بن کعب اور حضرت سوید بن غفلہ (رض) نے لقطہ کو اٹھیا ا تھا۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اہم اور قیمتی چیز ہو تو اس کو اٹھانا مستحب ہے اور وہ اٹھا کر اس کا اعلان کرے کیونکہ اس میں مسلمان کے مالک کی حفاظت ہے اور یہ اس کو ضائع کرنے سے بہتر ہے۔ علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : ہامری دلیل حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے اور صحابہ میں سے کسی نے ان کے قول کی مخالفت نہیں کی نیز لقطہ کو اٹھا کر اپنے آپ کو حرام کھانے اور اعلان نہ کر کے ترک واجب کے خطرہ میں ڈالنا ہے۔ اس لیے زیادہ محفوظ اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ لقطہ کو نہ اٹھایا جائے جس طرح یتیم کے مال کا ولی نہ بننا بہتر ہے اور یہ خیال کہ لقطہ نہ اٹھانے سے ایک مسلمان کے مال کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے اس لیے سودمند نہیں ہے کہ بھولے بھٹکے اونٹ وغیرہ کو بھی لے جانا جائز نہیں ہے حالانکہ مال ضائع ہونے کا خطرہ اس میں بھی ہے۔ (المغنی ج ٥ ص ٢١٧۔ ٢١٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٠٥ ھ) 

لقطہ کو اٹھانے کے حکم میں فقہاء احناف کا موقف

شمس الائمہ سرخسی حنفی لکھتے ہیں : لقطہ کو اٹھانے کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض فلسفی علماء یہ کہتے ہیں کہ لقطہ کو اٹھانا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بلا اجازت غیر کے مال کو اٹھانا ہے اس لیے اس پر ہاتھ بڑھانا جائز نہیں ہے اور بعض متقدمین ائمہ تابعین نے یہ کہا ہے کہ ہرچند کہ لقطہ کو اٹھانا جائز ہے لیکن اس کو اٹھانا افضل ہے کیونکہ جس شخص کی چیز گری ہے وہ اس کو اسی جگہ ڈھونڈے گا جس جگہ وہ چیز گری تھی اور جب اس چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا تو اس کا مالک اسی جگہ سے آکر اپنی چیز اٹھالے گا دوسری وجہ یہ ہے کہ چیز اٹھانے کے بعد یہ خطرہ موجود ہے کہ اٹھانے والے کی نیت بدل جائے اس لیے لقطہ کو اٹھانا اپنے آپ کو فتنہ میں ڈالنے کے مترادف ہے اس لیے لقطہ کو نہ اٹھانا افضل ہے۔ شمس الائمہ سرخسی لکھتے ہے پ ہمارے فقہاء رحمہم اللہ کا مسلک یہ ہے کہ لقطہ کو اٹھانا اس کے نہ اٹھانے سے افضل ہے کیونکہ اگر وہ اس کو نہیں اٹھائے گا تو اس کا کدشہ ہے کہ کوئی شخص اس کو اٹھا کر مالک سے چھپالے گا اور جب وہ اس کو اٹھائے گا تو اس کا اعلان کر کے اس چیز کو اس کے مالک تک پہنچا دے گا نیز وہ اس لقطہ کو اٹھا کر امانت کی طرح اس کی حفاظت کرے گا اور امانت کی ادائیگی کا التزام کرنا فرض ہے اور اس کو اس میں وہی ثواب ملے گا جو امانت کو ادا کرنے کا ملتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ان اللہ یا مر کم ان تودو الامانت الی اھلھا۔ (النساء : ٥٨) بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچا دو ۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنا ثواب کا موجب ہے۔ (المبسوط ج ١١ ص ٢، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ١٣٩٨ ھ) 

لقطہ کی اقسام اور ان کے احکام

شمس الائمہ سرخسی حنفی لکھتے ہیں : لقطہ کی دو قسمیں ہیں : ایک قسم وہ ہے جس کے بارے میں یہ علم ہوتا ہے کہ اس چیز کا مالک اس چیز کو طلب نہیں کرے گا جیسے گٹھلیاں، انار کے چھلکے (ردی کاغذ، خالی ڈبے، خالی بوتلیں اور ردی کپڑے وغیرہ) دوسری قسم وہ ہے جس کے بارے میں علم ہوتا ہے کہ اس کا مالک اس کو طلب کرے گا۔ (جیسے قیمتی اشیاء) قسم اول کا حکم یہ ہے کہ اس کا اٹھانا اور اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے۔ البتہ اگر اس چیز کے مالک نے اس چیز کو اٹھانے والے کے ہاتھ میں دیکھ لیا تو وہ اس سے لے سکتا ہے کیونکہ مالک کا اس چیز کو پھینک دینا اٹھانے والے کے لیے نفع حاصل کرنے کی اباحت کا سبب تھا اس کی طرف سے تملیک نہیں تھی کیونکہ مجہول کو مالک بنان صحیح نہیں ہوتا اور اباحت کے بعد بھی مالک کی ملکیت اس چیز سے منقطع نہیں ہوتی البتہ جس شخص کو مباح چیز ملی ہے وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن مالک کی ملکیت اس چیز کے ساتھ قائم رہتی ہے اور وہ جب چاہے اس چیز کو لے سکتا ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے مال کو بعینہ پالیا وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ امام ابو یوسف سے یہ روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک مردار بکری پھینک دی اور کسی شخص نے اس کا اون اتار لیا تو وہ اس سے نفع حاصل کرسکتا ہے اور اگر بکری کے مالک نے اس کے ہاتھ میں اون دیکھ لیا تو وہ اس کو لے سکتا ہے اور اگر کسی شخص نے اس بکری کی کھال اتار کر اس کو رنگ لیا تو اب بھی اس کا مالک اس کھال کو لے سکتا ہے لیکن اس کو رنگنے کے پیسے دینے پڑیں گے۔ لقطہ کی دوسری قسم جس کے بارے میں یہ علم ہوا کہ اس کا مالک اس کو طلب کرے گا اس کا حکم یہ ہے کہ جو شخص اس چیز کو اٹھائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے اور اس پر اس کا اعلان کرنا لازم ہے تاکہ وہ اس چیز کو اس کے مالک تک پہنچا سکے۔ امام محمد نے ابراہیم سے روایت کیا کہ لقطہ کا ایک سال تک اعلان کرے، اگر اس کا مالک آجائے تو فبہا ورنہ اس چیز کو صدقہ کر دے صدقہ کے بعد اگر اس کا مالک آگیا تو اس کو ختیار ہے اگر وہ چاہے تو اس صدقہ کو برقرار رکھے اور اگر چاہے تو وہ لقطہ اٹھانے والے کو اس صدقہ کا ضامن کر دے۔ امام محمد نے ابراہیم نخعی کے اس قول کو بطور دلیل کے ذکر نہیں کیا کیونکہ امام ابوحنیفہ (رح) تابعین کی تقلید نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے ھم رجال و نحن رجال ” وہ بھی انسان ہیں اور ہم بھی انسان ہیں “ لیکن اصل سبب یہ ہے کہ ابراہیم نخعی اپنے فتاویٰ میں حضرت علی اور حضرت ابن مسعود (رض) کے اقوال پر اعتماد کرتے تھے اور اہل کوفہ کی فقہ کا مدار انہی حضرات پر تھا ابراہیم نخعی باقی فقہا کی بہ نسبت حضرت علی اور حضرت ابن مسعود کے اقول کو زیادہ جاننے والے تھے یہی وجہ ہے کہ امام محمد کی کتاب ابراہیم نخعی کے اقوال سے بھری ہوئی ہے۔ بہرحال اس حدیث میں ہے کہ اٹھانے والا لقطہ کا اعلان کرے اور ہر چیز میں ایک سال کی مدت لازم نہیں ہے، چیز کا اٹھانے والا خود اندازہ کرے کہ اس کا مالک کتنی مدت تک اس چیز کو ڈھونڈتا رہے گا اتنی مدت تک وہ اس چیز کا اعلان کرتا رہے اور اس کا اندازہ اس چیز کی قیمت اور حیثیت سے ہوگا حتیٰ کہ فقہاء کہتے ہیں کہ دس درہم بھی اہم اور قیمتی ہیں کیونکہ دس درہم کی چوری کے عوض چور کا ہاتھ کا لے دیا جاتا ہے اور اگر لقطہ دس درہم سے کم ہو تو تین درہم تک ایک ماہ اعلان کرے اور اگر تین درہم سے کم ہو تو ایک درہم تک ایک ہفتہ اعلان کرے اور ایک درہم سے کم میں ایک دن اعلان کرے اور اگر ایک پیسہ کی چیز ہو تو دائیں بائیں مالک کو دیکھے اور پھر وہ چیز کسی فقیر کے ہاتھ پر رکھ دے۔ ان مدتوں میں سے کوئی مدت بھی لازم نہیں ہے کیونکہ رائے سے کسی مدت کو معین نہیں کیا جاسکتا لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اعلان اس وجہ سے کیا جاتا ہے کہ اس چیز کا مالک اس چیز کو طلب کرے گا اور ہمارے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ اس چیز کا مالک اس کو کب تک طلب کرتا رہے گا ؟ اس لیے کسی چیز کے بارے میں ملتقط اپنی غالب رائے سے فیصلہ کرے یعنی وہ یہ سوچے کہ اگر ایسی چیز گم ہوج ائے تو اسکا مالک کتنی مدت تک اس چیز کو تلاش کرتا رہے گا اور جتنی مدت پر اس کا غلبہ ظن ہو اتنی مدت تک اعلان کرتا رہے۔ (المبسوط ج ١١ ص ٢٠٣، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ١٣٩٨ ھ) لقطہ کا اعلان کرنے کے مقامات اور طریقہ کار علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں کہ لقطہ کا اعلان بازاروں میں، عام مساجد کے دروازوں اور جامع مسجدوں کے دروازوں پر ان اوقات میں کیا جائے جن اوقات میں لوگ بکثرت جمع ہوتے ہیں اسی طرح جن مجالس میں لوگ جمع ہوتے ہیں وہاں بھی اعلان کیا جائے کیونکہ مقصود اس چیز کا اظہار ہے کہ فلاں چیز گم ہوگئی ہے تاکہ اس کے مالک کو پتا چل جائے اس یے لوگوں کے جمع ہونے کی مجالس کو تلاش کرنا چاہیے۔ یہ اعلان ماسجد میں نہ کیا جائے کیونکہ مساجد اس لیے نہیں بنائی گئی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی آدمی کو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنا اس کو چاہیے کہ یوں کہے کہ اللہ تمہاری اس چیز کو واپس نہ کرے کیونکہ مساجد اس لیے نہیں بنائی گئیں اور حضرت عمر (رض) نے لقطہ اٹھانے والے شخص سے فرمایا : اس کا مسجد کے دروازہ پر اعلان کرو۔ لقطہ اٹھانے والا خود بھی لقطہ کا اعلان کرسکتا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس کے لیے کسی اور شخص کو مقرر کر دے اگر کوئی شخص ازخود ملنقط کی طرف سے اعلان کرے تو فبھا ورنہ ملنتقط خود اعلان کرے کیونکہ اصل میں اعلان کرنا لقطہ اٹھانے والے پر واجب ہے اور اگر وہ اجرت دے کر کسی سے اعلان کرائے تو یہ بھی جائز ہے۔ اس میں امام احمد، امام شافعی، امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اعلان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ صرف لقطہ کی جنس کا ذکر کرے مثلاً یوں کہے کہ کسی شخص کا سونا گم ہوگیا ہے ؟ یا چاندی یا درہم یا دینار علی ہذا القیاس۔ اس چیز کی صفات اور علامات نہ بتلائے تکاہ کوئی غیر شخص اس کو حاصل کرنے کی جرأت نہ کرے۔ (المغنی ج ٦ ص ٥۔ ٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٠٥ ھ) 

لقطہ کے اعلان کی مدت میں مذاہب فقہاء

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں کہ لقطہ کے اعلان کی مدت ایک سال ہے۔ حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) سے یہی روایت ہے۔ ابن مسیب، شعبی، امام مالک، امام شافعی اور اصحاب رائے کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت عمر سے دوسری روایت ہے کہ تین ماہ تک اعلان کرے اور ایک اور روایت ہے کہ تین سال تک اعلان کرے کیونکہ حضرت ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں تین سال تک ایک سو دینار کے اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔ علامہ ابن قدامہ کہتے ہیں کہ ہماری دلیل یہ ہے کہ حدیث صحیح میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید بن خالد کو ایک سال تک اعلان کرنے کا حکم دیا تھا اور حضرت ابی بن کعب کی روایت کا جواب یہ ہے کہ راوی نے کہا مجھے پتا نہیں کہ تین سال کہا تھا یا ایک سال، امام ابودائود نے کہا کہ راوی کو اس میں شک ہے۔ (المغنی ج ٦ ص ٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٠٥ ھ) علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی لکھتے ہیں : لقطہ کا بازاروں میں اور مساجد کے دروازوں وغیرہ پر ایک سال تک اعلان کرے پہلے ہفتہ ہر دن صبح و شام اعلان کرے پھر ہر دن میں ایک مرتبہ پھر ہر ہفتہ میں پھر ہر مہینہ میں اور صحیح یہ ہے کہ جو چیز حقیر ہو اس کا اعلان ایک سال نہ کیا جائے بلکہ اتنی مدت تک اعلان کیا جائے جتنی مدت میں یہ گمان ہوجائے کہ اب مالک نے اس سے اعراض کرلیا ہوگا۔ (مغنی المحتاج ج ٢ ص ٤١٤۔ ٤١٢، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت) قاضی ابوالولید مالکی لکھتے ہیں کہ جو چیز قیمتی ہو اس کا اعلان ایک سال تک کیا جائے بشرطیکہ وہ مال غنیمت سے نہ ہو۔ (ہدایتہ المجتہد ج ٢ ص ٢٢٩، مطبوعہ دارالفکر بیروت) علامہ ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں : امام ابوحنیفہ سے یہ روایت ہے کہ اگر لقطہ دو سو درہم (٣٦، ٦١٢ گرام چاندی) یا اس سے زیادہ کی مالیت ہو تو ایک سال اعلان کیا جائے اور اگر دو سو درہم سے کم مالیت ہو تو دس درہم (٦١٨ ء ٣٠ گرام چاندی) تک ایک ماہ اعلان کیا جائے اور اگر دس درہم سے کم مالیت کی چیز ہو تو جتنی مدت مناسب سمجھے اعلان کرے اور ایک روایت یہ ہے کہ تین درہم (١٨٥٤ ء ٩ گرام چاندی) سے لے کر دس درہم (٦١٨ ء ٣٠ گرام چاندی) تک دس دن اعلان کرے اور ایک درہم (٠٦١٨ ء ٣ گرام چاندی) یا اس سے زیادہ ہو تو ایک درہم تک ایک دن اعلان کرے اور اگر ایک دانق سے کم ہو تو دائیں بائیں دیکھ کر کسی فقیر کے ہاتھ پر رکھ دے۔ علامہ سرخسی نے کہا ہے کہ یہ نصاب لازم نہیں ہے بلکہ قلیل میں اپنی صوابدید کے مطابق اعلان کرے۔ علامہ سرخسی نے گویا امام اعظم کی پہلی روایت کو لیا ہے اور ظاہر الراویہ جس کو امام محمد نے کتاب الاصل میں ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ قلیل اور کثیر میں فرق کے بغیر ایک سال اعلان کرے اور یہی امام مالک، امام شافعی (اور امام احمد) کا قول ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر کسی تفصیل اور فرق کے بیان فرمایا : منا لتقط شیئا فلیعرف سنۃ۔ جس کو کوئی چیز ملی ہو وہ اس کا ایک سال اعلان کرے۔ اور حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے بھی اسی طرح مروی ہے اور امام ابوحنیفہ سے جو پہلی روایت ہے کہ دو سو درہم یا زیادہ سے لے کر دس درہم تک ایک سال اعلان کرے اور دس درہم سے کم میں جتنی مدت تک مناسب سمجھے اعلان کرے اس کی دلیل یہ ہے کہ جن روایات میں ایک سال اعلان کرنے کا ذکر ہے وہ اس لقطہ کے بارے میں ہیں جو ایک سو دینار تھا جو ایک ہزار درہم کے مساوی ہے اور دس درہم یا اس سے زیادہ کی مالیت کی وجہ یہ ہے کہ مہر کی کم از کم مقدار نصاب سرقہ یعنی دس درہم ہے یعنی دس درہم شرعاً قیمتی مال ہے کیونکہ اس کے عوض چور کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور فرج حلال ہوجاتی ہے اس لیے دس درہم کی مالیت کے حکم کو بھی ایک ہزار درہم کے حکم یساتھ لاحق کردیا اور دس درہم سے کم کا چونکہ یہ مرتبہ نہیں ہے اس لیے اس کے اعلان کی مدت ایک سال نہیں رکھی بلکہ اس کو اعلان کرنے والے صوابدید پر چھوڑ دیا۔ (فتح القدیر ج ٥ ص ٣٥١۔ ٣٥٠، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر) 

آج کل کے دور میں لقطہ کے اعلان کا طریقہ کار ہرچند کہ ائمہ ثلاثہ اور امام ابوحنیفہ سے ظاہر الراویہ یہی ہے کہ دس درہم یا اس سے زیادہ کی مالیت کا ایک سال اعلان کرنا چاہیے لیکن چونکہ اس پر عمل کرنا دشوار ہے اس لیے امام ابوحنیفہ کی اس روایت پر عمل کرنا چاہیے جس کو علامہ ابن ہمام نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ایک دانق سے ایک درہم تک ایک دن اور ایک درہم سے تین درہم تک تین دن اور تین درہم سے لے کر دس درہم تک دس دن اعلان کرے اور دس درہم سے دو سو درہم تک ایک ماہ اعلان کرے اور دو سو درہم یا اس سے زائد ہو تو ایک سال اعلان کرے اور اس روایت کی دلیل یہ ہے کہ حدیث میں ایک ہزار درہم کی مالیت کے لقطہ کے بارے میں ایک سال اعلان کا حکم ہے اور دو سو درہم چونکہ نصاب زکوٰۃ ہے اس لیے دو سو درہم کی مالیت کو بھی اس کے ساتھ لاحق کیا ہے اور دو سو درہم سے کم مالیت کو اس کے ساتھ لاحق نہیں کیا اور اس کی اپنے اجتہاد سے مدت مقرر کی ہے نیز طبرانی میں کم چیز کے لیے تین دن اور چھ دن تک اعلان کا بھی ذکر ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ١٦٩) دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں وہاں اعلان کیا جائے اور آج کل لوگ بازاروں میں، مارکیٹوں میں اور تفریہ گاہوں میں زیادہ جمع ہوتے ہیں جب فقہاء نے یہ مسئلہ لکھا تھا اس وقت بہت چھوٹے چھوٹے شہر تھے اور زندگی اس قدر مصروف نہیں تھی اور اب کراچی ایسے شہر میں جو کئی ہزار مربع کلومیٹر رقبہ پر محیط ہے اور تقریباً ایک کروڑ انسانوں کی آبادی پر مشتمل ہے ایک آدمی کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ ایک سال یا ایک ماہ یا ایک ہفتہ تک روزانہ مارکیٹوں اور بازاروں میں جاکر کسی گم شدہ چیز کا اعلان کرتا پھرے۔ آج کل کے دور میں لقطہ کے اعلان اور تشہیر کی آسان اور قابل عمل صورت یہ ہے کہ جس شخص کو کوئی چیز ملی ہو وہ اس کا اعلان اخبارات، ریڈیو اور ٹیوی میں کرادے اور یہ ابلاغ عام کا بہت موثر ذریعہ ہیں۔ مثلاً کسی شخص کو کسی راستہ میں کوئی قیمتی پین یا گھڑی پڑی ملی ہے تو وہ یہ اعلان کر دے کہ مجھے فلاں دن فلاں جگہ اتنے وقت پر ایک پار کر، شیفر یا کروس کا پین پڑا ہوا ملا ہے، جس شخص کا وہ پین ہو وہ اس کی علامت اور نشانیاں بتا کر مجھ سے لے جائے۔ جب میں لاہور میں تھا تو ہمارے مدرسہ کے ایک طالب علم کو مسجد کے پاس ایک پار کر پین پڑا ہوا ملا، مجھے علم ہوا تو میں نے فوراً ایک طالب علم کے ذریعہ ” جنگ “ اخبار میں اس کا اعلان بھجوا دیا۔ دوسرے دن اس کا مالک آیا اور نشانیاں بتلا کر اپنا پین لے گیا۔ اگر ایک بار اعلان کے بعد لقطہ کا مالک نہ آئے تو سال میں کئی بار وقفہ وقفہ سے اعلان کرایا جاسکتا ہے یا یوں کرے کہ پہلے شہر میں شائع ہونے والے تمام اخبارات میں ایک ایک کر کے اعلان بھیجے مثلاً پہلے ” جنگ “ اخبار میں اعلان بھیجے، پھر ” نوائے وقت “ میں پھر ” مشرق “ میں، علی ھذا القیاس۔ اگر اس کا نتیجہ نہ نکلے تو پھر ریڈیو کی سٹی سروس میں اعلان کرائے اور اس کا نتیجہ نہ نکلے تو پھر ٹیوی کی سروس سے اعلان کرائے اور یہ بہت بعید ہے کہ ان تمام ذرائع ابلاغ سے اعلان کے بعد بھی مالک لقطہ کو وصول کرنے کے لیے نہ آئے اور اعلان کرنے والے کو چاہیے کہ ایک سال میں وقفہ وقفہ کے ساتھ ان تمام ذرائع سے اعلان کرائے تاکہ منشاء حدیث صوری اور معنوی دونوں طرح سے پورا ہوجائے اور اس کی حجت تمام ہوجائے اور ایک سال کے بعد بھی اگر مالک نہ آئے تو پھر وہ اس کو صدقہ کر دے۔ 

اعلان کی مدت پوری ہونے کے بعد لقطہ کے مصرف میں

فقہاء احناف کا نظریہ شمس الائمہ علامہ سر کسی حنفی لکھتے ہیں : اعلان کے بعد مالک آجائے تو ملنتقط لقطہ کو اس کے حوالے کر دے کیونکہ اعلان سے جو مقصود تھا وہ حاصل ہوگیا اور اگر مالک نہ آئے تو اس کو اختیار ہے خواہ لقطہ کو مالک کے انتظار میں محفوظ رکھے خواہ اس کو صدقہ کر دے کیونکہ اس کو محفوظ رکھنا عزیمت ہے اور ایک سال کے اعلان کے بعد اس کو صدقہ کردینا رخصت ہے اور ملنتقط کو رخصت اور عزیمت میں سے کسی ایک پر عمل کرنے میں اختیار ہے، صدقہ کرنے کے بعد اگر مالک آگیا تو پھر مالک کو اختیار ہے اگر وہ چاہے تو صدقہ کو برقرار رکھے اور اس کا ثواب مالک کو ہوگا اور اگر چاہے تو صدقہ کے تاوان میں لقطہ کا بدل لے لے اور یہ تاوان چاہے ملنتقط سے وصول کرے اور جا ہے تو اس مسکین سے وصول کرے جس کو صدقہ دیا گیا ہے اور جو بھی ضامن ہوگا وہ دوسرے سے اس کا تاوان وصول نہیں کرے گا (یہ حکم اس وقت ہے جب ملنتقط غنی ہو) اور اگر ملنتقط غریب ہو تو وہ ایک سال کے اعلان کے بعد اس کو خود خرچ کرسکتا ہے کیونکہ اس کو یہ اختیار تھا کہ وہ اس لقطہ کو کسی غریب پر صدقہ کر دے اور جب کہ وہ خود غریب ہے تو وہ لقطہ کو اپنے نفس پر بھی صدقہ کرسکتا ہے لیکن اگر ملنتقط غنی ہو تو ہمارے نزدیک وہ اس لقطہ کو اپنے نفس پر خرج نہیں کرسکتا اور امام شافعی کہتے ہیں کہ امیر بھی مدت گزرنے کے بعد اس کو اپنے اوپر خرچ کرسکتا ہے لیکن یہ اس کے اوپر قرض ہے اگر مالک آگیا تو اس کو وہ چیز دینا ہوگی۔ (المبسوط ج ١١ ص ٧، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت، ١٣٩٨ ھ) 

امام شافعی کے دلائل کے جوابات امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ حصرت ابی بن کعب غنی تھے اور سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تھا کہ اگر ایک سال اعلان کے بعد مالک نہ آئے تو لقطہ کو خرچ کرلینا اور ان کے گنی پر دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لقطہ کو اپنے مال کے ساتھ ملا لو، اس سے ثابت ہوا کہ وہ مالدار تھے۔ ہم اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے ان پر لوگوں کے اس قدر قرض ہوں کہ مالدار ہونے کے باوجود حکماً فقیر ہوں اس وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ لقطہ کو اپنے مال کے ساتھ ملالیں۔ امام طحاوی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ حضرت ابی بن کعب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے عبد غنی ہوئے تھے اور اس سے پہلے وہ فقیر (غریب) تھے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت ابو طلحہ (رض) اپنی زمین صدقہ کرنے لگے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : یہ زمین اپنے غریب رشتہ داروں کو دو ۔ سو انہوں نے وہ زمین حضرت حسان اور حضرت ابی بن کعب کو دے دی۔ علامہ ماردینی لکھتے ہیں کہ اس حدیث کو امام بیہقی نے باب الوصیتہ للقرابتہ میں ذکر کیا ہے اور امام بخاری نے اس حدیث کو تعلیقاً ذکر کیا ہے۔ (الجواہر النقی ج ٦ ص ١٨٦) اس سے واضح ہوگیا کہ جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ لقطہ کو اپنے مال کے ساتھ ملالیں اس وقت وہ غریب تھے اور ان پر صدقہ جائز تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ لقطہ کسی حربی کافر کا مال ہو جس کی حفاظت کی مسلمانوں پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور چونکہ اس مال پر حضرت ابی کے ہاتھ نے سبق کی تھی اس لیے آپ نے ان کو اس کا زیادہ حقدار قرار دیا اور سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کیونکہ آپ نے فرمایا : رزق ساقہ اللہ الیک۔ یہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہاری طرف بھیجا ہے۔ اور اس کے باوجود آپ نے ایک سال تک اس کے عدد اور تھیلی کے سربند کی پہچان کو یاد رکھنے کا احتیاطاً حکم دیا تاکہ اگر یہ مال محترم ہو تو وہ اس کو ادا کرسکیں۔ علامہ سرخسی لکھتے ہیں : اس مسئلہ میں ہماری دلیل یہ ہے کہ بکثرت احادیث اور آثار میں یہ وارد ہے کہ ایک سال اعلان کے بعد لقطہ کو صدقہ کردیا جائے۔ (ہم قنعریب ان احادیث اور آثار کو بیان کریں گے… سعیدی غفرلہ) نیز اصل مقصود یہ ہے کہ لقطہ کا ثواب اس کے مالک کو پہنچا دیا جائے۔ اگر غنی نے اس مال کو اپنے اوپر خرچ کرلیا تو یہ مقصود حاصل نہیں ہوگا بلکہ جب غنی اس مال کو اپنے اوپر خرچ کرے گا تو اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ وہ اس لقطہ کو اپنے لیے اٹھانے والا تھا اور اپنے لیے لقطہ کو اٹھانا اس کے لیے شرعاً ناجائز ہے۔ پس جیسا کہ ابتداء اس پر لازم تھا کہ وہ اس لقطہ میں اپنے تصرف کی نیت نہ کرے اس طرح انتہاء بھی اس پر لازم ہے کہ اس میں اپنے تصرف کی نیت نہ کرے۔ اس مسئلہ میں امام شافعی نے اس روایت سے بھی استدلال کیا ہے کہ حضرت علی کو ایک دینار پڑا ہوا ملا انہوں نے اعلان کے بعد اس کا طعام خرید لیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن ور حضرت حسین (رض) سب نے اس طعام کو کھایا۔ اگر لقطہ کو صدقہ کرنا ضروری ہوتا تو ملنتقط اس کو اپنے اوپر خرچ نہ کرسکتا تو یہ حضرات اس طعام کو نہ کھاتے کیونکہ ان پر صدقہ حلال نہیں تھا۔ اس روایت کا جواب یہ ہے کہ حضرت علی کو جو دینار پڑا ہوا ملا تھا وہ لقطہ نہیں تھا۔ اس دینار کو ایک فرشتہ نے اس لیے گرایا تھا کہ حضرت علی اس کو اٹھالیں، کیونکہ ان حضرات کو کئی دنوں سے کھانا نہیں ملا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس چیز کو وحی سے جان لیا تھا اسی وجہ سے ان سب نے اس کھانے کو کھالیا تھا ورنہ صدقہ واجبہ تو ان پر حلال نہیں تھا اسی وجہ سے حضرت علی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس دینار سے طعام خریدنے کی اجازت لی تھی۔ (المبسوط ج ١١ ص ٨۔ ٦، مطبوعہ دارالمعرفہ بیرو ١٣٩٨ ھ) 

لقطہ کو صدقہ کرنے کے وجوب کے متعلق احادیث اور آثار

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لقطہ کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایا : اس کا اعلان کرو اس کو غائب کرو نہ چھپائو اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو دے دو ورنہ یہ اللہ کا مال ہے وہ جس کو جا ہے عطا فرمائے۔ (مسند البزار رقم الحدیث : ١٣٦٧، علامہ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے تمام راوی صحیح ہیں، مجمع الزوائد ج ٤ ص ١٦٧) فقہاء احناف نے ” اللہ کے مال “ سے استدلال کیا ہے کیونکہ اصل اور قاعدہ یہ ہے کہ اللہ کا مال اس مال کو کہتے ہیں جو فقراء کو دیا جاتا ہے اور صدقہ کیا جاتا ہے اور اگر کسی جگہ مجازاً اس قاعدہ کے خلاف ہو جیسے واتوھم من مال اللہ الذی اتکم۔ (النور : ٣٣) تو یہ اس قاعدہ کے خلاف نہیں ہے اس لیے اس قاعدہ پر علامہ ابن قدامہ کا اعتراض صحیح نہیں ہے۔ حضرت جارود (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں سواریوں کی قلت تھی۔ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سواریوں کا ذکر کیا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم کو سواریوں کی قلت کا سامنا ہے آپ نے فرمایا : اس کا کیا حل ہوسکتا ہے ؟ میں نے کہا : ہم جنگل میں پھرنے والے مویشیوں سے کچھ اونٹ لے لیں اور ان سے فائدہ اٹھائیں۔ آپ نے فرمایا : نہیں ! مسلمان کی گم شدہ چیز جہنم کی آگ ہے، اس کے ہرگز قریب نہ ہو۔ (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ١٣١، مجمع الزوائد ج ٤ ص ١٦٧) حضرت علی (رض) نے نے لقطہ کے متعلق فرمایا : اس کا ایک سال اعلان کرے اگر اس کا مالک آجائے تو فبہا ورنہ اس کو صدقہ کر دے۔ (پھر اگر اس کا مالک آجائے) تو اس کو اختیار ہے چاہے وہ ملنتقط سے اس کا تاوان لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ امام محمد نے کہا : ہم اسی پر عمل کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ (کتاب الآثار ص ١٩٧، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ١٤٠٧ ھ) امام عبدالرزاق نے ایک طویل حدیث میں حضرت علی (رض) کا یہ ارشاد روایت کیا ہے حضرت علی نے فمرایا : اس کا اعلان کرو اگر اس کے مالک نے اس کو پہچان لیا تو اس کے دے دو ورنہ اس کو صدقہ کردو پھر اگر اس کا مالک آیا اور اس نے صدقہ کے اجر کو پسند کیا تو اس کی مرضی ورنہ تم اس کو تاوان دو اور تم کو اجر ملے گا۔ (المصنف ج ١٠ ص ١٣٩۔ ١٣٨، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٣٩٠ ھ) حضرت سوید بن غفلہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے لقطہ کے متعلق فرمایا کہ س کا ایک سال تک اعلان کرے اگر اس کا مالک آجائے تو فبہا ورنہ اس کو صدقہ کر دے اور اگر صدقہ کرنے کے بعد اس کا مالک آجائے تو اس کو اختیار دینا اگر وہ اجر کو اختیار کرے تو اس کی مرضی اور اگر وہ مال کو اختیار کرے تو اس کی مرضی۔ (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ١٣٩، بیروت، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٦ ص ٤٥٢، مطبوعہ کراچی) امام عبدالرزاق اور امام ابن ابی شیبہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا بھی یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر ایک سال تک اعلان کے بعد بھی مالک نہ آئے تو لقطہ کو صدقہ کردیا جائے (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ١٣٩ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٦ ص ٤٥٠۔ ٤٤٩) امام ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت ابن عمر (رض) کا یہ قول روایت کیا ہے کہ اگر ایک سال تک اعلان کے باوجود مالک کا پتا نہ چلے تو لطفہ کو صدقہ کردیا جائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٦ ص ٤٤٩، ٤٥٠، ٤٥١) 

حضرت ابی کی حدیث کی وضاحت اور فقہاء احناف کے جوابات کی تفصیل اور تنقیح ان تمام احادیث اور آثار سے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نظریہ کی تائید اور تقویت ہوتی ہے کہ اعلان کے بعد لقطہ کا صدقہ کرنا واجب ہے اور غنی کے لیے اسے اپنے نفس پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے اور ائمہ ثلاثہ نے حضرت ابی بن کعب کی جن روایات سے استدلال کیا ہے ہو مودل ہیں اور تاویل یہ ہے کہ حضرت ابی اس وقت خود صدقہ کے مستحق تھے اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں لقطہ کو خرچ کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ علامہ بدر الدین عینی حنفی نے اس حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ اگر بالفرض حضرت ابی اس وقت امیر ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انہیں خرچ کی اجازت دینا اس پر محمول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو وہ لقطہ بطور قرض دیا تھا اور امام کا لقطہ کو بطور قرض دینا جائز ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت ہو یا حضرت ابی کی خصوصیت ہود اور خصوصیت پر محمول کر کرنے کی دلیل یہ ہے کہ دوسری احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ملنتقط کے لیے لقطہ کے خرچ کرنے کو ناجائز قرار دیا ہے اور حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللہ ابن مسعود، حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت عبداللہ ابن عباس ایسے فقہاء صحابہ نے لقطہ کے صدقہ کرنے کو واجب کہا ہے اور ظاہر یہی ہے کہ انہوں نے یہ اپنی رائے سے نہیں کہا بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد اور آپ کی حدیث کی بنا پر کہا ہے۔ اسی طرح حضرت زید بن خالد جہنی (رض) کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سائل سے فرمایا : ایک سال کے بعد اگر مالک نہ آئے تو تم اس کو خرچ کرلینا اس حدیث سے ائمہ ثلاثہ کا مطلوب اس وقت ثابت ہوگا جب یہ ثابت ہوجائے کہ وہ سائل غنی تھا اور یہ ثابت نہیں ہے اس لیے اس حدیث سے ان کا استدلال ثابت نہیں ہے۔ حضرت ابی بن کعب کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے ائمہ ثلاثہ نے حضرت ابی کے غنا کو ثابت کرنے کے لیے اس سے استدلال کیا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تھا : ” اس کو اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔ “ اس کے جو جوابات ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں ان کے علاوہ ایک جواب یہ ہے کہ مان لیا کہ حضرت ابی کے پاس مال تھا لیکن اس سے یہ کب لازم آیا کہ وہ مال بقدر نصاب تھا جس نے ان کا غنی ہونا ثابت ہوجائے اس لیے حضرت ابی کی روایت سے بھی ان کا غنی ہونا ثابت نہیں ہوتا اور جب تک ان کا غنی ہونا ثابت نہ ہو ائمہ ثلاثہ کا مدلول ثابت نہیں ہوگا۔ ائمہ ثلاثہ نے حضرت ابی کو لقطہ کے خرچ کرنے کی اجازت سے جو استدلال کیا ہے اس کے جوابات کا خلاصہ یہ ہے کہ اولاً تو حضرت ابی کا غنا ثابت نہیں کیونکہ ان کے پاس مال ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ وہ مال بقدر ناصب ہو ثانیاً حضرت ابی زمانہ نبوی میں غریب اور صدقہ کے مستحق تھے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو طلحہ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ حضرت ابی پر بھی زمین صدقہ کریں جیسا کہ صحیح بخاری اور سنن بیہقی میں ہے ثالثاً اگر بالفرض وہ مالدار اور غنی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ وہ اتنے مقروض ہوں کہ خود صدقہ کے مستحق ہوں رابعا ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو وہ لقطہ بطور قرض دیا ہو خامساً ہوسکتا ہے کہ وہ لقطہ کسی کافر حربی کا مال ہو اس لیے ان کو خرچ کی اجازت دی ہو سادسایہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ان کی خصوصیت ہو یا بحیثیت امام آپ کی خصوصیت ہو سابعاً دوسری احادیث اور آثار صحابہ میں غنی پر لقطہ کے خرچ کی ممانعت ہے اور حضرت ابی کی روایت میں اس کی اباحت ہے اور جب تحریم اور اباحت میں تعارض ہو تو تحریم کو ترجیح ہوتی ہے۔ اس حدیث کی اس طرز سے جو تشریح کی گئی ہے اور ائمہ ثلاثہ کی دلیل کے جو جوابات ذکر کیے گئے ہیں اس سے فقہ حنفی کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فقہ حنفی کو زیادہ سے زیادہ فروغ عطا فرمائے۔ والحمد للہ رب العالمین۔ 

اونٹ پکڑنے کے متعلق سوال کرنے پر سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ناراض ہونے کی وجہ حضرت زید بن خالد جہنی (رض) کی روایت میں ہے کہ جب سائل نے گم شدہ چیز کا حکم معلوم کرلیا تو پھر سوال کیا : اگر بھولا بھٹکا اونٹ مل جائے تو ؟ اس سوال سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غضب ناک ہوئے حتیٰ کہ آپ کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہوگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غصہ میں آنے کی علماء نے مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ چونکہ پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ کے لینے سے منع فرما دیا تھا اور اب اس نے اونٹ کا سوال کیا اس لیے آپ ناراض ہوئے یا اس لیے کہ سائل نے صحیح قیاس نہیں کیا اور جس لقطہ کا لینا معین ہے اس پر اس کو قیام کیا جس کا لینا معین نہیں ہے۔ علامہ خطابی نے کہا ہے کہ آپ کو سائل کی کم فہمی پر غصہ آیا کیونکہ وہ لقطہ اٹھانے کی اصل وجہ کو نہیں سمجھا اور ایک چیز کو اس پر قیاس کیا جو اس کی نظیر نہیں تھی کیونکہ لقطہ اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی شخص سے گرجائے اور یہ پتا نہ چلے کہ اس کا مالک کہاں ہے اور اونٹ اس طرح نہیں ہے کیونکہ وہ اسم اور صفت کے اعتبار سے لقطہ کا مغائر ہے کیونکہ اس میں ایسی صلاحیت ہے کہ وہ ازخود مالک تک پہنچ سکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بکثرت سوال کرنے کی وجہ سے ناراض ہوئے ہو کیونکہ سائل کسی حقیقی پیش آمدہ مسئلہ کا حل نہیں پوچھ رہا تھا بلکہ محض فرضی صورتوں کا سوال کر رہا تھا۔ ائمہ حجاز نے یہ کہا ہے کہ اونٹ، گائے اور گھوڑے میں افضل یہ ہے کہ ان کو چھوڑ دیا جائے حتیٰ کہ وہ اپنے مالک کے پاس پہنچ جائیں۔ علامہ ابن ہمام نے کہا ہے کہ اس زمانے میں ان جانوروں کو لے جانا افضل ہے کیونکہ اب ایسا زمانہ ہے کہ اگر کوئی نیک آدمی ان کو مالک کے پاس پہنچانے کے لیے لے کر نہیں گیا تو کوئی چور اچکا ان کو لے کر چلا جائے گا۔ علامہ سرخسی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ کو لے جانے کے لیے جو منع فرمایا تھا یہ حکم اس زمانے میں تھا جب عام طور پر لوگ نیک اور امانت دار تھے لیکن اس زمانہ میں یہ اطمینان نہیں ہے کہ وہ اونٹ محفوظ رہے گا اور کوئی خائن شخص اس کو لے کر چلا نہیں جائے گا اس لیے اب اونٹ کو لے جانے میں اس کی حفاظت ہے اور اس کے مالک کے حق کو محفوظ رکھنا ہے۔ اس مسئلہ کی مزید تفصیل اور تحقیق کے لیے شرح صحیح مسلم جلد خامس کا مطالعہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 10