أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ يٰبُنَىَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلٰٓى اِخۡوَتِكَ فَيَكِيۡدُوۡا لَـكَ كَيۡدًا ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۞

ترجمہ:

(باپ نے) کہا اے میرے پیارے بیٹے ! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے بیشک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (باپ نے) کہا اے میرے پیارے بیٹے ! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے بیشک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (یوسف : ٥) 

بھائیوں کے خواب سنانے سے منع کرنے کا سبب

امام ابن جریر نے سدی سے روایت کیا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) جب شام آئے تو ان کی زیادہ توجہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی بن یامین کی طرف تھی اور جب ان کے بھائیوں نے حضرت یعقوب کی حضرت یوسف کی طرف زیادہ محبت دیکھی تو وہ حضرت یوسف سے حسد کرنے لگے اور جب حضرت یوسف نے یہ خواب بیان کیا کہ انہوں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور جاند کو انہیں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے تو انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو منع کیا کہ وہ اپنے بھائیوں کے سامنے یہ خواب بیان نہ کریں مبادا وہ ان کے خلاف کوئی سازش کریں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٤٤٨) 

کفار اور فساق کے خواب سچے ہونے کی توجیہہ

ہم نے خواب کے سلسلہ میں جواحادیثذکر کی ہیں ان میں یہ تصریح گزر چکی ہے کہ سچے اور نیک خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سچے خوابوں میں مستقبل میں ہونے والے کسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سچے خوابوں کے ذریعہ غیب پر مطلع کیا جاتا ہے اور غیب پر مطلع ہونا وظائف نبوت میں سے ہے، اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رویاء صادقہ اجزاء نبوت میں سے ہیں اور ان سے مومن کا ایمان مضبوط ہوتا ہے۔ ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ جب سچے خواب اجزاء نبوت سے ہیں اور اللہ کی جانب سے ہوتے ہیں تو پھر سچے خواب کافروں اور جھوٹوں کو نہیں دکھائی دینے چاہیں حالانکہ بعض کافروں اور بدکاروں کو بھی سچے خواب دکھائی دے جاتے ہیں جیسے عزیز مصر نے سات گایوں کو دیکھا تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جو دو شخص قید میں تھے انہوں نے بھی سچے خواب دیکھے تھے اور بخت نصر نے خواب دیکھا تھا جس کی حضرت دانیال نے یہ تعبیر بتائی تھی کہ اس کے ہاتھ سے ملک جاتا رہے گا اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور کے متعلق کسریٰ نے خواب دیکھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی عاتکہ نے کفر کی حالت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلبہ کے متعلق خواب دیکھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کفار، فساق اور جھوٹوں کے خواب بعض اوقات صادق ہوئے ہیں مگر یہ وحی سے نہ تھے نہ آثار نبوت سے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ شخص جس کی کوئی بات سچی نکل آئے تو وہ اطلاع علی الغیب پر مبنی ہو اور بعض اوقات کاہن وغیرہ بھی سچی پیش گوئیاں کردیتے ہیں لیکن ایسا بہت قلیل اور نادرا ہوتا ہے۔ اس طرح کفار اور فساق کے خواب بھی بعض اوقات سچے نکل آتے ہیں اور کسی چیز کی کثرت پر حکم لگایا جاتا ہے قلت پر حکم نہیں لگایا جاتا۔ 

صرف ہمدرد اور خیرخواہ کے سامنے خواب بیان کیا جائے

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نصیحت کی کہ وہ اپنے بھائیوں کے سامنے یہ خواب نہ بیان کریں اس سے یہ قاعدہ معلوم ہوا کہ اس شخص کے سامنے خواب نہ بیان کیا جائے جو شفیق اور خیرخواہ نہ ہو اور نہ اس شخص کے سامنے خواب بیان کیا جائے جس کو خواب کی تعبیر بیان کرنے کا علم نہ ہو صحیح حدیث میں ہے : حضرت ابور زین عقیلی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کا خواب نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے اور جب تک اس خواب کو بیان نہ کیا جائے، یہ پرندے کی ٹانگ پر معلق ہوتا ہے اور جب اس کو بیان کردیا جائے تو پھر یہ ساقط ہوجاتا ہے اور خوب صرف عقل مند شخص اور دوست کو بیان کیا جائے۔ امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٧٩، ٢٢٧٨، سنن ابودائود الطیاسی رقم الحدیث : ١٠٨٨، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١، ص ٥٠، مسند احمد ج ٤، ص ١٣، ١٢، ١٠، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢١٥٤، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٠٤٩، المعجم الکبیر ج ١٩ رقم الحدیث : ٤٦٤، ٤٦٢، ٤٦١، المستدرک ج ٤، ص ٣٩٠، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٢٨٢، ٣٢٨١)

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ خواب کو قرار نہیں ہوتا جیسے کوئی چیز پرندے کی ٹانگ پر باندھی ہوئی ہو یعنی جب تک اس کی تعبیر بیان نہ کردی جائے اس کو قرار نہیں ہوتا جیسا کہ پرندہ کو اکثر حالات میں قرار نہیں ہوتا تو جو چیز اس کی ٹانگ پر معلق ہو اس کو کس طرح قرار ہوگا اور جب اس کی تعبیر بیان کردی جائے تو وہ ساقط ہوجاتا ہے یعنی خواب دیکھنے والے کو اس کا حکم لاحق ہوجاتا ہے اور آپ نے فرمایا : اس کی تعبیر صرف صاحب عقل سے معلوم کی جائے کیونکہ وہ اس کی اچھی اور پسندیدہ تعبیر بیان کرے گا اور اگر اس کے نزدیک اس کی تعبیر ناپسندیدہ ہوگی تو خاموش رہے گا اور فرمایا : یا یہ خواب صرف دوست یعنی خیرخواہ سے بیان کیا جائے کیونکہ وہ اس خواب کی وہی تعبیر بیان کرے گا جو باعث مسرت ہو۔ عمداً خواب کی غلط تعبیر بیان نہ کرے علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : امام مالک سے پوچھا گیا کیا ہر شخص خواب کی تعبیر بیان کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : کیا نبوت کو کھیل بنایا جائے گا اور امام مالک نے فرمایا : وہی شخص خواب کی تعبیر بیان کرے جس کو خواب کی تعبیر بیان کرنے کا علم ہو اگر اس کے نزدیک خواب کی تعبیر بری ہو لیکن وہ خواب کی اچھی تعبیر بتادے۔ امام مالک نے فرمایا : نہیں، خواب نبوت کا ایک جز ہے پس نبوت کو کھیل نہ بنایا جائے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١١٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

کسی کو ضرر سے بچانے کے لیے دوسرے کے عیب بیان کرنے کا جواز

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ : مسلمان شخص اپنے مسلمان بھائی کے لیے جس چیز سے خطرہ محسوس کرے اس سے اس کو آگاہ کر دے اور یہ غیبت نہیں ہے کیونکہ غیبت وہ ہوتی ہے کہ کسی مسلمان شخص کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے اس کے پس پشت اس کا وہ عیب بیان کرے جس کو وہ مخفی رکھتا ہو اور یہاں مقصود کسی کو ذلیل اور رسوا کرنا نہیں بلکہ ایک مسلمان شخص کو دوسرے کے ضرر سے بچانا مقصود ہے کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں کے سامنے یہ خواب بیان کرنے سے منع کیا تاکہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خلاف کوئی سازش نہ کریں اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے فرمایا : ابو جہم سے رشتہ کا پیغام قبول نہ کرو کیونکہ وہ کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتا اور معاویہ کا پیغام قبول نہ کرو کیونکہ وہ مفلس ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١١٣٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٨٠، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٢٨٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٥٤٦) 

حسد کے خطرہ سے نعمتوں کے چھپانے کا جواز

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : واما بنعمۃ ربک فحدث۔ الضحیٰ : ١١) اور اپنے رب کی نعمت کا خوب بیان کریں۔ اور سورة یوسف کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ نعمت کے بیان اور اظہار کا یہ حکم علی الاطلاق نہیں ہے جس شخص کو یہ خطرہ ہو کہ اگر حاسدوں کو اس نعمت کا پتا چل گیا تو وہ اس سے حسد کریں گے اور اس کے خلاف سازشیں کریں گے تو اس کو چاہیے کہ وہ نعمت کو چھپالے اور کسی کے سامنے اس کا اظہار نہ کرے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے :

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی ضروریات کی تکمیل پر مخفی رکھنے سے مدد طلب کرو کیونکہ ہر صاحب نعمت سے حسد کیا جاتا ہے۔ (المعجم الصغیر رقم الحدیث : ١١٨٦، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٤٧٦، المعجم الکبیر ج ٢٠، ص ٩٤، حلیتہ الاولیاء ج ٥، ص ٢١٦، تنزیہ الشریعہ ج ٢، ص ١٣٥ الکامل فی ضعفاء الرجال ج ٣، ص ٢٣٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٤، شعب الایمان رقم الحدیث : ٦٦٥٥، کتاب الضعفاء للعقیلی ج ٢، ص ١٠٩، تاریخ بغداد ج ٨، ص ٥٧، مجمع الزوائد ج ٨، ص ١٩٤، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٩٨٥، الفوائد المجمعہ رقم الحدیث : ٧٠، ٢٦١ تذکرۃ الموضوعات ص ٢٠٥، اللالی المصنوعہ ج ٢، ص ٢٤٣، الاحادیث الصحیحہ للالبانی رقم الحدیث : ٤٥٣، صحیح الجامع للالانی ج ١، ص ٩٤٣) 

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سربلندی اور ان کے بھائیوں کے حسد کا پیشگی علم ہونا

اس آیت میں یہ دلیل بھی کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو خواب کی تعبیر کا علم تھا کیونکہ ان کو اس علم کے ذریعہ یہ معلوم تھا کہ عنقریب حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائیوں پر غلبہ حاصل کرلیں گے اور انہوں نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خود ان پر بھی تفوق حاصل ہوجائے گا کیونکہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اس سے بہتر منصب پر فائز ہو البتہ کوئی شخص یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کا بھائی اس سے مرتبہ اور منصب میں بڑھ جائے۔ اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان سے حسد کرتے ہیں اور ان سے بغض رکھے ہیں اس لیے انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو منع کیا کہ وہ یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کریں کیونکہ ان کو خطرہ تاکہ اس خواب کو سن کر ان کے دلوں میں کینہ اور بغض پیدا ہوگا اور وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ہلاک کرنے کے لیے سازشیں کریں گے۔ 

سچے خوابوں کے بشارت ہونے کی تفصیل

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : نبوت سے اب صرف بشارتیں باقی رہ گئی ہیں : صحابہ نے پوچھا : بشارتوں سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : سچے خواب ! امام ابن ماجہ کی روایت میں ہے : وہ خواب مسلمان کود دیکھتا ہے یا کوئی شخص اس کے لیے دیکھتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٩٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٩٩، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٨٣٩، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٤٨٩، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١، ص ٢٤٩، ٢٤٨، مسند احمد ج ١ ص ٢١٩، سنن الدارمی رقم الحدیث : ١٣٣١، ١٣٣٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٨٧٦، امنتقی رقم الحدیث : ٢٠٣، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٥٤٨، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٣٨٧، مسند ابو عوانہ ج ٢، ص ١٧٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١٨٩٦، السنن الکبریٰ للبیہقی ج ٢، ص ٨٧، شرح السنہ رقم الحدیث : ٦٢٦)

اس حدیث کا ظاہر معنی یہ ہے کہ سچے خواب نبوت کا جز ہیں اور اس سے یہ لازم آئے گا کہ سچے خواب دیکھنے والے میں نبوت کا ایک جز پایا جائے اور اس کو نبی کہا جائے، اس کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کا جز اس چیز کے وصف کو مستلزم نہیں ہوتا مثلاً بلند آواز سے اشھدان لا الہ اللہ پڑھنا اذان کا جز ہے لیکن جو آدمی صرف یہ کلمہ بلند آواز سے پڑھے، اس کو موذن نہیں کہا جائے گا اسی طرح کھڑے ہو کر قرآن کریم پڑھنا نماز کا جز ہے لیکن جو شخص صرف کھڑے ہو کر قرآن مجید پڑھے اس کو نمازی نہیں کیا جائے گا اسی طرح اگرچہ سچے خواب نبوت کا جز ہے لیکن سچے خواب دیکھنے والے کو نبی نہیں کہا جائے گا۔ اس حدیث پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سچے خواب ہمیشہ بشارت ہوتے ہیں لیکن سچے خواب بعض اوقات ڈرانے والے بھی ہوتے ہیں۔ اس حدیث پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سچے خواب ہمیشہ بشارت ہوتے ہیں لیکن سچے خواب بعض اوقات ڈرانے والے بھی ہوتے ہیں جن سے خواب دیکھنے والا خوش نہیں ہوتا اور ایسے خواب دکھانا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن پر شفقت اور رحمت ہے تکہ کسی مصیبت کے نازل ہونے سے پہلے وہ اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرلے اور وہ اس کا جو تدارک کرسکتا ہے وہ کرلے اس کا جواب یہ ہے کہ سچے خواب مطلقاً بشارت نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات بشارت ہوتے ہیں اور چونکہ اکثر اور اغلب طور پر سچے خواب بشارت ہوتے ہیں اس لیے آپ نے مطلقاً فرمایا : سچے خواب مبشرات ہیں۔ اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس مرض میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا تھا اس مرض میں صحابہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی آپ نے حجرہ کا پردہ اٹھا کر فرمایا : اے لوگو ! نبوت کی بشارتوں سے صرف سچے خواب باقی بچے ہیں جو مسلمان خود دیکھتا ہے یا کوئی اس کے لیے دیکھتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ : ٣٨٩٩)

اب اس کی توجیہ یہ ہے کہ میری وفات کے بعد وحی منقطع ہوجائے گی اور پھر مستقبل کی باتوں کا علم صرف سچے خوابوں سے ہوگا اگر اس پر یہ اعتراض ہو کہ وحی تو منقطع ہوجائے گی لیکن الہام منقطع نہیں ہوگا جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کے متعلق فرمایا وہ محدث ہیں یعنی ان پر الہام ہوتا ہے اور بکثرت اولیاء کرام نے غیب کی خبریں دیں اور ان کی دی ہوئی خبروں کے مطابق مستقبل میں واقعات ہوئے اس کا جواب یہ ہے خواب کا ذکر اس لیے فرمایا تاکہ یہ معلوم ہو کہ عام مسلمانوں کو بھی مستقبل کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں اور الہام تو صرف خواص مومنین کو ہوتا ہے اور وہ ہے بھی نادر اور خواب بکثرت واقع ہوتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں الہام بہت نادر تھا کیونکہ وحی کا غلبہ تھا اور جب آپ کے وصال کے بعد وحی منقطع ہوگئی تو جن مومنین کو اللہ تعالیٰ نے خاص کرلیا تھا ان پر الہام بکثرت ہونے لگا کیونکہ اب اس کا وحی سے اشتباہ نہیں ہوسکتا تھا اور جو شخص الہام کا انکار کرتا ہے۔ یہ اس کی ہٹ دھرمی ہے کیونکہ اس کا وقوع بہت زیادہ ہے اور بہت مشہور ہے۔ (فتح الباری جلد ١٢، ص ٣٧٦۔ ٣٧٥، مطبوعہ لاہور ١٤٠١ ھ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی منصب نبوت پر فائز ہوئے تھے یا نہیں اس میں علماء کا اختلاف ہے ہم پہلے فریقین کے دلائل کا ذکر کریں گے اور آخر میں اپنا نظریہ بیان کریں گے۔ 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے انبیاء ہونے کے دلائل

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اور امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سندوں کے ساتھ لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن زید بن اسلام نے احد عشر کو کبا کی تفسیر میں کا ہ ہے : گیارہ ستارے اور سورج اور چاند، حضرت یوسف کے ماں باپ اور ان کے بھائی ہیں اور ان کے بھائی انبیاء تھے اور انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک حضرت یوسف کو سجدہ کرنے پر راضی نہیں ہوں گے حتیٰ کہ ان کے ماں باپ ان کو سجدہ کرلیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٤٤٧، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٣٣٠)

علامہ ابو اللیث نصر بن محمد السمرقندی المتوفی ٣٧٥ ھ لکھتے ہیں : زجاج نے کہا حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے گیارہ ستاروں کی یہ تعبیر کی کہ ان سے ایسے اصحاب فضیلت لوگ مراد ہیں جن سے روشنی حاصل ہوگی کیونکہ ستارے سے زیادہ روشن اور کوئی چیز نہیں ہے اور سورج اور جاند سے ان کے ماں باپ کو مراد لیا پس سورج سے مراد ماں ہے اور چاند سے مراد باپ ہے۔

قاضی ناصر الدین بعداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٦ ھ لکھتے ہیں : حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا : اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت پوری کرے گا یعنی تم کو نبوت سے سرفراز فرمائے گا یا تم کو دنیا کی نعمت کے ساتھ آخرت کی نعمت بھی عطا فرمائے گا اور آل یعقوب پر بھی نعمت پوری فرمائے گا اس سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی مراد ان کے سارے بیٹے تھے اور شاید کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے تمام بیٹوں کی نبوت پر اس سے استدلال کیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو گیارہ ستارے دیکھے تھے اس سے مراد گیارہ بھائی تھے اور ستاروں کے ضیاء سے مراد ان کی ہدایت کی روشنی تھی۔ (انوار التنزیل مع حاشیۃ الشہاب ج ٥، ص ٢٦٨، دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٧ ھ)

علامہ ابو الحیان محمد بن یوسف اندلسی غرناطی متوفی ٧٥٤ ھ نے لکھا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جو کہا کہ وہ تم پر اپنی نعمت کو مکمل کرے گا اس کا معنی یہ ہے کہ وہ انہیں دنیا میں اپنی نعمت پہنچائے گا یا طور کہ ان کو دنیا میں انبیاء اور بادشاہ بنائے گا اور ان کو آخرت کی نعمت پہنجائے گا بایں طور پر ان کو جنت کے بلندر درجات تک پہنجائے گا ظاہر یہ ہے کہ آل یعقوب سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد اور ان کی نسل ہے یعنی ہم ان کو نبی بنائیں گے۔ (البحر المحیط ج ٦، ص ٢٤٠، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٢ ھ) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے انبیاء نہ ہونے کے دلائل

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے لکھا ہے کہ کتاب الطبری میں یہ لکھا ہوا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی انبیاء تھے اور ان کو نبی ماننا اس بات کو رد کرتا ہے کہ نبی حسد کرنے ماں باپ کی نافرمانی کرنے، جھوٹ بولنے، مومن کو ہلاک کرنے کے درپے ہونے، اس کو قتل کرنے کے درپے ہونے اور آزاد انسان کو فروخت کرنے ایسے کبیرہ گناہوں سے معصوم ہوتا ہے اس لیے ان لوگوں کے قول کی طرف توجہ نہ کی جائے جنہوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نبی تھے ہرچند کہ نبی کی لغرش عقلاً محال نہیں ہے مگر یہ ایسی لغرش ہے جو متعدد کبیرہ گناہوں پر مشتمل ہے، اہل سنت کا اس میں تو اختلاف ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے صغائر کا صدور ہوتا ہے یا نہیں لیکن اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ انبیاء (علیہ السلام) سے کبائر کا صدور نہیں ہوتا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١١٣، مطبوعہ دارالفکر ١٤١٥ ھ)

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی نبوت پر کوئی دلیل قائم نہیں ہے اور انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خلاف جو سازش کی تھی وہ اس دعویٰ کے خلاف ہے بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ان کے ان گناہوں کے بعد ان کو نبوت دی گئی اور یہ دعویٰ دلیل کا محتاج ہے اور اس آیت کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے : قل امنا باللہ وما انزل علینا وما انزل علی ابراہیم واسمعیل واسحق و یعقوب والاسباط۔ (آل عمران : ٨٤) کہو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر جو ہم پر نازل کی گئی ہے اور اس چیز پر جو ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل کی گئی ہے۔ اسباط کے لفظ میں کئی احتمال ہیں کیونکہ بنو اسرائیل کے گروہوں کو اسباط کہا جاتا ہے جیسا کہ عرب کے گروہوں کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کے گروہوں کو شعوب کہا جاتا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس نے انبیاء کی طرف وحی نازل فرمائی جو بنو اسرائیل کے اسباط (گروہوں) سے ہیں اور ان کا اجمالاً ذکر فرمایا کیونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن ہر سبط (گروہ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی نسل سے تھا اور اس پر دلیل قائم نہیں ہوسکی کہ بعینہٖ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی طرف وحی کی گئی تھی۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢، ص ٥٢١، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قال یبنی لا تقصص رء یاک علی اخوتک فیکیدوا لک کیدا ان الشیطن للاسلان عدو مبین (یوسف : ٥) (باپ نے) کہا اے میرے پیارے بیٹے ! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے نہ بیان کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے بیشک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ اس آیت سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی انبیاء نہیں تھے اور یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے اور اکثر مقتدمین اور متاخرین کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نبی ہرگز نہیں تھے متقدمین میں حضرات صحابہ کرام ہیں اور ان میں سے کسی سے بھی یہ منقول نہیں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نبی تھے اور نہ ہی تابعین میں سے کسی سے منقول ہے کہ وہ نبی تھے اور اتباع تابعین میں سے صرف ابن زید سے منقول ہے کہ وہ نبی تھے اور بہت کم لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے اور متاخرین مفسرین میں سے بعض نے ابن زید کے قول کی پیروی کی ہے جیسے امام بغوی اور بعض نے اس قول کے رد میں بہت شدت کی ہے جیسے علامہ قرطبی اور ابن کثیر اور بعض مفسرین نے ان دونوں قولوں کو بلا ترجیح نقل کردیا ہے جیسے ابن الجوزی اور بعض مفسرین نے اس مسئلہ کو بالکل نہیں چھیڑا، البتہ انہوں نے ایسی تفسیر کی ہے جس سے اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ وہ نبی نہیں تھے کیونکہ انہوں نے اسباط کی یہ تفسیر کی ہے : وہ لوگ جو بنو اسرائیل میں سے نبی بنائے گئے اور ان پر احکام شرعیہ نازل کیے گئے مثلاً ابو اللیث السمرقندی اور واحدی (ابو اللیث السمرقندی کا حوالہ صحیح نہیں ہے کیونکہ انہوں نے یہ تصریح کی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نبی تھے اور اس پر دلائل قائم کیے ہیں البتہ واحدی کا حوالہ درست ہے جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے تفسیر سمرقندی سے نقل کیا ہے) اور بعض مفسرین نے کچھ ذکر نہیں کیا لیکن اسباط کی تفسیر حضرت یعقوب کی اولاد کے ساتھ کی ہے جس سے لوگوں نے یہ گمان کیا کہ وہ حضرت یعقوب کی تمام اولاد کے نبی ہونے کے قائل ہیں حالانکہ یہ اس کی تصریح نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اولاد سے مراد حضرت یعقوب کی ذریت ہو نہ کہ ان کے صلبی بیٹے۔ شیخ ابن تیمیہ نے اس موضوع پر ایک رسالہ لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید، لغت اور قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی انبیاء نہیں تھے یہ چیز قرآن مجید میں مذکور ہے نہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے اور نہ آپ کے اصحاب (رض) میں سے کسی کا قول ہے جن لوگوں نے بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے انبیاء ہونے کا قول کیا ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ الاسباط سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی صلبی اولاد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ذریت ہے جیسا کہ انہیں بنی اسرائیل کہا جاتا ہے اور جیسا کہ تمام انسانوں کو بنو آدم کہا جاتا ہے نیز قرآن مجید میں ہے : ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون۔ وقطعنھم اثنتی عشرۃ اسباطا امما (الاعراف : ١٦٠، ١٥٩) اور موسیٰ کی امت سے ایک گروہ ہے وہ لوگ حق کے ساتھ ہدایت کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں اور ہم نے بنو اسرائیل کو بارہ قبیلوں میں گروہ در گروہ کر کے تقسیم کردیا۔ یہ آیت اس معنی میں صریح ہے کہ اسباط بنی اسرائیل کے متعدد گروہ ہیں اور ہر سبط ایک گروہ ہے اور انہوں نے یہ تصریح کی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط ایسے ہیں جیسے بنی اسماعیل کے قبائل ہیں اور سبط لغت میں ایسے درخت کو کہتے ہیں جس کے بہت گھنے پتے ہوں تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹوں کو ان کی اولاد پھیلنے سے پہلے اسباط کہنے کی کوئی مناسبت نہیں ہے اس لیے البقر : ١٤٠ اور النساء ١٧٦٣، میں اسباط کے لفظ کو حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں کے ساتھ مخصوص کرنا غلط ہے اس پر لفظ دلالت کرتا ہے نہ اس کا معنی ثابت ہے اور صحیح یہ ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کے عہد سے اسباط کا نام رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جن میں نبوت معروف تھی ان میں حضرت یوسف (علیہ السلام) سے پہلے کوئی نبی نہیں تھا اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اللہ سبحانہ نے جب حضرت ابراہیم کی ذریت سے انبیاء کا ذکر کیا تو صرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور ان کے ساتھ اسباط کا ذکر نہیں کیا اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی نبی بنائے گئے ہوتے جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نبی بنایا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ ان کا ذکر بھی فرماتا وہ آیت یہ ہے : ووھبنا لہ اسحاق و یعقوب کلا ھدینا ونوحا ھدینا من قبل ومن ذریتہ دائود و سلیمان وایوب ویوسف وموسی وھرون وکذلک نجزی المحسنین و زکریا ویحی و عیسیٰ والیاس کل من الصلحین واسمعیل والیسع ویونس ولوطا وکلا فضلنا علی العلمین۔ (الانعام : ٨٦۔ ٨٤) اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے ہم نے سب کو ہدایت دی اور اس سے پہلے نوح کو ہدایت دی اور ان کی اولاد سے دائود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو ہدایت دی اور ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس (سب کو ہدایت دی) یہ سب صالحین میں سے ہیں اور اسمعیل اور الیسع اور یونس اور لوط اور ہم نے سب کو سارے جہان والوں پر فضیلت دی۔ اور نیز اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی وہ تعریف و توصیف فرمائی جو نبوت کے مناسب ہے اگرچہ وہ اس آیت سے پہلے ہے اور حدیث میں ہے لوگوں میں سب سے کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں جو نبی ہیں اور نبی کے بیٹے ہیں پس اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی انبیاء ہوتے تو وہ بھی کرم کی اس صفت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے شریک ہوتے اور جب اللہ سبحانہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا قصہ ذکر فرمایا اور اس سلوک کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ کیا تھا اور ان کی خطاء کے اعتراف کا ذکر کیا اور انہوں نے اپنے والد سے جو استغفار طلب کیا تھا اس کا ذکر کیا تو اس مقام پر ان کی کسی ایسی فضیلت کا ذکر نہیں کیا جو مقام نبوت کے مناسب ہوتی بلکہ ان کی توبہ کا ذکر بھی نہیں کیا جیسا کہ ان سے کم گناہ کرنے والوں کی توبہ کا ذکر فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کے ایسے کاموں کا ذکر نہیں کیا، نبوت سے پہلے نہ نبوت کے بعد کہ انہوں نے باپ کی نافرمانی کی ہو قطع رحم کیا ہو مسلمان کو غلام بنا کر کافروں کے شہر میں بیچا ہو اور صاف جھوٹ بولا ہو بلکہ اگر ان کے نبی نہ ہونے پر اور کوئی دلیل نہ بھی ہوتی تو ان کے نبی نہ ہونے کے لیے یہ جرائم ہی کافی تھے کیونکہ جمہور کے نزدیک انبیاء (علیہم السلام) نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد اس قسم کے جرائم سے معصوم ہوتے ہیں نیز مورخین نے بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے تمام بھائی مصر میں فوت ہوگئے تھے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) بھی مصر میں وفات پاگئے تھے لیکن انہوں نے یہ وصیت کی تھی کہ ان کے جسم کو شام منتقل کردیا جائے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے جسم کو شام میں منتقل کردیا اور قرآن مجید میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے مصر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی اور نبی آیا ہو ہو اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نبی نہیں تھے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ دعویٰ کرنا غلط ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نبی تھے اور یہ غلط فہمی اس وجہ سے ہوئی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو اسباط سمجھ لیا گیا حالانکہ اس طرح نہیں ہے اسباط کے معنی بہت بڑا گروہ ہے اور اگر اسباط سے مراد حضرت یعقوب کے بیٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا یعقوب اور ان کے بیٹے اور یہ بہت واضح اور مختصر ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسباط کے لفظ سے تعبیر فرما کر یہ اشارہ کیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ذریت میں نبوت اس وقت آئی جب وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں گروہ در گروہ ہو کر منقسم ہوچکے تھے۔ (روح المعانی جز ٢ ض، ص ٢٧٧۔ ٢٧٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٧ ھ) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی نبوت کے متعلق مصنف کا موقف

ہم نے شرح صحیح مسلم کی ساتوی جلد میں ذکر کیا ہے کہ انبیاء علہیم السلام اعلان نبوت سے پہلے اور اعلان نبوت کے بعد تمام صغائر اور کبائر سے مجتنب ہوتے ہیں البتہ تبلیغی اور تشریعی ضرورت کی وجہ سے ان سے مکروہ تنزیہی کا ارتکاب ہوسکتا ہے اور خلاف اولیٰ کا ارتکاب بھی ہوسکتا ہے لیکن مکروہ تنزیہی اور خلاف اولیٰ گناہ نہیں ہیں اور ان سے اجتہادی خطاء بھی سرزد ہوسکتی ہے اور اجتہادی خطا بھی نہ صرف یہ کہ گناہ نہیں ہے بلکہ اجتہادی خطاء پر ایک اجر بھی ملتا ہے اور انبیاء سابقین علیہم السلا سے جس قدر زلات صادر ہوئیں وہ سب اسی نوع کی ہیں ان میں سے کوئی کام گناہ صغیرہ ہے نہ کبیرہ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے متعدد گناہ کبیرہ کیے اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ وہ انبیاء نہیں ہیں اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو مکروہ تنزیہی یا خلاف اولیٰ صادر ہوا وہ بظاہر مکروہ تنزیہی یا خلاف اولی تھے ان کا کرنا آپ پر فرض تھا کیونکہ تبلیغ کرنا وظائف نبوت اور فرائض رسالت سے ہے اور آپ کو ان کے ارتکاب پر فرائض کی ادائیگی کا اجروثواب ملے گا اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے اجتہادی خطاء سے بھی محفوظ رکھا۔ آپ نے جس وقت اپنے اجتہاد سے جو کا کیا اس وقت اسی کام کو کرنا حق صحیہ اور صواب تھا۔ انبیاء سابقین (علیہم السلام) حشر کے دن اس وقت اسی کام کو کرنا حق، صحیح اور صواب تھا۔ انبیاء خطا سے بھی محفوظ رکھا۔ آپ نے جس وقت اپنے اجتہاد سے جو کام کیا اس وقت اسی کام کو کرنا حق، صحیح اور صواب صواب تھا۔ انبیاء سابقین علہیم السلام حشر کے دن اس وجہ سے پریشان ہوں گے کہ دنیا میں ان کی زلات کی مغفرت کا اعلان نہیں کیا گیا اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے حشر کے دن شفاعت کبریٰ کے مقام پر فائز کرنا تھا اس لیے وہ بظاہر خلاف اولیٰ کام جو فی نفسہٖ معصیت اور گناہ نہ تھے لیکن آپ اپنے بلند مقام کی وجہ سے ان کو بھی موجب استغفار قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر نازل فرما کر آپ کی مغفرت کلی اور مغفرت قطعی کا اعلان فرما دیا تاکہ آپ حشر کے دن مطمئن ہوں اور تسلی کے ساتھ سب کی شفاعت کرسکیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 5