أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا ذَهَبُوۡا بِهٖ وَاَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ يَّجۡعَلُوۡهُ فِىۡ غَيٰبَتِ الۡجُبِّ‌ۚ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ لَـتُنَـبِّئَـنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

الغرض جب وہ اس کو لے گئے اور انہوں نے اس کو اندھے کنویں کی گہرائی میں ڈالنے پر اتفاق کرلیا اور ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ (گھبرائو نہیں) عنقریب تم ان کو ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الغرض جب وہ اس کو لے گئے اور انہوں نے اس کو اندھے کنوئیں کی گہرائی میں ڈالنے پر اتفاق کرلیا اور ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ (گھبرائو نہیں) عنقریب تم ان کو ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی۔ (یوسف : ١٥) 

حضرت یوسف کو ان کے بھائیوں کا راستہ میں زدوکوب کرنا

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے اصرار پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے انہیں حضرت یوسف کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی۔ جب حضرت یوسف اپنے بھائیوں کے ساتھ روانہ ہوئے تو انہوں نے راستہ میں ان کے ساتھ شدید عداوت کا اظہار کیا ایک بھائی حضرت یوسف کو مارتا تو وہ دوسرے بھائی سے فریاد کرتے تو وہ بھی ان کو مارتا پیٹتا اور انہوں نے ان میں سے کسی کو رحم دل نہ پایا۔ قریب تھا کہ وہ حضرت یوسف کو قتل کردیتے اس وقت حضرت یوسف کہہ رہے تھے : اے یعقوب ! کاش آپ جانتے کہ آپ کے بیٹے کے ساتھ کیا ہو رہا ہے تب یہوذا نے کہا : کیا تم لوگوں نے مجھ سے یہ پکا عہد نہیں کیا تھا کہ تم لوگ اس کو قتل نہیں کرو گے تب وہ حضرت یوسف کو کنوئیں پر لے گئے اور ان کو کنوئیں کی منڈی پر کھڑا کر کے ان کی قمیص اتاری جس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس قمیص پر خون لگا کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو دیں گے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے کہا : میری قمیص واپس کردو تاکہ میں اس سے اپنے بدن کو چھپائوں۔ بھائیوں نے کہا : اب تم سورج، چاند اور گیارہ ستاروں کو بلائو تاکہ وہ اس کنوئیں میں تمہاری غمگساری کریں پھر انہوں نے حضرت یوسف کو کنوئیں میں پھینک دیا تاکہ وہ پانی میں ڈوب کر مرجائیں۔ حضرت یوسف پانی میں گرگئے پھر انہوں نے کنوئیں کے ایک پتھر کی پناہ لی اور اس پتھر پر کھڑے ہوگئے۔ وہ اس پر کھڑے ہوئے رو رہے تھے کہ ان کے بھائیوں نے ان کو آواز دی حضرت یوسف یہ سمجھے کہ شاید ان کو رحم آگیا ہے انہوں نے کہا : لبیک۔ انہوں نے ایک بھاری پتھر اٹھا کر حضرت یوسف کا نشانہ لیا اب یہوذا نے ان کو منع کیا اور یہوذا ہی ان کو کنوئیں میں کھانا پہنچاتا رہا تھا۔ یہ بھی روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا اے وہ جو حاضر ہے غائب نہیں ! اے وہ جو قریب ہے بعید نہیں ! اے وہ جو غالب ہے مغلوب نہیں ! میری اس مشکل کو آسان کر دے اور مجھے اس کنوئیں سے نجات عطا فرما اور یہ بھی روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا اور ان کے کپڑے اتار لیے گئے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کو جنت کی ایک ریشمی قمیص پہنائی پھر حضرت ابراہیم نے وہ قمیص حضرت اسحاق کو دی اور حضرت اسحاق نے وہ قمیص حضرت یعقوب کو دی اور حضرت یعقوب نے اس قمیص کو ایک غلاف میں ڈال کر وہ غلاف حضرت یوسف کے گلے میں ڈال دیا پھر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کنوئیں میں آئے اور غلاف سے وہ قمیص نکال کر حضرت یوسف کو پہنا دی۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ٢٠٩، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٣٧٦، زاد المسیرج ٤ ص ١٩٠۔ ١٨٩) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی سے مراد وحی نبوت یا الہام ؟

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم نے اس کی طرف وحی کی اس میں اختلاف ہے کہ اس وحی سے مراد وحی نبوت اور رسالت ہے یا اس وحی سے مراد الہام ہے۔ محققین کی ایک بڑی جماعت کا یہ نظریہ ہے کہ یہ وحی نبوت تھی پھر اس میں اختلاف ہے کہ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) بچے تھے یا بالغ تھے بعض نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) اس وقت بالغ تھے اور اس وقت آپ کی عمر سترہ سال تھی اور بعض نے کہا : اس وقت آپ بچے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی عقل کو کامل کردیا اور آپ میں وحی اور نبوت کی اس طرح صلاحیت رکھ دی جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں صلاحیت رکی تھی۔

وحی کے متعلق دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اس سے مراد الہام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : واوحینا الی ام موسیٰ ۔ (القصص : ٧) اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی۔ واوحی ربک الی النحل۔ (النحل : ٦٨) اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس وحی سے مراد وحی نبوت ہے اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نبی قرار دینا کس طرح صحیح ہوگا حالانکہ اس وقت وہاں ایسے لوگ نہیں تھے جن کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پیغام پہنچاتے اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت ان پر وحی نازل کرنے سے مقصود یہ تھا کہ ان کو حامل وحی الٰہی ہونے کے مرتبہ پر فائز کیا جائے اور ان کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں اور وحی کو وقت سے پہلے اس لیے نازل کیا تھا کہ ان کے دل سے گھبراہٹ اور پریشانی اور رنج اور غم کو دور کیا جائے اور ان کو مطمئن اور پرسکون کیا جائے۔ 

حضرت یوسف کے بھائیوں کو خبر نہ ہونے کے محامل

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ان کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی۔ اس کی تفسیر میں بھی دو قول ہیں :

(١) اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی طرف وحی کی کہ تم آج کے بعد کسی دن اپنے بھائیوں کو ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو اس وقت یہ پتا نہیں چلے گا کہ تم یوسف ہو اور اس سے مقصود یہ تھا کہ ان کو یہ اطمینان دلایا جائے کہ ان کو عنقریب اس مصیبت سے نجات مل جائے گی اور وہ اپنے بھائیوں پر غالب ہوں گے اور وہ ان کے سامنے مغلوب اور سرنگوں اور ان کی قدرت اور اختیار میں ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ جس وقت وہ گندم طلب کرنے کے لیے ان کے شہر میں داخل ہوئے تو حضرت یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ حضرت یوسف کو نہ پہچان سکے حضرت یوسف نے ان کے ہاتھ پر صاع رکھ دیا اور کہا : مجھے اس نے خبر دی ہے کہ تمہارے باپ کی طرف سے تمہارا ایک بھائی تھا تم نے اس کو کنوئیں میں ڈال دیا تھا اور تم نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ اس کو بھیڑیئے نے کھالیا۔

(٢) ہم نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف کنوئیں میں یہ وحی کی کہ عنقریب تم اپنے بھائیوں کو ان اعمال کی خبر دو گے اور ان کے بھائیوں کو یہ خبر نہیں تھی کہ ان پر وحی نازل ہو رہی ہے اور اس وحی کو ان سے مخفی رکھنے میں یہ حکمت تھی کہ اگر ان کو پتا چل جاتا کہ حضرت یوسف پر وحی نازل ہوئی ہے تو ان کا حسد اور زیادہ ہوجاتا اور وہ پھر ان کو قتل کردیتے۔ 

والد سے اپنے حالات کو مخفی رکھنے میں حضرت یوسف کی حکمت

پہلی تفسیر کے مطابق جب حضرت یوسف (علیہ السلام) پر یہ وحی کی گئی کہ جب تم اپنے بھائیوں کو ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے تو اس وقت ان کو یہ پتا نہیں ہوگیا کہ تم یوسف ہو اور یہ وحی اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو متضمن ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حالات سے اپنے والد کو مطلع نہیں کیا حالانکہ ان کو علم تھا کہ ان کے والد ان کے فراق میں سخت رنج اور غم میں مبتلا ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی لازم نہ آئے اور وہ ان سختیوں پر صبر کریں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ اس شدید رنج اور غم کی وجہ سے حضرت یعقوب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے رہیں گے اور اس سے دعا کرتے رہیں گے اور دنیا سے ان کی فکر منقطع رہے گی اور وہ عبادت کے درجہ عالیہ پر فائز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے عظیم قرب کے حصول کی خاطر مصائب اور شدائد کی گھاٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 15