أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَـبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا‌ ؕ ذٰ لِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِىۡ رَبِّىۡ ؕ اِنِّىۡ تَرَكۡتُ مِلَّةَ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

یوسف نے کہا تم کو جو کھانا دیا جاتا ہے تم تک اس کے پہنچنے سے پہلے میں تم کو اس کی حقیقت بتادوں گا۔ یہ ان علوم میں سے ہے جن کو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور جو لوگ آخرت کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوسف نے کہا تم کو جو کھانا دیا جاتا ہے تم تک اس کے پہنچنے سے پہلے میں تم کو اس کی حقیقت بتادوں گا یہ ان علوم میں سے ہے جن کو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور جو لوگ آخرت کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں، میں نے ان کے دین کو ترک کردیا ہے۔ (یوسف : ٣٧) 

قید خانہ میں کھانا آنے سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کھانے کی خبر دینا

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں : امام ابن اسحاق نے کہا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تم کو خواب میں جو کھانا بھی دیا جائے گا میں تم کو بیداری میں اس کی حقیقت بتادوں گا اور امام ابن جریج نے کہا : تم کو بیداری میں جو کھانا دیا جائے گا میں تم کو (پہلے سے) اس کی حقیقت بتادوں گا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٧٥٢، ١٤٧٥٨، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٦٠٨، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ)

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد الجوزی المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : اس آیت کے دو معنی ہیں حسن بصری نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ تمہیں جب بھی بیداری میں کھانا دیا جائے گا میں تم تک کھانا پہنچنے سے پہلے بتادوں گا کہ تمہارے پاس کیا کھانا آئے گا۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح غائب شدہ چیزوں کی خبر دیتے تھے اور سدی نے بیان کیا کہ تم کو خواب میں جو کھانا دیا جائے گا بیداری میں اس کھانے کے پہنچنے سے پہلے میں تم کو اس کی حقیقت بتادوں گا۔

حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ساقی اور نانبائی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا کھانا پہنچنے سے پہلے آپ کو اس کی حقیقت کا کیسے پتا چل جاتا ہے حالانکہ آپ جادو گر ہیں نہ نجومی ہیں تو انہوں نے اس کے جواب میں فرمایا : مجھے رب نے اس کی تعلیم دی ہے۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٢٢٤، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : کل تمہارے پاس تمہارے گھروں سے کھانا پہنچنے سے پہلے میں تمہیں اس کھانے کی خبر دے دوں گا تاکہ تم کو یقین آجائے کہ میں خواب کی تعبیر کا علم بھی رکھتا ہوں انہوں نے کہا آپ سی طرح کریں تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : تمہارے پاس فلاں فلاں کھانے کی چیز آئے گی، سو ایسا ہی ہوا اور یہ علم الغیب تھا جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ مختص تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بیان کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس علم کے ساتھ اس لیے مخصوص فرمایا ہے کہ انہوں نے اس قوم کے دین کو ترک کردیا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتی یعنی بادشاہ کے دین کو۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ١٦٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

حافظ ابن کثیر نے بھی اس آیت کا معنی اسی طرح بیان کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٥٢٩، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ) ہم نے اس معنی کے ثبوت میں بکثرت حوالے اس لیے پیش کیے ہیں کہ بعض اردو کے مفسرین نے اس آیت کا معنی اس کے خلاف کیا ہے۔ شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی ١٣٦٩ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : خوابوں کی تعبیر تمہیں بہت جلد معلوم ہوا چاہتی ہے روزمرہ تم کو جو کھانا ملتا ہے اس کے آنے سے بیشتر میں تم کو تعبیر بتلا کر فارغ ہوجائوں گا۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا۔ (تفہیم القرآن ج ٢ ص ٤٠١، مطبوعہ لاہور ١٩٨٢ ء)

اس کے برخلاف شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ٣٦٤ ھ نے متقدمین مفسرین کے مطابق ہی لکھا ہے وہ لکھتے ہیں : فرمایا کہ (دیکھو) جو کھانا تمہارے پاس آتا ہے جو کہ تم کو کھانے کے لیے جیل خانہ میں) ملتا ہے میں اس کے آنے سے پہلے اس کی حقیقت تم کو بتلا دیا کرتا ہوں (کہ فلاں چیز آوے گی اور ایسی ایسی ہوگی) اور یہ بتلا دینا اس علم کی بدولت ہے جو مجھ کو میرے رب نے تعلیم فرمایا ہے (یعنی مجھ کو وحی سے معلوم ہوجاتا ہے پس یہ معجزہ ہوا جو کہ دلیل نبوت ہے) (بیان القرآن ج ١ ص ٤٨٢، مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور)

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ اور مفتی محمد شفیع دیوبندی ١٣٩٦ ھ نے بھی اس آیت کا اسی طرح معنی کیا ہے جو کہ تمام متقدمین مفسرین کے مطابق ہے اور ہم نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ 

خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے کھانے کے متعلق پیش گوئی کی توجیہ

اس مقام پر یہ سوال ہوتا ہے کہ ساقی اور نانبائی نے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اپنے خوابوں کی تعبیر کے متعلق سوال کیا تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو یہ بتانا شروع کردیا کہ تمہارے پاس کس قسم کا کھانا آئے گا اور کس وقت آئے گا تو ان کا یہ جواب ان دونوں کے سوال کے مطابق تو نہیں ہے۔

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے اس کے حسب ذیل جوابات ذکر کیے ہیں :

(١) حضرت یوسف (علیہ السلام) کو علم تھا کہ ان میں سے ایک کے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اس کو سولی پر چڑھا دیا جائے گا اور جب وہ اس جواب کو سنے گا تو بہت غمزدہ ہوگا اور وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے وعظ و نصیحت اور ان کی دیگر باتوں کے سننے سے متنفر ہوجائے گا اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس میں مصلحت دیکھی پہلے ایسی باتیں کریں جن سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا علم اور ان کا کلام ان کے دلوں میں موثر ہو حتیٰ کہ جب آپ ان کو خواب کی تعبیر بیان کریں تو اس کو عداوت اور تہمت پر نہ محمول کیا جائے۔

(٢) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ ارادہ کیا کہ ان کو یہ بیان کریں کہ ان کے علم کا مرتبہ ان کے اندازہ سے بہت بلند اور بہت فائق ہے کیونکہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے خواب کی تعبیر پوچھی تھی اور خواب کی تعبیر ظن اور تخمین پر مبنی ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان پر یہ ظاہر کیا کہ وہ غیب کی خبریں دیتے ہیں کیونکہ وہ کھانا آنے سے پہلے بتا دیتے تھے کہ آج ان کے گھروں سے کیا کھانا آئے گا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خبریں قطعی اور یقینی علم کی بناء پر بتاتے تھے جس سے باقی مخلوق عاجز تھی اور اس سے یہ واضح ہوگیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) خواب کی جو تعبیر بتائیں گے وہ بھی محض ظن اور تخمین پر مبنی نہیں ہوگی بلکہ قطعی اور یقینی ہوگی اور اس سے یہ بتانا مقصود تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) خواب کی تعبیر بتانے کے جس مرتبہ پر فائز ہیں اس درجہ تک کوئی اور نہیں پہنچا۔

(٣) جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ دیکھ لیا کہ وہ دونوں آپ کے معتقد ہوچکے ہیں تو آپ نے ان کو بت پرستی ترک کرنے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دی کیونکہ دین کی اصلاح کرنا دنیا کی باتیں بتانے سے اولیٰ ہے۔

(٤) نانبائی کے متعلق حضرت یوسف (علیہ السلام) کو علم تھا کہ اس کو سولی دی جائے گی تو آپ نے یہ چاہا کہ اس کو مرنے سے پہلے مسلمان کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ وہ کفر پر نہ مرے اور عذاب شدید کا مستحق نہ ہو جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیھلک من ھلک عن بینۃ ویحی من حی عن بیتنۃ۔ (الانفال : ٤٢) تاکہ جس نے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جس نے زندہ رہنا ہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔

(٥) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تمہارے پاس بیداری میں جو کھانا بھی آئے گا میں اس کے پہنچنے سے پہلے بتادوں گا کہ وہ کس قسم کا کھانا ہے اس کا رنگ کیسا ہے اور اس کی مقدار کتنی ہے اور اس کے کھانے کا انجام کیا ہوگا یعنی اس کے کھانے کے بعد انسان کی صحت قائم رہے گی یا وہ بیمار ہوجائے گا اور اس آیت کا ایک اور محمل یہ ہے کہ بادشاہ جب کسی قیدی کو مارنا چاہتا تھا تو اس کے کھانے میں زہرا ملوا کر بھیجتا تھا اور جب قیدخانہ میں کھانا آتا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بتا دیتے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے یا نہیں اور یہ جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تھا : میں کھانا پہنچنے سے پہلے اس کی حقیقت بتادوں گا اس سے یہی مراد ہے اور اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) غیب کی خبر بتانے کا دعویٰ کرتے تھے اور یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس قول کے قائم مقام ہے : وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم۔ (آل عمران : ٤٩) اور میں تمہیں اس چیز کی خبر دیتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور اس چیز کی خبر دیتا ہوں جو تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو۔ پس پہلی دو وجوہ اس پر دلالت کرتی ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) خواب کی تعبیر بتانے میں تمام لوگوں پر فائق تھے اور آخری تین وجوہ اس پر دلالت کرتی ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے سچے نبی تھے اور غیب کی خبر دینا آپ کا معجزہ تھا۔ 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دعویٰ نبوت کے اشارات

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس آیت کو معجزہ پر محمول کرنا کس طرح درست ہوگا جبکہ اس سے پہلے ان کے دعویٰ نبوت کا ذکر نہیں ہے لیکن ان آیتوں میں ایسے اشارے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے نبوت کا دعویٰ فرمایا تھا مثلاً حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ذلکما مما علمنی ربی۔ یہ (غیب کی خبریں دینا) میرے رب کی تعلیم (وحی) کی وجہ سے ہے۔ یعنی میں تم کو جو یہ غیب کی خبریں دے رہا ہوں یہ کوئی علم نجوم یا کہانت یا سحر کی وجہ سے نہیں ہے، یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی میری طرف وحی فرمائی ہے نیز فرمایا : میں نے اپنے باپ دادا کے دین کی پیروی کی ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٤٥٥، زادالمسیر ج ٤ ص ٢٢٥، ٢٢٤، الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١٦٧۔ ١٦٦، النکت و العیون ج ٣ ص ٣٧، روح المعانی جز ١٢ ص ٣٦٣، ٣٦١، البحر المحیط ج ٦ ص ٢٧٧۔ ٢٧٦) مفسرین کی ان عبارات میں نبی کے علم پر علم غیب کے اطلاق کا ثبوت ہے۔ 

کافروں کے دین کو ترک کرنے کی توجیہ

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ” میں نے ان کے دین کو ترک کردیا ہے۔ “ اس قول سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پہلے ان کے دین کو اختیار کیا پھر اس کو ناپسند کر کے ترک کردیا حالانکہ نبی کے لیے یہ محال ہے کہ وہ ایک آن کے لیے بھی کفار کے دین کو اختیار کرے۔

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے اس کا یہ جواب دیا ہے : ترک کا معنی یہ ہے کہ انسان کسی چیز کے ساتھ تعرض نہ کرے اور اس کی یہ شرط نہیں ہے کہ پہلے انسان نے اس کو اختیار کیا ہو اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے زعم کے اعتبار سے ان کے غلام تھے اور شاید وہ ان کے خوف کی وجہ سے بر سبیل تقیہ ان کے سامنے توحید اور ایمان کو ظاہر نہیں کرتے تھے پھر اس وقت انہوں نے توحید اور ایمان کو ظاہر فرمایا اور اس وقت میں ان کا توحید اور ایمان کو ظاہر فرمانا ان کافروں کے دین کو ترک کرنے کے قائم مقام تھا اور یہ جواب زیادہ صحیح ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٤٥٦، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ)

امام رازی کا اس جواب کو زیادہ صحیح فرمانا صحیح نہیں بلکہ یہ جواب اصلاً درست نہیں ہے کیونکہ تقیہ کرنا نبی کی شان نہیں ہے جان کے خوف سے باطل کی موافقت کرنا نبی کی شان نہیں ہے نبی ہر وقت اور ہرحال میں حق کا اظہار کرتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کے ساتھ بھی تقیہ نہیں کیا اور صاف فرما دیا کہ یہ عورت ہی مجھے گناہ کی طرف راغب کر رہی تھی اور اس عورت نے بھی موافقت نہیں کی بلکہ اس کو ملامت کی اور اس سے دامن چھڑا کر بھاگے۔ علامہ ابو الحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ اس کے جواب میں لکھتے ہیں : چونکہ ساقی اور نانبائی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن اخلاق اور ان کے علم کی وجہ سے ان سے محبت کرنے لگے تھے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے چاہا کہ ان کے سامنے اپنے دین کا اظہار کریں تاکہ ان کو معلوم ہوجائے حضرت یوسف (علیہ السلام) میں ان کی قوم کے مخالف ہیں تاکہ وہ بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دین کی اتباع کریں۔ حدیث میں ہے کہ اگر اللہ تمہاری وجہ سے ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہت بہتر ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٧٠١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤٠٦)

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کافروں کے دین کو بالکل بھی نہیں اپنایا تھا اس کے باوجود فرمایا : میں نے ان کے دین کو ترک کردیا یہاں ترک کا معنی یہ ہے کہ وہ ابتداء سے اس دین سے مجتنب رہے ہیں اور اس کو ترک سے اس لیے تعبیر فرمایا تاکہ وہ دونوں اس دین کو ترک کردیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی محبت میں اس دین کے ترک کی طرف راغب ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ قول حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پہلے قول کی دلیل ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے غیب کا علم دیا اور میری طرف وحی فرمائی کو ین کہ میں ابتداء سے کافروں کے دین کو ترک کردیا تھا اور انبیاء (علیہم السلام) کے دین کی پیروی تھی۔ (البحر المحیط ج ٦ ص ٢٧٧۔ ٢٧٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٣ ھ)

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد بن عمر خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ لکھتے ہیں : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : میں نے ان کے دین کو ترک کردیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے تمہارے سامنے اپنے ترک کرنے کو ظاہر کیا ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) اس دین کے ساتھ متصف تھے۔ (عنایت القاضی ج ٥ ص ٣٠٦، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٧ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی البحر المحیط اور کفاجی کا خلاصہ اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔ (روح المعانی ج ١٢ ص ٣٦٤۔ ٣٦٣، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٧ ھ) اور میرے نزدیک اس آیت کا محمل یہ ہے کہ ابتداء میں میرے سامنے میرے آباء کا دین تھا جو انبیاء ہیں اور دوسری طرف ان لوگوں کا دین تھا جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے تو میں نے کافروں کے دین کو ترک کردیا اور انبیاء (علیہم السلام) کے دین کا اختیار کرلیا۔ 

مبدء اور معاد کے اقرار کی اہمیت

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور جو لوگ آخرت کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں میں نے ان کے دین کو ترک کردیا ہے۔ اس آیت کا لفظ ھم ضمیر کا تکرار ہے کیونکہ فرمایا : ھم بالاخرۃ ھم کافرون اور ہم ضمیر کو مکرر لانا تاکید اور حصر پر دلالت کرتا ہے یعنی آخرت کا انکار کرنے میں یہ قوم منحصر اور مخصوص تھی اور مبدء کے انکار کرنے کی بہ نسبت معاد کا انکار کرنا زیادہ شدید ہے اس لیے ھم ضمیر کو مکرر لاکر اس کی تاکید فرمائی ہے۔ جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اس میں مبدء کے علم کی طرف اشارہ ہے اور جو لوگ آخرت کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں اس میں معاد کے علم کی طرف اشارہ ہے جو شخص قرآن مجید کے مضامین میں اور انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت میں غور و فکر کرے گا اس پر یہ منکشف ہوگا کہ رسولوں کو بھیجنے اور کتابوں کو نازل کرنے سے اصل مقصود یہ ہے کہ مخلوق سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور مبدء اور معاد کا اقرار کرایا جائے اور اس کے علاوہ جو عقائد اور اعمال ہیں ان کی حیثیت ثانوی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 37