أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ نِسۡوَةٌ فِى الۡمَدِيۡنَةِ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰٮهَا عَنۡ نَّـفۡسِهٖ‌ۚ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّا‌ ؕ اِنَّا لَـنَرٰٮهَا فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۞

ترجمہ:

اور عورتیں شہر میں یہ باتیں کرنے لگیں کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے نوجوان (غلام) کو اپنی طرف راغب کر رہی ہے اس کی محبت اس کے دل پر چھا چکی ہے بیشک ہم اس کو صریح بےراہ روی میں دیکھ رہی ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور عورتیں شہر میں یہ باتی کرنے لگیں کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے نوجوان (غلام) کو اپنی طرف راغب کر رہی ہے اس کی محبت اس کے دل پر چھا چکی ہے بیشک ہم اس کو صریح بےراہ روی میں دیکھ رہی ہیں۔ (یوسف : ٣٠) 

مصر کی عورتوں کی نکتہ چینی

ان عورتوں کے متعلق دو قول ہیں :

ایک قول یہ ہے کہ وہ چار عورتیں تھیں

اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ پانچ عورتیں تھیں۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ان میں سے ایک بادشاہ کی ساقی کی بیوی تھی دوسری بادشاہ کے وزیر کی بیوی تھی تیسری جیل کے داروغہ کی بیوی تھی اور چوتھی باورچی کی بیوی تھی۔ مقاتل نے ان چار کے علاوہ نقیب کی بیوی کا بھی اضافہ کیا ہے۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٢١٤، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ)

قد شغفھا حبا اس کے دو معنی ہیں : شغاف اس کھال کو کہت یہیں جو دل پر محیط ہوتی ہے اس کو قلب کا غلاف کہتے ہیں یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی محبت اس کھال تک پہنچ کر اس کے دل میں سرایت کرگئی تھی اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی محبت اس کے دل کا اس طرح احاطہ کرچکی تھی جس طرح غلاف کسی چیز کا احاطہ کرتا ہے۔ (لسان العرب، الصحاح)

ان عورتوں نے کہا : بیشک ہم اس کو صریح بےراہ روی میں دیکھ رہی ہیں کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے نزدیک غلام کے حکم میں تھے۔

حضرت سلمان فارسی (رض) نے کہا کہ عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر سے مانگ لیا تھا۔ عزیز مصر نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اسے بخش دیا اور پوچھا : تم اس کا کیا کرو گی ؟ اس نے کہا : میں اس کو بیٹا بنائوں گی۔ اس نے کہا : یہ تمہارا ہے۔ اس عورت نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پرورش کی اور اس کے دل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی محبت تھی وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بن سنور کر رہتی تھی اور مختلف حیلوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پانی طرف مائل اور راغب کرنے کی کوشش کرتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس کے شر سے محفوظ رکھا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ١٥٥ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 30