أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ مَا خَطۡبُكُنَّ اِذۡ رَاوَدْتُّنَّ يُوۡسُفَ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ‌ؕ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمۡنَا عَلَيۡهِ مِنۡ سُوۡۤءٍ‌ ؕ قَالَتِ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ الۡـئٰنَ حَصۡحَصَ الۡحَقُّ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

بادشاہ نے (ان عورتوں کو بلا کر) پوچھا۔ اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی تھی ؟ انہوں نے کہا حاش للہ ! ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں جانی، عزیز مصر کی بیوی نے کہا اب تو حق بات ظاہر ہو ہی گئی ہے میں خود اس کو اپنے نفس کی طرف راغب کرتی تھی اور بیشک وہ سچوں میں سے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بادشاہ نے (ان عورتوں کو بلا کر) پوچھا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو پانی طرف راغب کرنے کی کوشش کی تھی ؟ انہوں نے کہا حاش للہ ! ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں جانی، عزیز مصر کی بیوی نے کہا اب تو حق بات ظاہر ہوگئی ہے میں خود اس کو اپنے نفس کی طرف راغب کرتی تھی اور بیشک وہ سچوں میں سے تھے۔ (یوسف : ٥١ )

عزیز مصر کی بیوی کا اعتراف اور حصحص کا معنی

بادشاہ نے ان عورتوں سے یہ کہا کہ اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی تھی ؟ اس کے بھی حسب سابق دو محمل ہیں :

ایک یہ کہ ان میں سے ہر عورت خود اپنے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) میں طمع رکھتی تھی اور دوسرا یہ کہ سب عورتیں مل کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کی بیوی کی خواہش پوری کرنے کے لیے تیار کرتی تھیں۔ اس مجلس میں عزیز مصر کی بیوی بھی حاضر تھی اور اس کو علم تھا کہ یہ تمام تحقیق اور تفتیش اس کی وجہ سے ہو رہی ہے اس لیے اس نے حقیقت سے پردہ اٹھایا اور کہا اب تو حق بات ظاہر ہو ہی گئی ہے میں خود اس کو اپنے نفس کی طرف راغب کرتی تھی،

ممکن ہے اس کے اعتراف کی وجہ یہ ہو کہ اس نے جب یہ دیکھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عورتوں کا ذکر کیا اور اس کا نام نہیں لیا اور اس کی پرورش کے جو حقوق تھے ان کی رعایت کرتے ہوئے اس کا پردہ رکھا تو اس نے بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس حسن اخلاق کے بدلہ میں یہ ظاہر کیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہر قسم کے گناہ اور تہمت سے بری ہیں اور یہ اقرار کیا کہ گناہ اس کی جانب سے تھا اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو گناہ کی دعوت دی تھی لیکن انہوں نے اپنا دامن بچا لیا۔ اس آیت میں یہ الفاظ : حصص الحق اس کا معنی ہے حق واضح اور منکشف ہوگیا اور دلوں میں جاگزین ہوگیا۔ جب اونٹ زمین پر بیٹھ جائے اور قرار پکڑ لے تو عرب کہتے ہیں حصص البعیرفی برو کہ زجاج نے کہا یہ حضہ سے ماخوذ ہے، عرب کہتے ہیں بانت حصۃ الحق من حصۃ الباطل، حق کا حصہ باطل کے حصہ سے الگ ہوگیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 51