أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفۡسِىۡ‌ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىۡ ؕاِنَّ رَبِّىۡ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں قرار دیتا بیشک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے، سوا اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے، بیشک میرا رب بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یوسف نے کہا) اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں قرار دیتا بیشک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے سوا اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (یوسف : ٥٣) 

حضرت یوسف کے اس قول کی توجیہ کہ میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں کہتا

مفسرین کا اس اختلاف ہے کہ اس قول کے قائل حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں یا عزیز مصر کی بیوی، صحیح قول یہ ہے کہ اس قول کے قائل حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں اور اس آیت کا معنی یہ ہے : میں اپنے نفس کو خطائوں اور لغزشوں سے پاک قرار نہیں دیتا کیونکہ انسانوں کے نفوس ان کو اپنی خواہش پر چلنے کا حکم دیتے رہتے ہیں، خواہ نفسانی خواہشیں اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی رضا کے خلاف کیوں نہ ہوں، ہاں مخلوق میں سے جس پر میرا رب رحم فرمائے تو وہ اس کو خواہش کی پیروی کرنے اور بری باتوں میں نفس کے احکام کی اطاعت کرنے سے نجات عطا فرماتا ہے اور بیشک جو شخص اپنے گناہوں پر اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس کو سزا دینے اور اس کو رسوا کرنے سے درگزر فرماتا ہے اور اسی طرح آخرت میں بھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ کیوں فرمایا تھا اس کی مفسرین نے متعدد وجوہ بیان کی ہیں جن میں سے بعض وجوہ ناگفتنی ہیں۔ صحیح وجہ یہ ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے یہ فرمایا : میں نے یہ اس لیے کیا تاکہ وہ جان لے کہ میں نے اس کے پس پشت اس کی خیانت نہیں کی اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ خیال آیا کہ میں نے جو یہ کہا ہے ہوسکتا ہے یہ اپنی تعریف اور خود سرائی اور خوستائی کے زمرہ میں آتا ہو اور اللہ تعالیٰ نے خود ستائی سے منع فرمایا ہے اس لیے اس کے ازالہ اور تلافی کے طور پر فوراً فرمایا اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں قرار دیتا، بیشک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے سوا اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے جب اس نے اپنی خطا کا اعتراف کرلیا اور یہ اقرار کرلیا کہ اسی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ورغلایا تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے گناہ سے اپنا دامن بچا لیا تھا تو بطور اعتذار کے کہا کہ میں اپنے آپ کو بےقصور نہیں کہتی بیشک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے سوا اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (یوسف : ٥٣) یہ قول اس لیے صحیح نہیں ہے کہ عزیز مصر کی بیوی بت پرست تھی، اس کا یہ کہنا متصور نہیں ہے کہ سوا اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے، بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بےحد مہربان ہے یہ کہنا حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی کے لائق ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو فرمایا تھا : اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں قرار دیتا اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تھا ” میں نے اس کے پس پشت اس کی خیانت نہیں کی “ تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ان کو اس فعل کی طرف رغبت نہیں تھی یا ان کا نفس اور ان کی طبیعت اس فعل کی طرف مائل نہیں تھی کیونکہ نفس تو برائی کا حکم دینے والا ہے اور طبیعت لذات کی شائق ہوتی ہے اور اس کلام سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ ظاہر فرمایا کہ ان کا اس گناہ کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں تھا کہ ان کو اس فعل کی طرف رغبت نہیں تھی یا اس کی طاقت نہیں تھی بلکہ ان کا اس گناہ کو ترک کرنا محض اللہ تعالیٰ کے ر اور اس کے خوف کی وجہ سے تھا بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) میں گناہوں کی طاقت اور قدرت نہیں ہوتی اور وہ اپنے اختیار سے گناہوں کو ترک نہیں کرتے بلکہ ان کا گناہوں کا ترک کرنا فرشتوں کی طرح اضطراری ہوتا ہے سو ان کا یہ قول عصمت کی تعریف سے عدم واقفیت پر مبنی ہے۔ 

عصمت کی تعریف

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتا زانی متوفی ٧٩١ ھ لکھتے ہیں : عصمت کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ میں اس کی قدرت اور اختیار کے باوجود گناہ نہ پیدا کرے اسی کے قریب یہ تعریف ہے : عصمت اللہ تعالیٰ کا لطف ہو جو بندہ کو اچھے کاموں پر ابھارتا ہے اور برے کاموں سے روکتا ہے باوجود اس کے کہ بندہ کو گناہ پر اختیار ہوتا ہے تاکہ بندہ کا مکلف ہونا صحیح رہے، اس لیے شیخ ابو منصور ما تریدی نے فرمایا : عصمت مکلف ہونے کو زائل نہیں کرتی ان تعریفوں سے ان لوگوں (بعض شیعہ اور بعض معتزلہ) کے قول کا فساد ظاہر ہوگیا جو یہ کہتے ہیں کہ عصمت نفس انسان یا اس کے بدن میں ایسی خاصیت ہے جس کی وجہ سے گناہ کا صدور محال ہوجاتا ہے کیونکہ اگر کسی انسان سے گناہ کا صدور محال ہو تو اس کا مکلف کرنا صحیح ہوگا نہ اس کو اجر وثواب دینا صحیح ہوگا۔ (شرح عقائد نسفی ص ١٠٩، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی)

علامہ شمس الدین احمد بن موسیٰ خیالی متوفی ٨٧٠ ھ لکھتے ہیں : گناہوں پر قدرت کے باوجود گناہوں سے بچنے کے ملکہ (مہارت) کو عصمت کہتے ہیں۔ (حاشیتہ الخیالی ص ١٤٦، مطبوعہ مطبع یوسفی لکنھو) قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں : جمہور اس نظریہ کے قائل ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) اپنے کسب اور اختیار سے اللہ کی طرف سے معصوم ہوتے ہیں اس کے برخلاف حسین النجار (معتزلی) نے یہ کہا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو گناہوں پر بالکل قدرت نہیں ہوتی۔ (الشفاء ج ٢، ص ١٢٥، مطبوعہ ملتان)

علامہ قاسم بن قطلو بغا حنفی متوفی ٨٨١ ھ لکھتے ہیں : عصمت کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے میں گناہ کی قدرت اور اختیار کے باوجود گناہ کو پیدا نہ کرے۔ (شرح المسائرۃ ص ٢٩٠، مطبوعہ دائرۃ المعارف الاسلامیہ بلوچستان) 

نفس امارہ اور نفس مطمئنہ

حکماء کا اس میں اختلاف ہے کہ نفس امارہ کیا چیز ہے جو برائی کا بہت حکم دیتا ہے۔ محققین نے یہ کہا ہے کہ نفس انسان ایک چیز ہے اور اس کی صفات بہت ہیں، جب یہ اللہ عزوجل کی معرفت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے تو پھر یہ نفس مطمنہ ہوتا ہے اور جب یہ شہوت اور غضب کی طرف مائل ہو تو پھر یہ نفس امارہ ہوتا ہے اور نفس جو برائی کا بہت حکم دیتا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ نفس ابتدا سے ہی دنیا کی رنگینیوں اور پرکشش چیزوں سے دلچسپی رکھتا ہے محسوسات کا عالم اس کے مشاہدہ میں ہوتا ہے اور آخرت کا عالم اور آخرت کی پرکشش چیزیں اس کی نظر سے غائب ہوتی ہیں اور بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو حسن ظاہر کو چھوڑ کر حسن غائب کی طرف متوجہ ہوں اس لیے اس ظاہر عالم کی پرکشش چیزیں اس کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اور بہت قلیل لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان جسمانی لذات کو چھوڑ کر روحانی لذتوں کی طرف راغب ہوں اس لیے بالعموم انسان کا نفس برائی کا حکم کرتا ہے البتہ وہ نفوس قدسیہ جو اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت میں مستغرق رہتے ہیں اس کی صفات کا مطالعہ کرتے ہیں ان کی طبیعت شریعت کے سانچہ میں ڈھلی ہوئی ہوتی ہے ان پر یہ حاضر اور ظاہری رنگینیاں اور پرکشش چیزیں اثرانداز نہیں ہوتیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے خوف کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں کبھی گناہ کا خطرہ نہیں ہوتا اور انہی لوگوں کا نفس مطمئن ہوتا ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے انسان اس وقت گناہ سے بچ سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے شامل حال ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 53