أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا تَاللّٰهِ تَفۡتَؤُا تَذۡكُرُ يُوۡسُفَ حَتّٰى تَكُوۡنَ حَرَضًا اَوۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡهَالِكِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیٹوں نے کہا آپ یوسف کو (ہی) یاد کرتے رہیں گے حتیٰ کہ آپ سخت بیمار پڑجائیں گے یا ہلاک ہونے والوں میں سے ہوجائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیٹوں نے کہا آپ یوسف کو (ہی) یاد کرتے رہیں گے حتیٰ کہ آپ سخت بیمار پڑجائیں گے یا ہلاک ہونے والوں میں سے ہوجائیں گے یعقوب نے کہا میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے ان باتوں کا علم ہے جن کا تم کو علم نہیں ہے اے میرے بیٹو ! جائو یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو، اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ کی رحمت سے تو کافر ہی مایوس ہوتے ہیں (یوسف : ٨٧۔ ٨٥)

مشکل الفاظ کے معانی:

جو چیز لائق شمار نہ ہو اور اس میں کوئی خیر نہ ہو اس کو حرض کہتے ہیں۔ حتیٰ کہ جو شخص ہلاکت کے قریب پہنچ جائے اس کو حرض کہتے ہیں۔ اس معنی میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کہا تھا حتی تکون حرضا (یوسف : ٨٥)

تحریض کا معنی ہے بیماری کا ازالہ کرنا اور کسی شخص کو کسی کام پر ابھارنا۔ قرآن مجید میں ہے : حرض المومنین علی القتال۔ (الانفال : ٦٥ ) ۔ مومنوں کو جہاد پر برانگیختہ کیجئے۔ (المفردات ج ١، ص ١٤٩، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ) ۔

امام واحدی نے اہل معانی سے نقل کیا ہے کہ محبت یا غم کی زیادتی کی وجہ سے جسم یا عقل میں جو فساد ہوتا ہے اس کو حرض کہتے ہیں۔ اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے اپنے باپ سے کہا کہ آپ ہر وقت یوسف کو یاد کرکے روتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کثرت گریہ وزاری کی وجہ سے آپ کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ آپ اپنے جسم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے اور خطرہ ہے کہ شدت غم کی وجہ سے آپ کی موت واقع ہوجائے گی۔ بثی : بث کا معنی پھیلا نا اور تقسیم کرنا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : وبث فیھا من کل دابۃ۔ (البقرہ : ١٦٤ ) ۔ اللہ نے زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے۔ انسان جب اپنے غم کو چھپائے رکھے تو اس کو ہم (فکر) کہت ہیں اور جب دوسروں سے اپنے غم کا اظہار کر دے تو اس کو بث (پریشانی) کہتے ہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا : میں اپنی پریشانی اور غم کا صرف اللہ سے ذکر کرتا ہوں۔ یعنی چھوٹا غم ہو یا بڑا میں اس کا ذکر صرف اللہ سے کرتا ہوں۔

جن قرائن کی بناء پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے ملاقات کا یقین تھا :

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : مجھے اللہ کی طرف سے ان باتوں کا علم ہے جن کا تم کو علم نہیں ہے۔ یعنی اللہ کی رحمت، اس کے احسان اور اس کی وحی سے میں ان چیزوں کو جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے لیے وہاں سے کشادگی لے کر آئے گا جہاں کا مجھے علم بھی نہیں ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ توقع تھی کہ ان کی حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات ہوجائے گی۔ اور اس کی حسب ذیل وجوہات ہیں :

(١) روایت ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس ملک الموت آیا تو آپ نے اس سے پوچھا تھا : آیا تم نے میرے بیٹے یوسف کی روح قبض کرلی ہے۔ اس نے کہا نہیں، اے اللہ کے نبی ! پھر اس نے مصر کی طرف اشارہ کیا آپ اس کو وہاں ڈھونڈیں۔

(٢) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو علم تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب سچا ہے کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) میں سعادت، شرافت ور کمال کے آثار بہت نمایاں تھے اور ان جیسے لوگوں کے خوابوں میں خطاء نہیں ہوتی۔

(٣) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل کی ہو کہ وہ عنقریب ان کو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملا دے گا۔ لیکن اس کا وقت معین نہ کیا ہو اس لیے ان کے دل میں قلق اور اضطراب تھا لیکن ان سے ملاقات کا بہرحال یقین تھا۔

(٤) جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے مصر کے بادشاہ کی نیک سیرت اور اس کے اقوال اور افعال کا کامل ہونا بیان کیا تو ان کا خیال تھا کہ یوسف (علیہ السلام) ہی ہوں گے۔ کیونکہ کسی کافر کی ایسی سیرت نہیں ہوسکتی۔

(٥) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بن یامین چوری نہیں کرتے۔ ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ بادشاہ نے ان کو کوئی سزا نہیں دی بلکہ بہت اعزازو اکرام کے ساتھ اپنے پاس رکھا۔ اس سے ان کو قوی گمان ہوگیا کہ چوری کے بہانہ سے حضرت یوسف نے ان کو اپنے پاس رکھ لیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کے کفر ہونے کی وجوہ :

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے بیٹو ! جائو۔ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ جب ان دلائل سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جان لیا کہ مصر کا بادشاہ ہی دراصل حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں۔ تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا : جائو جا کر یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اللہ کی روح سے مراد اس کی رحمت ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد اللہ کا فضل ہے۔ ابن یزید نے کہا : اس سے مراد اللہ کی کشادگی ہے۔ اور یہ تمام الفاظ متقارب ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا کہ مومن مصائب اور پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ سے خیر اور فضل کی توقع رکھتا ہے اور راحت اور کشادگی کے ایام میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا کفر ہے۔ کیونکہ انسان اللہ کی رحمت سے اس وقت مایوس ہوگا جب اس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ کو اس کی مراد کا علم نہیں ہے یا اس کا یہ عقیدہ ہو کہ اس کو علم تو ہے لیکن وہ اس کی مراد کو پورا کرنے سے عاجز ہے۔ اس پر قادر نہیں ہے۔ یا اس کا یہ عقیدہ ہو کہ اس کو علم اور قدرت تو ہے لیکن وہ بخیل ہے وہ ایساکرے گا نہیں۔ اور یہ تمام وجود کفر ہیں۔ اس لیے مومن کو اخیر وقت تک یہ امید رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کی امید اور مراد کو پورا کر دے گا۔ لیکن اگر کسی وجہ سے وقت نکل جائے اور اس کی مراد پوری نہ ہو تو پھر یہ یقین کرلینا چاہیے کہ اس کی مراد کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف تھا۔ یا اس کی مراد خود اس کے حق میں نقصان دہ تھی اور اس کو اس کا علم نہیں تھا۔ یا اگر اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ مراد پوری نہیں کی تو وہ اس کے عوض اس کو اس سے اچھی کوئی اور نعمت دنیا میں یا آخرت میں عطا کرے گا یا اگر اس نے مراد پوری نہ ہونے پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں دنیا یا آخرت کی کوئی مصیبت اس سے دور کر دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 85