أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ كُلُّ اُنۡثٰى وَمَا تَغِيۡضُ الۡاَرۡحَامُ وَمَا تَزۡدَادُ ‌ؕ وَكُلُّ شَىۡءٍ عِنۡدَهٗ بِمِقۡدَارٍ‏ ۞

ترجمہ:

ہر مادہ کے حمل کو اللہ ہی جانتا ہے، اور ہر رحم میں جو کمی اور زیادتی ہوتی ہے اس کو بھی وہی جانتا ہے، اور ہر چیزکا اس کے نزدیک ایک انداز ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہر مادہ کو حمل کو اللہ ہی جانتا ہے اور ہر رحم میں جو کمی اور زیادتی ہوتی ہے اس کو بھی وہی جانتا ہے، اور ہر چیز کا اس کے نز دیک ایک اندازہ ہے۔ (الرعد : 8) 

مشکل الفاظ کے معنی : 

وما تحمل کل انشی : ہر حاملہ کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا اللہ ہی کو علم ہے کہ وہ زندہ ہے یامردہ ہے، اس کے اس کے اعضاء کامل اور سلامت ہیں وہ نا قص الخلقت ہے، وہ مذکر ہے یا مونث ہے، وہ ایک ہے یا متعدد، اس کی صفات کیسی ہیں، وہ خوب صورت ہے یا بد صورت۔ الٹراساؤنڈ اور دیگر آلات سے بھی آج کل معلوم ہوجاتا ہے کہ پیٹ میں کیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا علم بغیر آلات کے ہے، بلا واسطہ ہے، قدیم اور واجب ہے غیر ممکن الزوال ہے، ازلی، ابدی اور سرمدی ہے۔ غیر متناہی ہے اور انتہائی کامل ہے۔

وما تغیض الا رحام وما تزداد : عورت کے پیٹ کا وہ حصہ جس میں بچہ پیدا ہوتا ہے اس کو بچہ دانی اور رحم کہتے ہیں غیض کے معنی ہیں کسی چیز کی جسامت یا اس کے زمانہ کا کم ہونا، یعنی پیٹ میں بچہ کی جسامت کم ہے یا زیادہ ہے یا وہ کم مدت پیٹ میں رہا یا زیادہ مدت، یا پیٹ میں ایک بچہ ہے یا کئی بچے ہیں۔ 

وکل شیء عندہ بمقدار : یعنی ہر چیز کا اللہ کے نزدیک ایک اندازہ ہے، اس کی مدت حیات کتنی ہے، اس کا رزق کتنا ہے اور وہ اپنے اختیار سے نیک عمل کرے گا یا برے کام کرے گا۔

آیات سابقہ سے مناسبت : 

اس آیت کی سابقہ آیتوں سے دو طرح منا سبت ہوسکتی ہے :

(1) اس سے پہلےالرعد : 7میں یہ فرمایا تھا کہ کہ کافروں نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر طعن کرتے ہوے یہ کہا کہ ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کا ذکر فرمایا ہے کہ ہر حاملا کے پیٹ جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا عل ہے وہ ہر چھپی ہوئی چیز اور ظاہر چیز کو جانتا ہے، اس کو کفات کے دلوں اور انکی نیتوں کے حال کا بھی علم ہے وہ جانتا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیش کیے ہوے معجزات کے علاوہ یہ اپنے دیگر فرمائشی معجزات کو طلب کر رہے ہیں آیا وہ واقعی ہدایت کے طلب گار ہیں اور اپنے اطمینان کے لیے ان معجزات سے ان کو، محض ضد، عناد اور کٹ حجتی کے طور پر ان معجزات کو طلب کر رہے ہیں اور آیا ان معجزات سے ان کو ہدایت حاصل ہوگی یا ان کے انکار اور کفر پر اصرار میں اور اضافہ ہوگا۔ پس اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ ہوتا کہ انہوں نے صدق دل سے طلب ہدایت کے لیے ان معجزات کو طلب کیا ہے تو اللہ تعالیٰ ضروران کے فرمائشی معجزات نازل کردیتا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ یہ محض عناد اور سرکشی کے لیے ان معجزات کو طلب کر رہے ہیں اور ان کی نیت صحیح اور صادق نہیں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان معجزات کو نازل نہیں فرمایا بلکہ ان کو نازل کرنے سے منع فرمادیا۔ 

(2) اس سے پہلےالرعد : 5 میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ کافر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے ہیں، اور ان کو اس میں یہ شک ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد ان کا جسم بوسیدہ ہو کر مٹی ہوجاے گا اور مٹی میں مٹی مل کر بکھر جائے گی، اور ان کی مٹی دوسرے مردہ اجسام کی مٹی سے مل کر خلط ملط ہو جاے گی اور فضا میں یہ ذرات کہیں پہنچ جائیں گے تو تمام دنیا میں بکھرے ہوے یہ ذرات کیسے مجتمع ہوں گے اور کیسے ایک دوسرے سے ممتاز ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان کے اس شبہ کا ازالہ فرماتا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ فضاء بسیط میں بکھرے ہوے ان خلط ملط ذرات کو با ہم ممتاز اور متمیز کرنا اور یہ جاننا کہ یہ فلاں شخص کے جسم کا ذرہ ہے اور یہ فلاں شخص کے جسم کا ذرہ ہے اس شخص کے لیے دشوار ہوسکتا ہے جس کا علم ناقص ہو، جو غیب اور شہادت کا جاننے والا نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ وہ ہر غیب اور ہر شہادت کا عالم ہے، ماں کے پیٹ میں بچہ جب ادوار، احوال اور کفیات سے گزر تا ہے، اسے اس کے ہر دور ہرحال اور ہر کیفیت کا علم ہوتا ہے تو اس کے لیے ان مردہ اجسام ذرات کو پہچاننا کیا مشکل ہے اور یہ اس کے لیے کیو نکر مستبعد ہے ! 

رحم میں کمی اور زیادتی کے محامل : 

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے : اور ہر رحم میں جو کمی اور زیادتی ہوتی ہے اس کو بھی وہی جانتا ہے اس کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں : 

(1) ضحاک، سعید بن جبیر، مقاتل، ابن قتیبہ اور زجاج نے کہا ہے اور حضرت عباس سے بھی ایک تفسیر اسی طرح منقول ہے کہ بچہ رحم میں نو مہینہ سے کم رہتا ہے یا نو ماہ سے زیادہ رہتا ہے۔ 

(2) حضرت ابن عباس کی دو سری روایت اور حس بصری کا قول یہ کہ کمی سے مراد ناتمام اور نا قص بچہ اور زیادی سے مراد ہے کامل اور تمام بچہ۔ 

(3) مجاہد نے کہا، کمی سے مراد ہے ایام حمل میں جو خون بہہ جاتا ہے اور حمل ساقط ہوجاتا ہے اور زیادتی سے مراد جب خون حمل میں ٹھر جاے اور گو شت اور پوست سے بچہ مکمل ہو جاے۔ (جامع البیان جز 31، ص 148 ۔ 144 ملتقطا، زادالمیر ج 4 ص 308) 

حمل کی کم سے کم مدت اور زیادہ سے زیادہ مدت میں مذاہب فقہاء :

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں : فقہاء احناف کے نزدیک حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ اور زیادہ سے زیاد حمل کی مدت دو سال ہے اور اس کے دلا ئل حسب ذیل احا دیث ہیں : 

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی 458 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

ابن الا سود الالد یلمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک عورت لائی گئی جس سے چھ ماہ کے بعد بچہ پیدا ہو اتھا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو جم کرنے کا اشارہ کیا حضرت علی (رض) تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا اس کو سنگسار نہیں کیا جاے گا، حضرت عمر (رض) تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے حضرت علی (رض) کو بلوایا اور ان سے اس کی دلیل پو چھی تو حضرت علی (رض) نے قرآن کی یہ دو ایتیں پڑھیں : 

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ( البقرہ : ٢٣٣) اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں یہ اس کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چا ہے۔

وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاثُونَ شَهْرًا ( الاحقاف : ١٥) اور (ماں کا) حمل اور دودھ چھڑانا تیس ماہ میں ہے۔

پس چھ ماہ میں اس کا حمل ہے اور دو سال اس کے دودھ پلانے کی مدت ہے لہذا اس عورت پر رجم نہیں ہے۔ (سنن کبری ج 7 ص 442، مطبو عہ نشرالسنہ ملتان) 

اور امام علی بن عمر الدار قطنی المتوفی 385 ھ کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا عورت کے حمل کی مدت دو سال سے بس اتنی زائد ہے جتنا چرخے کی لکڑی کا سایہ پیدا ہوتا ہے۔ (یعنی بہت کم) (سنن دارقطنی ج 3 ص 221، رقم الحدیث 321، مطبو عہ دا رلکتب العلمیہ بیروت، 1417 ھ) 

اور رائمہ ثلاثہ کے نزدیک حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت چار سال ہے ان کے دلائل یہ ہیں : 

امام علی بن عمر دارقطنی متوفی 385 ھ اپنی سند کے ساتھ کرتے ہیں : 

ولید بن مسلم روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک بن انس سے کہا کہ مجھے حضرت عائشہ (رض) کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ عورت کے حمل کی مدت دو سال سے بس اتنی زائد ہے جتنا چرخے کی لکڑی کا سایہ ہوتا ہے، امام مالک نے کہا سبحان اللہ ! یہ کون کہہ سکتا ہے ! محمد بن عجلان کی بیوی ہماری پڑوسن ہے وہ سچی عورت ہے اسکا خاوند محمد بن عجلان بھی سچا ہے اس کو بارہ سال میں تین حمل ہوے اور ہر حمل کی مدت چار سال تھی۔ (سنن دار قطنی ج 3 ص 222، سنن کبری للبیہقج 7 ص 443) 

علامہ شامی اس حدیث کے جواب میں لکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) کا قول امام مالک کے قول پر مقدم ہے، کیونکہ اس مدت کو قیاس سے نہیں جانا جاسکتا، ضرور حضرت عا ئشہ (رض) نے رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا، نیز امام مالک تک اس قول کی نسبت صحت سے ثابت نہیں ہے۔ اور اس قول میں خطا کی گنجائش ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دو سال یا اس سے زیادہ تک اس پر طہر کا زمانہ رہا ہو اور اس کے بعد وہ حاملہ ہوئی ہو اور اس نے یہ گمان کرلیا کہ یہ چار سال کا حمل ہے۔ (ردالمحتارج 5 ص 185، مطبوعہ دارالتراث العربی بیروت، 1419 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 8